امام مالک بن انس - محمد رفیع مفتی

امام مالک بن انس

آپ کا نام مالک ہے، کنیت ابو عبداللہ، لقب اما م دار الہجرہ ہے۔ سلسلۂ نسب مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر ہے۔ امام مالک ۹۳ ہجری میں پیدا ہوئے۔ مدینہ میں آپ عبداللہ بن مسعود والے گھر میں رہا کرتے تھے۔
امام مالک خالص عرب تھے۔ ان کا خاندان جاہلیت اور اسلام ، دونوں میں معز ز تھا۔ بزرگوں کا وطن یمن تھا۔ اسلام کے بعد ان کے خاندان والوں نے مدینہ میں سکونت اختیار کر لی۔ ان کے جد امجد ابوعامر وہ شخصیت ہیں جنھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ وہ صحابی رسول تھے اور انھوں نے جنگ بدر کے سواباقی سب جنگوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ شرکت کی تھی۔

تحصیل علم

امام مالک کا گھرانہ علم کا گہوارہ تھا، آپ مدینہ کے رہنے والے تھے، یہ شہر علما و فضلا کا مخزن تھا۔ آپ کی تعلیم کا آغاز بچپن ہی سے ہو گیا ۔ اس وقت تعلیم کا نصاب نہایت سادہ ہوا کرتا تھا،یعنی قرآن مجید ،حدیث اور فقہ کی تعلیم ۔ آپ نے نافع مولیٰ ابن عمر سے اپنے بچپن میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی تھی۔قرآن مجید کی قرأ ت و سند مدینہ کے امام القراء ابو ردیم نافع بن عبدالرحمن سے حاصل کی۔ اسی زمانے میں آپ نے حدیث کی تعلیم بھی حاصل کی۔ حدیث میں آپ کے پہلے شیخ کون ہیں؟ اس حوالے سے دو نام ہمارے سامنے آتے ہیں ،ایک نافع مولیٰ ابن عمر کا اور دوسرے آپ کے چچا ابو سہیل کا۔ لیکن ان دونوں میں سے پہلے آپ نے کس سے پڑھا ، تاریخ سے یہ معلوم نہیں ہوتا۔ بہرحال اس کے بعد امام مالک نے دیگر کئی اساتذہ سے پڑھا، یہاں تک کہ وہ علم جو مدینہ میں متفرق سینوں میں تھا ، آپ کے سینے میں جمع ہو گیا۔ چنانچہ آپ کو امام دارالہجرہ کہا جانے لگا۔
امام مالک طلب علم کے لیے مدینہ سے باہر نہیں گئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مدینہ میں بڑے بڑے اساتذہ موجود تھے اور مدینہ علم کا مخزن تھا۔

شیوخ و اساتذہ

امام مالک کے مشہور شیوخ و اساتذہ کی فہرست میں یہ نام آتے ہیں:
ربیعتہ الرائے ، زید بن اسلم ، نافع مولیٰ ابن عمر، ابن شہاب زہری، ابوالزناد، شریک بن عبداللہ، سعید بن ابی سعید المقبری، حمیدا لطو یل۔

مجلس درس

امام مالک کے شیوخ ہی کی موجودگی میں آپ سے استفادہ کرنے والوں کا پورا ایک حلقہ قائم ہو گیا تھا۔ آپ نے ۱۱۷ ھ میں اپنی مجلس درس قائم کی۔ آپ کی مجلس درس ہمیشہ پر تکلف فرش اور بیش قیمت قالینوں سے آراستہ ہوا کرتی تھی۔ وسط مجلس میں شہ نشین تھی جس پر امام مالک حدیث کی املا کرانے کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔ حدیث کا درس شروع ہوتا تو انگیٹھی میں عود اور لوبان جلایا جاتا تھا، صفائی کا یہ عالم تھا کہ ایک تنکا بھی بارِ خاطر ہوتا تھا۔ حدیث کی تعلیم کے وقت آپ وضو یا غسل کرکے عمدہ اور قیمتی لباس پہنتے، بالوں میں کنگھی کرتے اور خوشبو لگاتے تھے۔
مجلس میں سب لوگ خاموش اور سرنگوں بیٹھتے تھے۔ حتیٰ کہ ایک موقع پر جب امام ابو حنیفہ بھی آپ کی مجلس میں شریک ہوئے تو وہ بھی بالکل خاموش اور سرنگوں ہو کر بیٹھے ، حالانکہ وہ امام مالک سے ۱۳ سال بڑے تھے۔
پوری مجلس پر ایک مقدس سکوت طاری ہوتا تھا۔ جاہ و جلال اور شان و شکوہ سے کاشانۂ امامت پر بارگاہ شاہی کا دھوکا ہوتا تھا۔ آپ کے مکان کے پھاٹک پر سواریوں کا ایک انبوہ دیکھنے والوں پر رعب طاری کر دیتا تھا۔
آپ حدیث کی املا ہمیشہ آہستہ اور سکون کے ساتھ کراتے تھے ۔ ایک حدیث ختم ہوتی تو دوسری شروع کر دیتے تھے۔

تلامذہ

آپ سے کسب فیض حاصل کرنے والوں میں چند نمایاں نام یہ ہیں :
امام شافعی، عبداللہ بن مبارک، محمد بن حسین شیبانی، عبداللہ ابن وھب ۔
آپ کے بعض رفقا اور معاصرین نے بھی آپ سے کسب فیض حاصل کیا ۔مثلاً :
امام اوزاعی، سفیان بن عیینہ، ابن جریح، امام ثوری، لیث بن سعد، شعبہ بن حجاج۔

تصنیف وتالیف

موطا امام مالک آپ کی جلیل القدر تالیف ہے۔ اس کے علاوہ آپ کی تصنیفات یہ ہیں:
۱۔ الرد علی القدریہ
۲۔ الرسالۃ الی الرشید
۳۔ المدونۃ الکبریٰ۔
موطا کے بارے میں آپ کا اپنا بیان یہ ہے کہ میں نے چالیس برس میں اس کی تدوین کی ہے۔ تدوین کے بعد آپ نے مدینہ کے ستر فقہا کے سامنے اسے پیش کیا۔
موطا ہی کا ایک نسخہ وہ بھی ہے جو امام محمد سے روایت کیا گیا ہے۔ اس نسخے میں امام محمد نے صرف امام مالک سے حاصل ہونے والی روایات ہی کو نقل نہیں کیا، بلکہ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف اور بعض دوسرے شیوخ سے ملنے والی روایات کو بھی نقل کیا ہے۔
ان کے علاوہ امام مالک کی کچھ اور تصانیف کا ذکر بھی ہمیں ملتا ہے ، مثلاً:
۱۔ رسالہ مالک الی ابن مطرف
۲۔ رسالہ مالک الی ابن وھب
۳۔ کتاب المسائل

علما کی شہادت

یحییٰ بن معین جو حدیث و رجال کے ناقد ہیں، کہتے ہیں مالک امیرالمومنین فی الحدیث ہیں۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مالک کے سامنے کیا چیز ہیں، ہم تو بس ان کے نقش قدم کی پیروی کرتے ہیں۔ عبدالرحمن بن مہدی کا قول ہے کہ روے زمین پر مالک سے بڑھ کر حدیث نبوی کا کوئی امانت دار نہیں۔ امام شافعی فرمایا کرتے تھے کہ جب حدیث آئے تو امام مالک ستارہ ہیں۔ امام احمد بن حنبل سے کسی نے دریافت کیا کہ اگر کسی کی (تحقیق شدہ) حدیث آدمی کو زبانی یاد کرنی ہو تو کس کی تحقیق شدہ احادیث یاد کرے ؟ انھوں نے جواب دیا مالک بن انس کی۔ امام ابن حیان کا قول ہے کہ فقہا ے مدینہ میں سے امام مالک وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے نقدرجال پر کام کیا۔

وفات

آخر عمر میں امام اتنے ضعیف و ناتواں ہو گئے تھے کہ مسجد نبوی کی حاضری، جماعت میں شرکت اور شادی و غم کی تقریبات میںآنا جانا بند ہو گیا تھا۔ لیکن ضعف و ناتوانی کی حالت میں بھی درس و افتا کی خدمت جاری رہی۔ پھر جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو تین ہفتہ بیمار رہے۔ مرض کی شدت کم نہ ہوئی تو لوگوں کو یقین ہو گیا کہ اب آخری وقت ہے۔ جب بالکل موت کا وقت قریب آ گیا تو لوگوں نے دیکھا کہ نبض کی حرکت آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے اور امام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ آپ کے خاص شاگرد قعبی نے رونے کا سبب پوچھا تو کہتے ہیں کہ میں کیوں نہ روؤں ، اے کاش مجھ کو میرے ہر قیاسی فتویٰ کے بدلہ میں ایک کوڑا مارا جاتا اور میں فتویٰ نہ دیتا۔ گریہ جاری تھا ۔ لب ’للّٰہ الامر من قبل و من بعد ‘کے الفاظ سے متحرک تھے کہ روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ امام صاحب صحیح روایت کے مطابق ۹۳ ہجری میں پیدا ہوئے اور ۱۱ ربیع الاول ۱۷۹ ہجری کو انتقال کر گئے۔ آپ نے چھیاسی برس کی عمر پائی۔ ۱۱۷ ہجری میں مسند درس پر قدم رکھا اور باسٹھ سال تک علم دین کی خدمت میں مصروف رہے۔

مناقب

امام ذہبی کا بیان ہے کہ امام مالک بن انس کے فضائل و مناقب اس قدر زیادہ ہیں کہ وہ کسی اورمحدث میں کبھی جمع نہیں ہوئے۔ 
یہ بات زبان زد عام تھی کہ کیا امام مالک کے ہوتے ہوئے بھی فتویٰ دیا جا سکتا ہے۔ آئمہ کا اجماع ہے کہ آپ حجت ہیں اور صحیح الروایت ہیں۔ آپ کے تدین، عدالت اور صحیح الروایۃ ہونے پر سب متفق ہیں۔فقہ وفتویٰ اور اصول و قواعد کے صحیح ہونے میں آپ آئمہ میں سب پر فائق ہیں۔
آپ کا شمار عبادت گزاروں میں ہوتا تھا۔ درس و افتا سے جو وقت بچتا ، وہ زیادہ تر عبادات اور تلاوت میں صرف ہوتا۔ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بے حد احترام کرتے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک نام زبان پر آتا ،چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا۔ مدینہ کی گلیوں میں سوار ہو کر نہ چلتے تھے۔ مدینہ سے آپ کو غایت درجہ محبت تھی، بجز سفر حج کے کبھی مدینہ سے باہر نہیں نکلے۔
آپ طبعاً فیاض شخص تھے۔ مہمان نوازی آپ کا خاصا تھی۔ صبر و استقلال کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ موزہ میں بچھو تھا، امام مالک نے بے خبری میں اس کو پہن لیا اور مجلس درس میںآ کر بیٹھ گئے، بچھو نے مسلسل سترہ بار ڈنک مارا،ا لیکن آداب مجلس کے خیال سے امام نے پہلو تک نہ بدلا۔چہرے کا رنگ بار بار متغیر ہو رہا تھا۔ درس کے اختتام پر عبداللہ بن مبارک نے پوچھا تو بتایا کہ موزہ میں بچھو ہے۔ 
خود داری اور جلالت شان کے ساتھ حلم و عفو جو ایک گراں قدر جوہر ہے، اکثر جمع نہیں ہوا کرتا، لیکن امام مالک میں یہ دونوں صفتیں جمع تھیں۔ ایک طرف تو منصور و رشید جیسے قہار سلاطین کو ڈانٹ دیتے تھے اور دوسری طرف جب آپ کو کوڑے مارے جاتے ہیں تو بڑے آرام سے آپ برداشت کر لیتے ہیں اور پھر جب خلیفہ آپ کے ساتھ ہم دردی کرتے ہوئے، گورنر کی اس گستاخی کا ذکر کرتا ہے تو آپ کہتے ہیں کہ میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔ آپ کو کوڑے مارے جانے کی تفصیل اس طرح سے ہے کہ محمد ذوالنفس الزکیہ نے ۱۳۵ ھ میں مدینہ منورہ میں اور ان کے بھائی ابراہیم نے بصرہ میں جب سادات پر منصور کی زیادتیوں سے تنگ آ کر ،علم بغاوت بلند کیا تو امام صاحب نے ان کا ساتھ دیا ،جس کے نتیجے میں والیِ مدینہ جعفر بن سلیمان نے غضب ناک ہو کر امام دارالہجرہ کی پشت پر ۷۰ کوڑے لگوائے، تمام پیٹھ لہولہان ہو گئی، دونوں ہاتھ مونڈھوں سے نکل آئے، پھر اونٹ پر بٹھا کر تمام شہر میں تشہیر کرائی گئی۔ امام صاحب اِس حالت میں یہ فرماتے جاتے تھے کہ جو مجھ کو جانتا ہے، وہ تو جانتا ہے جو نہیں جانتا ، وہ جان لے کہ میں مالک بن انس ہوں۔ اور میں فتویٰ دیتا ہوں کہ جبری طلاق واقع نہیں ہوتی۔ امام صاحب کے اس فتویٰ کے پیچھے یہ معاملہ تھا کہ جب محمد نفس زکیہ نے بغاوت کا علم بلند کیا تو امام صاحب نے یہ فتویٰ دیا کہ خلافت نفس زکیہ کا حق ہے، لوگوں نے پوچھا کہ ہم تو خلیفہ منصور کی بیعت کر چکے ہیں۔ امام صاحب نے فرمایا کہ منصور نے بیعت جبراً لی ہے اور جو کام جبراً کرایا جائے، شرع میں اس کا اعتبار نہیں ہوتا۔ پھر جب خلیفہ منصور اس بغاوت کو سرد کرنے میں کامیاب ہو گیا تو جعفر بن سلیمان نے مدینہ پہنچ کر نئے سرے سے لوگوں سے بیعت لی اور امام مالک سے کہلا بھیجا کہ آیندہ جبری طلاق کے عدم اعتبار کا فتویٰ نہ دیں کہ اس کے نتیجے میں جبری بیعت بے وقعت ہو جائے۔ امام صاحب اس موقف سے نہ ہٹے ، چنانچہ اس نے وہ ظلم اختیار کیا ،جس کا ذکر ہم اوپر پڑھ آئے ہیں۔
۱۷۴ھ میں ہارون الرشید اپنے دونوں شہزادوں امین اور مامون کو لے کر حج کے لیے آیا اور موطا کے املا کے لیے امام مالک کو سراپردۂ خلافت میں طلب کیا۔ امام صاحب نے انکار کر دیا اور خود وہاں موطا کے بغیر تشریف لے گئے۔ ہارون الرشید نے شکایت کی تو امام صاحب نے فرمایا کہ علم تیرے گھر سے نکلا ہے، خواہ اس کو ذلیل کر، خواہ اس کی عزت کر۔ یہ سن کر ہارون الرشید متاثر ہوا اور اپنے بیٹوں امین اور مامون کو لے کر مجلس درس میں حاضر ہوا۔ وہاں طلبہ کا ہجوم تھا ۔ ہارون رشید نے امام سے کہا کہ اس بھیڑ کو الگ کر دیجیے۔ امام صاحب نے فرمایا کہ شخصی افادہ کے لیے عام افادہ کا خون نہیں کیا جا سکتا۔ ہارون خاموش ہو گیا، پھر ایک اور واقعہ یہ ہوا کہ اسی مجلس میں ہارون رشید مسند پر بیٹھ گیا۔ امام صاحب نے فرمایا کہ اے امیرا لمومنین تواضع پسندیدہ ہے۔ یہ سن کر ہارون نیچے اتر گیا ، پھر امام صاحب سے درخواست کی کہ آپ قرأت کیجیے۔ امام صاحب نے فرمایا : یہ خلاف عادت ہے اور اپنے شاگرد معن بن عیسیٰ کو قرأت کے لیے اشارہ کیا ۔ چنانچہ انھوں نے قرأت کی اور ہارون اور شہزادوں نے سماعت کی۔

____________

تاریخ: جنوری 2004
بشکریہ: محمد رفیع مفتی
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : May 27, 2016
1048 View