مسجد میں بچوں کو لے جانا - طالب محسن

مسجد میں بچوں کو لے جانا

 

سوال: میں جس مسجد میں نماز پڑھتا ہوں وہاں امام صاحب تواتر سے ہر جمعے کے خطبے میں فرماتے ہیں کہ چھوٹے بچوں کو مسجد میں نہ لایا کریں ۔ ان کا مسجد میں لانا منع ہے کیونکہ یہ مسجد میں شور کرتے ہیں ۔ پھر جماعت سے پہلے یوں فرماتے ہیں کہ سب بچوں کوصفوں کے آخری سروں پر کھڑا کریں۔
دوسری طرف مولانا صاحبان یہ بھی ذکر کرتے رہتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے نماز کے دوران میں آپ کے کندھوں پر چڑھ جاتے تھے اور آپ اس موقع پر لمبا سجدہ فرمایا کرتے تھے ۔
ان دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالیے ۔ مزید یہ کہ میرے پوتے بڑے شوق سے میرے ساتھ جمعے کی نماز پڑھنے جاتے ہیں ۔ ہم انھیں ایک ایک کرکے اپنے بیچ میں کھڑا کر لیتے ہیں ، تاکہ وہ باہم مل کر شور نہ کریں ۔ میرا خیال یہ ہے کہ ہم اگر ان کے مسجد جانے کے شوق کو برقرار رکھیں تو یہ خود ہی مسجد کے آداب سیکھ لیں گے ۔ (محمد زبیر خان ،لاہور )
جواب: آپ کا یہ خیال لائقِ تحسین ہے کہ آپ اپنے بچوں کومسجد جانے اور نماز پڑھنے کا عادی بنانا چاہتے ہیں ، لیکن بچوں کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالعموم یہی طریقہ اختیار کیا تھا کہ وہ الگ صف میں کھڑے کیے جائیں۔ اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ نماز میں دھیان صرف اللہ کی طرف رہے کیونکہ بچوں کی وجہ سے دھیان کے بٹنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں ۔ لہٰذا بہتر یہی قرار دیا گیا کہ ان کی صف الگ ہو ۔ اس مصلحت کے پیشِ نظر یہ بھی بہتر لگتا ہے کہ ذرا زیادہ عمر کے بچے ہی مسجد میں لے جائے جائیں ۔ بہرحال پنجگانہ نماز میں بچوں کی الگ صف بنانے میں کوئی دشواری نہیں ہے لہٰذا اس کا اہتمام کیا جائے تو بہتر ہے ۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ یہ ایک تدبیر ہے ، اسے اختیار کرنا لازم نہیں کیا گیا۔
باقی رہا معاملہ جمعہ اور عیدین کی نماز کا تو اس میں بچوں کی الگ صف بنانا ممکن نہیں لہٰذا ایک صورت تو یہ اختیار کی جا سکتی ہے کہ بچوں کو صف کے ایک طرف آخر میں کھڑا کیا جائے اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ طریقہ اختیار کر لیا جائے جو آپ نے تجویز کیا ہے ۔موجودہ حالات میں آپ کی تجویز زیادہ بہتر ہے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جنوری 2001
مصنف : طالب محسن
Uploaded on : Apr 29, 2017
838 View