شادی میں والدین کی رضا مندی - سید منظور الحسن

شادی میں والدین کی رضا مندی

[جناب جاوید احمد غامدی اپنے ہفتہ وار درس قرآن و حدیث کے بعد شرکا کے سوالوں کے جواب دیتے رہے ہیں۔ یہ ان میں سے چند سوال و جواب کا انتخاب ہے۔]

 

سوال: کیا شادی میں والدین کی رضا مندی ضروری ہے؟
جواب: قرآن مجید نے ہمیں یہ ہدایت دی ہے کہ نکاح معاشرے کے معروف کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی صالح معاشرے کے اندر اس معاملے میں جو ضوابط ہیں، جو روایات ہیں،جو رسوم و رواج ہیں، انھی کے مطابق اس ذمہ داری کو انجام پانا چاہیے۔ہمارے معاشرے میں اس ذمہ داری کو انجام دینے کے لیے نہ صرف والدین سرگرم ہوتے ہیں ، بلکہ دیگر اعزہ اوراحباب بھی اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔اسی سے رشتوں میں حسن پیدا ہوتاہے، اسی سے اچھی معاشرت وجود میں آتی ہے اور یہی ہمارا معروف ہے۔
اگر کسی موقع پر والدین اپنے بچوں کی ترجیحات کو یکسر نظر انداز کردیں اور ناجائز طور پر اپنی مرضی ان پر مسلط کرنا چاہیں تواس معروف کی خلاف ورزی جائز ہو سکتی ہے،لیکن اس معاملے میں غلط یا صحیح کا تعین کسی معاملے کو سامنے رکھ کرہی کیا جا سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی موقع پر والدین کا موقف درست ہو اور کسی موقع پر اولاد کی بات ٹھیک ہو ۔
صحیح بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اولاد اور والدین، دونوں ہی کو اعتدال کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ نہ والدین کو سختی اور جبر سے کام لینا چاہیے اور نہ اولاد کونافرمانی اور انحراف کی روش اختیار کرنی چاہیے۔ باہمی موافقت اور محبت سے یہ معاملہ انجام پانا چاہیے۔

------------------------------

 

بشکریہ سید منظور الحسن
تحریر/اشاعت جون 2007 

مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Aug 29, 2016
1079 View