بسنت - کوکب شہزاد

بسنت

 

ہر سال موسم بہار شروع ہوتے ہی بسنت کا تہوار منایا جاتا ہے۔اس کے پس منظر میں یہ سوچ ہوتی ہے کہ سردی کے موسم سے ٹھٹھرتی ہوئی زندگی کو قرار مل گیا ہے۔ بے لباس درختوں نے سبزے اور رنگوں کا پہناوا اوڑھ لیا ہے۔سرسوں کے پیلے پھول اپنی خوش نمائی کے جلوے دکھا رہے ہیں،لیکن ہمارے ہاں اس تہوار کو منانے کی روایت منفرد ہے۔مہینوں پہلے اس کی تیاری کے لیے تیز ڈوروں اور پتنگوں کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ فائیو اسٹار ہوٹل سیاحوں اور دور دراز سے آئے ہوئے مہمانوں سے بھر جاتے ہیں۔ ان کی چھتیں پتنگ بازوں کی اڑان،موسیقی ،نعرے بازی اور فائرنگ کے لیے سجائی جاتی ہیں۔قطع نظر اس کے کہ یہ تہوار ہندووانہ ہے یا موسمی ؛ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا کسی بھی قوم کے لیے اس طریقے سے کوئی تہوار مناناباوقار اور شایستہ بات ہے؟کیا کوئی باذوق اور مہذب انسان اس طرح کی نعرہ بازی اور فائرنگ کو اپنی خوشی کے اظہار کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
اسلام نے ہر خوشی اور تہوار کے موقع پرغریبوں اور ضرورت مندوں کو شریک کرنے کی تلقین کی ہے ، لیکن اس تہوار میں شریک ہونے کے لیے غربا کبھی چھتوں سے گرتے ہیں اور کبھی پتنگ لوٹنے کے لیے گاڑیوں کے نیچے کچلے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ موٹر سائیکل اور سائیکل پر سفر کرنے والوں اور پیدل چلنے والوں کی گردنیں تیز ڈور سے زخمی ہوجاتی ہیں۔
اس تہوار کو منانے کے لیے ایک بڑا منطقی استدلال یہ کیا جاتاہے کہ اس سے ہزاروں لوگوں کو معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ بے روز گاروں کو روزگار ملتا ہے ، لیکن اس پر غور کیوں نہیں کیا جاتا کہ اس دن کتنی ماؤں کی گود ویران ہوتی ہے اور کتنی عورتوں کا سہاگ اجڑتا ہے ؟
عرب جاہلیت کی سوسائٹی میں جوئے اور شراب کا بہت رواج تھا، جب شمال کی ٹھنڈی ہوائیں چلتیں اور ملک میں قحط کی حالت پیدا ہوتی تو عرب کے سخی اور فیاض لوگ مختلف جگہوں پر اپنے حلقے بناتے ، خوب شراب پیتے اور پھر شراب کی مدہوشی میں جس کسی کے اونٹ یا اونٹنی کو چاہتے ذبح کرتے،پھر اس کے مالک کو منہ مانگے دام دیتے اور اس کے گوشت پرجوا کھیلتے۔ ہر شخص جتنا گوشت جیتتا،وہ اسے غریبوں اورضرورت مندوں میں بانٹ دیتا۔
مولانا امین احسن اصلاحی اس کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’جوئے اور شراب کا یہ پہلو تھاجس کی وجہ سے عرب جاہلیت کی سوسائٹی میں ان کا شمار فیاضی اور سخاوت کے خصائص اور خدمت خلق اور ہمدردیِ غربا کے محرکات میں سے ہوتا تھا ۔ چنانچہ جب قرآن نے انفاق اور ہمدردیِ غربا پر بہت زور دیا تو بعض لوگوں کے ذہن میںیہ سوال پیدا ہوا کہ جب اسلام غریبوں اور یتیموں کی ہمدردی اور ان کی امداد کے لیے مال خرچ کرنے پر اتنا زور دیتا ہے تو آخر جوئے اور شراب میں کیا خرابی ہے جو قحط کے زمانے میں غربا کی امداد کا ذریعہ بنتے ہیں۔ قرآن نے ان کے سوال کا جواب دیا:

’’وہ شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں،کہہ دو ان دونوں چیزوں کے اندر بڑا گناہ ہے اورلوگوں کے لیے فائدے بھی ہیں ، لیکن ان کا نقصان ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔‘‘(البقرہ ۲ : ۲۱۹)

یعنی اس میں شبہ نہیں کہ ان چیزوں سے سوسائٹی کو بعض اعتبارات سے کچھ فائدے تو ضرور پہنچ جاتے ہیں ، لیکن ان سے فرد اور سماج ، دونوں کو جو مادی اور اخلاقی نقصانات پہنچتے ہیں ، وہ ان کے فوائد کی نسبت سے بہت زیادہ ہیں۔ اس وجہ سے اسلام نے انھیں حرام قرار دیا ۔‘‘ (تدبر قرآن ۱/ ۵۰۵)

کیا ہم عالم کے پروردگار کی اس ابدی ہدایت کی روشنی میں بسنت جیسے تہوار کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہیں جس کے نقصانات اس کے فائدے سے بڑھ کر ہیں۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت فروری 2003
مصنف : کوکب شہزاد
Uploaded on : Sep 10, 2016
719 View