مسلمانوں پر ظلم اور دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری - محمد بلال

مسلمانوں پر ظلم اور دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری

 

سوال: اس وقت مسلمانوں کی پچاس سے زائد ریاستیں ہیں۔ہر ریاست کی ترجیحات اور مفادات الگ الگ ہیں ۔ ایک ریاست کو دوسری ریاست سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔اس صورتِ حال میں کسی ریاست پر کوئی غیرمسلم ریاست بے جا طور پر حملہ کردے تو مسلم ریاستوں کے عوا م او ر ان کی حکومتیں کیا رویہ اختیار کریں؟
جواب: پہلے ہم اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اس صورت حال میں مسلم ریاستوں کے عوام کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے ۔ انھیں اس معاملے میں یہ اصولی بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ دین وشریعت کے اعتبار سے جہاد وقتال مسلمانوں کی حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ اگر اس معاملے میں حکومت غفلت یا بزدلی کا مظاہرہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ اس کی جواب دہ ہو گی۔ کسی موقع پر عوام یہ خیال کرتے ہوں کہ اب جہادکرنا ضروری ہے تو انھیں چاہیے کہ وہ اپنی حکومت کو اس پر آمادہ کریں۔ اگر حکومت اس پر قائل ہو جائے تو اس کی اجازت سے اس کے تحت جہاد کریں۔ ا س سے آگے بڑھ کر عوام کوئی اقدام کرنے کا حق رکھتے ہیں اور نہ اختیار۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی حکومت کی اطاعت کرے۔ الا یہ کہ وہ کسی خلاف دین کام کا حکم دے دے ۔ البتہ اگر ان کی حکومت اجازت دے تو وہ ان مظلوم مسلمانوں کی اخلاقی اور مالی مدد کر سکتے ہیں ۔
جہاں تک اس ضمن میں حکومتوں کا معاملہ ہے تو اس بارے میں وہی بہتر رائے قائم کر سکتی ہیں ۔ اس لیے کہ یہ انھیں ہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جنگی سازوسامان کی نوعیت اور تعداد اور معاشی وسا ئل کی حقیقی صورتِ حال کیا ہے۔ اگر کوئی حکومت ان حقائق کو نظر انداز کر کے کسی ملک کے ساتھ  جنگ چھیڑ دے تو بڑا امکان ہے کہ دوسرے ملک کے مظلوم مسلمانوں کا مسئلہ تو حل نہیں ہو گا، بلکہ جنگ چھیڑنے والے ملک کے مسلمان بھی مظلوم بن کر رہ جائیں گے۔ مسلمانوں کی موجودہ ہر میدان میں پست حالت کے پیش نظر دین و دانش کی رو سے یہی اصولی بات کہی جا سکتی ہے کہ حکومتیں اس بات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں کہ کیا وہ اس قابل ہیں کہ جنگ کر کے مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے نجات دلاسکیں اور ظالم ملک کو سبق سکھا سکیں؟اگر اس کا جواب ہاں میں ملے تو ضرور جہاد کریں ۔ اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سورۂ انفال کی آیت ۶۵اور۶۶کی رو سے جہاد میں مسلمان نصرتِ خداوندی کی توقع اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب وہ دین پر پوری طرح عمل پیرا ہوں اور ان کی مادی قوت دشمن کی مادی قوت کے مقابلے میں ایک نسبت اور دو کی ہو ۔ مثال کے طور پر مدِمقابل کے پاس سوجہاز ہوں تو ویسے ہی پچاس جہاز مسلمانوں کے پاس ہونے چاہییں۔ مدمقابل کے پاس ایک ہزار ٹینک ہوں تو مسلمانوں کے پاس ویسے ہی پانچ سو ٹینک ہونے چاہییں ۔ بصورت دیگر مظلوم مسلمانوں کو سیاسی طریقے سے ظلم سے نجات دلانے کی کوشش کریں ۔یہاں یہ مسلمانوں کی حکومتوں کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ظلم و عدوان خواہ کیسی ہی سنگین صورت اختیار کرلے، ان پر جہاد اسی وقت لازم ہو گا جب وہ مدمقابل کے مقابلے میں مذکورہ نسبت تناسب  سے قوت کے حامل ہوں گے۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی اس ضمن میں لکھتے ہیں :

’’ ....ظلم و عدوان کا وجود متحقق بھی ہو تو جہاد اس وقت تک فرض نہیں ہوتا، جب تک دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کی حربی قوت ایک خاص حد تک نہ پہنچ جائے۔  سابقین اولین کے ساتھ دوسرے لوگوں کی شمولیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی میں دو کے مقابلے میں ایک مقرر کر دی تھی ۔ بعد کے زمانوں میں یہ تو متصور نہیں ہو سکتا کہ یہ اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاد و قتال کی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ اپنے اخلاقی وجود کو محکم رکھنے کی کوشش کریں ، بلکہ اپنی حربی قوت بھی اس درجے تک لازماً بڑھائیں جس کا حکم قرآن نے زمانۂ رسالت کے مسلمانوں کو اس وقت کی صورتِ حال کے لحاظ سے دیا تھا:

’’اور اِن کافروں کے لیے ، جس حد تک ممکن ہو، حربی قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو جس سے اللہ کے اور تمھارے ان دشمنوں پر تمھاری ہیبت رہے اور ان کے علاوہ اُن دوسروں پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے ،(لیکن) اللہ انھیں جانتا ہے اور (جان رکھو کہ) اللہ کی اِس راہ میں تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے ،وہ تمھیں پورا مل جائے گا اور تمھارے ساتھ کوئی کمی نہ ہو گی۔‘‘(الانفال۸: ۰ ۶)

‘‘(میزان ۲۵۰۔۲۵۱)

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مئی 2002
مصنف : محمد بلال
Uploaded on : Apr 11, 2017
746 View