عمر فاروق رضی ﷲ عنہ-10 - ڈاکٹر وسیم مفتی

عمر فاروق رضی ﷲ عنہ-10
سیرت و عہد

عہد فاروقی میں سر کی جانے والی شمالی ایران کی مہمات کا ذکر کیا جا چکا ہے ۔ اسی عرصے میں سیدنا عمر کے مقرر کردہ سالار اصطخر حضرت عثمان بن ابو العاص کی فوج نے بحری جہازوں کے ذریعے سے خلیج فارس کو عبور کیا اور جزیرۂ ایزکاوان پر قبضہ کر لیا۔پھر حضرت عثمان نے توّج پہنچ کر اسے گھیرے میں لے لیا۔ مجاشع بن مسعودان سے پہلے بصرہ کی جانب سے آ کر محاصرہ کیے بیٹھے تھے۔ اہل توّج کو علاء بن حضرمی کی یورش روکنے کا تجربہ تھا ،اسی غرے میں انھوں نے دہرے محاصرے کو طول دیا ۔ ایک سخت لڑائی میں ان کے بے شمار جنگ جو مارے گئے تو یہ شہر مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔مجاشع یہاں سے سابور اور اردشیر روانہ ہوئے اور ان دونوں شہروں کو فتح کیا۔ حضرت عثمان بن ابو العاص نے اپنا لشکر لے کر ایران کے قدیم دارالحکومت اصطخر کا رخ کیا۔ہربز نے اپنے مقدس شہر کا دفاع کرنے کے لیے تمام قوتیں جمع کر لیں، جہاں مجوسیوں کے دیوتا اناہید کا آتش کدہ اورساسانی بادشاہوں کے مقبرے تھے۔وہ فوج لے کرشہر سے باہر جو ر کے قصبے تک آیا،جیش عثمان نے غلبہ پایا تو بھاگ کرشہر میں واپس چلا گیااور قلعہ بند ہو گیا۔محاصرہ طویل ہونے پر شہر والے عاجز آ گئے اورانھوں نے دروازے کھول دیے۔ کچھ قتل و غارت اور لوٹ مار ہوئی، شہری فرار بھی ہوئے، لیکن حضرتعثمان نے انھیں جزیہ دینے پر راضی کرلیا، ہربز بھی لوٹ آیا۔ حضرت عثمان کو جب پتا چلا کہ کچھ فوجیوں نے مال غنیمت تقسیم ہونے سے قبل ہی اس پر قبضہ کر لیا ہے تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا: دین میں سب سے پہلے امانت کا فقدان ہوتا ہے ،اس کے ضائع ہو جانے کے بعد روز بروزکچھ نہ کچھ کھویا رہتا ہے۔ تمام مال اپنی تحویل میں لے کر انھوں نے فوجیوں کے حصے بانٹے اور خمس مدینہ ارسال کر دیا۔ حضرت عمر نے ان کی کارکردگی سے خوش ہو کر انھیں بحرین کا گورنر مقرر کردیا۔
اصطخرایک شان دار ماضی رکھتا تھا، اس شہر کو سیاسی و مذہبی تفوق حاصل تھا۔وہاں کے باشندگا ن کو اپنی کھوئی ہوئی حیثیت رہ رہ کر یاد آتی تھی، اس لیے شاہ کرمان شہرک کے اکسانے پرجلد ہی بغاوت پرآمادہ ہو گئے۔ انھوں نے حضرت عثمان بن ابو العاص سے کیا ہوا معاہدہ توڑااور شہرک کے جھنڈے تلے جمع ہو کرتوّج شہر میں قلعہ بند ہو گئے۔ شہرک نے سابور، اردشیراور دوسرے شہروں پر غارت گری کر کے کافی ساز وسامان اکٹھا کر لیا تھا۔ حضرت عثمان کے بھائی حکم بن عاص کو اس کی سرکوبی کی ذمہ داری ملی۔کئی روز جاری رہنے والی سخت جنگ میں شہرک کے لشکر کو شکست ہوئی،خود وہ اوراس کا بیٹا بھی مارے گئے۔ خلیفۂ ثالث حضرت عثمان کے زمانے میں بھی اہل اصطخرنے عہد شکنی کی، تاہم تجدید صلح کرنے پر مجبور ہوئے۔ بلاذری کے کہنے کے مطابق اس مرحلے پر حضرت عمر کے فرمان پر ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ حضرت عثمان سے آ ملے اور ان دونوں نے ارّجان ، شیراز اور سینیر کے مقامات فتح کیے۔ پھر حضرت عثمان نے درابجرد اور فسا شہروں کے رہنے والوں سے معاہدات صلح کیے۔طبری کے خیال میں درابجرد اور فسا کے شہر ساریہ بن زنیم نے فتح کیے ۔وہ ان شہروں کا محاصرہ کیے بیٹھے تھے کہ ایرانیوں کو کمک آن پہنچی۔اسی رات عمر رضی اﷲ عنہ نے خواب میں اسلامی فوج کی پوزیشن ملاحظہ کی۔ انھوں نے دیکھا کہ اگر فوج صحرا میں بیٹھی رہی تو ایرانیوں اور کردوں کے گھیرے میں آ جائے گی اور اگر اس نے پہاڑ کو پیچھے رکھ کر اپنی صف بندی کر لی تو محض ایک جانب سے ہونے والے حملے کو روکنا ہو گا۔انھوں نے نماز کے بعد خطبہ دیا اور لوگوں کو ا س بات کی اطلاع دی ۔دوران خطبہ میں وہ چلائے: اے ساریہ بن زُنیم، پہاڑ کی جانب ہو جاؤ۔ پھر کہا: اﷲ کی فوجیں بے شمار ہیں،ہوسکتا ہے ان میں سے کوئی یہ بات وہاں تک پہنچا دے۔عین اسی وقت ساریہ دامن کوہ میںآ گئے۔اسلامی فوج اپنی پشت محفوظ ہونے کی وجہ سے بے جگری سے لڑی اور ایرانیوں کو شکست سے دوچارکیا۔ مال غنیمت میں جواہرات سے بھرا ایک صندوق ملا جسے ساریہ نے فتح کی خوش خبری کے ساتھ حضرت عمر کی خدمت میں بھیج دیا۔ انھوں نے وہ صندوق فوجیوں میں تقسیم کرنے کے لیے واپس بھیج دیا۔ روایت ہے کہ اہل مدینہ نے ساریہ کے ایلچی سے دریافت کیا کہ کیا انھوں نے جنگ کے دن حضرت عمر کی بات سنی تھی؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں، ہم نے ’یاسارےۃ ،الجبل ،الجبل‘ (اے ساریہ، پہاڑ کو ہو جاؤ، پہاڑ کو ڈھال بنالو)کے الفاظ سنے تھے۔
حضرت عثمان بن ابوالعاص اپنی مہمات میں مصروف تھے کہ حکم بن عمرو تغلبی نے مکران فتح کیا۔ انھوں نے مال غنیمت کے ساتھ ہاتھی بھی مدینہ بھیج دیے ۔امیر المومنین نے ہاتھی بیچ کر ان کی قیمت غازیوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ۔ ادھر حضرت سہیل بن عدی نے کرمان کو زیر کیا،ان کے حملے کے وقت یزدگرد وہیں تھا ،اس نے بھاگ کر خراسان کی راہ لی ۔اسے وہاں جاے قرارملنے کی امیدتھی، کیونکہ خراسان وسجستان بصرہ و کوفہ سے کافی مسافت پر تھے اورابھی وہاں جنگ کی آگ نہ بھڑکی تھی۔ اس کی توقع پوری نہ ہوئی ، یہ دونوں صوبے بھی خلافت اسلامیہ کی عمل داری میں آ کر رہے۔ سجستان کے لیے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے مقررکردہ کمانڈر عاصم بن عمرو سجستان پہنچے تو وہاں کے باشندے اپنے دارالخلافہ بزرنگ میں قلعہ بند ہو گئے ۔جب محاصرہ تنگ ہوا تو اس شرط پر صلح کر لی کہ ان کی کھیتیاں انھی کے پاس رہنے د ی جائیں۔
سالار خراسان احنف بن قیس طبسین کے راستے سے خراسان پہنچے تو یزدگرد مرو شاہجان میں تھا۔ کسی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر وہ ہرات پہنچے اور بے شمار قلعوں اور اونچی فصیلوں والے اس شہر کو فتح کیا۔وہاں کچھ فوج چھوڑ کر وہ نیشاپور اور سرخس کی جانب بڑھے۔ان کاارادہ تھا کہ مرو شاہجان جاکریزدگرد کو گرفتار کیا جائے، لیکن وہ بھنک پا کر قریبی شہر مرورود نکل گیا۔جب وہ وہاں پہنچے تو شاہ نے بلخ کا رخ کیا۔ احنف نے بلخ پر قبضہ کر کے حضرت ربعی بن عامر کو وہاں کا عامل مقرر کیا۔اب یزدگرد ایران کے سرحدی دریا کوعبور کر کے سمرقند جا پہنچا، اس نے خاقان ترک (شاہ تاتار) سے مدد طلب کی۔خاقان نے خیال کیا کہ مسلمانوں کاایران پر قبضہ کرنے کے بعد اس پر حملے کا ارادہ ہے، اس نے ایک بڑی فوج ترتیب دی اور اسلامی فوج کا مقابلہ کرنے مرورود تک چلا آیا۔امیر المومنین عمربن خطاب تک احنف کی کامیابیوں کی اطلاع پہنچی توانھوں نے ان کو سرحدی دریا عبور کرنے سے منع کر دیا، کیونکہ وہ تاتاریوں (ترکوں)اور منگولوں کے ساتھ کوئی جنگ چھیڑنا نہیں چاہتے تھے۔احنف نے اپنی فوج مرو رود کی پہاڑیوں کے سامنے لا کھڑی کی، دریاے مرورود تاتاری فوج اور ان کے بیچ حائل تھا۔کئی دن دونوں لشکر آمنے سامنے پڑے رہے ،مسلمانوں نے جنگ کی ابتدا کی نہ دریا عبور کرنے کی کوشش کی ۔اس دوران میں ترکوں کی طرف سے مبارزت کرنے والے تین سوار احنف کے ہاتھوں مارے گئے۔جب خاقان کویقین ہو گیا کہ مسلمان اس سے بھڑنانہیں چاہتے توواپس اپنی سرزمین کو لوٹ گیا۔
مرو شاہجا ن کے محاصرے کے دوران میں یزدگرد چھپا یاہوا خزانہ سمیٹ کر اپنے خاص مصاحبوں کے ساتھ پڑوسی ملک ترکستان یا چین کو فرار ہو رہا تھاکہ اس کی رعایا اس پر پل پڑی اور خزانہ اس سے چھین لیا۔جب احنف سے ان کی صلح ہوئی توانھوں نے یہ خزانہ ان کے حوالے کر دیا۔خمس مدینہ بھیجے جانے کے بعد ہر سپاہی کو اس قدر وافر حصہ ملا جوجنگ قادسیہ میں ملنے والی غنیمت کے برابر تھا۔ غنائم تقسیم کرنے کے بعدعمر رضی اﷲ عنہ نے خطبہ دیا: اﷲ تعالیٰ نے تمھیں ایرانیوں کی سرزمین او ر ان کے مال ودولت کا مالک بنا دیاہے، کیونکہ وہ جانچنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔
۶اھ میں بیت المقدس کی فتح کے بعد حضرت عمرو بن عاص برابر سیدنا عمر بن خطاب کو مشورہ دیتے رہے کہ مصر زیر کرنے کا یہ بہترین موقع ہے، کیونکہ وہاں کے لوگوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایک طرف بازنطینی حکمران ہرقل (Heraclius) نے ان پر سیاسی تسلط جمایا ہوا ہے، دوسری جانب اسی کے حکم سے عیسائی کیتھولک پیشوا کائرس (Cyrus) مصریوں کا عقیدہ بدلنے کے لیے ان پر جبر و تعذیب کے پہاڑ ڈھا رہا ہے۔۶۲۹ء میں ہرقل جب مصر آیا تو اس نے کائرس (Cyrus) کو ذمہ داری دی کہ وہ مصر میں Monophysitism (حضرت عیسیٰ ؑ کاواحد الوہی فطرت رکھنا) کے عقیدے کو فروغ دے۔ وہاں کے عیسائی Miaphysitism (حضرت عیسیٰ ؑ کی ذات کاایک ہی وقت میں بشری اورالوہی فطرتوں سے مرکب ہونا)کو مانتے تھے۔جابیہ میں ابن عاص سے ملاقات کے بعد حضرت عمرمدینہ واپس چلے گئے، پھر اسی زمانے میں خلافت اسلامیہ میں قحط پڑا اور طاعون کی وبا پھیل گئی، اس لیے ان کی تجویز پر عمل نہ ہو سکا۔ ۸اھ (۶۳۹ء) میں عمرو بن عاص قیساریہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے کہ انھیں مصر میں آگے بڑھنے کی اجازت مل گئی۔ حضرت عمر نے اہل رائے سے مشورہ کرنے کے بعد لکھا تھا کہ انھی لوگوں کو اس مہم میں شامل کرنا جو اپنی مرضی سے شامل ہونا چاہیں۔ حضرت عمرو معاویہ کوقیساریہ میں نائب مقرر کر کے ۴ ہزار فوج لے کر چل پڑے اورساتھ ہی مدینہ سے کمک طلب کی۔اسی اثنا میں وہاں وہ صحابہ سرگرم ہو چکے تھے جو اس مہم کو نوزائیدہ اسلامی مملکت کے لیے پر خطر سمجھتے تھے۔ سیدنا عثمان ان میں پیش پیش تھے، وہ حضرت عمرو بن عاص پر ذاتی اعتراضات بھی کرتے تھے۔ ان کے اصرار پر حضرت عمر نے دوسرا خط لکھا کہ اگر تم مصرمیں داخل ہو چکے ہو تو اپنی منزل تک بڑھتے جاؤ اور اگر وہاں نہیں پہنچ پائے تو واپس لوٹ جاؤ۔وہ رفح اور عریش کے مابین ایک مصری قصبے میں داخل ہو چکے تھے، اس لیے پیش قدمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انھیں کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا، کیونکہ مصر کے رومی حکمران مقوقس کی پلاننگ تھی کہ یہ قلیل التعدادلشکر اتنی دور چلا جائے جہاں اس تک مددآنا ممکن نہ ہو۔ حضرت عمرو بن عاص ۰۰ا کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کر کے فرماآن پہنچے جہاں ایک مضبوط قلعہ تھا۔اہل شہر نے دروازے بند کر لیے اور حضرت عمرو نے محاصرہ ڈال دیا، انھیں اپنی فتح کا پورایقین تھا۔ مشہور روایت ہے ،یہ محاصرہ ایک ماہ جاری رہا ، کچھ ابتدائی جھڑپوں کے بعد حضرت عمروکو شان دار فتح حاصل ہوئی۔ مقریزی اور دوسرے مورخین کا خیال ہے کہ یہ کامیابی فرما کے قبطیوں کے مرہون منت تھی، لیکن حقیقت میں ان کی مدد اتنی ہی تھی کہ انھوں نے مسلمانوں کو شہر کے بارے میں معلومات مہیا کیں۔ دوسری وجہ یہ رہی کہ اہل فرما کومصر کے بادشاہ مقوقس کی جانب سے کوئی کمک نہ پہنچی۔ حضرت عمرو نے قلعہ مسمار کرا دیا اور قریبی بندرگاہ میں کھڑے جہاز جلا ڈالے تاکہ مصریوں کو مزید کارروائی کا موقع نہ ملے۔فتح کے بعدکچھ مقامی بدو ان کی فوج میں شامل ہو گئے۔اب وہ ایک لمبا سفر طے کر کے بلبیس کے شہر پہنچے جہاں وہ ایک ماہ مقیم رہے۔ اس دوران میں مقوقس نے انھیں لوٹ جانے کی پیش کش کی۔ عمرو نے جواب دیا: ہم تمھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں،دوسری صورت میں تم جانتے ہو، کہ ہم ہی غالب آئیں گے۔ رومی جرنیل اطربون (Tribunus) نے مقابلہ کرنے کی ٹھانی،وہ ۲ا ہزار کی فوج لے کر نکلااور راتوں رات مسلم فوج پر اچانک حملہ کر دیا۔ حضرت عمرو تیار تھے، شدید جنگ کے بعد اطربون مارا گیااور ا ہزار جانوں کا نذرانہ دے کر اس کی فوج بھی تتر بتر ہو گئی۔
ابھی مدینہ کی طرف سے کمک کی آمد نہ ہوئی تھی، حضرت عمرو صحرا کے کنار ے چلتے چلتے ام دنین تک آ گئے۔ دریاے نیل پر واقع اس قصبے کے جنوب میں مصر کے دو قدیم شہر بابلیون اور منف تھے۔ حضرت عمرو بن عاص نے امیر المومنین کو مدد بھیجنے کے لیے دوبارہ خط لکھا اور سپاہیوں کو امید دلائی کہ کمک آیا چاہتی ہے۔سب سے پہلے ام دنین کے قلعے کے پہرے داروں نے مسلم فوج آتے ہوئے دیکھی تو مرعوب ہو گئے۔ مدد آئی تو حضرت عمرو نے پوری فوج یکجا کر کے ایک ہلہ بولا اور قلعے پر قبضہ کر لیا۔ اب انھوں نے کشتیوں پر دریاے نیل کو عبور کیا ،جیزہ کے اہرام کے پاس سے گزرتے ہوئے صحرا میں مارچ کرنا شروع کر دیا،ان کا رخ فیوم کی طرف تھا۔انھیں مقامی بدوؤں نے خبر دی کہ حنّا نام کا ایک سالار کھجوروں اورجھاڑیوں کی اوٹ میں اپنا دستہ چھپاتے چھپاتے ان کی طرف آ رہا ہے۔ حضرت عمرو نے رخ بدلا اور ایک چکر کاٹ کر اس دستے پر حملہ کیا اور اسے ملیا میٹ کر دیا۔اہل فیوم حنّا کے انجام سے بہت رنجیدہ ہوئے،وہاں کے رومی حکمران نے اس کی لاش حنوط کر کے ہرقل کے پاس قسطنطینیہ بھیج دی۔ہرقل نے حضرت عمرو کی فوج کچلنے کے لیے ایک مقامی لشکربھیجنے کا حکم دیا، لیکن حضرت عمرو صحرا سے باہر نہ نکلے تو وہ لشکر لوٹ گیا۔
اسی اثنا میں حضرت عمرو بن عاص کو اطلاع ملی، امیرالمومنین نے ان کی طرف مزید کمک روانہ کی ہے جو فرما اور بلبیس کے اسی راستے سے بابلیون کے قلعوں تک پہنچے گی جہاں سے وہ خود آئے تھے ۔وہ آگے بڑھ کر اس فوج کا استقبال کرنا چاہتے تھے۔ انھیں اندیشہ تھا کہ رومی اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ ان کو دریاے نیل عبور کرنا تھا،فیوم سے آنے والی رومی فوج بھی راستے میں حائل تھی۔ مورخین حیران ہیں انھوں نے نیل کیسے پارکیا، فیومی لشکر کو کیسے چکمہ دیا اور عین شمس (Heliopolis) پہنچ گئے۔ ۸ہزار نفوس پرمشتمل اس فوج میں حضرت زبیر بن عوام، عبادہ بن صامت، مقداد بن اسود اور مسلمہ بن مخلد جیسے جلیل القدر صحابہ موجود تھے۔ سیدنا عمر نے زبیر کو قائد جیش مقرر کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کیا تم مصر کی گورنری لینا چاہتے ہو؟ انھوں نے جواب دیا، میں حضرت عمرو بن عاص کا ساتھ دوں گا، ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالوں گا۔ جیش زبیر کے آنے سے حضرت عمرو کی فوج بڑھ کر ۵ ا ہزار ہو گئی توانھیں یقین ہوا کہ مصر کی قسمت کا فیصلہ ہونے کی گھڑی آ گئی ہے۔ انھوں نے عین شمس (Heliopolis) کے ٹیلوں پر فوج کو ترتیب دیا۔ یہ جگہ بلندتھی، اس لیے ا س کا دفاع کرناآسان تھا۔ وافر پانی ہونے کی وجہ سے سبزے اور غلے کی بہتات تھی۔ حضرت عمروکی خواہش تھی کہ رومی فوج قلعۂ بابلیون سے باہر نکل کر میدان میں مقابلہ کرے ۔یہ تمنا جلد پوری ہوئی ، رومی سپہ سالار تھیوڈر نے اپنے جرنیلوں سے مشورہ کے بعد قلعے سے باہر آنے کا فیصلہ کیا۔ حضرت عمرو نے یہ خبرسن کرراتوں رات۰۰ ۵سپاہی پہاڑ کے پیچھے بنووائل کے غار میں چھپادیے اور ۵۰۰ خارجہ بن حذافہ کی سربراہی میں ام دنین بھیج دیے۔صبح سویرے وہ عین شمس کے ٹیلوں سے اتر کر کھلے میدان میں آگئے۔ رومی فوج بھی پوری تیاری کے ساتھ باہرنکلی اور لڑائی شروع ہوئی۔ گھمسان کا رن پڑا تھا کہ بنو وائل کے غار میں چھپا ہوارسالہ باہر نکلا اور رومی فوج کے پچھلے دستوں پر ٹوٹ پڑا۔رومیوں کی صفیں منتشر ہو گئیں اور انھوں نے گھبرا کربائیں جانب ام دنین کا رخ کیا ۔عین اسی وقت ام دنین میں چھپے ہوئے مسلم سوار نکل آئے اور ان پر تلواریں آزمانا شروع کر دیں۔رومیوں کو ایسے لگا، جیسے ان پر تین لشکر حملہ آور ہو گئے ہیں۔اسی گھبراہٹ میں ان میں سے اکثر مارے گئے، باقی فرار ہو کر قلعے میں جا چھپے ،کچھ کشتیوں میں بیٹھ کر نیل میں جاگھسے۔جنگ ختم ہونے کے بعداسلامی فوج نے ام دنین پر دوبارہ حملہ کیا اور وہاں چھپے ہوئے رومیوں کو نکال باہر کیا۔ عین شمس کے فیصلہ کن معرکے کے بعد حضرت عمرو بن عاص نے قدیم شہر مصر پر بغیر کشت و خون کیے قبضہ کر لیا۔ فیوم میں موجود رومی نقیوس کی طرف بھاگ گئے تھے، اس لیے حضرت عمرو دریاے نیل پار کر کے صحرا میں پہنچے اورفیوم کو اپنے کنٹرول میں لیا۔ انھوں نے جنوبی ڈیلٹا میں بھی فوج بھیجی اور اثریب اور منوف پر قبضہ کیا۔جو رومی اہل کار قابو آئے ،انھیں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا دی گئیں۔باقی بچ جانے والوں پرا س قدر خوف طاری ہوا کہ وہ ٹولیوں کی صورت میں اسکندریہ کوچ کر گئے۔
کثیر تعداد میں رومی سپاہ بابلیون کے قلعے میں پناہ لیے ہوئی تھی،ان میں شاہ مصرمقوقس بھی تھا۔دریاے نیل کے کنارے پر واقع اس قلعے کے بڑے گیٹ تک بحری جہازوں کی آمد ورفت ممکن تھی۔قلعے کے اندر پانی کے کنویں اورغلے کے کھیت کثرت سے تھے۔اس کے چاروں اطراف ایک گہری خندق کھدی ہوئی تھی جسے ایک متحرک پل کے ذریعے عبور کیا جاتا تھا ۔اہل قلعہ اس پل کی حرکت کنٹرول کرتے تھے۔ادھر دریاے نیل میں پانی چڑھ آیا،یہ وہ طغیانی تھی جو اس دریا میں ہر سال آتی تھی ۔ان حالات میں حضرت عمرو بن عاص نے قلعۂ بابلیون (Babylon Fortess)کا محاصرہ کیا۔ رومی فوج منجنیقوں سے حملہ کرتی تو مسلمان پتھروں اور تیروں سے جواب دیتے۔ایک ماہ گزر گیا،مسلمانوں کے حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔ شاہ مقوقس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ ابھی نیل کا پانی اترنے میں قریباً ایک مہینا اور لگے گا تب کہیں نقیوس یا اسکندریہ سے کمک آ سکے گی ، کیوں نہ ان عرب بدوؤں کو مال و دولت کا لالچ دے کر رخصت کر دیا جائے۔ اس نے اس سفارت کاری کو سالار بابلیون اعیرج (جارج) سے خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا ۔رات گئے مقوقس اور اس کے خاص درباری کشتی پر بیٹھ کر قلعے سے جزیرۂ روضہ چلے گئے اور وہاں سے حضرت عمرو بن عاص کو خط لکھا۔
مطالعۂ مزید:البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)،الکامل فی التاریخ(ابن اثیر)،الفاروق عمر(محمد حسین ہیکل)، (Wikipedia) Muslim Conquest of Egypt ۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اپریل 2008
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : May 05, 2017
617 View