فہم قرآن کے چند اخلاقی اور لسانی اصول - عمار خان ناصر

فہم قرآن کے چند اخلاقی اور لسانی اصول

(فہم قرآن کے اصول ومبادی سے متعلق ایک لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو)

قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے، اس کی آیات کی تفسیر وتوضیح کرتے ہوئے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی منشا اور مدعا متعین کرتے ہوئے کچھ اصول ہیں جو قرآن مجید کے ہر طالب علم کے سامنے رہنے چاہییں اور ان کی پابندی اس بات کی ضمانت دے گی کہ انسان اللہ کی مراد کے زیادہ قریب پہنچنے کے قابل ہو جائے گا۔ ان میں سے کچھ اصول علمی نوعیت کے ہیں اور کچھ اخلاقی اصول ہیں۔ ان کو ملحوظ رکھنے سے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انسان ہر جگہ ہر معاملے میں کسی بھی قسم کی غلطی کا شکار نہیں ہوگا، ا س لیے کہ بہرحال اللہ کی کتاب کو سمجھنا اور اس کی تفسیر وتوضیح کرنا، اس میں انسانی فہم کا حصہ اور اس کا کردار بہت زیادہ ہے اور انسان کا فہم کبھی کمال کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ لیکن بہرحال کچھ اصول ہیں جن کی پابندی سے آدمی یہ اطمینان حاصل کر سکتا ہے کہ وہ قرآن کی تعلیم اور اس کے خاص پیغام کا جو core ہے، کم سے کم اس سے محروم نہیں رہے گا۔ اسی طرح مختلف مقامات پر جہاں ایک سے زیادہ احتمالات ممکن ہیں اور جہاں ایک سے زیادہ تعبیرات اور تشریحات پیش کی جا سکتی ہیں، ان میں آدمی صحت کے قریب تر پہنچ جائے گا۔ اگر ان اصولوں کی دیانت داری کے ساتھ، اور اہلیت کے ساتھ پابندی کی جائے تو اس بات کا اطمینان بڑی حد تک حاصل کیا جا سکتا ہے۔

سب سے بنیادی اخلاقی اصول جس کی رعایت نہ صرف اللہ کی کتاب کے معاملے میں، بلکہ دنیا کی کسی بھی کتاب کے معاملے میں ، کسی بھی متکلم کے کلام کو پڑھنے کے معاملے میں ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ آپ پوری دیانت داری سے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کہنے والے کا جو اپنا مدعا او ر منشا ہے، اس کی جو اپنی مراد ہے، وہ کیا ہے، نہ یہ کہ آپ کے ذہن میں جو پہلے سے موجود خیالات ہیں، رجحانات ہیں، کچھ پسندیدہ یا ناپسندیدہ باتیں ہیں، ان کو لے کر ان کی تائید یا تصویب کے لیے یا ان کی تردید تلاش کرنے کے لیے آپ کسی بھی کتاب کی طرف رجوع کریں۔ یہ انسان کی فطرت میں، اس کی طبیعت میں جو خامیاں رکھ دی گئی ہیں، ان میں سے ایک بڑی خامی ہے کہ اپنے ذہنی رجحانات اور اپنے پسندیدہ خیالات سے مختلف خیالات پر پر غور کرنا یا ان کو ہمدردی سے سمجھنے کی کوشش کرنا، یہ انسان کے لیے بالعموم ممکن نہیں ہوتا، خاص طور پر جب معاملہ ایک مذہبی کتاب کا ہو جس میں خاص طور پر اس کو ماننے والے، اس پر ایمان رکھنے والے یہ بنیادی مسلمہ لے کر اس کی طرف جائیں گے کہ یہ کتاب جو کچھ کہے گی، ہمیں اس کو ماننا ہوگا، جس طرف بھی ہماری راہ نمائی کرے گی، ہمیں اس کو قبول کرنا ہوگا۔ تو جہاں یہ حساسیت بھی موجود ہو، وہاں اپنے آپ کو بالکل خالی الذہن کر کے اور تعصبات سے اور ذہنی رجحانات سے بالکل پاک کر کے اس کتاب کے سامنے سرنڈر کر دینا، یہ رویہ انسان کے لیے زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جتنی غلط تاویلات مذہبی کتابوں کے معاملے میں پیش آتی ہیں، اس کا شاید عشر عشیر دوسری کتابوں کے معاملے میں پیش نہیں آتا۔ دوسری کتابوں کے ساتھ کوئی تقدس کا جذبہ وابستہ نہیں ہوتا، ان کے سامنے سر اطاعت خم کرنے کا کوئی تصور وابستہ نہیں ہوتا۔ مذہبی کتابوں کے ساتھ یہ تصورات بھی وابستہ ہوتے ہیں، لوگوں کے دینی جذبات بھی وابستہ ہوتے ہیں، اور اس سے آپ جو بات بھی اخذ کرتے ہیں، وہ گویا آپ کی کہی ہوئی بات کی تائید بھی فراہم کرتی ہے، اور دوسروں سے اس کے ساتھ موافقت اور اس کی قبولیت کا مطالبہ کرنے کے لیے بھی آپ کو بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس طرح کی بہت سی چیزیں اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس لیے مذہبی کتابوں کی تاریخ میں یہ چیز بہت زیادہ مسئلہ بنتی ہے۔ کتاب اللہ کو خالص نیت کے ساتھ اور اللہ کی منشا ومراد تک پہنچنے کے جذبے کے ساتھ پڑھنا، یہ خاصا مشکل کام ہے۔ انسان فطرتاً اپنے جذبات کا اور احساسات کا اسیر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ جب کچھ تعصبات وابستہ ہو جائیں، کچھ ذہنی رجحانات اور کچھ پسند ناپسند کے مسائل اس کے ذہن میں جگہ بنا لیں تو پھر وہ انھی کو لے کر اللہ کی کتاب کی طرف آتا ہے اور بجائے اس کے کہ معروضی انداز میں اس کی کوشش کرے کہ اللہ کی کتاب کی مراد تک پہنچے، انسان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اپنے پسندیدہ خیالات کی تصویب اس کو وہاں سے ملے اور اپنے ناپسندیدہ خیالات کی تردید اس کے الفاظ میں وہ پڑھ لے۔

تو پہلی جو بنیادی چیز ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی اس کتاب کو پڑھے تو خالی الذہن ہو کر، تعصب سے پاک ہو کر اور صحیح خالص نیت کے ساتھ اللہ کی مرادکو سمجھنے کی نیت سے پڑھے۔ اس نیت سے پڑھے گا تو اس میں اللہ کی تائید وتوفیق بھی شامل ہوگی۔ اگر یہ نیت نہیں ہوگی تو پھر عین ممکن ہے کہ آدمی اس کتاب کو پڑھے، اس کی تلاوت کرے، اس پر غور کرے، تدبر بھی کرے، لیکن اس سے جو کچھ اس کو حاصل ہو، وہ سوائے اس کے کچھ نہ ہو کہ اپنی ہی خواہشات کو اللہ کی کتاب کے الفاظ میں پڑھ لے اور اپنے تعصبات کو اس میں منتقل کر کے دوبارہ اس سے اخذ کر لے۔

قرآن مجید نے بھی یہ بات اپنے بارے میں ایک اور پس منظر میں بیان کی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ: یُضِلُّ بِہِ کَثِیرًا وَّیَھدِی بِہِ کَثِیرًا۔ یعنی اس کتاب سے ہدایت پانے کے لیے آدمی کی نیت کا خالص ہونا یہ بنیادی شرط ہے۔ خالص نیت کے بغیر بہت سے لوگ اس کی طرف رجوع کریں گے۔ ان میں سے ایک گروہ وہ تھا جو نزول قرآن کے زمانے میں موجود تھا۔ اب بھی اس کی باقیات یقینا ہیں جو اصل میں اس کتاب کو ہدایت حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس میں مین میکھ نکالنے، اس کے مطالب پر اعتراضات اٹھانے اور لوگوں کو اس کے بارے میں شکوک وشبہات میں ڈالنے کے جذبے سے اس کی طرف آتے ہیں اور اس میں سے ایسی باتیں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جن کو وہ اس مقصد کے لیے استعمال کر سکیں۔ چونکہ یہاں جذبہ حصول ہدایت کا نہیں ہے، نیت خالص نہیں ہے، قرآن مجید نے ان کے بارے میں تبصرہ کیا ہے کہ جو لوگ اس نیت سے اس کتاب کو پڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سے ان کو گمراہی میں مبتلا کر دیں گے۔ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کے ذریعے سے اللہ لوگوں کو ہدایت بھی دیتا ہے اور اسی کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہ بھی کرتا ہے۔ مدار صدق نیت پر ہے۔ سچی نیت سے لوگ آئیں گے تو انھیں ہدایت ملے گی اور بری نیت سے آئیں گے تو اسی کتاب کو پڑھ کر بجائے اس کے کہ ہدایت حاصل کریں، وہ اپنی گمراہی میں پختہ ہو جائیں گے۔ یہ پہلا اخلاقی اصول ہے۔

دوسرا اخلاقی اصول جس کی پابندی قرآن کے پڑھنے والے ہر شخص کو قبول کرنا لازم ہے، یہ ہے کہ اگر کہیں اس کو قرآن کے مطالب اور اس کی تعلیمات کے سمجھنے میں اشتباہ پیش آ گیا ہے، آیات میں ٹکراﺅ نظر آ رہا ہے، بات اپنے صحیح محل میں نہیں لگ رہی، ا س کا صحیح مصداق جو عقل وفطرت کو مطمئن کر دے، وہ واضح نہیں ہو رہا تو یقینا وہ غور جاری رکھے گا، وہ بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے گا، لیکن یہ اصول بھی اس کو سامنے رکھنا چاہیے کہ ایسی چیزوں میں بعض دفعہ توکیل وتفویض کا اصول اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس بات کے درپے ہو جانے کے بجائے اور جیسا تیسا، کوئی بھی ایک مفہوم ضرور طے کرنے کے بجائے یہ ذہنی رویہ اپنائے کہ کتاب اللہ کے سارے معانی اور سارے مطالب پر حاوی ہونا یہ ہر شخص کے لیے نہ ضروری ہے اور نہ اس کا امکان ہے۔ وَفَوقَ کُلِّ ذِی عِلمٍ عَلِیم۔ مجھے جتنا علم اور جتنی سمجھ اللہ نے دی ہے، اس کے لحاظ سے اگر میں نہیں سمجھ پا رہا تو کچھ دوسرے لوگ ہوں گے جن کے پاس اس کا ہوگا۔ گویا بہت سی جگہوں پر بات کے درپے ہونے یا اس سے کوئی نہ کوئی مطلب لازمی طور پر اخذ کر کے اس کو ایک قطعی اور حتمی مفہوم سمجھ لینے کے بجائے توکیل کا اصول اختیار کرنا پڑے گا۔ اس کی تعلیم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دی ہے۔ جہاں پر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے، کوئی اشکال ہو تو وہاں پر مجادلہ میں یا بحث میں الجھنے کے بجائے یا اس کی تہہ تک ضرور پہنچنے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ آپ توکیل کریں۔ جو باتیں بالکل واضح سمجھ میں آ رہی ہیں، ان پر توجہ رکھیں۔ جو بات سمجھ میں نہیں آ رہی، اس پر غور جاری رکھیں، اس کے متعلق اہل علم سے سوال کریں، لیکن اس کے بارے میں آدمی کی ذہنی پوزیشن یہ ہونی چاہیے کہ بھئی، بہت سی چیزیں ہوں گی جو میرے علم کی سطح سے بلند ہیں، جن کی حقیقت کو میں نہیں سمجھ سکتا۔ میرے علم میں اگر نہیں ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فکلوہ الی عالمہ۔ اس کو اس کے عالم کے سپرد کر دو جس کو اللہ نے اس کو سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ وہ یقینا جانتا ہوگا، اگرچہ میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہی۔

یہ بات خاص طور پر ایک عام آدمی کے لیے بڑی اہم ہے جو علمی طو رپر قرآن کی تشریح وتفسیر کے جو لوازم ہیں، اس سے متعلق جو علوم وفنون ہیں، اس کی جو ایک پوری علمی روایت ہے، علمی سطح پر اس کو سمجھنے کی اس طرح سے اہلیت نہیں رکھتا۔ وہ جب ایک سادہ انسانی سطح پر تذکیر کے لیے، ہدایت کے لیے، اصلاح کے لیے، اپنے آپ کو خدا کے ساتھ جوڑنے کے لیے، خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے اس کتاب کو پڑھتا ہے تو اس کو بہت سے مقامات پر مدعا سمجھنے میں اشتباہ پیش آ سکتا ہے۔ ایسے اشتباہات بھی پیش آ سکتے ہیں، ایسے سوالات بھی پیش آ سکتے ہیں جن کو وہ اپنے محدود علم کی حد تک حل کرنے پر قادر نہ ہو۔ اس کو بعض جگہ آیات ایک دوسرے سے ٹکراتی ہوئی نظر آئیں گی۔ بعض جگہ پر کوئی ایسی بات بیان ہوتی ہوئی نظر آئے گی جس کو انسان کی سادہ عقل قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ بہت سے شکوک وشبہات بھی پیدا ہوں گے۔ ایسے موقع پر ایک صاحب علم جو اس طرح کی چیزوں کو tackle کرنے کے علمی وسائل سے آراستہ ہے، اس کو علمی وسائل حاصل ہیں، وہ تو ایک علمی طریقے سے، ایک علمی منہج کی پیروی کرتے ہوئے ان کو حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سے بھی غلطی ہو سکتی ہے، لیکن اگر وہ علمی اصولوں کی پیروی کرے گا، اخلاقی اصولوں کی پیروی کرے گا تو وہ نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے کہ علمی سوالات سے یا علمی اشکالات سے نبرد آزما ہو۔ تاہم ایک عام آدمی کے لیے اس طرح کی الجھنوں کا سامنا کرنا شاید تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔ بہرحال عام آدمی ہو یا ایک صاحب علم ہو، یہ اصول اس کو ہر جگہ ملحوظ رکھنا ہے۔

زبان میں حقیقت ومجاز کے اسالیب

اس کے بعد کچھ چیزیں ہیں جو علمی نوعیت کی ہیں جن کا تعلق کتاب اللہ کی زبان سے اور کسی بھی کلام کی تشریح وتفسیر کے اصولوں سے ہے۔ متکلم کے لسانی اسالیب، کلام کا سیاق، ایک ہی متکلم کے مختلف بیانات کو سامنے رکھ کر اس کا مدعا طے کرنا اور اس طرح کی چیزیں ہیں جو کلام کی تفسیر کے علمی اصول ہیں اور وہ معلوم ومعروف ہیں۔ بحث کی تکمیل کے لحاظ سے یہاں اس پہلو کا کچھ ذکر کر لیتے ہیں۔

ایک بات جس پر قرآن مجید کے سب مفسرین، تمام اہل علم اصولی طور پر متفق ہیں، وہ یہ ہے کہ دنیا کی جو بھی زبان ہوگی، اس میں دونوں طرح کے اسالیب موجود ہیں۔ ایک اسلوب جس کو ہم حقیقت کا اسلوب کہتے ہیں، یعنی جس میں لفظ یا لفظوں کا مجموعہ یعنی جملہ اپنے انھی معنوں میں بولا اور استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے مراد بھی اس کے وہی معنی ہیں جو اس کے اپنے اصل اور حقیقی معنی ہیں جن کے لیے ان لفظوں کو زبان میں وضع کیا گیا۔ اسی طرح ایک دوسرا اسلوب ہے جس کو مجاز کا، استعارے اور تمثیل کا اسلوب کہتے ہیں، جس میں لفظ براہ راست اپنے اصلی معنی میں نہیں، بلکہ ایسے اسلوب میں استعمال ہوتا ہے جو سننے والے کو بالواسطہ متکلم کی مراد تک پہنچاتا ہے۔ متکلم ایک صورت کو کسی دوسری صورت کی طرف توجہ دلانے کے لیے مستعار لے لیتا ہے۔ لفظ کا حقیقی معنی چھوڑ کر اس کو کسی دوسرے، ایسے معنی کی طرف لے جاتا ہے جو اس سے وابستہ ہے، اس سے جڑا ہوا ہے اور مجازاً اس کا وہ مفہوم مراد لے لیتا ہے۔ زبان میں یہ دونوں طرح کے اسالیب موجود ہوتے ہیں۔ حقیقت کا اسلوب بھی ہوتا ہے، مجاز کا اسلوب بھی ہوتا ہے اور یہ ضرور ی ہے کہ آپ ان میں سے ہر اسلوب کو اپنے اپنے محل میں صحیح طور پر ملحوظ رکھیں۔

اس حوالے سے جو علم اصول اور علم تفسیر کے ماہرین اس کے مختلف قواعد بھی وضع کرتے ہیں اور ان سب کا حاصل یہ ہے کہ آپ یہ اصول سامنے رکھیں کہ زبان میں کہیں حقیقت کا اسلوب ہوگا، کہیں مجاز کا اسلوب ہوگا اور ہر اسلوب کے ساتھ کچھ قرائن اور لوازم ہوں گے۔ جہاں آپ کو حقیقت کے اسلوب کو ملحوظ رکھتے ہوئے کلام کا مفہوم سمجھنا ہے، اس کا اپنا محل ہے، اور اپنے قرائن اور اسالیب ہیں۔ جہاں متکلم نے مجاز کا اسلوب استعمال کیا ہوگا، اس کا کوئی محل ہوگا، اس کے کچھ قرائن اور کچھ اسالیب ہوں گے۔ تو ان دونوں اصولوں کو اپنے اپنے محل میں رکھنا، یہ علمی اصولوں میں سے ایک بڑا بنیادی اصول ہے۔ زبان کا عام اسلوب تو یہی ہے کہ لفظ جس مفہوم کے لیے وضع کیا گیا ہے، جب وہ بولا جائے تو وہی مراد لینا چاہیے۔ ہاں، جب کلام کے اندر یا ماحول کے اندر ایسے قرائن موجود ہوں یا متکلم اور سامع کے مابین جو ایک عہد ذہنی ہے، invisible communication کا جو ایک رشتہ ہے، اس میں ایسے قرائن ہوں جو یہ بتا رہے ہوں کہ متکلم دراصل ان الفاظ سے وہ لفظی مفہوم مراد نہیں لینا چاہ رہا جو عام طور پر اس کا ہوتا ہے تو پھر آپ اس کے مجازی مفہوم کی طرف shiftکریں گے، پھر آپ انتقال کریں گے۔ یہ قرائن کہیں بھی ہو سکتے ہیں، کلام میں بھی ہو سکتے ہیں، ماحول میں بھی ہو سکتے ہیں، متکلم اور مخاطب کے درمیان ان کے ذہن میں بھی ہو سکتے ہیں۔ خاص طورپر گفتگو کے کچھ مقامات اور کچھ دائرے ایسے ہوتے ہیں کہ وہاں پر زبان کا عرف اور متکلم کا اسلوب یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ اس دائرے میں وہ استعمال ہی مجازی اسلوب کرتا ہے۔ تو یہ دونوں اسلوب، انھیں بڑی دقت نظر سے اور علمی طور پر خوب غور کرکے ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کہاں متکلم اپنے حقیقت کے اسلوب کو اختیار کر رہا ہے او رکہاں مجاز کے اسلوب کو اختیار کر رہا ہے۔

اس کی ایک مثال سامنے رکھیں۔ لفظ کا اپنا حقیقی معنی مراد ہونا چاہیے، اس کی مثالیں تو بے شمار ہیں۔ مثلاً قرآن مجید کہتا ہے: وَاِذ قَالَ اِبرَاھِیمُ لِاَبِیہِ آزَرَ۔ ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا۔ یہاں بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ جس سے مکالمہ ہوا، وہ ان کا باپ نہیں تھا، بلکہ ان کا چچا تھا۔ تاہم کلام میں اس کا کوئی قرینہ نہیں۔ کوئی وجہ ایسی دکھائی نہیں دیتی کہ اب کے لفظ کو مجازی مفہوم میں لیا جائے اور باپ کے بجائے باپ کے درجے کا کوئی دوسرا رشتہ دار مراد لیا جائے۔ جب قرآن نے اب کہا ہے، یہاں بھی کہا ہے اور دوسری جگہوں پر بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کا اپنے ایک بزرگ سے مکالمہ نقل ہوا ہے، وہاں بھی لفظ اب ہی استعمال ہوا ہے تو لفظ کو اس کی حقیقت میں لینا چاہیے، یعنی یہ ان کا حقیقی باپ تھا جس سے ابراہیم کا یہ مکالمہ ہوا۔ اگرچہ یہ قرآن کی تعلیم کے لحاظ سے یہ کوئی بہت اہم بات نہیں ہے ، کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے کہ یہ ابراہیم کا باپ تھا یا چچا تھا۔ چچا ہو یا باپ ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن مثال کے لیے میں یہ بات عرض کی ہے۔ یہاں پر جو اہل علم مجازی مفہوم مراد لیتے ہیں، ان کے سامنے یہ سوال رکھا جا سکتا ہے کہ اس کا کیا قرینہ ہے اس کا؟ کیوں لفظ اب کو اس کے حقیقی مفہوم کے بجائے مجازی مفہوم میں لیا جا رہا ہے؟

اسی اصول کو آپ تھوڑا سا پھیلائیں تو دور جدید میں ہمارے ہاں اور دوسرے مسلم معاشروں میں بھی جو تفسیر کا ایک پورا اسکول وجود میں آیا، اس کی غلطی بھی واضح ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ قرآن نے انسانیت کی تخلیق کے حوالے سے آدم اور ابلیس کے دو لفظ استعمال کر کے بعض واقعات بیان کیے ہیں۔ ان میں ملائکہ کا ذکر بھی آیا ہے۔ اسی طرح قرآن بعض دوسرے مقامات پر جن اور جنہ کے نام سے بھی ایک مخلوق کا ذکر کرتا ہے۔ اب اس واقعے میں آدم کا ذکر ہو رہا ہے، ابلیس کا ذکر ہو رہا ہے، دونوں کے درمیان گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے ایک آزمائش کے عمل سے گزرنے کا، ایک جگہ پر رکھے جانے کا، بہکائے جانے او رپھر وہاں سے ہٹا دیے جانے کا ایک پورا واقعہ بیان ہوا ہے۔ دور جدید میں ایک منہج فکر ایسا پیدا ہوا جو اس طرح کے واقعات کو، خاص طور پر آدم کی شخصیت اور ابلیس کی شخصیت کو اور اس پورے واقعے کو تمثیل کے اسلوب میں دیکھتا ہے۔ یعنی آدم سے مراد کوئی شخصیت نہیں ہے جس طرح ہم عام طور پر سمجھتے ہیں۔ ابلیس سے مراد بھی کوئی شخصیت نہیں ہے۔ اور یہ جو واقعہ ہوا، یہ حقیقی معنوں میں پیش آنے والے کسی واقعے کا بیان نہیں۔ یہ ایک تمثیلی اسلوب ہے۔ آدم سے مراد خیر کی اور بھلائی کی صلاحیت ہے جو انسان کے اندر موجود ہے، اور ابلیس سے مراد شر کی طرف رجحان رکھنے والی وہ طبیعت ہے جو انسان میں پائی جاتی ہے۔ اور یہ جو واقعہ ہے، وہ اصل میں انسان کی شخصیت میں خیر اور شر کے مابین کشمکش کا ایک تمثیلی بیان ہے۔ یہ ایک مثال ہے۔ اسی اسلوب پر وہ قرآن مجید میں اس طرح کے دوسرے بہت سے واقعات کی بھی توضیح کرتے ہیں۔

یہاں علمی طور پر جو اعتراض بنتا ہے اور جو علمی اصول پامال ہوتا ہوا نظر آتا ہے، وہ یہی ہے کہ قرآن جس طرح اس واقعے کو بیان کر رہا ہے، ا س میں آخر ایسے کون سے قرائن ہیں جو اس کو حقیقت پر محمول کرنے کے بجائے اس کو تمثیل کا رنگ دینے کا جواز فراہم کرتے ہیں؟ جس اسلوب میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے، اگر تو یہ بتایا جا سکے کہ حقیقی واقعے کے بیان کا اسلوب یہ نہیں ہوتا، کوئی اور ہوتا ہے تو وہ سامنے لایا جائے۔ یعنی قرآن اگر ایک واقعتا ایک حقیقی واقعے ہی کو بیان کرنا چاہتا تو اس کے لیے کون سا اسلوب ہوتا جو اس سے مختلف ہوتا؟ اس لیے کہ یہ اگر تمثیل کا اسلوب ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت کے لیے کوئی اور اسلوب ہوگا۔ زبان کے جتنے معروف اسالیب ہیں اور کلام کو سادہ طور پرسمجھنے کے لیے ہر جگہ ہم جس طریقے کی پیروی کرتے ہیں، اس کے لحاظ سے کہیں یہ تاثر نہیں ملتا کہ یہ کوئی تمثیل بیان ہو رہی ہے۔ قرآن نے اس کو کسی ایک جگہ بیان نہیں کیا۔ مختلف مقامات پر بیان کیا ہے اور تفصیلات کی کمی بیشی اور فرق کے ساتھ بیان کیا ہے۔ کہیں یہ تاثر کلام کے اندر نہیں ملتاکہ اس کو ایک حقیقی واقعے کے بیان کے بجائے اس اسلوب کی مثال فرض کیا جائے جسے ادب کی زبان میں allegorical styleکہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کوئی علاماتی مواد مستعار لیں اور اس کی مدد سے کسی معنوی حقیقت کی یا کسی ذہنی تصور کی تفہیم کرنا چاہیں۔ یہاں کلام کے اندر اس کے کوئی قرائن نہیں پائے جاتے۔

تو جس اصول کی طرف ہم توجہ دلا رہے ہیں، اس کا لفظ کی حد تک بھی اطلاق ہوگا اور ایک پورے واقعے پر بھی اس کا انطباق ہوگا کہ جب تک ہمیں قوی قرائن اور دلائل نہ ملیں جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں کہ یہاں تمثیل کا اسلوب ہے اور استعارے اور مجاز کا اسلوب ہے، تب تک اس کو کلام کو ظاہر کے لحاظ سے اس کے حقیقی مفہوم میں ہی رکھنا چاہیے۔

اسی اصول کا انطباق حقیقت کے مقابل، مجاز کے اسلوب کے دائرے میں بھی ہوگا۔ ہم جانتے ہیں کہ کچھ دائرے ایسے ہوتے ہیں جہاں قرائن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ متکلم استعارہ کا اسلوب استعمال کر رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی اچھی مثال ہے جہاں قرآن نے صفات باری تعالیٰ کا اور اس کے مختلف افعال کا ذکر کیا ہے۔ یہ بات قرآن مجید سے بطور اصول واضح ہے، ا س نے بتا دیا ہے کہ خدا کی ذات انسان کے ادراک اور اس کے دائرئہ حواس سے ماورا ہے۔ اس کی ذات تک انسان کا ذہن اور اس کی جو حسی ادراک کی صلاحیت ہے، وہ نہیں پہنچ سکتی اور وہ انسان کے ہر تصور سے ماورا ایک ذات ہے۔ لَیسَ کَمِثلِہِ شَیئ، اس ذات جیسی کوئی شے ہے ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے بار ے میں بھی اور عالم غیب سے تعلق رکھنے والے دوسرے بہت سے امور کے بار ے میں بھی انسان کے سامنے جو باتیں بیان کی جائیں گی، وہ بنیادی طور پر تمثیل اور کسی حد تک تشبیہ کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے کی جائیں گی۔ ان سے آدمی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ جیسے اپنی زبان میں ہم ان کا تصو رکر سکتے ہیں، وہ حقیقت میں بھی ایسے ہی ہیں۔ یہ تقریب ذہن کا اصول ہوتا ہے، کیونکہ انسان کے اپنے ذہن میں مشاہدات سے اخذ کردہ جو مواد ہے، اس سے مدد لیے بغیر کسی غیر محسوس یا غیر مشاہد چیز کا تصور کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ تو خداکی ذات ہو یا قیامت کا ذکر ہو یا جنت کا ذکر ہو یا ماورائے مشاہدہ جو عالم ہے، اس کے جو بھی حقائق بیان ہوں گے، وہ اسی اصول پر ہوں گے کہ اس کا ایسے اسلوب میں ذکر کیا جائے جو انسان کے لیے بڑی حد تک قابل فہم ہو اور وہ اس کا کسی نہ کسی درجے میں ایک تصور قائم کر سکے۔

اسی اصول پر اللہ تعالیٰ کی ذات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بات قرآن سے واضح ہے کہ اللہ ایک صاحب ارادہ، صاحب شعور، صاحب اقتدار اور صاحب حکمت ہستی ہے۔ وہ کوئی اندھی بہری force نہیں ہے جو کسی سائنسی طاقت کے طریقے پر کام کرتی ہے۔ وہ باقاعدہ ایک ہستی ہے، لیکن اس ہستی کے تعارف کے لیے، اس کے افعال کے بیان کے لیے قرآن مجید بہت سے الفاظ وکلمات ایسے استعمال کرتا ہے جن میں تشبیہ کا ایک پہلو پایا جاتا ہے۔ مثلاً خدا کے عرش پر مستوی ہونے کا بیان ہے، خدا کے ہاتھ کا ذکر ہے۔ احادیث میں آپ کو اس کی کچھ مزید تفصیلات ملیں گی۔ مثلاً خدا ہر رات عرش سے نیچے اتر کر آسمان دنیا پر آ جاتا ہے۔ قیامت کے دن جب جہنم کا پیٹ بھرنا مقصود ہوگا اور وہ ایندھن سے نہیں بھرے گا تو خدا اپنا پاﺅں اس کے اندر رکھے گا اور پھر جہنم کہے گی کہ بس بس، میرا پیٹ بھر گیا۔ تو قرآن نے خدا کی ذات کے بارے میں جو یہ بنیادی بات بیان کر دی ، اس کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ جب اللہ کے ہاتھ کا ذکر ہوگا یا اس کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر ہوگا تو وہ حقیقت کے لحاظ سے نہیں ہے۔ ایسا نہیں کہ جیسے میں کرسی پر بیٹھا ہوں، ایسے ہی خدا بھی عرش پر بیٹھا ہے۔ اسی لیے سلف نے اس کے لیے یہ اصول بیان کیا کہ یقینا خدا ان ساری صفات کے ساتھ موصوف ہے، لیکن اس کا بیٹھنا، اس کا اترنا ، چڑھنا، اس کا متوجہ ہونا یہ ویسے ہے جیسے اس کی ذات اور اس کی شان کے لائق ہے۔ اس کو ہم انسانی اٹھنے بیٹھنے اور انسانی اعضاءپر قیاس نہیں کر سکتے۔

اس معاملے میں بھی آپ دیکھیں گے کہ علم کلام میں ایک پورا اسکول آف تھاٹ ہے جس نے اس اصول کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے بعض انتہا پسندانہ کلامی تعبیرات اختیار کر لی ہیں اور اس کا اصرار ہے کہ جیسے یہ باتیں بیان ہوئی ہیں، ان کو ایسے ہی باللفظ ماننا چاہیے۔ ان کا استدلال اس اصول کے غلط انطباق پر مبنی ہے کہ لفظ کا حقیقی معنی مراد ہونا چاہیے۔ اگر خدا کے ہاتھ کا ذکر ہے تو وہ ایسا ہی ہاتھ ہے جیسے میرا ہاتھ ہے۔ یعنی اس انتہا تک بعض کلامی اسکول پہنچ گئے۔ بنیادی غلطی یہ ہے کہ اس اصول کو نہیں سمجھا گیا کہ زبان میں دونوں طرح کے اسالیب موجود ہیں۔ حقیقت کا بھی موجود ہے، استعارے کا بھی موجود ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کون سا محل اور کون سا دائرہ کس قسم کے اسلوب کے لیے موزوں ہے۔ عالم غیب سے متعلق امور کو بیان کرنے کے لیے قرآن مجید نے ہماری اس طرف راہ نمائی کی ہے کہ جب یہ چیزیں انسان کے سامنے بیان کی جاتی ہیں تو وہ حقیقت کے اسلوب میں نہیں ہوتیں۔ ان میں مجاز اور استعارے کا اسلوب ہوتا ہے او رمقصود یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے تصورات کی حد تک جس حد تک ممکن ہو، ان چیزوں کو اپنے ذہن کی گرفت میں لے آئے اور ایک عمومی سا تصور ان کا قائم کر سکے۔ ایسی چیزوں میں حقیقت کے اسلوب پر اصرار کرنا، یہ اس اصول کو پامال کرنے کا نتیجہ ہوگا۔

سوالات

سوال: خالی الذہن ہونے سے کیا مراد ہے؟ انسان اپنے علمی پس منظر سے جدا ہو کر کیسے کسی نئی چیز کو دیکھ سکتا ہے؟

جواب: خالی الذہن ہونے سے یہ یقینا مراد نہیں ہے کہ آدمی ایک صاف سلیٹ لے کر آئے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ خالی الذہن ہونے سے مراد یہ ہے کہ آدمی کوئی تعصب لے کر یا یہ ارادہ لے کر نہ آئے کہ مجھے ایک خاص مفہوم کی تلاش کرنی ہے۔ یہ چیز اخلاقی طو رپر قابل اعتراض بن جاتی ہے کہ آپ اپنے خیال کو یا اپنی مراد کو کہیں سے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کی تائید دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آدمی جب ایک خاص ذہن لے کر آتا ہے کہ اس طرح کی بات مجھے ملنی چاہیے تو پھر اس کو الفاظ میں جہاں بھی تھوڑی سی گنجائش نظر آتی ہے اس بات پر منطبق کرنے کی تو وہ ان ساری باتوں کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ وہاں متکلم کا مدعا کیا ہے، ا س کی منشا کیا ہے، سیاق سباق میں کیا بات چلی رہی ہے، کس محل میں کیا بات ہو رہی ہے، اور بس اگر ایک جملہ اس کے مطلب پر لفظی لحاظ سے منطبق ہو سکتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ مجھے قرآن کی نص مل گئی۔ جو بات میں سوچ رہا تھا، قرآن نے بھی اس کی تائید کر دی۔ تو خالی الذہن سے مراد یہ ہے کہ ایسا رویہ نہ ہو۔ باقی آدمی کا اپنا جو ایک علمی وفکری پس منظر ہے، اس سے آدمی یقینا پوری طرح اوپر اٹھ نہیں سکتا۔ اس کے لیے آدمی کو بعض دفعہ ایک سفر بھی کرنا پڑتا ہے، ایک ریاضت بھی کرنی پڑتی ہے۔ جو چیز اخلاقی طو رپر قابل اعتراض ہے، وہ یہی ہے کہ آپ پہلے سے ایک خاص مراد، ایک منشا طے کر کے آئیں کہ اس طرح کی چیزیں مجھے تلاش کرنی ہیں۔

سوال: ہم کس طرح طے کریں گے کہ یہ حقیقت ہے یا استعارہ ہے؟

جواب: اس کے اصول تو زبان میں کم وبیش طے ہوتے ہیں۔ یہ کوئی قرآن کے ساتھ خاص نہیں یا دینیات کا کوئی علم نہیں۔ زبان کیا ہے، اس کے معانی ومطالب کیسے طے کرنے ہیں، اس کا انسان کو ایک فطری علم دیا گیا ہے، اس کی روشنی میں یہ باتیں طے ہوتی ہیں۔ قرآن کے لیے کوئی الگ اصول نہیں ہے۔ یہ جانے پہچانے اصول ہیں۔ دنیا کی ہر زبان میں ان کی پابندی کی جاتی ہے۔ انطباق میں بعض جگہ یقینا فرق ہو جائے گا، لیکن بنیادی جو اصول ہیں، وہ ہر زبان میں معلوم ومعروف ہیں اور ان کی پیروی کی جاتی ہے۔

سوال: فرشتے، ملائکہ اور شیاطین، جب ہم نے ان کو دیکھا نہیں تو ان کے وجود کو کس طرح مان سکتے ہیں؟

جواب: ان کے وجود کو ماننا اس لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا ماخذ جس کے بارے میں ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ سچی بات ہمیں بتاتا ہے، اس نے ہمیں اطلاع دی ہے۔ اگر قرآن یا حدیث نے ہمیں ان کے متعلق نہ بتایا ہوتا تو ان کی حیثیت بھی ان بے شمار مخلوقات کی طرح ہوتی جو ہمارے علم میں نہیں اور جن کو جاننا یا ماننا ہمارے لیے کوئی اہمیت بھی نہیں رکھتا۔ یقینا اور بھی بہت سی مخلوقات ہوں گی، لیکن ان کے بارے میں قرآن میں ذکر آ گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ان کا انسانی زندگی کے ساتھ اور انسانی معاملات کے ساتھ کیا رشتہ ہے۔ توقرآن کے یا پیغمبر کے بیان کی بنیاد پر ہم ان کو مانتے ہیں۔ یہ ہمارا قرآن اور رسول اللہ پر ایمان کا ایک تقاضا بن جاتا ہے۔

سوال: قرآن کے سمجھنے کے اصول کون وضع کرے گا؟

جواب: وہی لوگ جو قرآن کا علم رکھتے ہیں، قرآن پر غور کرتے ہیں۔ جیسے دنیا بھر میں ہر علم سے متعلق، ا س کے علمی مباحث اور اصول وہی لوگ وضع کرتے ہیں جو اس پر کام کرتے ہیں، اس پر غور وفکر کرتے ہیں، اس کی اہلیت پیدا کرتے ہیں، اسی طرح قرآن کے معاملے میں بھی کریں گے۔

سوال: قصہ آدم حقیقی اسلوب میں بیان ہوا ہے اور جنت اور دوزخ کا تذکرہ تمثیلی اسلوب میں ہوا ہے، یہ تفریق کس بنیادی اصول سے ہوگی؟

جواب: بنیادی اصول تو میں نے عرض کیا کہ جنت اور دوزخ کا تعلق اس عالم سے ہے جو ہمارے لیے قابل مشاہدہ نہیں اور اس عالم سے ملتی جلتی کوئی چیز جو حقیقت کے لحاظ سے اس کے مماثل ہو، وہ ہماری اس دنیا میں موجود نہیں۔ اس لیے اس کے بار ے ہمیں یہی تصور کرنا ہوگا۔ قرآن جگہ جگہ اس کی نشان دہی کرتا ہے۔ قرآن اپنی تصریحات سے بھی اور قرائن واسالیب سے بھی اس کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ جنت حقیقت میں کیا ہوگی، اس کے جو پھل ہیں، وہ نعمتیں، وہ سکون، وہ لذت جو انسان کو وہاں حاصل ہوگی، اس کا اس دنیا میں جو سکون، لذت، نعمت، ذائقے ہیں، ان کے ساتھ کوئی حقیقی مماثلت نہیں ہے، لیکن ہمیں دنیا میں ان چیزوں کا جو کچھ ادراک اور احساس حاصل ہے، اس پر قیاس کرتے ہوئے ہم ایک حد تک ان کا تصور کر سکتے ہیں۔ حقیقت میں وہ لطف کیا ہوگا، حقیقت میں وہ نعمت کیا ہوگی، حقیقت میں وہ سکون قلب کیا ہوگا، اور جن نعمتوں کا اور جن باغات کا اور جن دوسری چیزوں کا ہمیں بتایا گیا ہے، ان کا حقیقت میں وہاں کیا رنگ ہوگا؟ یہاں ان کا محض ایک تصور کر سکتے ہیں۔ حقیقت وہاں جا کر معلوم ہوگی، کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایک ایسی دنیا سے متعلق بات ہے جو ہمارے مشاہدے میں بھی نہیں اور جو چیزیں ہمارے مشاہدے میں ہیں، ان میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو حقیقت کے لحاظ سے اس کی ترجمانی کر سکے۔

آدم کا جو قصہ ہے، وہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ ہم نے آدم کو نہیں دیکھا، لیکن آدم ایک انسان تھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم ماضی کے واقعات بیان کریں۔ ہم نے تو ان کو نہیں دیکھا، لیکن ہم ان کو سمجھ سکتے ہیں، اس لیے کہ ہم انسان آج بھی انسان ہیں۔ انسان کی زندگی کے جو احوال ہیں، وہ وہی ہیں جو ان کے ہیں۔ تو ہم اپنے احوال سے، اپنے مشاہدئہ انسان سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس میں حقیقت کے لحاظ سے کیا ہوا ہوگا۔ آدم بھی ایک انسان تھے۔ ان کو جو واقعات اور احوال پیش آئے، وہ بالکل اسی طرح مادی زندگی کے احوال ہیں جو ہمارے لیے قابل فہم بھی ہیں اور قابل ادراک بھی ہیں۔ تو اس کو ایک تمثیل قرار دینے کی یا ایک استعاراتی اور مجازی اسلوب میں بیان کردہ واقعہ فرض کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے

بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام، تحریر/اشاعت 25 جون 2017
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : Jun 26, 2017
844 View