جس نے ایک رکعت نماز پالی - ساجد حمید

جس نے ایک رکعت نماز پالی

 

[۱۶] وحدثنی عن مالک عن نافع: ان عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطاب کان یقول:
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے:
اِذَا فَاتَتْکَ الرَّکْعَۃُ فَقَدْ فَاتَتْکَ السَّجْدَۃُ.
’’جس نے رکوع کھودیا، اس نے سجدہ بھی کھو دیا۔‘‘
[۱۷] وحدثنی عن مالک انہ بلغہ ان عبد اللّٰہ بن عمر وزید بن ثابت کانا یقولان:
عبد اللہ بن عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے:
مَنْ اَدْرَکَ الرَّکْعَۃَ فَقَدْ اَدْرَکَ السَّجْدَۃَ.
’’جس نے رکوع پایا، اسی نے سجدہ پایا۔‘‘
[۱۸] وحدثنی یحیی عن مالک انہ بلغہ ان ابا ہریرۃ کان یقول:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے:
مَنْ اَدْرَکَ الرَّکْعَۃَ فَقَدْ اَدْرَکَ السَّجْدَۃَ وَمَنْ فَاتَہُ قِرَاءَۃُ اُمِّ الْقُرْآنِ فَقَدْ فَاتَہُ خَیْرٌ کَثِیْرٌ.
’’جس نے رکوع پایا، اسی نے سجدہ پایا ، اور جس نے فاتحہ کی قرأت کھودی، وہ بڑے خیر سے محروم رہا۔‘‘ 

شرح

مفہوم و مدعا

یہ تینوں آثار بالاتفاق یہ بیان کررہے ہیں کہ نماز پانے کے معاملے میں، خواہ وہ جماعت میں پانا ہو یا آخری وقت سے پہلے پانا ہو، صرف سجدہ پا نے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ سجدہ پانے کا اسی کو فائدہ ہے جس نے رکوع پالیا۔یعنی رکوع پانے کے بعد ہی نماز ملنے یا ملنے کے لیے سجدہ کی اہمیت ہے۔
ابوہریرہ کے قول سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نماز پانے کے لیے فاتحہ کا نہ پڑھنا ان کے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کو کھونے والا خیر کثیر سے محروم رہا۔
جیسے ہم پچھلی روایتوں میں وضاحت کر آئے ہیں کہ ان آثار کا تعلق دراصل امام کے پیچھے رکعت پانے سے ہے ۔ یعنی امام کے پیچھے اسی کو رکعت ملے گی جس نے رکوع پالیا۔ جس نے سجدہ پایا اور رکوع میں وہ نہیں مل سکا تو اس نے جماعت میں شمولیت نہیں کی۔

لغوی مسائل

ان تینوں آثار میں جملوں کا لغوی ترجمہ یوں ہوگا:جس کو رکوع نے کھودیا اس کو سجدہ نے بھی کھودیا۔ لیکن ہم نے اردو میں اس کے مرادی معنی میں ترجمہ کیا ہے۔اس لیے کہ اردو اس اسلوب بیان کو قبول نہیں کرتی۔ اگرچہ اردو میں بھی مجازاً فاعل کی جگہ مفعول اور مفعول کی جگہ فاعل آجاتا ہے، مگر یہاں یہ اسلوب اختیار کرنا صحیح نہیں ہوگا۔

درایت

قرآن وسنت سے تعلق

یہ اقوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں کہے گئے ہیں۔ ان اقوال کا ذکر ہم پچھلی روایت میں کر آئے ہیں۔ یہاں ان کا دہرانا محض تکرار ہے۔ پچھلی روایت کی شرح پر نگاہ ڈال لیجیے۔

دیگر طرق

صرف ابن عمر کے قول کی ایک روایت سنن بیہقی میں ملی ہے۔ ابوہریرہ کے قول کی دوسری روایتیں ہمیں نہیں مل سکیں۔

قال نافع وکان ابن عمر اذا وجد الامام قد صلی بعض الصلاۃ صلی مع الامام ما ادرک ان قام قام وان قعد قعد حتی یقضی الامام صلاتہ لا یخالفہ فی شیء قال وکان ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ یقول اذا فاتتک الرکعۃ فقد فاتتک السجدۃ. (بیہقی، رقم ۳۴۳۵)
’’نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر جب کبھی اس طرح نماز میں ملتے کہ امام نماز کا کچھ حصہ پڑھ چکا ہوتا تو آپ فوراً جماعت میں شامل ہوجاتے ۔اس طرح کہ جب امام کھڑا ہوتا تو وہ بھی کھڑے ہوجاتے اور جب وہ بیٹھتا تو وہ بھی بیٹھ جاتے، وہ ایسا ہی کرتے رہتے، یہاں تک کہ امام نماز ختم کردیتا، وہ امام کی ذرا بھی خلاف ورزی نہ کرتے۔ پھر انھوں نے کہا کہ ابن عمر کہا کرتے تھے کہ جس نے رکوع کھودیا، اس نے سجدہ بھی کھو دیا۔‘‘

اس باب پر ایک نظر

اس باب میں امام مالک نے اس بات کو واضح کرنے کے لیے کہ نمازپانے کے معنی کیا ہیں؟ کیا نماز میں کسی بھی جگہ شامل ہونے سے نماز مل جائے گی یا اس کا کوئی حصہ ہے جسے پانے ہی سے نماز ملے گی، ایک خاص ترتیب سے احادیث لائے ہیں ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جماعت پانے کا ثواب اور وقت پر نماز پڑھنے کا ثواب اسی کو ملے گا جو کم از کم پوری ایک رکعت پائے گا۔ جماعت کے ساتھ پوری رکعت پانے سے مراد رکوع میں ملنا ہے اور عصر اور فجر میں سورج کے طلوع وغروب سے پہلے ایک رکعت پانے سے مراد یہ ہے کہ آدمی طلوع یا غروب سے پہلے پہلی رکعت کے سجدے کر لے تو پھر اس کی نماز وقت پر ادا ہوگی۔
جماعت میں اگر کوئی آدمی اس طرح شامل ہوکہ اسے آخری رکعت پوری نہ ملے۔ تواس باب کی روایات کے مطابق اسے جماعت نہیں ملی۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس کو صرف اکیلے نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ نہیں، بلکہ اس کو اس کی سعی کا اجر ضرور ملے گا جو اس نے جماعت پانے کے لیے کی۔

____________
بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اکتوبر 2005
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Jan 23, 2018
404 View