کلمۂ توحید اور جنت - طالب محسن

کلمۂ توحید اور جنت

 

(مسلم، رقم ۲۶)

۔۔۔عن عثمان رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: من مات، وہو یعلم أنہ لا إلہٰ إلا اﷲ، دخل الجنۃ.
’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس طرح فوت ہوا کہ وہ جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہ جنت میں داخل ہوا۔‘‘

لغوی مباحث

وہویعلم: وہ جانتا ہے۔ یہ فعل یہاں اپنے کامل معنی میں آیا ہے۔ یعنی پوری طرح جان لینا۔ نحوی اعتبار سے یہ حال کے محل پر ہے۔
إلٰہ: وہ ہستی جس کی پرستش کی جاتی ہے۔ یعنی اسے اسباب سے ماورا قدرت کا اہل مانتے ہوئے اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے نذر نیاز، تذلل، تضرع اور دعاو مناجات کی مختلف رسوم ادا کی جاتی ہیں۔

معنی

یہ روایت اپنے ظاہری معنی میں قرآن مجید اور بہت سی دوسری روایات کے خلاف ہے۔ قرآن مجید صریح الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ آخرت کی کامیابی ایمان اور عمل صالح پر منحصر ہے۔ یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوئی ہے۔ کئی روایات بھی اسی مضمون کی حامل ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ایسی روایات بھی کتب حدیث میں منقول ہیں جن میں وہی بات بیان ہوئی ہے جو زیر بحث روایت میں منقول ہے۔ غالباً انھی روایات کے باعث امت میں یہ بات زیر بحث رہی ہے کہ معصیت کے ارتکاب پر صاحب ایمان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔امام نووی نے اس حدیث کی شرح کے تحت مختلف گروہوں کی آرا تلخیصاً نقل کی ہیں:

’’ اہل شہادت میں سے جو اللہ کی نافرمانی کا مرتکب ہوا ہو، اس کے بارے میں لوگوں نے مختلف آرا قائم کی ہیں۔ مرجۂ کی رائے یہ ہے کہ معصیت ایمان کے ساتھ ضرر رساں نہیں ہے۔ خوارج کے نزدیک ضرررساں ہے اور اس سے وہ کافر ہو جاتا ہے۔معتزلہ کہتے ہیں کہ اگر معصیت کبیرہ ہو تو ہمیشہ کے لیے جہنمی ہے ۔ اسے نہ مومن کہا جائے گا نہ کافر، بلکہ فاسق کہا جائے گا۔ اشعریہ کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ وہ مومن ہے اگر چہ اللہ اسے معاف نہ کریں اور عذاب دیں۔ مزید برآں وہ ہر حال میں جہنم سے نکلے گا اور جنت میں جائے گا۔‘‘ (شرح نووی ۱/ ۲۱۸)

اسی طرح شارحین حدیث نے اس تضاد کو دور کرنے کے لیے مختلف حل پیش کیے ہیں۔ ایک حل یہ ہے کہ آپ کا یہ ارشاد اس دور سے متعلق ہے جب ابھی اوامرونواہی نہیں اترے تھے۔ظاہر ہے ، یہ حل ناقابل قبول ہے۔ اس لیے کہ اس مضمون کی روایات کے راوی حضرت معاذ، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت ابوہریرہ بھی ہیں۔ ان میں سے عبادہ بن صامت کی روایت:’ من شہد أن لا إلہ إلا اﷲ وأن محمدا رسول اﷲ دخل الجنۃ‘ (جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، وہ جنتی ہے۔) ایسی روایت ہے جو انھوں نے اپنی موت کے وقت بیان کی ہے۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ کی روایت تو مدینہ ہی سے متعلق ہے اور ابوہریرہ شریعت کے احکام کے نزول کے بعد کے زمانے میں ایمان لائے ہیں۔ غرض یہ کہ یہ حل حقیقت میں کوئی حل نہیں ہے۔
دوسرا حل یہ ہے کہ اس طرح کی روایات میں’ خلود فی النار ‘(یعنی ہمیشہ کی جہنم) کی نفی کی گئی ہے۔یہ بات بھی محل نظر ہے۔ یہ حل زیر بحث روایت میں تو قبول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس روایت کی کیا تاویل ہو گی جس میں آگ پر حرام کیے جانے کی نوید سنائی گئی ہے۔
اصل یہ ہے کہ ان روایات میں نہ محض ایمان کو یقینی نجات کی ضمانت قرار دیا گیا ہے اور نہ اہل ایمان کے لیے دوزخ سے نکل آنے کے امکان کی خبر دی گئی ہے۔ اس روایت کو سمجھنے کے لیے متکلم کی شخصیت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایمان اور بطور خاص توحید اور رسالت پر ایمان کی دعوت کوئی سادہ مطالبہ نہیں ہے۔ عرب کے معاشرے میں جو نامعلوم عرصے سے توحید کے صحیح تصور اور شریعت کی بیش تر تعلیمات سے محروم ہو چکا تھا، ایک فرد کا توحید پر ایمان ، بعض روایات کے مطابق اس کا برملا اظہار اور ایک شخص کو خدا کا پیغمبر مان لینا ایک نئی زندگی گزارنے کا سرعنوان تھا۔ یہ ایک بڑا فیصلہ تھا۔ ایک ایسا فیصلہ جس کی قیمت تمام دنیوی مفادات سے محرومی ہو سکتی تھی۔ چنانچہ توحید کی معرفت اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا فیصلہ اگر پوری شان سے کر لیا جاتاہے تو ایسا آدمی اسی نوید کا مستحق ہے ۔
یہ روایت ہم نسلی مسلمانوں سے براہ راست متعلق نہیں ہے۔ ہمارے لیے یہ بشارت صرف اسی صورت میں ہے جب ہم خود ایمان کی حقیقت کو دریافت کریں اور پھر اپنے آپ کو اسوۂ پیغمبر میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہوئے موت سے ہم کنار ہوں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس روایت میں ’یعلم ‘کا لفظ آیا ہے۔ یہ لفظ اس ساری تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے نزدیک روایت میں الفاظ کے بارے میں یہ یقینی نہیں ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کہا ہو۔ جیسا کہ آپ متون کی بحث میں دیکھیں گے ۔ ’یعلم ‘کی جگہ ’یشہد‘کا لفظ بھی آیا ہے۔ توحید کے ساتھ رسالت پر ایمان بھی بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید دوسری روایات اور اس مضمون کی روایات میں الفاظ کے فرق کو سامنے رکھیں تو یہی شرح موزوں ہے۔

متون

یہ مضمون مختلف روایات میں اختلاف الفاظ کے ساتھ روایت ہوا ہے۔ مثلاً حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

من کان آخر کلامہ : لاإلہ إلا اﷲ دخل الجنۃ. (ابوداؤد، رقم ۳۱۱۶)
’’جس کی آخری بات لا الٰہ الا اللہ ہو گی، جنت میں جائے گا۔‘‘

ایک دوسری روایت میں ہے:

من لقی اﷲ لایشرک بہ شیئا دخل الجنۃ. (بخاری ، رقم ۱۲۹)
’’جو اللہ سے اس حال میں ملا کہ اس نے شرک نہیں کیا ہو گا ، جنت میں جائے گا۔‘‘

ایک روایت میں ہے:

ما من عبد یشہد أن لا إلہ إلا اﷲ وأن محمد عبدہ ورسولہ الا حرمہ علی النار.(مسلم، رقم ۳۲)
’’اس بندہ پر لازماً آگ حرام کر دی جائے گی جو برملا اس بات کا اقرار کرے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ‘‘

ابوہریرہ سے روایت ہے :

أشہد أن لا إلہ إلا اﷲ وأنی رسول اللّٰہ، لا یلقی اللّٰہ تعالیٰ بہما عبد غیر شاک فیہما الا دخل الجنۃ.(مسلم، رقم ۲۷)
’’جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور میں اس کا رسول ہوں، جو بندہ اللہ تعالیٰ سے ان کے ساتھ اس طرح ملے کہ اسے ان دونوں باتوں میں کوئی شک نہ ہو ، وہ جنت میں جائے گا۔ ‘‘

اسی طرح بخاری کی ایک روایت میں ان الفاظ میں یہ مضمون بیان ہوا ہے:

حرم اللّٰہ علی النار من قال لا الہ الا اللّٰہ یبتغی بذلک وجہ اللّٰہ تعالٰی.(رقم۴۱۵)
’’ اللہ نے اس پر آگ حرام کردی جس نے لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کیااور اس سے اس کے پیش نظر خدا کی رضا تھی ۔‘‘

بطور خاص یہ روایت دو اختلافات کے ساتھ مختلف کتب حدیث میں منقول ہے۔ایک تو ’یعلم‘ کی جگہ ’یشہد‘ کا فعل ہے اور دوسرا یہ کہ توحید کے ساتھ رسالت کا بھی ذکر ہے۔

کتابیات

احمد، رقم۴۶۴، ۴۹۸، ۲۲۰۵۶۔ ابن حبان، رقم۲۰۱۔ سنن کبریٰ ، رقم ۱۰۹۵۲، ۱۰۹۵۳،۱۰۹۵۴،۱۰۹۶۴۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اگست 2005
مصنف : طالب محسن
Uploaded on : Mar 10, 2018
392 View