خواتین کا عالمی دن - نعیم بلوچ

خواتین کا عالمی دن

 

مغرب میں عورتوں کے مسائل ہماری خواتین سے یکسر مختلف ہیں۔
’’عورت دراصل مرد کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہے‘‘۔
’’عورت جسمانی اور ذہنی طور پر مرد سے کمزور ہے، اسی لیے معاشرے میں اس کا مقام مرد سے کم تر رہا ہے، اور رہے گا‘‘۔
’’عورت کا مفاد، کیونکہ مرد سے وابستہ ہے، اس لیے وہ آزادی سے راے دینے اور قائم کرنے کے لیے نااہل ہے‘‘۔
’’عورت کی کارکردگی، کبھی مرد کے برابر نہیں ہو سکتی، اس لیے معاوضے میں بھی اس کی برابری تسلیم نہیں کی جا سکتی‘‘۔
’’عورت کی نفسیات میں انفعالیت (Passiveness) ہے، وہ جذبات کا شکار ہو جاتی ہے، اس لیے زندگی کے کسی شعبے میں رہنمائی کے عہدے کے لیے مناسب نہیں‘‘۔
یہ تھے وہ خیالات و نظریات جو عورت کے بارے میں اس مغربی معاشرے میں مانے اور برتے جاتے تھے جہاں اس کے حقوق کی حفاظت کے لیے جدوجہد کا آغاز ہوا۔ پاپائیت اور آمریت سے بغاوت ہو چکی تھی، مغربی معاشرے میں احیاے علوم کی تحریک (Renaissance) جڑ پکڑ چکی تھی۔ جمہوریت اور ہر قسم کی پابندی سے عاری آزادی اور اظہار راے کا حق تیزی سے عالم گیر سچائیاں بن رہی تھیں۔ چنانچہ عورت کے بارے میں تمام نظریات و خیالات ازسرنو مرتب ہونے لگے۔ یہ مانا اور منوایا جانے لگا کہ:
* عورت اور مرد کی تخلیق کے پیچھے کوئی ماورائی طاقت نہیں، یعنی کسی خدائی اسکیم سے پیدا نہیں ہوئے، اس لیے یہ غلط ہے کہ عورت، مرد کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہے۔
* عورت ہر لحاظ سے مرد کے برابر ہے۔ جس طرح مردوں میں بھی کمزور جسم اور کمزور ذہن کی تقسیم ہے اور کمزور مرد انسان ہونے کے ناتے طاقت ور اور جسیم مرد کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے، اسی طرح عورت بھی مرد کے برابر ہے، بطور انسان دونوں کا مقام ایک ہے۔
* معاشرے میں جب عورت پر مرد کا تسلط ختم ہو جائے گا اور معاشی اور معاشرتی اعتبار سے وہ مرد کی دست نگر بن کر نہیں رہے گی تو وہ بھی آزادی سے راے قائم کرنے کے اہل ہو جائے گی، یہ تقدیر کا نہیں تدبیر کا معاملہ ہے۔
* معاوضے کا تعلق کارکردگی اور نتیجہ خیزی (Out put) سے ہے، اس کا تعلق صنف سے نہیں۔ اگر عورت کی کارکردگی کسی مرد سے بہتر ہے تو اسے کم معاوضہ کیوں ملے؟ اس لیے محض جنس کی بنیاد پر معاوضے میں فرق انصاف اور معیشت کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے ۔معاشرتی اقدار سے انسان کی نفسیات بنتی اور تبدیل ہوتی رہتی ہے، معاشرے میں عورت کو کلیدی اور سربراہی اختیارات دیے جائیں تو وہ بھی انفعالیت سے نکل آئے گی۔ یہ کوئی اٹل حقیقت نہیں کہ عورت تخلیقی طور پر انفعالیت پسند (Passive) ہے۔
ان تمام نظریات کو بہت منطقی اور حقیقت پر مبنی قرار دیا گیا۔ پھر اس دور میں عورت کے ساتھ روا ظلم نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ لوگ دیکھ رہے تھے کہ کلیسا عورت کو پیدایشی گناہ گار قرار دیتا ہے، عورت کی حیثیت محض کھلونے کی ہے، وہ انسان کے بجاے ایک قابل خریدوفروخت جنس (commodity) ہے۔ معاشرے میں اس کا کوئی وقار اور مقام نہیں، اگر وہ ملکہ بھی ہے تو بادشاہ سلامت کے دم قدم سے ہے، وہ چاہے تو کسی بھی وقت دوسری ملکہ لے آئے! غرض جس طرح مزدور، کسان اور عام شہری کے حقوق کی حمایت میں اہل فکر و دانش نے اپنا وزن ڈالا، اسی طرح عورت کا بھی ساتھ دیا گیا۔ کوئی شبہ نہیں کہ اس کے نتیجے میں عورت کو متعدد حقوق ملے مثلاً جائداد میں حصہ، طلاق کا حق، ووٹ کا حق، محنت کی صورت میں برابر معاوضہ، اداروں میں کلیدی عہدوں تک رسائی۔ چنانچہ مغربی معاشرے میں جہاں خواتین کو اب بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے، عمومی طور پر خواتین قابل رشک حد تک معاشرے میں باوقار مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ ذرائع ابلاغ کی بے پناہ ترقی کی وجہ سے دوسرے معاشروں نے بھی اس تحریک سے متاثر ہونا شروع کیا۔ چنانچہ ہمارے ہاں بھی خواتین کو درپیش مسائل کا حل یہی سمجھا جانے لگا کہ ہمیں بھی انھی اصلاحات سے کامیابی مل سکتی ہے جو یورپ نے اختیار کیے ہیں، اور یہیں سے خرابی کا سفر شروع ہوا۔
ہمارے معاشرے میں عورت کا مقام اس مقام سے کہیں منفرد اور مختلف ہے جو اسے مغرب میں حاصل ہے۔ اس کا سب سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ مغرب میں خواتین کے حقوق کا تحفظ ’’اخلاقیات‘‘ سے نہیں، بلکہ ’’افادیت‘‘ (Utility) سے کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مغربی معاشرے میں اگر کوئی ماں اپنے بچے کو سزا دینے کے لیے مارتی ہے تو اس کا یہ عمل جرم ہے۔ بیٹا اگر شکایت نہ بھی کرے تو اسٹیٹ ایسی ماں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ اس کے بالکل برعکس ہمارے ہاں ۶ فٹ کا نوجوان اپنی ماں سے بے تحاشا پٹنے کے بعد بھی مذہبی، ثقافتی اور قانونی طور پر ماں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا، بلکہ مذہبی اعتبار سے اسے ’اُف‘ کہنے کا بھی اختیار نہیں، یعنی وہ اس پٹائی پر ’’ناپسندیدگی‘‘ کا اظہار بھی نہیں کر سکتا!
دوسرا اہم فرق یہ ہے کہ مغربی معاشرہ خدا کے انکار پر کھڑاہے۔ وہ ایسی کسی چیز کو نہیں مانتا کہ عورت کو اللہ تعالیٰ نے کسی خاص مقصدکے لیے بنایا ہے، جبکہ مذہب کا بنیادی مقدمہ ہی یہ ہے کہ یہ دنیا آخرت کے لیے بنی ہے، یہاں ہم آزمایش کے لیے آئے ہیں ۔مردو عورت بنیادی طور پر ایک ہی وجود ہیں جن کو علیحدہ علیحدہ تشخص دیا گیا ہے۔ یعنی مرد او رعورت دونوں ایک دوسرے کے سکون کے لیے بنائے گئے ہیں۔ لیکن دونوں کے جسمانی تقاضے ایک دوسرے کے برعکس ہیں، اور اسی بنیاد پر ان کی صلاحیتیں، نفسیات، ذہنی استعداد بھی مختلف ہے۔ جیسے ۲۴ گھنٹوں میں دن رات ہیں ایسے مردو عورت ہیں، جیسے دن اور رات کے اعمال کے تقاضے مختلف ہیں اسی طرح مرد و عورت کے اعمال کے تقاضے مختلف ہیں۔
مذہب اس سے ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ جس طرح انسان کا بدن اور لباس صاف ہونا چاہیے، اسی طرح اس کی روح بھی صاف اور پاک ہونی چاہیے، اس مقصد کے لیے مرد و عورت کو اس نے اپنی جذباتی آسودگی کے لیے میاں بیوی کے بندھن میں باندھا ہے اور حکم دیا ہے کہ وہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہیں اور ان کا گھر معاشرے کی بنیادی اکائی (Unit) ہو گا۔ یہ گھر گویا ایک چھوٹا سا ادارہ ہے اور اس ادارے کا سربراہ اس نے مرد کو قرار دیا ہے، عورت کو نہیں۔ اس کے بالکل برعکس یورپ کی ملحد سوسائٹی (godless Society) میں اس کا کوئی تصور نہیں۔ وہاں کسی بھی مرد یا عورت پر اخلاقاً یا قانوناً کوئی قدغن نہیں کہ وہ شادی کے بغیر جذباتی آسودگی کے ذرائع اختیار کرے۔
معاشرے کی بنیادی خصوصیات میں یہ وہ عظیم فرق ہے جس کی وجہ سے دونوں معاشروں کے مسائل کا حل ایک سا تجویز نہیں کیا جا سکتا۔ بات کو دو اور دوچار کی طرح سمجھنے کی خاطر عرض ہے کہ اس سال خواتین کا عالمی دن منانے کے لیے جس مسئلے کو بطور خاص نمایاں کیا اس کا تعلق خواتین پر تشدد ہے۔
مغرب اس حوالے سے قانونی سی بات کرتا ہے کہ کسی بھی حوالے سے کسی بھی عورت پر جسمانی یا ذہنی تشدد نہیں کیا جا سکتا، لیکن ہمارے معاشرے میں یہ بات اس طرح علی الاطلاق نہیں کی جا سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اگر ماں کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ بیٹے کو سزا کی خاطر تھپڑ مارلے تو باپ کو بھی اجازت دیتے ہیں کہ بیٹی کو بھی کسی سنجیدہ نافرمانی پر تھپڑ مار سکتا ہے، ہم میاں کو بھی یہ اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ گھر کی بات گھر تک رکھنے کے لیے، گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے بیوی کو کسی انتہائی نافرمانی سے بچانے کی خاطر ڈانٹ ڈپٹ کر لے، غیر متشدد سزا دے ڈالے یا کوئی اور مناسب راستہ اختیار کرے۔ ہمارا معاشرہ اپنی ترجیحات کے مطابق معاملہ کرے گا او رمغرب میں اختیار کیے گئے اقدامات یہاں فائدہ کے بجاے نقصان دہ ہوں گے۔
اس طرح ہمارا معاشرہ میاں بیوی کے حقوق کے حوالے سے بہت واضح ہے کہ گھر کی اقتصادیات کی ساری ذمہ داری مرد پر ہے، عورت پر سرے سے کوئی ذمہ داری ہی نہیں۔ اس لیے اگر مرد اس ذمہ داری کو بطریق احسن پوری کر رہا ہے اور عورت اس پر بضد ہے کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی ملازمت یا کاروبار کرنا چاہتی ہے تو اس کا شوہر اسے روک سکتا ہے، جبکہ مغرب میں یہ اقدام عورت کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہو گا۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کی ضرورتوں اور حکمتوں کے مطابق معاشرے کی اصلاح کا کام کریں، ہمیں دوسروں کے کامیاب ’’نسخوں‘‘ پر ریجھنے کے بجاے یہ دیکھنا چاہیے کہ ان نسخوں کی دوا ہمارے ’جسم‘ کے لیے موافق بھی ہے یا نہیں۔۔۔ البتہ ایک چیز بالکل واضح ہے کہ حکمت مومن کی متاع گم گشتہ ہے، یہ اگر عقل و خرد اور اخلاق کے مطابق ہے تو اسے ہر جگہ سے لیا جا سکتا ہے۔

 

------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت اپریل 2013
مصنف : نعیم بلوچ
Uploaded on : Aug 23, 2016
717 View