عمر فاروق رضی ﷲ عنہ (11) - ڈاکٹر وسیم مفتی

عمر فاروق رضی ﷲ عنہ (11)

  

سیرت و عہد

بابلیون کا پادری مقوقس کا خط لے کر حضرت عمرو کے پاس پہنچا۔ اس میں لکھا تھا: تم نے ایک مختصر فوج کے ساتھ ہمارے ملک پر حملہ کر رکھا ہے ،دوسری طرف رومیوں کی اسلحہ سے لیس ایک بڑی فوج بھی تم سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ چند معتبر آدمی ہمارے پاس بھیج دو تاکہ جنگ وجدال سے پہلے ہم آپس میں بات چیت کر کے معاملات سلجھا سکیں۔ حضرت عمرو نے پادری کی سربراہی میں آنے والے وفد کو دو دن روک کر رکھا اور یہ جواب بھیجا کہ ہمارا قضیہ تین صور توں ہی میں حل ہو سکتا ہے: ایک یہ کہ تم اسلام قبول کر کے ہمارے بھائی بن جاؤ، دوسری یہ کہ اگر اسلام نہ لانا چاہو تو جزیہ دے کر ہمارے زیرنگیں ہو جاؤ،تیسری صورت یہ ہے کہ ہم تمھارے ساتھ جہاد جاری رکھیں حتیٰ کہ اﷲ ہمارے مابین فیصلہ کر دے۔ مقوقس نے پھرمذاکرات کی دعوت دی تو سیدنا عمرو بن عاص نے ۰ا افراد کا ایک وفد اس کی طرف روانہ کیا۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ ان میں شامل تھے،ان کا سیاہ رنگ اور بھاری بھرکم جسم دیکھ کر مقوقس بولا: اس مشکی کو پرے ہٹاؤ اور کوئی دوسرا آدمی مجھ سے بات کرے۔ سب نے ایک آواز ہو کر کہا: انھی کا جواب ہماری راے ہوگی۔عبادہ نے دنیا سے بے رغبتی اور شوق شہادت کااظہار کیا تو مقوقس کو سمجھ نہ آیا۔ اس نے کہا: ہمیں احساس ہے کہ تم مشقت میں پڑے ہوئے ہو، اس لیے ہم تمھارے ساتھ صلح کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ تمھارا ہر سپاہی ہم سے ۲ دینار لے لے، تمھارے سالار کے لیے ہم ۰۰ادینار اور خلیفہ کے لیے ۰۰۰ا دینار مقرر کرتے ہیں ۔ یہ رقم لو اور روم کی افواج قاہرہ کے ہاتھوں پٹنے سے بچ جاؤ۔ عبادہ نے رومی جتھے کاذکر حقارت سے کیااور یہ آیت پڑھی: ’کَمْ مِّنْ فِءَۃٍ قَلِےْلَۃٍ غَلَبَتْ فِءَۃً کَثِےْرَۃً بِاِذْنِ اﷲِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِےْنَ‘، ’’کتنے ہی تھوڑی تعداد رکھنے والے گروہ تھے جو اﷲ کے حکم سے بڑے گروہوں پر غالب آ گئے اور اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (البقرہ۲: ۲۴۹)۔ انھوں نے حضرت عمرو کی ہدایت کے مطابق یہ پیش کش دہرائی: اسلام قبول کر لو،جزیہ دو یا جنگ کے لیے تیار ہو جاؤاور رخصت ہولیے۔ مقوقس اور اس کے درباری بھی پل عبور کر کے قلعہ واپس چلے گئے۔خود تو و ہ مسلمانوں سے صلح کرنا چاہتا تھا،لیکن اس کے جرنیل مائل بہ جنگ رہے۔ تین دن کے بعد رومی فوج قلعے سے نکلی اور اسلامی فوج پر اچانک حملہ کر دیا۔مسلمان غافل نہ تھے ،سخت لڑائی ہوئی۔ رومیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑااوروہ پھر قلعہ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ اس موقع پر مقوقس نے قوم کو صلح پر آمادہ کر لیا اور حضرت عمرو بن عاص سے امان طلب کی۔ صلح کا ایک معاہدہ تیار کیا گیا جس کی رو سے ہر مصری پر ۲دینار جزیہ عائد کیا گیا، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو چھوٹ دی گئی ، مصر کی اراضی ، مال مویشیوں اور کنیسوں پر مصریوں کا حق تسلیم کیا گیا۔
مقوقس اس معاہدے کی منظوری لینے کے لیے ہرقل کے پاس پہنچا۔ یہ بازنطینی بادشاہ دمشق اور بیت المقدس میں مسلمانوں سے شکست کھا چکا تھا ،اس کے باوجود حیران تھا کہ ۲ا ہزار کی قلیل مسلم فوج نے مضبوط قلعوں میں محفوظ رومی فوجوں کو زیر کر لیا ہے ۔اس نے سارا الزام مقوقس پر دھر دیا اوراسے بزدل قرار دے کر ذلت کے ساتھ نکال باہر کیا۔ بابلیون میں صلح ختم ہونے کی اطلاع محرم ۲۰ھ(دسمبر ۶۴۰) میں پہنچی۔تب دریاے نیل میں طغیانی ختم ہو چکی تھی، قلعے میں موجود فوج کی تعداد کم ہو چکی تھی او ر اسے کہیں سے کمک پہنچ نہ پائی تھی۔ قلعے کے گرد کھدی خندق کا پانی خشک ہوا تو رومیوں نے اس میں آہنی خار ڈلوا دیے، اس طرح اسلامی فوج کی پیش قدمی مشکل ہو گئی تاہم فریقین کی جانب سے تیر اندازی اور سنگ باری ہوتی رہی۔رومی جب بھی قلعے سے نکلنے کی کوشش کرتے، مسلمانوں کی یورش سے واپس ہونے پر مجبور ہو جاتے۔موسم بہار گزر گیا ،۷ ماہ کے طویل محاصرے سے مسلمان تھک چکے تھے، قلعے کے اندر بھی کئی امراض پھوٹ پڑے تھے۔ربیع الاول ۲۰ھ( مارچ ا۶۴) میں، جبکہ دریاے نیل خشک ہو چکا تھا ،ہرقل کی موت کی خبر پہنچی۔مقوقس کو رسوا کرنے کے بعد اسے بخار نے آن لیا تھا۔ اسی مہینے کی ایک رات حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ نے قلعۂ بابلیون کی بیرونی خندق پھلانگ کر دیوار کے ساتھ سیڑھی لگائی اور اندر اتر گئے۔ کچھ سپاہی ان کے ساتھ تھے، انھوں نے قلعے کادروازہ کھول دیا ، اس طرح اس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔قبطی رومیوں کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے تھے، ان کے کئی افراد نے اسلام قبول کرلیا اور امور سلطنت میں اسلامی حکومت کے معاون بن گئے۔ اب حضرت عمرو بن عاص اس انتظار میں تھے کہ کب امیر المومنین عمر بن خطاب ان کو مصر کی آخری مہم فتح اسکندریہ کی اجازت دیتے ہیں۔ انھوں نے قلعہ اور جزیرۂ روضہ کے مابین اور جزیرہ اور جیزہ کے مابین کشتیوں کے پل بنوادیے تاکہ دریاے نیل کو آسانی سے عبور کیا جا سکے۔ سیدنا عمر جانتے تھے کہ تین ماہ بعددریا پھر چڑھ آئے گا ،تب اسکندریہ جانا ممکن نہ ہوگا۔انھوں نے اذن سفر دے دیا تو حضرت عمرو نے بابلیون میں مسلم چھاؤنی قائم کر کے حضرت خارجہ بن حذافہ کو اس کا انچارج مقرر کیااور خوداپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔
ادھر ہرقل (Heraclius)کی موت کے بعدرومی دارالسلطنت قسطنطنیہ میں اقتدار کی کش مکش شروع ہوگئی تھی۔ ہرقل کی دوسری بیوی مارٹینا (Martina) سریر سلطنت پر اپنے بیٹے ہریقلونس (Heraklonas)کوبٹھاناچاہتی تھی، جبکہ ہرقل اپنی وصیت میں اپنی پہلی بیوی فیبیہ یوڈوکیا (Fabia Eudokia) کے بیٹے قسطنطین ثالث (Constantine III) اور ہریقلونس، دونوں کو سلطنت کا وارث قرار دے چکا تھا۔ اپنے باپ کی وفات کے۴ماہ بعد ہی قسطنطین دق (Tuberculosis) میں مبتلا ہو کر چل بسا تو اس کی سوتیلی ماں مارٹیناپراسے زہر دینے کا الزام لگایا گیا۔ ہرقل کا پوتا اور قسطنطین کا بیٹا قنسطانس ثانی (Constans II) ملکہ کے خلاف مہم میں پیش پیش تھا۔ اسے اپنے چچا ہریقلونس کے ساتھ شریک اقتدار کیا گیا تو یہ کشاکش اختتام کو پہنچی۔ تبھی وہ مسیحی وفد مصر روانہ کیا گیا جو قسطنطین نے مرنے سے پہلے ترتیب دیا تھا۔ رومن کیتھولک چرچ کا متنازع پیشوا کائرس (Cyrus) اس کا سربراہ تھا، کئی پادری اور ایک بڑی فوج اس کے ساتھ تھی۔ اس مذہبی مہم میں حصہ لینے والے رمضان ۲۰ھ (ستمبر ا۶۴) میں ایک بڑے بحری بیڑے کے ذریعے سے مصری دارالخلافہ پہنچے تو مصر کے نجات دہندہ کے طور پر ان کا استقبال کیا گیا۔ الفریڈ بٹلر (Alfred Butler) کا خیال ہے کہ کائرس مسلمانوں سے صلح کا ارادہ رکھتا تھا،کیونکہ اسے اپنی فتح کی امید نہ تھی اور وہ صلح ہی میں عیسائی مذہب کا فائدہ سمجھتا تھا۔ 
اسلامی فوج نے جمادی الاولیٰ ۲۰ھ ( مئی ا۶۴) میں فاتح مصر حضرت عمرو بن عاص کی سربراہی میں بابلیون سے نکل کر دریاے نیل کے بائیں کنارے پر اپنا سفر شروع کیا۔قبطی سرداروں کی ایک جماعت حضرت عمرو کے ساتھ تھی، انھی کے گائیڈ فوج کی راہ نمائی کر رہے تھے۔ حضرت ابن عاص کا ارادہ تھا کہ دائیں کنارے پر واقع قلعۂ نقیوس پرقبضہ کیا جائے، قبل اس کے کہ وہ دریاے نیل عبور کرتے، طرنوط کے مقام پر ان کی رومیو ں سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ ایک مختصر جنگ کے بعد دشمن فوج نے شکست کھائی۔ نقیوس کے عامل کی حکمت عملی تھی کہ اسلامی فوج کو دریاے نیل کی داہنی نہر پار کرنے سے روکا جائے، اس لیے وہ اپنی فوج کشتیوں پرسوار کرا کے شہرسے باہر نکل آ یا۔سیدناعمرو نے رومی فوج کو کشتیوں سے اترنے کا موقع ہی نہ دیا۔ حاکم نقیوس کویوں لگا، جیسے مسلمان نہر میں گھس کر اسے آن لیں گے ۔ اس نے تیزی سے اپنے جہاز کا رخ اسکندریہ کی طرف موڑ دیا۔فوجیوں نے اپنے سالار کو بھاگتے دیکھا تو ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے،ان میں سے زیادہ تر مارے گئے ۔ مسلمان شہر نقیوس میں نچنت داخل ہو گئے۔قدیم مصری مورخ حنا نقیوسی اور اس کی متابعت میں Butler کا یہ الزام کہ اسلامی فوج نے گھروں اور کنیسوں میں داخل ہو کر عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کیا، کسی طرح درست نہیں۔ اسلامی آداب حرب، ہتھیار ڈالنے والوں ، عورتوں اور بچوں پر ہاتھ اٹھانے سے سختی سے منع کرتے ہیں۔ ایسا کرنا مسلمانوں کا کبھی شیوہ نہیں رہا اورعہد فاروقی میں ایسا ہونا تو ناممکن تھا کیونکہ سیدنا عمر اپنے عمال کی چھوٹی سی غلطی کا بھی سخت اور کڑا محاسبہ کرتے تھے۔
حضرت عمرو نے شریک بن سمی کی قیادت میں ایک دستہ اسکندریہ فرار ہونے والوں کے تعاقب میں بھیجا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ وہ اپنے تھوڑے سے فوجیوں کے ساتھ اتنے بھگوڑوں پر غلبہ نہیں پا سکتے تو ایک ٹیلے پر پنا ہ لی اور مالک بن ناعمہ کوکمک لانے کے لیے نقیوس بھیجا۔رومیوں کواطلاع ملی کہ اسلامی فوج کو مدد آ رہی ہے تو وہ پھر سے فرار ہو گئے۔ اب پورا لشکر اس ٹیلے پر آن پہنچا جسے اب ’’کوم شریک ‘‘ (شریک کا ٹیلہ) کہا جاتا ہے۔اسی اثنا میں اطلاع ملی کہ ایک رومی پلٹن سُلطیس کے مقام پرجمع ہے۔ حضرت عمرو نے بھی اپنے جیش کے ساتھ سُلطیس کا رخ کیا۔ یہاں سخت لڑائی ہوئی، رومی فوج شکست کھا کر بھاگی تو دمنہور سمیت راستے کے کسی مقام پر نہ ٹھہری اور سیدھا اسکندریہ کے پاس کریون کے قلعوں میں جا پناہ لی۔اسکندریہ میں موجود رومی کمانڈر ان چیف تھیوڈرشہر اسکندریہ کو محفوظ رکھنے کے لیے فوج کے ساتھ کریون کے قلعہ میں منتقل ہو گیا۔اسے اطمینان تھا کہ قلعے کی مضبوط دیواریں مسلمانوں کی یورش روک لیں گی۔ اسلامی فوج کے کچھ افراد پچھلے معرکوں میں کام آ گئے تھے ،کچھ کو مفتوحہ شہروں کی حفاظت کے لیے چھوڑ دیا گیا، اس طرح اس کی اصل ۵اہزار کی نفری برقرارنہ رہی تھی۔ تاریخ کے اوراق مزید فوج کی آمد کے ذکر سے خالی ہیں، تاہم محمد حسین ہیکل نے گمان کیا ہے کہ بصرہ و کوفہ اور شام کی چھاؤنیوں سے کچھ کمک ضرور پہنچی ہو گی اور ۲۰ ہزار کے قریب نفری کریون پہنچی ہو گی ۔کریون میں جنگ کا بازار گرم ہوا،کئی دن گزرنے کے بعد بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ مسلمانوں نے بڑی دلیری دکھائی، تب بھی رومی فوج کا پلڑا بھاری نظر آتاتھا۔ حالات ایسے تھے کہ حضرت عمرو بن عاص کو صلوٰۃ خوف پڑھانا پڑی۔ اسی جنگ میں ان کے بیٹے حضرت عبداﷲ بن عمرو شہید ہوئے۔ کہیں تیرہویں چودھویں دن رومی دفاع کمزور پڑا اور قلعۂ کریون مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔
فتح کے بعد حضرت عمرو بن عاص نے کریون میں قیام نہ کیا، وہ جیش اسلامی لے کر فوراً اسکندریہ پہنچے، لیکن شہر کے دروازے ان پر وا نہ ہوئے، الٹا شہرپناہ پرسے منجنیقیں پتھر برسانے لگیں۔اسکندریہ ایک محفوظ شہر تھا ، اس کے شمال میں بحیرۂ روم موجیں مار رہا تھا،جنوب میں جھیل مریوط تھی اور مغرب میں نہرثعبان بہ رہی تھی۔ اس جزیرہ نما کو صرف مشرق کی طرف سے رسائی ہو سکتی تھی، جہاں بلند و بالا قلعوں کی فصیلیں راستہ روکے کھڑی تھیں۔اسلامی فوج ادھر ہی سے آئی تھی۔ اسکندریہ کی بندرگاہ اور تمام ساحلی مقامات رومی کنٹرول میں تھے، اس لیے محصوروں کو سمندر کی طرف سے ہر طرح کی مدد پہنچ رہی تھی۔ ۵۰ ہزار رومی شہر کی حفاظت پر مامور تھے۔ حضرت عمرو نے اپنی فوج کو منجنیقوں کی مار سے دور ٹھہراد یا۔قصر فاروس کے باہر فوج کو قیام کیے ۲ ماہ گزر گئے اور طرفین کی جانب سے کوئی جنبش نہ ہوئی۔ جب اسلامی لشکر حرکت کرکے مقس تک آیاتو جھیل کی طرف سے ایک رومی دستہ نکلا اور ۲ا مسلمانوں کو شہید کرکے واپس لوٹ گیا، چھوٹی موٹی جھڑپیں بعدمیں بھی ہوتی رہیں۔ حضرت عمرو نے اسکندریہ میں رہتے ہوئے مفتوحہ علاقوں پر اپنا تسلط برقرار رکھا۔ انھوں نے اپنی دھاک بٹھانے کے لیے کئی بار اپنے دستوں کو اطراف کے شہروں میں بھیجا۔ساڑھے چار ماہ گزر گئے ،محاصرہ لمبا اور بے ثمر ہو گیا تو مدینہ میں امیر المومنین عمر بن خطاب مضطرب ہو گئے۔ انھیں یہ فکر کھائے جا رہا تھا کہ کہیں ان کی فوج عیش دنیا میں پڑ کرسست نہ ہوگئی ہو۔انھوں نے حضرت ابن عاص کو خط لکھا کہ اﷲ تعالیٰ اسی قوم کی مدد کرتا ہے جو نیک نیت ہو۔ لوگوں کو صدق نیت اور صبر کے ساتھ جہاد کرنے پرانگیخت کرو۔ بروز جمعہ زوال کے وقت سب یک جان ہو کر حملہ کردو۔ حضرت عمرو بن عاص بھی سوچ میں پڑے ہوئے تھے کہ شہر کو کیسے زیر کیاجائے۔ انھوں نے سپاہیوں کو حضرت عمر کا خط سنایا اور ۲ رکعت نفل اداکرکے اﷲ سے فتح کی دعا مانگنے کی تلقین کی۔ پھر خیال آیا کہ صحابہ ہی میں سے کوئی یہ مرحلہ سر کر سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبادہ بن صامت کو بلاکر کمان سونپی ۔ایک ہی روز کی سخت لڑائی کے بعد مسلمان شہر اسکندریہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔ چند انفرادی واقعات کے سوا اس جنگ (ا۲ھ)کی کوئی تفصیل ہم تک نہیں پہنچی۔ اسکندریہ کے مرمریں ستون ،عالی شان معابد و کنائس ،شاہی محلات اور شان دار سڑکیں دیکھنے والوں کو مبہوت کررہی تھیں۔ مسلم مورخین کے بر عکس اے جے بٹلر (A J Butler) کا کہنا ہے: اسکندریہ کے محاصرے کے دوران میں اطراف کو جانے والی مہمات کی حضرت عمر و بن عاص خودکمان کرتے رہے ۔ایک بار وہ بابلیون میں تھے کہ کائرس (Cyrus) ان کے پاس پہنچا اور صلح کی پیش کش کی۔اسکندریہ کے باشندوں کو معلوم ہوا توسخت ملامت کی اور اسے مارنے کے درپے ہوئے، لیکن اس نے اپنی مذہبی سیادت کی بنا پرانھیں قائل کر لیا اور جزیے کی پہلی قسط اور کچھ اضافی سونا جمع کر کے خود حضرت عمرو کے حوالے کیا۔ بٹلر کے اس اختراع ذہنی کی کوئی تاریخی سند نہیں پائی جاتی۔ حضرت عمرو بن عاص نے حضرت معاویہ بن حدیج کوفتح کی بشارت دے کر مدینہ بھیجا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فوراً اذان دلائی، اہل ایمان کو جمع کر کے خوش خبری سنائی اور نماز شکرانہ ادا کی۔ 
شکست کے بعد رومی سمندر کی طرف سے فرار ہو گئے،کچھ سرزمین مصر میں پھیل گئے۔مقوقس نے اسکندریہ نہ چھوڑا، وہ اپنے محل میں مقیم رہا ،ربیع الاول ا۲ھ (مارچ ۶۴۲) میں یہیں فوت ہوا اور اسی شہر میں دفن ہوا۔سقوط اسکندریہ کے بعد مصر کے اکثر شہروں کے دروازے مسلمانوں کے لیے کھل گئے ۔بحیرۂ روم کے ساحل کے قریب واقع شہروں اخنا، بلہیب، برلس، دمیاط اور تنیس میں رومی چھاؤنیاں تھیں، اس لیے مسلمانوں کے قبضے میں نہ آئے۔ حضرت عمرو نے کچھ دستے ان کی طرف بھیجے تو وہاں کے باشندگان نے مصالحت کر لی۔ صرف اہل تنّیس نے مزاحمت دکھائی اور بزور جنگ زیر ہوئے۔ برقہ اور طرابلس میں بھی رومی فوجیں موجود تھیں جو جیش اسلامی پر حملہ کرنے کے لیے مناسب موقع کے انتظار میں تھیں۔ حضرت ابن عاص خود فوج لے کر وہاں گئے ، سکان برقہ نے جلد صلح کر لی، رومیوں کی ایک کثیر تعداد نے اسلام قبول کر لیا اورباقیوں نے ۳اہزار دینار سالانہ جزیہ دینا مانا۔اب (۲۲ ھ میں) حضرت عمرو کا رخ طرابلس کے ساحلی شہر کی طرف تھا۔وہاں کے باشندگان قلعہ بند ہو کر سمندر کی جانب سے مدد آنے کا انتظار کرنے لگے، کئی ہفتے گزر گئے، ان کو کمک نہ آئی۔اسی اثنا میں مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ سمندر کی جانب شہرکے گرد کوئی فصیل نہیں۔ان کی ایک جماعت اس طرف گئی اور نعرۂ تکبیربلند کیا ،رومی شتابی سے جہازوں پر بیٹھ کر فرار ہو گئے۔ طرابلس کا دروازہ کھل گیا اور اسلامی فوج حضرت عمرو کی سربراہی میں اندر داخل ہو گئی۔ 
اس مرحلے پر جبکہ مصر کاملاً اسلامی سلطنت کاحصہ بن چکا تھا، حضرت عمرو بن عاص نے خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطاب سے تیونس اور شمالی افریقہ میں پیش قدمی کرنے کی اجازت مانگی۔ان کی طرف سے انکار ہوا تووہ واپس برقہ آئے، جہاں بربر قبائل نے ان سے معاہدۂ صلح کیا۔وہ مصر کی جنوبی سرحدوں کو محفوظ دیکھنا چاہتے تھے، اس لیے حضرت عقبہ بن نافع کی قیادت میں ایک مہم پڑوسی شہر نوبہ کی طرف بھیجی ۔وہاں کے لوگ ماہر تیر انداز تھے،سیدھا آنکھ کی پتلی کا نشانہ لے کر آنکھ پھوڑ دیتے تھے۔سخت قتال کے بعد بھی کوئی نتیجہ نہ نکلاتو سرحدی جھڑپیں جاری رہیں، حتیٰ کہ خلیفۂ ثالث حضرت عثمان کے عہد میں ان سے معاہدۂ صلح طے پایا۔
جنگ و قتال سے فارغ ہونے کے بعد حضرت عمرو نے اہل مصر کے لیے امان عامہ کا اعلان کیا۔انھوں نے تمام ظالمانہ ٹیکس ختم کر دیے اور کہا: کسی کو زبردستی مسلمان نہ بنایا جائے گا۔ایک فوجی جرنیل کے بجاے اب مدبر سیاست دان کا رول ان کے سامنے تھا۔انھوں نے حضرت عمر رضی اﷲعنہ سے اسلامی حکومت کا دارالخلافہ مقرر کرنے کی درخواست کی۔ حضرت عمر نے ایک اصولی حکم دے کر فیصلہ حضرت عمرو پر چھوڑ دیا: میں نہیں چاہتا کہ تم ایسی جگہ ٹھکانا بناؤ، جہاں میرے اور مسلمانوں کے بیچ سردیوں یا گرمیوں میں دریاے نیل حائل ہو جائے۔اس اصول کی روشنی میں حضرت عمرو کوفسطاط سے بہتر کوئی جگہ نظر نہ آئی، یہ فراعنہ کے قدیم دارالحکومت منف اور قلعۂ بابلیون کے قریب دریاے نیل پرواقع تھا ۔یہاں سے مدینہ جانے کے لیے دریاے نیل پار نہیں کرنا پڑتا۔بابلیون کے محاصرے کے دوران میں حضرت عمرو نے یہاں ایک خیمہ (یا فسطاط) نصب کر رکھا تھا ۔جب قلعہ فتح ہو گیا تو انھوں نے خیمہ اکھاڑنے کا حکم دیا ۔جب انھیں نظر آیا کہ ایک جنگلی کبوتری نے اس میں انڈے دے رکھے ہیں تو اسے قائم رہنے دیا اورقلعے کی نگرانی کرنے والوں کو بھی ہدایت کی کہ خیمہ نہ اکھاڑا جائے۔ اب حضرت عمرو نے خیمے والی جگہ کو مسجد بنا دیا اور آس پاس مسلمانو ں کو اپنے گھر تعمیر کرنے کا حکم دیا ۔انھوں نے مسجد کے پاس ایک گھر امیر المومنین کے لیے بھی بنوایا اوران کو اطلاع بھیجی۔ حضرت عمر نے جواب بھیجا کہ حجاز میں رہنے والے شخص کا کیا کام کہ وہ مصر میں گھر بنائے؟ اسے مسلمانوں کے بازار میں تبدیل کر دو۔انھوں نے شدید غصے کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ مسجد میں جو منبرتم نے بنوایا ہے، وہ مسلمان نمازیوں کی گردنوں سے بھی بلند ہے ،اسے فوراً تڑوا دو۔ تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ کھڑے ہو کر خطبہ دو اور نمازی تمھاری ایڑیوں سے نیچے ہوں۔ 
حضرت عمرو بن عاص نے لارڈ بشپ بنیامین کو دعوت دی کہ وہ مصر لوٹ آئیں ۔وہ رومی حکام اورکائرس کے مظالم سے تنگ آکر صحرا میں روپوش ہو چکے تھے۔جب وہ اپنے قبطی عقیدت مندوں میں لوٹ آئے توان میں فرحت کی لہر دوڑ گئی۔ 
مطالعۂ مزید: تاریخ الامم والملوک(طبری) ؛الکامل فی التاریخ(ابن اثیر)؛ فتوح البلدان (بلاذری)؛ الفاروق عمر (محمد حسین ہیکل)؛ تاریخ اسلام (شاہ معین الدین ندوی)؛The Arab Conquest of Egypt and the last thirty years of Roman dominian (Alfred J Butler)
[باقی]

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جون 2008
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : Jul 22, 2017
320 View