مقاصد شریعت کے ابدی اور احکام وقوانین کے عارضی ہونے کا نظریہ (3) - عمار خان ناصر

مقاصد شریعت کے ابدی اور احکام وقوانین کے عارضی ہونے کا نظریہ (3)

 

مذکورہ بحث سے واضح ہے کہ قرآن مجید نہ صرف اپنے بیان کردہ احکام کی فی نفسہ پابندی کو اصولی طور پر لازم قرار دیتا ہے، بلکہ اپنے احکام کی بنیادیں بھی اس سے مختلف بیان کرتا ہے جو زیر بحث نقطہ نظر میں ان کے لیے فرض کر کے ان کی روشنی میں احکام کی شکل وصورت کو ازسرنو وضع کرنے کا حق مانگا جا رہا ہے۔ چنانچہ یہ مفروضہ کہ دین کے نصوص اپنے بیان کردہ احکام کی نوعیت وحیثیت کے بارے میں خاموش ہیں، اس لیے اس نکتے کا فیصلہ تاریخی سیاق کی روشنی میں کیا جائے گا، ایک بدیہی اور واضح حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ اب اگر ان نصوص کو نظر انداز کر کے احکام شریعت کی نوعیت وحیثیت کو طے کرنے کی بحث کا مدار خالصتاً کسی عقلی مقدمے پر رکھا جائے تو یہ بنیادی طور پر ایک فلسفیانہ طریق استدلال ہوگا جو دائرہ ایمان کے اندر نہیں، بلکہ اس سے باہر کھڑے ہو کر ہی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان اگرچہ بذات خود عقلی اساسات پر استوار ہوتا ہے، لیکن ایمان لے آنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ اب عقل آزادانہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی اور اس کی ساری تگ وتاز کا دائرہ خدا اور اس کے پیغمبر کی منشا اور مراد کا فہم حاصل کرنے تک محدود ہو گیا ہے، اس لیے ایمان کے دائرے کے اندر اس بات کا کوئی جواز نہیں کہ مذہبی سرچشموں کو خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مشمولات کا علم حاصل کرنے کے لیے تو ماخذ تسلیم کیا جائے لیکن ان مشمولات کی نوعیت وحیثیت اور قدر وقیمت متعین کرنے کے لیے عقل بجائے خود فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہو۔
تاہم یہاں بحث کا ہر ممکن زاویے سے جائزہ لینے کی خاطر ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اس طریقہ استدلال کی گنجایش موجود ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص دور میں اپنے بندوں کے لیے جو ہدایت نازل کی، اس کے مشمولات کا علم حاصل کرنے کی حد تک تو نصوص سے استفادہ کیا جائے گا، لیکن جہاں تک ان کے مختلف اجزا کی نوعیت یا قدر و قیمت کا تعلق ہے تو اس کی تعیین کے لیے نصوص سے ہٹ کر آزادانہ عقلی استدلال کو بروے کار لایا جائے گا۔ عقلی استدلال ظاہر ہے کہ انسانی نفسیات ومحسوسات کے مطالعہ اور تجربہ ومشاہدہ پر مبنی سماجی علوم سے ترتیب پانے والے عقلی مقدمات پر مبنی ہوگا اور انھی کی روشنی میں یہ طے کیا جائے گا کہ ہدایت کے مشمولات میں سے کون سا جزو کیا قدر و قیمت رکھتا ہے اور اس سے کس نوعیت کی وابستگی ضروری یا غیر ضروری ہے۔ اس صورت میں ایک نہایت بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اگر بحث کا مدا ر اصلاً عقلی استدلال پر ہے تو پھر ابدی طور پر مطلوب مقاصد اور ان کے حصول کے وقتی، عارضی اور قابل تبدیل ذرائع اور وسائل میں فرق کا معیار کیا ہوگا؟ جہاں تک میں غور کر سکا ہوں، عقلی استدلال کی بنیاد پر اس طرح کا کوئی امتیاز قائم کرنا ممکن نہیں اور اگر اس طریقہ استدلال کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے تو بطور ایک دین کے خود اسلام کے امتیازی تشخص ہی کو محفوظ رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس نکتے کو چند مثالوں سے واضح کرنا شاید زیادہ مناسب ہوگا۔ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ شریعت کے جملہ احکام کے پس منظر میں بنیادی طور پر دین، جان، مال، عقل اور نسل کی حفاظت کے مقاصد کارفرما ہیں۔ ان میں سے دین کو لیجیے: یہاں جان، مال، آبرو اور نسل کے تقابل میں دین سے مراد وہ مذہبی آداب ورسوم، شعائر اور پرستش کے مختلف طریقے ہیں جو انسان کے جذبہ عبودیت کے اظہار اور اس کے مذہبی جذبات کو ’symbolize‘ کر کے انھیں ایک حسی صورت عطا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا شارع کا مقصد اس اصل جذبہ عبودیت کا تحفظ ہے جو عبادت کی ان ظاہری صورتوں کا محرک بنتا اور ان میں سرایت کیے ہوئے ہے یا یہ بات بھی مقصد کا حصہ ہے کہ ان جذبات واحساسات کا اظہار انھی مخصوص صورتوں کے ذریعے سے کیا جائے؟ منطقی طور پر یہ کلیہ کہ مخصوص سماجی اور تاریخی تناظر میں دیے جانے والے قانون کی ظاہری صورت کے بجائے اس کے مقاصد مطلوب ہوتے ہیں، صرف سماجی نوعیت کے قوانین پر نہیں، بلکہ مذہبی رسوم وشعائر اور عبادات سے متعلق قوانین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر سماج اور معاشرے سے متعلق احکام وقوانین کی ظاہری صورت کی پابندی لازم نہیں تو عبادات کی ظاہری صورتوں کو لازم قرار دینے کی بھی کوئی وجہ نہیں بالخصوص اس تناظر میں کہ معاشرتی و سماجی احکام کی طرح عبادات سے متعلق اسلامی شریعت کے قوانین میں بھی اہل عرب ہی کی مذہبی روایت کو بنیاد بنایا گیا ہے اور ان پر ان کے مخصوص مذہبی مزاج، ذوقی مناسبت اور تہذیبی وسماجی رجحانات کی چھاپ پوری طرح موجود ہے۔ اگر اصول یہ ہے کہ شارع کو حکم کی ظاہری شکل نہیں، بلکہ اس کی روح مطلوب ہے اور اس کے لیے کوئی بھی شکل اختیار کر لینا ہر معاشرے کے اپنے مخصوص مزاج اور رجحانات پر منحصر ہے تو پھر عبادات کے دائرے میں بھی یہ کہنے میں منطقی طور پر کوئی مانع موجود نہیں کہ خدا کی یاد کے لیے نماز سے ہٹ کر کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا، تقویٰ اور ضبط نفس پیدا کرنے کے لیے روزے کے علاوہ بدنی ریاضت کی کوئی بھی صورت اپنائی جا سکتی،اور مذہبی احساسات کو پیکر محسوس میں ڈھالنے کے لیے مختلف اذواق، تہذیبی رجحانات اور تمدنی حالات کے لحاظ سے پیغمبر سے ثابت رسوم و شعائر کے علاوہ متبادل طریقے بھی اپنائے جا سکتے ہیں۔ آخر اہل عرب کے ذوق ورجحان اور تمدنی حالات کی عکاسی کرنے والے طریقہ ہاے عبادت کی پابندی چین، ہندوستان اور افریقہ کے باشندوں پر کیوں لازم کی جائے اور ان کے ہاں ان کے اپنے اپنے تہذیبی تناظرمیں تشکیل پانے والے عبادات ورسوم کے جو الگ اور مخصوص ڈھانچے موجود ہیں، ان کی ضروری تہذیب وترمیم کے بعد انھیں انھی ڈھانچوں کو اختیار کیے رکھنے کی آزادی کیوں نہ دی جائے؟ بلکہ خود عرب معاشرت نے تاریخی اور تمدنی ارتقا کے جو اگلے مراحل طے کیے ہیں، وہ اگر ان طریقہ ہاے عبادت میں کسی جزوی یا کلی تبدیلی کا تقاضا کریں تو اس پر کس بنیاد پر کوئی قدغن لگائی جائے؟
ان طریقوں کو لازم قرار دینے کے لیے پیغمبر کی سند پیش کرنا بے کار ہوگا، کیونکہ بحث اس مفروضے پر ہو رہی ہے کہ الٰہی ہدایت کے مشمولات جاننے کے لیے تو پیغمبر سے رہنمائی لی جائے گی، لیکن ان کی حیثیت واہمیت نصوص کے بجائے مقاصد اور مصالح کی روشنی میں محض عقلی اصولوں پر طے کی جائے گی، چنانچہ عبادات کی ظاہری صورتوں کو لازم قرار دینے کے لیے نصوص کا حوالہ اس تناظر میں استدلال کے بنیادی مقدمے کے خلاف ہوگا۔ دونوں قسم کے قوانین میں امتیاز کے لیے یہ استدلال بھی یہاں نہیں چل سکتا کہ انسانی سماج چونکہ تغیر اور ارتقا کے مراحل سے گزرتا رہتا ہے، اس لیے اس دائرے میں قانون میں بھی ارتقا اور تبدیلی کی ضرورت سامنے آتی رہتی ہے، جبکہ مراسم عبادت میں ایسی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہ استدلال اول تو اس لیے نتیجہ خیز نہیں کہ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ قانون میں تبدیلی کسی ضرورت کے تحت کی جائے گی یا بغیر ضرورت کے، بلکہ یہ ہے کہ خالص عقلی بنیاد پر کسی مخصوص طریقہ عبادت کی پابندی لازم ہونے کی کیا دلیل ہے؟ تبدیلی کی ضرورت نہ بھی ہو، تب بھی اگر کوئی فرد یا گروہ اصل مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ذوق ورجحان اور مخصوص تہذیبی پس منظر کے لحاظ سے کوئی متبادل طریقہ عبادت اختیار کرتا ہے تو آخر کس عقلی بنیاد پر اس کو غلط کہا جا سکتا ہے؟ دوسرے یہ کہ خالص انسانی زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو مراسم عبادت میں تبدیلی کی ضرورت پیش نہ آنے کی بات واقعاتی اعتبار سے بھی درست نہیں۔ مثال کے طور پر فجر کی نماز کے لیے فجر کا وقت مقرر کرنے کی حکمت تاریخی سیاق کے اعتبار سے یہ تھی کہ قدیم تمدن میں یہی وقت لوگوں کے نیند سے بیدار ہونے کا وقت تھا اور ان سے یہ مطالبہ کرنا موزوں تھا کہ وہ اٹھتے ہی بارگاہ الٰہی میں حاضری دیں اور اس کے بعد اپنے معمولات زندگی کی طرف متوجہ ہوں۔ اگر جدید تمدن نے لوگوں کے سونے اور بیدار ہونے کے معمولات میں تبدیلی پیدا کر دی ہے تو یہ تغیر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ فجر کی نماز کا وقت بھی اس کے لحاظ سے تبدیل کر دیا جائے۔ اسی طرح حج کی عبادت کو سال کے چند مخصوص ایام میں محدود کرنا بہرحال مشکلات ومسائل کا باعث بن رہا ہے اور ذرائع مواصلات کی ترقی اور حاجیوں کی سال بہ سال بڑھتی ہوئی تعداد یہ تقاضا کرتی ہے کہ اگر کوئی دوسرا مرکز حج مقرر کرنا وحدت کے منافی ہو تو کم از کم اس عبادت کے لیے سال میں ایک سے زیادہ مواقع تو ضرور فراہم کرنے چاہییں۔
اب تک کی بحث سے ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ خالص عقلی بنیاد پر پیغمبروں کی لائی ہوئی ہدایت کے زیادہ سے زیادہ اعتقادی اور اخلاقی حصے ہی کو ابدی مانا جا سکتا ہے، جبکہ مخصوص قوانین کی پابندی پر اصرار کی، چاہے وہ سماجی قوانین ہوں یا عبادات سے متعلق، کوئی قطعی بنیاد موجود نہیں۔ اب اس سے اگلے مرحلے کی طرف آئیے: اگر مابعد الطبیعیاتی تصورات پر ایمان اور اخلاقی طرز زندگی کو اپنانا ہی الٰہی ہدایت کا اصل مطلوب ہے، جبکہ مراسم عبودیت یا سماجی قوانین کا کوئی بھی ڈھانچہ عمومی، اخلاقی یا مذہبی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے وضع کیا جا سکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کے لیے کسی شخص کا مسلمان ہونا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھ کر آپ کی امت میں شامل ہونا کیوں ضروری ہے؟ خدا کا پیغمبر اور الٰہی ہدایت کا حامل ہونے کے اعتبار سے تمام پیغمبر یکساں احترام کے مستحق ہیں اور سب کے سچا ہونے پر بیک وقت ایمان رکھا جا سکتا ہے۔ پھر کسی شخص کے لیے حضرت موسیٰ پر ایمان لانے اور حضرت محمد پر ایمان لانے میں عملی اعتبار سے کیا فرق ہے، جبکہ عقائد واخلاق میں دونوں کی تعلیم یکساں ہے اور ظاہری قوانین و احکام کے دائرے میں نہ شریعت موسوی کی پابندی ضروری ہے اور نہ شریعت محمدی کی؟ اگر ایک شخص توحید اور آخرت کو مانتا ہے، سب رسولوں کو یکساں قابل احترام اور سچا تسلیم کرتا ہے، اخلاقی طرز زندگی کا پابند ہے، اور جذبہ عبودیت کا اظہار بھی کسی نہ کسی طریقے سے کر لیتا ہے تو اسے ’قبول اسلام‘ کی دعوت کیوں اور کس مقصد کے لیے دی جائے اور دائرئہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد آخر اسے مزید کیا کرنا ہوگا، جبکہ الٰہی ہدایت کے سارے مطلوبات تو وہ اس کے بغیر بھی پورے کر سکتا ہے اور کر رہا ہے؟
حفاظت دین کے بعد اب مقاصد شریعت میں سے ایک دوسرے مقصد یعنی نسل کی حفاظت کو لیجیے: اس سے مراد خاندان کے ادارے کی صورت میں نسل انسانی کی حفاظت اور بقا کا انتظام کرنا ہے جس کے لیے نکاح وطلاق، عدت اور نسب سے متعلق قوانین مقرر کیے گئے اور زنا کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ جہاں تک میرے علم میں ہے، زیر بحث نقطہ نظر فی نفسہ خاندان کے ادارے کو مطلوب اور مقصود سمجھتا ہے اور اس کی بقا کے لیے نکاح، عدت اور نسب وغیرہ سے متعلق شرعی قوانین کو بھی ابدی تسلیم کرتا ہے، جبکہ واقعہ یہ ہے کہ منطقی طور پر خود اس طریقہ استدلال کے تحت یہ سوال اٹھانا بھی پوری طرح ممکن ہے کہ خود نکاح اور عدت ونسب وغیرہ احکام سے شارع کا اصل مقصد نسل انسانی کی حفاظت اور بقا ہے یا اس کے لیے خاندان کا ادارہ قائم کرنے کا یہ مخصوص طریقہ اور ذریعہ بھی بجائے خود مقصود ہے؟ خالص عقلی بنیاد پر اس استدلال میں کوئی مانع نہیں کہ انسانی تمدن کے ارتقا کے ابتدائی مراحل میں عورت اور بچے کی کفالت کا بندوبست کرنے کے لیے تو یہ ضروری تھا کہ عورت کسی مخصوص مرد کے ساتھ نکاح کا رشتہ باندھے اور اس رشتے کی ساری پابندیوں اور بالخصوص مرد کی بالادستی کو بھی قبول کرے، لیکن تمدن کے ارتقا کے ساتھ اگر عورت اور بچے کی کفالت کا متبادل بندوبست ممکن ہے اور اس سے نسل کی بقا اور حفاظت کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے تو نکاح کی اس قدیم رسم کا التزام بھی ضروری نہیں رہا۔ اسی طرح عقلی بنیاد پر یہ طے کرنا بھی ممکن نہیں کہ بچے کے نسب کو باپ سے وابستہ کرنا بجائے خود مقصود ہے یا یہ بھی نسل کی حفاظت ہی کا ایک ذریعہ تھا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قدیم انسانی تمدن میں مرد کو بیوی اور بچے کی حفاظت اور کفالت کی ذمہ داری اٹھانے پر آمادہ کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس کے دل میں بیوی اور بچے، دونوں کا مالک ہونے کا ایک قوی نفسیاتی محرک زندہ رکھا جائے، چنانچہ تاریخی سیاق کے لحاظ سے اولاد کو باپ کی طرف منسوب کرنے کی حکمت اور ضرورت یہی تھی، لیکن اب بچے کی کفالت کے متبادل امکانات سامنے آنے کے بعد نسب کا تعلق ماں کے ساتھ جوڑ دینا چاہیے، اس لیے کہ ا س کی ولادت اور پرورش کی ساری مصیبتیں تو وہی برداشت کرتی ہے۔ گویا نکاح وطلاق، عدت اور نسب وغیرہ سے متعلق جن احکام کو مقاصد شریعت میں سے ایک اہم مقصد یعنی نسل کی حفاظت کے ذریعے کے طور پر زیر بحث نقطہ نظر کے حامل اہل فکر بھی شریعت کے ابدی احکام مانتے ہیں، خود ان کے طریقہ استدلال کی رو سے وہ بھی اپنی جگہ برقرار نہیں رہ جاتے اور ان کو بھی معاشرتی ارتقا کے ایک مخصوص مرحلے کی ضرورت قرار دے کر بآسانی وقتی ذرائع اور وسائل کی فہرست میں گنا جا سکتا ہے۔
دین اور نسل کی حفاظت سے متعلق مذکورہ دو مثالوں سے زیر بحث طریقہ استدلال کا بنیادی نقص غالباً واضح ہو چکا ہوگا، یعنی یہ کہ ا س میں مقاصد ومصالح کے جس تصور کو قانون سازی کی اصل اساس قرار دیا گیا اور اس کی بنیاد پر احکام شرعیہ کی ابدیت یا غیر ابدیت کو نصوص سے ہٹ کر مقاصد ومصالح کی روشنی میں عقلی بنیادوں پر طے کرنے کا طریقہ تجویز کیا گیا ہے، خود اس کے لیے کوئی حتمی معیار طے کرنا انسانی عقل کے لیے ممکن نہیں اور احکام شریعت کو اپنی ذات میں لازم نہ مان کر جب ہم ان سے مقاصد اخذ کرنے اور مقاصد اور ذرائع میں فرق قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے سرے سے کوئی معیار ہی میسر نہیں ہے۔ مقاصد کو اگر روح سے اور شریعت کو قالب سے تشبیہ دی جائے تو یہ دراصل شریعت کا قالب ہی ہے جو اس کی روح کو اپنے اندر روکے ہوئے ہے، اس لیے جیسے ہی ڈھانچے سے اس کی روح کو الگ کر کے کسی نئے جسم میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو روح ایک مرتبہ آزاد ہونے کے بعد کسی بھی نئے قالب کی پابندی کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ چنانچہ شریعت کی روح کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے قالب کو بھی محفوظ رکھا جائے اور قالب کو محفوظ رکھنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ احکام شریعت میں سے ہر حکم کی نوعیت واہمیت اور محل کو طے کرنے کے لیے خود نصوص کو بنیاد تسلیم کیا جائے، اس لیے کہ انسانی عقل کسی مخصوص ڈھانچے کی پابندی خالص عقلی استدلال سے نہیں، بلکہ صرف اور صرف خدائی حکم کی بنیاد پر قبول کرتی ہے۔

بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام، تحریر/اشاعت 24 اکتوبر 2016
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : Dec 01, 2016
865 View