قرآنی تعلیم کے اصولی مسائل - حمید الدین فراہی

قرآنی تعلیم کے اصولی مسائل

تعلیم قرآنی کے بنیادی مسائل دو حصوں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں: عقائد اور اعمال۔
اعمال تین قسم کے ہیں: شخصی، منزلی، مدنی۔
عقائد کے بنیادی مسائل توحید، نبوت، معاد ہیں (اپنے دلائل کے ساتھ)۔
اعمال میں نماز ہے اور اسی کے ساتھ حج بھی شامل ہے۔ زکوٰۃ ہے اور اسی کا جز روزہ ہے۔ مکارم اخلاق ہیں۔ (یعنی برّ و معروف جس کا ضد منکر ہے) اور پھر شہادت بالحق ہے۔ یہ اگرچہ شخصی اعمال ہیں، لیکن ان کا تعلق جماعت سے بھی ہے۔ اس کے بعد عدل و قسط اور اس کے بعد تعاون کا درجہ ہے۔
توحید کے ساتھ جبر و قدر اور وحدت الوجود کا تعلق ہے۔ پھر توحید اور نبوت کے ساتھ شفاعت کا تعلق ہے۔ معاد کے ساتھ جنت و دوزخ کی حقیقت کے مسائل ہیں۔
قسط میں میراث، نکاح اور معاملات داخل ہیں۔
تعاون میں خلافت، سیاست اور جہاد شامل ہیں۔
پھر اعمال کے سرچشمے اخلاق میں بھی ہیں، مثلاً محبت، صبر، عزم، تقویٰ اور عدل میں۔
ان میں سے بعض چیزیں باعتبار اصول باہم گتھی ہوئی ہیں۔ میں نے کتاب اللہ سے جو کچھ سمجھا ہے، اس کی روشنی میں بقدر ضرورت بعض مسائل پر گفتگو کروں گا۔

جہاد

ہمارے قدیم مفسرین کا خیال یہ تھا کہ آیت سیف ۱؂ نے موعظت و نصیحت اور کفار و مشرکین کے لیے رخصت و رعایت کی بہت سی آیتوں کو منسوخ کر دیا۔ ہمارے زمانہ کے متکلمین کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ آیت سیف نے منسوخ تو نہیں کیا ہے، لیکن اسلام میں جہاد صرف دفاع کے لیے ہے۔ ان کے خیال میں عہد نبوت میں جو غزوات ہوئے، ان سب کی نوعیت دفاعی ہے اور بعد میں خلفا اور صحابہ نے جو لڑائیاں لڑیں، وہ تمام تر ملوکانہ جنگیں تھیں۔ ان کو جہاد فی سبیل اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
میرے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے، بلکہ اصل حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وعدہ کی تکمیل کے لیے بھیجا تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا تھا اور آپ کو اس ذمہ داری کا وارث بنایا تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اس آیت کے بموجب ڈالی گئی تھی:

اَنْ طَہِّرَا بَیْْتِیَ لِلطَّآءِفِیْنَ وَالْعَاکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ.(البقرہ ۲: ۱۲۵)
’’یہ کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔‘‘

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی خاتم کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تھے اور آپ کے دین کو اللہ تعالیٰ تمام ادیان پر غالب کرنے والا تھا۔ اس مقصد کے لیے پہلے آپ کو حکم ہوا کہ لوگوں کو وعظ و تلقین فرمائیں کہ لوگ آپ کی باتوں کو سنیں اور مانیں اور اپنے حالات کی اصلاح کریں۔ آپ کو قتال کی اجازت اس وقت تک نہیں دی گئی جب تک لوگوں پر اللہ کی حجت تمام نہیں ہو گئی اور تبلیغ کا فرض اچھی طرح ادا نہیں ہو گیا۔ جب فرض تبلیغ اچھی طرح ادا ہو چکا تب آپ کو حکم ہوا کہ آپ خانۂ کعبہ کو مشرکین کے قبضہ سے آزاد کرائیں اور عہد ابراہیمی کے بموجب دین حنیفی کو اس سرزمین میں ازسرنو تازہ کریں اور اگر ضرورت پیش آئے تو اس کے لیے قوت کو بھی استعمال کریں۔ قوت کے استعمال کی یہ اجازت بھی آپ کو ہجرت کے بعد دی گئی۔ ’’ہجرت کے بعد‘‘ اس لیے کہ ہجرت سے پہلے جہاد، سواے اس کے جو حفاظت نفس کے لیے ہو، سرتاسر ظلم و فساد ۲؂ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قتال محض دفاع کے لیے نہیں واجب ہوا، بلکہ کعبہ کو فتح کرنے اور بنی اسمٰعیل کے اندر دین حنیفی کو ازسرنو قائم کرنے کے لیے ہوا۔
باقی رہے غیر بنی اسمٰعیل، تو ان کے ساتھ جہاد کا حکم اس لیے دیا گیا کہ ان کو عدل و قسط پر قائم کیا جائے اور زمین کو فساد سے پاک کیا جائے۔ اہل کتاب اور غیر بنی اسمٰعیل کو دین کے معاملہ میں آزادی حاصل رہی۔ ان کے لیے ایمان نہ لانے کی صورت میں جزیہ کی راہ کھلی ہوئی تھی، لیکن بنی اسمٰعیل کے لیے اتمام حجت کے بعد یہ راہ کھلی نہیں چھوڑی گئی تھی۔ ان کے اوپر انھی کے اندر کے ایک شخص کے ذریعہ سے حجت تمام کر دی گئی تھی۔ وہ ان کا دل اور ان کی زبان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی باہر کے آدمی نہ تھے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر وعظ کہنے کے لیے بھیج دیا ہو، بلکہ آپ ان کے نخل فطرت کے ایک پختہ پھل تھے۔ آپ انھی کے اندر پیدا ہوئے، انھی کی برائیوں اور بھلائیوں کے اندر آپ کی نشوونما ہوئی، لیکن آپ کی فطرت کی پاکیزگی نے ان کی تمام خوبیاں اپنے اندر جذب کر لیں اور ان کی ساری برائیاں پھینک دیں، یہاں تک کہ آپ اس شفاف روغن کے مانند بن گئے جو آگ کے چھوئے بغیر بھڑک جانے کے لیے آمادہ ہو۔ آپ ان کی صلاحیتوں کے مرکز، ان کے ترک و اختیار کے لیے قوت تمیز اور ان کے ارادے کے لیے قلب کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ کو ہدایت دے کر گویا اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات کے اندر آپ کی پوری امت کو اپنے آگے سرافگندہ کر دیا، کیونکہ آپ قلب کی منزلت میں تھے۔ جب قلب نے اطاعت کر لی تو تمام اعضا کے لیے یہی زیبا تھا کہ وہ بھی اطاعت کر لیتے۔ اس کی پوری تفصیل نبوت کی بحث میں ملے گی۔
پھر ظاہر اعتبار سے بھی صورت معاملہ اسی کی مقتضی تھی کہ اہل عرب آپ کی دعوت سے اعراض نہ کرتے، کیونکہ عرب کی سرداری قریش کو حاصل تھی اور قریش میں دینی پیشوائی کا منصب عبدالمطلب کو حاصل تھا، اور پھر عبدالمطلب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منتقل ہوا۔ اسی وجہ سے آپ نے فرمایا:

 

أنا ابن عبد المطلب
أنا النبی لا کذب

میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں
میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں ہے

 

نیز آپ ملت ابراہیمی کی طرف لوٹنے اور اس قدیم میثاق کی تجدید کی دعوت دے رہے تھے، جس کو اہل عرب تسلیم کر رہے تھے، اس وجہ سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موقف پر کسی اعتراض کی گنجایش نہیں تھی۔ آپ جو کچھ کر رہے تھے، بالکل ٹھیک تھا۔ باغی اور مفسد وہ لوگ تھے جو اس دعوت کی مخالفت کر رہے تھے۔
لیکن جہاد کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رفع فساد کی خاطر جو لوگ جہاد کے لیے اٹھیں، ان کے لیے سب سے مقدم خود اپنے آپ کو شائبۂ فساد سے پاک کرنا ہے، جب تک خلیفہ اور اس کے متبعین خود عدل پر قائم نہ ہوں، اس وقت تک ان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عدل قائم کرنے کے لیے تلوار لے کر اٹھیں۔ پھر اپنے ملک کے اندر بغیر ہجرت کے جہاد جائز نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگذشت اور ہجرت سے متعلق دوسری آیات سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد اگر صاحب جمعیت اور صاحب اقتدار امیر کی طرف سے نہ ہو تو وہ محض شورش و بدامنی اور فتنہ و فساد ہے۔
پھر قتال کی اجازت حصول قوت کے بعد دی گئی ہے۔ حضرت شعیب کی سرگذشت میں اس کی دلیل موجود ہے۔ انھوں نے فرمایا:

وَاِنْ کَانَ طَآءِفَۃٌ مِّنْکُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْٓ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَطَآءِفَۃٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَنَا.(الاعراف ۷: ۸۷)
’’اگر ایک جماعت تم میں سے اس چیز پر ایمان لائی ہے جس کو دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور دوسری جماعت ایمان نہیں لائی ہے تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے۔‘‘

مذکورہ بالا تین شرطوں کے ساتھ جہاد قیامت تک کے لیے واجب ہے۔ دین کے معاملہ میں جبر اور شورش و بدامنی جائز نہیں ہے، لیکن حق کی شہادت اور تبلیغ اور مجادلۂ حسنہ ہمیشہ ضروری ہے۔

(مجموعہ تفاسیر فراہی ۵۴۔۵۶)

 

۱؂ آیت سیف سے مراد سورۂ توبہ کی آیت ’فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ‘، ’’جب احترام کے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں کہیں تم ان کو پاؤ اور ان کو پکڑو اور ان کو گھیرو اور ان کے لیے ہر جگہ گھات میں بیٹھو‘‘ (التوبہ۹: ۵) ہے۔
۲؂ ہجرت سے قبل قتال میں جو قباحتیں ہیں، ان کی طرف مولانا نے اسی بحث کے آخر میں بعض مفید اشارات کیے ہیں۔ (مترجم)

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت دسمبر 2014
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Mar 29, 2017
769 View