دل و دماغ پر مہر - کوکب شہزاد

دل و دماغ پر مہر

 

سوال: عام طور بر یہ بات سننے میں آئی ہے کہ جو لوگ صحیح راستے پر نہیں چلتے، برائی ان کا اوڑھنا بچھونا بن جاتی ہے قانون قدرت کے مطابق دل اور دماغ پر مہر لگ جاتی ہے، لیکن میں نے قرآن مجید میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں اسے ہدایت دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں گمراہ کرتے ہیں۔ ہدایت اور ضلالت اگر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو پھر انسان کے گمراہ ہونے میں اس کا کیا قصور ہے؟

جواب: اگر پورے قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے تو آپ کے سوال کا جواب بڑی آسانی سے مل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا اور اس کا ذکر فرشتوں کے سامنے کیا تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ آپ ایک ایسی مخلوق بنانے والے ہیں جو زمین میں فساد پیدا کرے گی اور خون ریزی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بتایا کہ وہ انسان کی ہدایت کا مستقل انتطام رکھیں گے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے نبی، رسول اور ہادی بھیجتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب شیطان کو آدم کو سجدہ نہ کرنے کی حکم عدولی کی بنا پر دھتکار دیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی کہ مجھے مہلت دو کہ میں انسانوں کو گمراہ کروں اور تیری جہنم کو انھی انسانوں سے بھر دوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے جو نیک بندے ہوں گے وہ کبھی تیرے چنگل میں نہیں آئیں گے۔ میرے نافرمان بندے ہی تیرے بہکاوے میں آئیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پہلا انسان پیدا کرتے ہی انسان کی ہدایت کا بیرونی انتطام کیا کہ پے در پے نبی بھیجے اور دوسرا انتظام انسان کے پیدا ہوتے ہی اس کے ضمیر کی صورت میں کیا۔ سورۃ القیامہ میں ہے:

لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ۔

’’نہیں میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی اور نہیں میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔‘‘

اسی طرح سورۃ الشمس میں ہے:

وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاهَا فَاَلْهَـمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا۔

’’اور نفس جیسا کہ اسے سنوارا اور اسے نیکی اور بدی کا شعور دیا۔‘‘

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ساتھ بالکل ناانصافی نہیں کی، بلکہ شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کی ہدایت کا پورا انتظام کر کے اسے دنیا میں بھیجا کہ قیامت کے دن وہ یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ میں تو ہدایت سے بے خبر رہا۔

جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اسے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کرے تو اس کا جواب یہ ہے جو قرآن مجید سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص ہدایت کی راہ پر چلنا چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہدایت کی مزید راہیں کھول دیتا ہے اور اپنی توفیق اس کے شامل حال کر دیتا ہے پھر شیطان کا بس اس پر نہیں چلتا اور وہ راہ حق کا مسافر بن جاتا ہے اور جو شخص ہدایت سے منہ موڑتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہر طریقے سے صحیح راستے پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے، لیکن اگر وہ کسی طرح بھی ہدایت کی طرف نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ اس بر شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو اسے گمراہی کی وادیوں میں لے کر بھٹکتا ہے اور اسے گناہ کرنے میں ہی لذّت ملتی ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مثال ایک چرواہے کی سی ہے جس کی سو بھیڑیں ہوں اور اگر اس کی ایک بھیڑ گم ہو جائے تو وہ نناوے کی فکر چھوڑ کر اس ایک بھیڑ کو تلاش کرنے میں لگ جاتا ہے۔

نیکی کی راہ پر گامزن رہنے کے لیے ایک اور چیز بہت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کے اندر نیکی اور بدی کی کشمکش جاری رہے۔ اگر کسی وقت اس سے غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کر لے۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ہے کہ انسان جب غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ دھبہ پڑ جاتا ہے اور اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس دھبے کو دور کر دیتے ہیں، لیکن اگر وہ توبہ کرنے کے بجائے غلطیاں کرتا چلا جائے تو سیاہی بڑھتے بڑھتے اس کے پورے دل کو سیاہ کر دیتی ہے۔

اسی طرح آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ انسان میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب تک وہ صحیح رہتا ہے انسان کے اعمال صحیح رہتے ہیں، لیکن جب وہ خراب ہوتا ہے تو انسان کے اعمال خراب ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور سنو وہ گوشت کا لوتھڑا انسان کا دل ہے۔ لہٰذا انسان کی گمراہی اور ہدایت اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس راہ کا چاہے انتخاب کر لے۔ نیکی کرے گا تو اس کی جزا ملے گی اور برائی کرے گا تو اس کی سزا بھگتے گا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کا مکمل انتظام کیا ہے اور انسانوں پر رحمت کرنے کو ابنے اوبر واجب کر رکھا ہے اس لیے ہمیں اپنی خطاؤں اور گناہوں کی ذمّہ داری خود ہی قبول کرنی ہو گی اللہ تعالیٰ بر الزام نہیں دینا چاہیے۔

بشکریہ کوکب شہزاد
مصنف : کوکب شہزاد
Uploaded on : May 03, 2017
1570 View