نبی کریم اور صحابہ کے بعد جہاد کی بنیاد - محمد بلال

نبی کریم اور صحابہ کے بعد جہاد کی بنیاد
[مدیر ’’اشراق‘‘ کے افادات پر مبنی]

 

سوال : قانون اتمام حجت کی رو سے اگر جہاد و قتال نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کے ساتھ خاص تھا تو ان کے بعد جہاد و قتال کن بنیادوں پر کیا جا سکتا ہے؟
جواب : نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کے بعد جہادو قتال صرف ظلم و عدوان کے خلاف ہی کیا جا سکتا ہے۔ انسانوں کی جان و مال اور عقل و رائے کے خلاف ہر اقدام ظلم و عدوان ہے ۔ دین نے ظلم و عدوان کی دو صورتوں کو موضوع بنایا ہے۔ ایک صورت فتنہ اور دوسری صورت مسلمانوں کے خلاف زیادتی کے حوالے سے بیان ہوئی ہے۔ ذیل میں ہم ان دونوں صورتوں کی وضاحت کرتے ہیں ۔
پہلی صورت
فتنہ کا مطلب ہے کہ کسی شخص کو ظلم و جبر کے ساتھ اس کے مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرنا ۔ اس ظلم و جبر کے لیے انگریزی میں Persecution کا لفظ استعمال کیاجاتا ہے ۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر فتنہ کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ اس ظلم و جبر کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن اسے قتل سے بڑا جرم قرار دیتا ہے ۔۲؂ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آزمایش کے لیے انسان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے آزادانہ فیصلے سے جو دین اور جو نقطۂ نظر چاہیں اختیار کریں، لہٰذا جو شخص یا گروہ کسی کو بالجبر اس کا دین چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے تو وہ درحقیقت انسان کے لیے خدا کی پوری اسکیم کو بے معنی کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ چنانچہ مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اس زمین پر اسلام قبول کرنے والوں کے لیے فتنہ کی جو حالت پیدا کر دی گئی ہے ، اسے ختم کرنے کے لیے تلوار اٹھائیں اور اس وقت تک برابر اٹھائے رکھیں جب تک یہ حالت باقی ہے ۔ ۳؂ سورۂ نساء میں یہ حکم اس انداز سے دیا گیا :

’’اور تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے جو فریا دکر رہے ہیں کہ خدایا ، ہمیں اس ظالموں کی بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ہم درد پیدا کر دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے مددگار پیدا کر دے ۔ (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جو منکر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ لہٰذا تم بھی شیطان کے ان حامیوں سے لڑو ۔ شیطان کی چال ہر حال میں بودی ہوتی ہے۔ ‘‘ (۴: ۷۵۔۷۶)

لہٰذا اب بھی اللہ کی زمین پر کہیں کوئی فتنہ سر اٹھائے تو مسلمانوں کی حکومت اگر اتنی قوت رکھتی ہو کہ وہ اس کا استیصال کر سکے تو اس پر لازم ہے کہ وہ مظلوموں کی مددکے لیے جہاد کا اعلان کر دے ۔
دوسری صورت
اگر کوئی مسلمان گروہ کسی دوسرے مسلمان گروہ کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرے تو قرآن مجید کی ہدایت یہ ہے کہ ظلم کرنے والے گروہ کے خلاف جنگ کی جائے ۔ سورۂ حجرات میں ہے :

’’اور مسلمانوں کے دو گروہ اگر کبھی آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ ۔ پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے جنگ کرو ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلے کی طرف لوٹ آئے ۔ پھر اگر وہ لوٹ آئے تو فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ مصالحت کرا دو اور ٹھیک ٹھیک انصاف کرو ، اس لیے کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ مسلمان تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، لہٰذا اپنے ان بھائیوں کے مابین صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔ ‘‘ (۴۹: ۹۔۱۰)

مطلب یہ ہے کہ دو مسلمان گروہ آپس میں لڑیں تو دوسرے مسلمان اسے پرایا جھگڑا سمجھ کر نظر انداز نہ کریں ۔ وہ عدل وانصاف کے ساتھ ان کے درمیان مصالحت کی کوشش کریں ۔ اگر کوئی گروہ مصالحت پر راضی نہ ہو یا راضی ہونے کے بعد پھر ظلم و عدوان کا رویہ اختیار کرے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ طاقت رکھتے ہوں تو اپنی حکومت کے تحت اس گروہ کے خلاف جہادو قتال کریں۔ مسلمانوں کے خلاف ظلم و عدوان کی دوسری صورتوں کو بھی سورۂ حجرات کے اسی حکمِ الہٰی کے تحت دیکھنا چاہیے ۔

 

۱؂ دیکھیے ، ’’اشراق‘‘ جنوری ۲۰۰۲۔
۲؂ البقرہ ۲ : ۱۹۱۔
۳؂ البقرہ ۲ : ۱۹۳۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت اکتوبر 2002
مصنف : محمد بلال
Uploaded on : Oct 08, 2016
585 View