داعش اور خلافت - خورشید احمد ندیم

داعش اور خلافت

 

ردِ عمل کی نفسیات کا ناگزیر نتیجہ توازن فکر سے محرومی ہے۔ یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ خلافت کا دفاع کرتے کرتے لوگ داعش کے وکیل بن گئے ہیں۔ اب کہاں ابوبکر صدیقؓ اور کہاں ابو بکر بغدادی۔ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند کیسے لگ سکتا ہے؟ انصاف اور رحمت کو وحشت اور بربریت سے کیا نسبت؟ انصاف اور ظلم میںکوئی تعلق کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟ آنکھ کی اندھی کا نام روشنی رکھ دینے سے اس کی آ نکھوں میں نور تو نہیں اُتر سکتا۔

خلافت دراصل اسلام کے سیاسی فکر کی تجسیم تھی۔ اس فکر کی اساس مشاورت ہے۔ قرآن مجید نے واضح کیا کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات ان کی مشاورت سے چلتے ہیں۔ اسلام کے صدرِ اول میں اسی اصولِ مشاورت پر جو سیاسی نظام ترتیب پایا، اس کا نام خلافت ہے۔ دورِ حاضر میں اس کو جمہوریت کہتے ہیں۔ جمہوریت کیا ہے؟ یہی کہ اقتدار اس کو سونپا جائے جسے عصبیت اور رائے عامہ کا اعتماد حاصل ہو۔ قدیم دور میں اس کا تعین سردارانِ قبائل کی آراء سے ہو تا تھا۔ دور ِجدید میں اس کا اظہار سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندوں کی آراء میں ہوتا ہے۔ یہی پارلیمنٹ ہے۔ آج لوگ خلافت کو دینی تقاضا سمجھتے ہیں اور جمہوریت کو خلافِ دین۔ دونوں کو مختلف ثابت کرتے کرتے نوبت یہاں تک آپہنچی کہ داعش کی وکالت ہو رہی ہے اور جمہوریت کی نفی۔ سبب یہ ہے کہ امریکہ یا مغرب جمہوریت کا نام لیتے ہیں اور ان کی مخالفت کرنا لازم ہے۔ یہی ردِ عمل کی نفسیات ہے۔

امریکہ ایک سامراج ہے۔ وہ دنیا میں اپنے غلبے کے لیے کسی اخلاقی روایت کا عام طور پر پابند نہیں۔ وہ اپنے مقاصد کے لیے اسلام، جمہوریت، انسانی حقوق، ہر اس قدر کو استعمال کرتا ہے‘ جس سے اسے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ افغانستان میں کیا اس نے اسلام اور جہاد کو استعمال نہیں کیا؟ مشرقِِ وسطیٰ کے حکمرانوں کو تابع رکھنے کے لیے کیا وہ انہیں جمہوریت کا ڈراوا نہیں دیتا؟ چین پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا وہ انسانی حقوق کا نعرہ بلند نہیںکرتا؟ تو اس کے بعد ہم اسلام، جہاد، انسانی حقوق، جمہوریت‘ سب سے دستبردار ہو جائیں گے؟ اس میں انسانی حقوق یا اسلام کا قصور کیا ہے؟ جمہوریت کیوں تنقید کا ہدف ہے؟

ماضی کے سامراج، برطانیہ ہو یا اشتراکی روس، دونوں یہ کام کرتے رہے ہیں۔ جمہوریت کے نام پر برطانیہ لوگوں کو دھوکہ دیتا رہا ہے۔ اقبال نے اسی رویے پر تنقید کی اور فرنگیوں کے تضاد کو نمایاں کیا۔ کم نظری نے اسے جمہوریت پر تنقید سمجھا۔ اقبال جمہوریت کے ناقد نہیں تھے۔ وہ دراصل جمہوریت کے ساتھ اہلِ مغرب کی وابستگی کو دکھاوا قرار دیتے تھے۔ یہ وہی معاملہ ہے جو خلافت کے ساتھ مسلمانوں نے کیا۔ جب یہ ملوکیت میں بدل گئی تو اقبال نے اسے بھی 'عرب سامراج‘ کا نام دے کر مسترد کر دیا۔ اقبال نے خلافت کو نہیں، دراصل اس کے نام پر وجود میں آنے والی خاندانی بادشاہت کو رد کیا۔ لوگ جب یہ فرق پیش نظر نہیں رکھتے تو وہ اقبال کو بھی منکرِ جمہوریت ثابت کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی اہلِ مذہب پر تنقید کرے تو اسے مذہب پر تنقید سمجھا جا ئے۔ اہلِ مغرب اگر جمہوریت سے مخلص ہوتے تو کبھی بادشاہت اور آمریت کا ساتھ نہ دیتے۔ آج امریکہ کا رویہ یہی ہے۔ ہم اس کے ناقد ہوں گے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جمہوریت کو برا کہنے لگیں۔ داعش کے وکیل بن جائیں؟

اس میں شبہ نہیں کہ اس وقت کی عالمی سیاست انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ یہ طاقت وروں کا بنایا ہوا ایک نظام ہے‘ لیکن انسانی تاریخ میں یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ ماضی میں بھی طاقت ہی فیصلے کرتی رہی ہے؛ تاہم یہ ماننا چاہیے کہ آج کا عالمی نظام ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ آج کسی حد تک کمزوروں کے حقِ زندگی کو قبول کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا نظام تمام تر نقائص کے باوجود عالمی سطح پر ایک توازن کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ اگر یہ ختم ہو جائے تو دنیا فساد سے بھر جائے۔ اس کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کی جانی چاہیے۔ کمزوروں کے مابین اشتراکِ عمل ہونا چاہیے۔ ماضی میں وقتاً فوقتاً اس طرح کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ کوئی اربکان اٹھتا اور ڈی۔8 کا علم بلند کرتا ہے۔ اس سے پہلے غیر جانبدار ممالک کی تنظیم بھی بن جاتی ہے۔ مسلم دنیا کے اتحاد کی بات بھی ہوتی ہے۔ اب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے مقابلے میں BRICS کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ دنیا میں بقا کی جنگ نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ واقعات بتا رہے ہیں کہ دنیا میں طاقت کے مرکز کو ابدیت حاصل نہیں۔ یہ بدلتا رہتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون خود کو اس کا اہل ثابت کرتا ہے۔

مسلمانوں کو سوچنا ہے کہ اگر انہوں نے زندہ رہنا ہے تو اپنا یہ استحقاق کیسے ثابت کرنا ہے۔ یہ کام ردِعمل کی نفسیات میں رہتے ہوئے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے مثبت اندازِ نظر کی ضرورت ہے۔ مثبت اندازِ نظر یہ ہے کہ جو خیر ہے، اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور جو شر ہے، اس سے گریز کیا جائے۔ خیر اور شر کو مشر ق و مغرب میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا پیمانہ دوسرا ہے۔ نئی دریافتوں کو اس لیے رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ امریکہ میں دریافت ہوئی ہیں۔ داعش کو اس لیے قبول نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ اس کے درپے ہے۔ امریکہ اگر کسی وائرس کے خلاف مہم چلاتا ہے تو کیا ہم اسے خیر کی قوت سمجھ کر گلے لگا لیں گے؟ بقا کی جنگ میں انہی کی فتح ہوتی ہے جو مثبت اندازِ فکر اپناتے ہیں۔ جو اپنی غلطیوں پر نگاہ رکھتے ہیں اور اپنی 

حکمتِ عملی دوسروں کے ردِعمل میں ترتیب نہیں دیتے۔

مسلمانوں کو اگر اقوامِ عالم میں اپنا تشخص بر قرار رکھنا ہے تو اس کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک اس نظام اقدار کا فروغ‘ جس کی بنیادیں الہامی ہدایت میں ہیں۔ ان اقدار سے وابستہ رہ کر ہی ہم اپنا اخلاقی وجود قائم رکھ سکتے ہیں۔ دوسرا تسخیرِ کائنات کے ضمن میں ہونے والی تحقیق سے استفادہ۔ پہلے کام کے لیے قرآن و سنت میں غوطہ زن ہونے کی ضرورت ہے۔ دوسرے کے لیے سائنسی تحقیق سے استفادہ لازم ہے۔ اس کے علاوہ مادی ترقی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ یہ کام تعصبات کو فروغ دینے یا علم کو مشرق و مغرب کے دائرے میں قید میں کرنے سے نہیں ہو سکتا۔ ہم امریکہ کے عالمی کردار کے ناقد ہوں گے لیکن اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہم اس تحقیقی کام سے بھی استفادہ نہ کریں جو امریکہ میں ہو رہا ہے۔ سماجی علوم میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، ان سے بھی گریز کریں۔ اس اندازِ فکر سے ہم خود کو ایک بڑے خیر سے محروم کر لیں گے۔

اسی اندازِ نظر کا ایک شاخسانہ یہ ہے کہ اب امریکہ کی دشمنی میں داعش کی خلافت کی حمایت کی جا رہی ہے۔ ہم اس بات کو نظر انداز کرتے ہیں کہ محض ردِ عمل میں ہم اپنے حق و انصاف کے پیمانے کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اسلام ہمیں کہیں یہ ہدایت نہیں کرتا کہ اسلام کے نام پر کی جانی والی ہر حرکت کا دفاع ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ لوگوں کو اسلام کے پیمانے پر پرکھا جا نا چاہیے نہ کہ اسلام کو لوگوں کے پیمانے سے۔ یہ صرف اس عصبیت میں ممکن ہے جسے اسلام نے جاہلیت قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ دنیا، تحریر/اشاعت 08 دسمبر 2014
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : May 18, 2016
607 View