آسمانی کتابوں کی شرح ایک دوسرے کی مدد سے - حمید الدین فراہی

آسمانی کتابوں کی شرح ایک دوسرے کی مدد سے

 
یہاں میرا مقصد صرف اس شرح و توضیح سے ہے جس کا تعلق زبان اور اسالیب بیان سے ہے، باقی رہے احکام و قوانین اور واقعات و قصص تو ان کے متعلق ایک دوسرے مقدمہ میں گفتگو کروں گا۔
یہ معلوم ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا کلام جس کی روایت یونانی زبان میں ہوئی، دراصل عبرانی زبان میں تھا۔ انجیل اور توریت کی زبان ایک ہی ہے۔ اور یہ امر بھی ہر شخص کو معلوم ہے کہ عربی اور عبرانی جو آسمانی کتابوں کی زبانیں ہیں، دونوں ایک ہی اصل سے نکلی ہیں۔ ایسی صورت میں ناگزیر ہے کہ ان دونوں میں نہایت گہری مماثلت و مشابہت ہو اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کے معانی کی طرف رہبری کرے۔ پھر ان تمام صحیفوں کے مطالب بھی ایک سے ہیں۔ یہ سب وحی کے پاک سرچشمے سے نکلی ہیں، اس لیے بھی ان میں یکسانی و ہم رنگی ہونا قدرتی ہے۔ علاوہ ازیں قرآن نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جو امور اہل کتاب پر مشتبہ رہ گئے، قرآن ہمارے لیے ان کی تفصیل کرے گا، پس ان امور کا جاننا بھی فائدے سے خالی نہیں ہے۔ نیز قرآن مجید پچھلی آسمانی کتابوں کا مصدِّق ہے تو ان کی باہمی موافقت اور سازگاری لازماً ایمان کی زیادتی اور اطمینان قلب کا باعث ہو گی۔ پھر قرآن جھگڑے کو چکانے والی اور اختلافات کو رفع کرنے والی کتاب بن کر نازل ہوا ہے، اور اس کے ماسوا اکثر کتب منزلہ تخییل اور شعر ہیں۔ لہٰذا جو لوگ ان کتابوں کو سمجھنا چاہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ ان کو قرآن کی روشنی میں سمجھیں۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ یہ پرانے صحیفے متروک ہو چکے ہیں، اس وجہ سے ان کی زبان مٹ چکی ہے۔ اب اگر کوئی شخص ان کو سمجھنا چاہے تو اس کے لیے صرف ایک ہی شکل ہے کہ انھیں لغت قرآن کی رہنمائی سے سمجھے۔
ان باتوں کی طرف میرا ذہن اس لیے گیا کہ میں جانتا ہوں کہ انجیل اور توریت کی بہت سی باتیں ان کے ماننے والوں کے لیے فتنہ بن گئی ہیں، حالاں کہ اگر وہ عربی زبان جانتے ہوتے تو اس گمراہی میں نہ پڑتے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’آدمی لفظوں سے ہلاک ہوتا ہے اور معانی سے نجات پاتا ہے۔‘‘ یہ لوگ الفاظ پر جم گئے، اس لیے ان پر ہدایت کی راہ نہ کھل سکی۔ اسی سے ملتا جلتا حال مسلمانوں کا ہے۔ بعض مسلمان انجیل کی بعض عبارتوں کا مذاق اڑاتے ہیں، حالاں کہ اگر وہ قرآن کی تعلیم سے ان کو مطابقت دے سکیں تو ان کو معلوم ہو کہ ان باتوں کے ماننے کی سب سے بڑی ذمہ داری مسلمانوں ہی پر ہے۔ قرآن میں ہم کو متشابہات پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ آخر یہ حکم دوسری آسمانی کتابوں کے متعلق بھی کیوں نہ ہو۔ قرآن مجید میں صاف وارد ہے کہ اگر ایک شخص ایک بات کی تاویل نہ جاننے کی وجہ سے اس کا انکار کر دے تو وہ سخت گنہ گار ہے:

بَلْ کَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاْتِیْھِمْ تَاْوِیْلُہٗ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ. (یونس۱۰: ۳۹)
’’بلکہ انھوں نے اس چیز کا انکار کیا جو ان کے علم کے دائرہ میں نہ سما سکی اور جس کی حقیقت ان کے سامنے ابھی نمودار نہیں ہوئی۔ ایسے ہی ان لوگوں نے انکار کیا جو ان سے پہلے تھے، تو دیکھو ظالموں کا انجام کیا ہوا۔‘‘

اسی کے مطابق پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، آپ نے فرمایا: ’لَا تصدَّقوا أھل الکتٰب‘ ’’اہل کتاب کی تصدیق نہ کرو‘‘، (یعنی جو کچھ کتب مقدسہ سے روایت کریں، اس کی تصدیق نہ کرو، کیونکہ انھوں نے ان کو محفوظ نہیں رکھا) ’وَلَا تُکَذِّبُوْھُمْ‘ * ’’اور نہ ان کی تکذیب کرو‘‘، (کیونکہ ممکن ہے وہ ان باتوں میں سے ہو جس کی حقیقت ابھی ہمارے سامنے نہیں آئی ہے)۔
اگر تم کو شبہ ہو کہ یہ کتب مقدسہ غیر محفوظ ہیں، اس وجہ سے اگر قرآن کی تاویل میں ہم ان سے رجوع کریں گے تو غلطی میں پڑنے کا امکان ہے، تو یہ شبہ بالکل بجا ہے۔ لیکن ہم یہ بات نہیں کہتے، ہمارا کہنا یہ ہے کہ پہلے قرآن کو خود قرآن اور عربی زبان کی مدد سے سمجھنا چاہیے۔ پھر اگر کتب مقدسہ میں کوئی ایسی بات ملے جو معنی اور اسلوب کے اعتبار سے قرآن سے ملتی جلتی یا اس سے واضح تعلق رکھتی ہوئی نظر آئے تو دونوں باتوں پر تدبر اور دونوں کے اسلوبوں کے تقابل سے قرآن مجید کی بلاغت واضح ہو گی۔ نیز مختلف معانی میں سے ہم جس مفہوم کو ترجیح دیں گے، اس تائید مزید سے اس پر ہمارا اعتماد مضبوط ہو گا۔ علاوہ بریں، وحی قدیم کی بعض ایسی باتوں کا مفہوم ہم پر واضح ہو جائے گا جس کا واضح ہونا بظاہر محال نظر آتا ہے۔ یہ چیز اہل کتاب کے ارباب نظر کے لیے قرآن کی صداقت کی اور ہمارے لیے خود ان کی کتابوں کی صداقت کی ایک دلیل ہو گی، جس سے باہمی محبت کی راہیں بھی کھلیں گی اور یہ چیز ان کی ہدایت کے لیے بھی راہ ہموار کرے گی۔
لیکن اس کے برعکس، تم دیکھتے ہو کہ بعض مسلمان انجیل کی آیتوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور جو لوگ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا مذاق اڑائیں، ان کی شکایت اللہ تعالیٰ کے سوا اور کس سے کی جا سکتی ہے؟ مسلمانوں کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ان کو صرف خوب صورت انداز سے مباحثہ کی اجازت دی گئی ہے اور مخالف فریق کو برابھلا کہنے سے نہایت سختی کے ساتھ روکا گیا ہے۔ اس چیز کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوا کہ ہم سے ان کی دوری بڑھتی گئی اور خلیج اختلاف وسیع تر ہوتی چلی گئی اور پھر لازمی نتیجہ کے طور پر قبول حق سے بھی وہ محروم رہے، حالاں کہ اگر یہ سچ ہے تو حق باطل پر غالب رہتا ہے اور روشنی تاریکی کو مٹا دیتی ہے، تو ہمارے اور ان کے درمیان اس سے بڑھ کر کوئی حجت نہیں ہو سکتی کہ ہم دونوں چیزوں کو ایک ساتھ برابر رکھ دیں کہ جس کے اندر عقل اور مذاق سلیم موجود ہے، وہ ان میں سے بہتر کو خود منتخب کر لے۔ قرآن مجید نے ہدایت پانے والوں کی تعریف یہی کی ہے: ’اَلَذِّیْنَ یَسْتَمِعْوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ‘** (جو لوگ بات سنتے ہیں اور پھر اس میں جو بہتر ہوتی ہے، اس کی پیروی کرتے ہیں)۔
یہ وجوہ داعی ہوئے کہ عہد جدید اور عہد عتیق میں جو کچھ ہے میں اس کی بھی جستجو کروں۔ میری نیت نیک ہے اور میرا اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہے۔ اسی سے التجا ہے کہ وہ خیر کی راہوں میں میری رہنمائی فرمائے۔
ایک مستقل مقدمہ میں، میں ان باتوں کا ذکر کروں گا جو نصاریٰ کی گمراہی کا باعث ہوئیں اور جن پر ان کے موجودہ دین کی تمام عمارت قائم ہے۔*** مثلاً ’إبن‘ اور ’أب‘ کے الفاظ، روٹی اور شراب کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گوشت اور خون بن جانا، یہ بات کہ وہ خداوند کے دہنے جانب بیٹھے ہیں، فرشتوں کی فوج میں اتریں گے اور قیامت کے دن عدالت کریں گے، یہ بات کہ وہ فارقلیط کو بھیجیں گے جو نصاریٰ کو تمام تفصیلات شریعت کی تعلیم دے گا۔ نیز یہ امر کہ ان کے زمانہ کے لوگ ان تمام باتوں کو دیکھیں گے جن سے انھوں نے ڈرایا ہے۔ ان تمام امور کی حقیقت الفاظ کے معانی کی تحقیق سے واضح ہو جائے گی۔

________

* بخاری، رقم ۴۲۱۵۔
** الزمر ۳۹: ۱۸۔
*** اس عنوان پر مولانا نے ’’الاکلیل فی شرح الانجیل‘‘ کے نام سے مستقل رسالہ لکھنا چاہا تھا کہ اس کی تکمیل نہ فرما سکے۔

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مئی 2014
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Jan 22, 2016
1011 View