عمر فاروق رضی ﷲ عنہ -8 - ڈاکٹر وسیم مفتی

عمر فاروق رضی ﷲ عنہ -8

 

[’’سیر و سوانح ‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

سیرت و عہد

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ قیصر و کسریٰ اور مصر وشام کے حکام جنگ کیے بغیر دعوت اسلام قبول کر لیں۔ خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی چاہتے تھے کہ عراق و ایران میں دور تک گھسنے (invasion) کی کارروائیاں نہ کی جائیں۔فتح مدائن کے بعد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے پہاڑوں کے اس پار ایرانیوں کا پیچھا کرنے کی اجازت مانگی تو عمررضی اللہ عنہ نے خط لکھا: میری خواہش ہے کہ صحراے عرب اور ایرانی سلسلہ ہاے کوہ کے بیچ کوئی بند ہو ،وہ ہم تک پہنچ پائیں نہ ہم ان پر حملہ کریں۔میرے خیال میں مسلمانوں کی سلامتی غنائم پر فوقیت رکھتی ہے۔ لیکن اس خطے میں پے درپے ہونے والے واقعات کی وجہ سے عمررضی اللہ عنہ اپنی پالیسی پر عمل پیرانہ ہوسکے۔یہ ایرانی ہی تھے جن کی مسلسل عہد شکنیوں کی وجہ سے فتح ایران مکمل ہوئی ،اگر وہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ سے کیے ہوئے معاہدات پر قائم رہتے تو امکان غالب تھا کہ ایران کے ایک بڑے حصے پر یزدگرد کی بادشاہت برقرار ہوتی۔
جنگ قادسیہ میں شکست کھانے کے بعد شاہ یزدگرد حلوان پھر رے کی طرف فرار ہوا جبکہ جنرل ہرمزان موت کے منہ سے بچنے کے بعد جنوب مشرقی عراق کے شہر اہواز (صوبۂ اہواز یا خوزستان کے صدر مقام) میں جا بسا۔ مسلمانوں نے ایران کے اطراف میں بکھر جانے والے ان سورماؤں کا پیچھا نہ کیا اور اپنی توجہ عراق کی طرف مرکوز کر دی تو ایرانیوں کو خیال ہوا کہ مسلمان ان سے خوف زدہ ہو کر پیش قدمی کرنے سے رک گئے ہیں۔اہل اہواز جوابی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے میں پیش پیش تھے،وہ پہلے بھی صلح کا معاہدہ کر کے توڑ چکے تھے ۔ ادھر بصر ہ کے گورنر بدلتے رہے، عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ عتبہ بن غزوان کے ہاتھوں دوبارہ زیر ہواتو وہ گورنر بنے ۔ان کی وفات کے بعد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ لی۔ بصرہ میں موجود ایک صحابی ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے ان پر بنو ہلال کی ام جمیل سے زنا کا الزام لگایا توعمررضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا گورنر مقرر کر دیا۔مغیرہ رضی اللہ عنہ کا مقدمہ مدینہ میں خلیفہ کی عدالت میں پیش ہوا، لیکن چوتھے گواہ کے مضطرب ہونے کی وجہ سے تہمت ثابت نہ ہوسکی۔ انھی دنوں میں بحرین کے گورنر علاء بن حضرمی نے خلیفہ سے اجازت لیے بغیر بحری جہازوں کے ذریعے خلیج فارس کوعبور کیا اوررستے کے مقامات زیر کرتے ہوئے شہر اصطخرفتح کرنے کی ٹھانی۔ سمندری جنگ کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے اپنی پشت کو محفوظ نہ کیا۔ایرانیوں نے ان کی واپسی کا راستہ کاٹ دیا تو وہ محصور ہو گئے۔ تب عمر رضی اﷲ عنہ نے بصرہ و کوفہ سے دستے بھیج کر انھیں چھڑا یااوران کو گورنری سے ہٹا کر عراق میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ما تحت کر دیا۔ اہواز کے اہل سیاست نے ان تبدیلیوں سے تاثر لیا کہ اب مسلمان امرا اقتدار کی جنگ میں الجھ کر کمزور ہو جائیں گے ۔ان کا مشاہدہ تھا کہ اقتدار کی کشمکش میں شریک ایرانی اراکین سلطنت موقع پاتے ہی اپنے ساتھیوں کوکچل دیتے تھے ،اس طرح انھیں اوپر آنے کا موقع مل جاتاتھا۔یہ سوچ کر کہ اسلامی حکومت میں بھی ایسا کھیل کھیلا جائے گا، وہ کھلم کھلا عہد شکنی پر اتر آئے،انھوں نے سابق گورنر مغیرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ طے کیا ہوا جزیہ دینے سے انکار کر دیا۔
اہوازمیں پناہ لینے کے بعد ہرمزان نے میسان اور دست میسان میں موجود مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔عتبہ بن غزوان نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کمک حاصل کرنے کے بعدسُلمی بن قین رضی اللہ عنہ اور حرملہ بن مریطہ رضی اللہ عنہ کو ان دونوں شہرو ں کی حفاظت کے لیے بھیجا۔ یہ دونوں بنو حنظلہ سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے بنو وائل و کلیب (بنو عم) کے لوگوں سے مدد لی جو ان کے چچیرے تھے اور ما قبل اسلام سے صوبۂ اہواز(خوزستان) میں آباد تھے۔ ایک رات جب ہرمزان نہر تیری اور دلث کے مابین تھا ، بنووائل و بنو کلیب نے ان دونوں شہروں پر قبضہ کیا اور سُلمی اورحرملہ نے اسے جا لیا۔ بہت جانی نقصان اٹھانے کے بعد ہرمزان اپنی فوج لے کر واپس اہواز شہرکو بھاگ گیا اور صلح کی درخواست کی ۔ دریاے دجیل (دجلۂ کودک)اسلامی ا فواج اور ہرمزان کے مقبوضہ اہواز کے بیچ میں فاصل بن گیا ۔غالب وائلی کو مناذر کا اور کلیب بن وائل کو نہر تیری کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ فتح کے بعدعتبہ اور سُلمیرضی اللہ عنہ ایک وفد لے کر عمررضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور خمس ان کے حوالے کیا۔ احنف بن قیس نے بصرہ میں مقیم مسلمانوں کی پریشاں حالی کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا: ہم زمین شور میں جا پڑے ہیں، ایک طرف بیابان ہے اوردوسری طرف کھارا سمندر۔ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے خسروی خاندان سے حاصل ہونے والے مال فے کا ایک حصہ اہل بصرہ کے لیے مختص کیا اور عتبہ کو حکم دیا کہ بصرہ کے معاملات احنف کے مشورے سے چلائے جائیں۔ابن کثیرکے بیان کے مطابق بصرہ سے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی ایک لشکر اہواز بھیجا تھا۔ بلاذری کا کہنا ہے کہ نہر تیری ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اور مناذر ان کے مقرر کردہ کماندار ربیع بن زیاد نے فتح کیا ۔
ادھر ہرمزان اور غالب و کلیب میں سرحد کے تعین میں اختلاف ہو گیا۔ سُلمی رضی اللہ عنہ اور حرملہ رضی اللہ عنہ نے معاملہ نبٹانے کی کوشش کی تو ہرمزان نے ان کی ثالثی نہ مانی۔ اس نے کردوں کو ملا کر اچھی خاصی قوت فراہم کر لی تھی، اس لیے معاہدہ توڑ کر مقابلے پر اتر آیا۔سُلمی نے عتبہ سے اور عتبہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے مدد چاہی۔انھوں نے حرقوص بن زہیر سعدی رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں کمک بھیجی۔ ہرمزان او رحرقوص رضی اللہ عنہ کی افواج کے بیچ میں سوق اہوازکا پل تھا۔ ہرمزان کی دعوت پر مسلمانوں نے پل عبور کیا۔ سوق اہوازکے باہر لڑائی ہوئی۔ ہرمزان کو شکست ہوئی اور وہ را م ہرمز کی طرف بھاگا۔ حرقوص رضی اللہ عنہ نے جزء بن معاویہ کو اس کا پیچھا کرنے کے لیے بھیجا، وہ شغر تک گئے، لیکن ہرمزان ان کے ہاتھ نہ آیا۔ انھوں نے قریبی شہر دورق کا رخ کر لیا،یہاں کے باشندے شہر چھوڑ کر بھاگ گئے ،پھر جزیہ دینے پر آمادہ ہوئے اور واپس آ بسے۔عمر رضی اﷲ عنہ نے صلح کی اجازت دینے کے ساتھ شہرمیں نہر کھودنے اور بے آباد زمین کو آباد کرنے کی ہدایت کی۔ دوسر ی طرف حرقوص رضی اللہ عنہ نے اہواز کے باشندگان پرجزیہ عائدکیا اور خمس خلیفۂ ثانی کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا۔انھوں نے اہواز کے پہاڑ پر اپنی قیام گاہ بنائی۔ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ لوگوں کو ان کے پاس آنے جانے میں دشواری پیش آتی ہے توانھوں نے فوراً نیچے اتر آنے کی ہدایت کی۔ جب مقابلے کا چارہ نہ رہا تو ہرمزان نے بھی صلح کا خط لکھا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی درخواست قبول کر لی۔
یزدگرد اس وقت مرو یا اصطخر میں مقیم تھا، اس نے دیکھا کہ ایرانی جنگ جومختلف اور متفرق معرکوں میں اسلامی افواج کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کررہے ہیں تو انھیں ہدایت کی کہ ایک متحدہ فوج تشکیل دے کر مسلمانوں کا راستہ رو کیں۔ حرقوص رضی اللہ عنہ ،جزء اورسُلمی کواس کی تیاریوں کی اطلاع پہنچی تو امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کومطلع کیا۔ انھوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ نعمان بن مقرّ ن کی قیادت میں ایک بڑا لشکر فوراًاہواز بھیج دیا جائے۔ عمررضی اللہ عنہ نے چند دلیروں کے نام بھی تجویز کیے۔پھر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بھی حکم بھیجا کہ سہل بن عدی رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ایک فوج بھیجی جائے جس میں براء بن مالک رضی اللہ عنہ، مجزاہ بن ثور اورعرفجہ بن ہرثمہ شامل ہوں۔ ہرمزان نے سبقت کی اوراربک کے مقام پر نعمان بن مقرّن کے لشکر کو روک لیا ، ایک سخت جنگ کے بعداسے شکست ہوئی تو واپس رام ہرمز کو پلٹا، پھر شوستر(تستر)جا کر قلعہ بند ہو گیا۔ نعمان نے رام ہرمز پر قبضہ کیا اور اہل ایذج سے مصالحت کر لی۔ سہلرضی اللہ عنہ بصرہ سے چلے تھے، ان کو ہرمزان کی قلعہ بندی کا پتا چلا تو وہ بھی شوستر (تستر) پہنچ گئے۔ اب سلمی، حرملہ، حرقوص اور جزء کی سربراہی میں دستے شوستر (تستر) کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ یزدگرد کی دعوت پر اطراف ایران سے آنے والے فوجیوں کا ایک بڑا لشکر شہر میں جمع ہو چکا تھا۔ مسلمان فوجیوں نے فصیل شہر پھلانگنے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ کوفہ وبصرہ کے سالار ابو سبرہ نے امیر المومنین سے مدد مانگی تو انھوں نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کوایک نیا لشکر لے کر خود شوستر(تستر ) جانے کی ہدایت کی۔ انھوں نے عماربن یاسررضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں کوفہ سے کمک بھی بھیجی۔محاصرے کو کئی ماہ گزر چکے تھے،ہرمزان نے شہر سے باہر نکل کر دوبدو لڑائی کا فیصلہ کر لیا،اسے فتح کا یقین تھا۔ اس کی دعوت مبارزت پر براء بن مالک (انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی) نکلے، لیکن شہید ہو گئے پھر مجزاہ بن ثور نے شہادت پائی۔اس کے بعد لڑائی رک گئی اور کوئی ایرانی آگے نہ آیا۔ ایک دن گزر گیا اور دوسری صبح طلوع ہوئی۔ اسی اثنا میں ایک ایرانی چھپتا ہوا آیا اور ابوموسیٰرضی اللہ عنہ سے پناہ طلب کی۔انھوں نے یہ شرط رکھی کہ وہ شہر میں داخل ہونے کا کوئی راستہ بتائے۔اس نے بتایا کہ جس نہری راستے کے ذریعے دریاے دجیل سے شہر کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے، وہاں سے شہر میں گھسا جا سکتا ہے۔ اشرس بن عوف اس شخص کے ساتھ گئے، انھوں نے غلاموں کا بھیس بنایا ہوا تھا۔ایرانی نے انھیں شہر کے راستے سمجھا دیے اور ہرمزان کا پتا بتایا۔ اب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اشرس کے ساتھ ۴۰ کمانڈو بھیجے،۲۰۰ مہم جو ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ ظلمت شب میں انھوں نے پہرے داروں کو قتل کر کے فصیل پر قبضہ کرلیا۔دروازے کھل گئے او ر شہ سوار داخل ہوئے۔ ہرمزان فرار ہو کر قلعے میں جا گھسا ۔ اپنے آپ کو حوالے کرنے کے لیے اس نے یہ شرط لگائی کہ عمر رضی اﷲ عنہ خود اس کے بارے میں فیصلہ کریں۔ شرط مانی گئی تو اس نے ہتھیار ڈالے۔ اس کا خوزستان اور جنوبی ایران کی حکمرانی کا خواب چور چورہو چکا تھا۔اسے باندھ دیا گیا ،قائدجیش ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور احنف بن قیس کی معیت میں اس کوعمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کیا۔اب شہریوں کی طرف سے کوئی مزاحمت نہ تھی۔ سقوط کے بعد خمس مدینہ ارسال کیاگیا ، گھڑ سوار کو تین ہزار درہم ملے جبکہ پیادہ کے حصے میں ایک ہزار آئے۔
شوستر سے چند میل دور مغرب میں واقع سوس (شوش یاشوشان) کے شہر میں ہرمزان کا بھائی شہریار حاکم تھا۔ محاصرۂ شوستر (تستر) کے دوران میں اہل سوس کی ابوسبرہ کی فوج سے کئی جھڑپیں ہو چکی تھیں، ان میں مسلمانوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔چنانچہ شوستر (تستر) سے فارغ ہونے کے بعد ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سوس کا رخ کیا۔ ایک طویل محاصرے کے بعد جب شہر والوں کا غلہ ختم ہو گیا تو انھوں نے ہتھیار ڈالے۔ دہقان سوس(امیر شوش) نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اپنے ۱۰۰ اہل خانہ کی جان بخشی کا وعدہ لیا تھا،شومئی قسمت کہ اپنا نام لینے کا اسے خیال نہ رہا۔ابو موسیٰرضی اللہ عنہ نے اس کی گردن اڑانے کا حکم دے دیا۔ شہر فتح کرنے کے بعدمعلوم ہوا کہ یہاں پر اﷲ کے نبی دانیال علیہ السلام کی قبرہے ۔ان کا جسد کھلا نظر آتا ہے اور لوگ ان سے بارش کی دعائیں مانگتے ہیں۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو مطلع کیا ،انھوں نے جثۂ مبارک کو کفن پہنا کرقبر بند کرنے کا حکم دیا۔ یہ قبر آج بھی موجود ہے ، انیسویں صدی میں اس پر مزار تعمیر کیا گیا۔ فتح سوس (شوش) کے بعد ایرانی شاہ سوار سیاہ اور اس کے ساتھیوں نے اسلام قبول کیا، سیاہ نے اپنے لیے عطیات کا مطالبہ کیا۔ عمررضی اللہ عنہ کی اجازت سے ۶ سرداروں کو ۲۵۰۰ اور ۱۰۰ افراد کو ۲۰۰۰ دینار دے دیے گئے۔ سوس کے بعد جندیٰ سابور کا محاصرہ ہوا ، اسلامی فوج میں شامل ایک غلام نے ازخودشہر والوں کو امان کا پروانہ لکھ بھیجا۔خلیفۂ دوم رضی اللہ عنہ نے اس کی منظوری دے دی۔
انس رضی اللہ عنہ اور احنف مدینہ کے قریب پہنچے توانھوں نے ہرمزان کو اس کا سونے سے جڑاؤ کیا ہوا دیبا کا لباس پہنا یا، موتیوں اور جواہرات سے مزین تاج( آزین) سر پررکھا اور خالص سونے سے بنا ہوا، موتیوں اور یاقوت سے مرصع عصا ہاتھ میں تھما دیا۔ عمررضی اللہ عنہ اپنے گھر میں نہ تھے، انھیں بتایاگیا کہ وہ اہل کوفہ کے ایک وفد سے ملنے مسجد نبوی گئے ہیں۔ وہاں بھی نہ ملے تو مدینہ کے کچھ لڑکوں سے معلوم ہوا،کوفی وفد واپس ہوا تو انھوں نے چغہ اتار کر سر تلے دابا اور مسجد کے دائیں کنارے سو گئے۔ ہرمزان انھیں اس حالت میں سویادیکھ کر ششدر رہ گیا۔ اس نے پوچھا: ان کا ایوان کیا ہوااور دربان کہاں ہیں؟ عمررضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو ہرمزان کو فوراً اس کی ہےئت سے پہچان لیا۔ انھوں نے اﷲ کا شکر ادا کیا کہ اس جیسے لوگ اسلام کے مطیع ہو گئے ہیں،انھوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ اس جاہ سے دھوکا نہ کھا جائیں ۔ امیر المومنین نے ہرمزان سے اس وقت تک گفتگو کرنے سے انکار کر دیا جب تک وہ اپنی شاہانہ وضع نہیں بدلتا۔ انھوں نے بار باراس سے اس کی عہد شکنی کا سبب پوچھا۔اس نے عمررضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں غصہ دیکھا تو کہا: مجھے ڈر ہے کہ آپ مجھے قتل کر ادیں گے۔ اس نے پانی منگوایا، مٹی کے پیالے میں پانی دیا گیا تو پینے سے انکار کردیا ۔دوسرا پیالہ آیا تو اس نے کانپتے ہاتھوں سے پیالہ تھام کر کہا: مجھے پانی پیتے ہوئے مروا دیا جائے گا۔ عمررضی اللہ عنہ نے اس کو تسلی دی کہ تمھارے پانی پینے تک تمھیں کچھ نہ کہا جائے گا۔ ہرمزان نے پیالہ انڈیلا اور پانی گرا دیا۔ عمررضی اللہ عنہ نے پانی دوبارہ لانے کا حکم دیاتو اس نے کہا: اب میں پانی نہ پیوں گا، مجھے تو امان چاہیے تھی۔ عمررضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا۔ انھوں نے کہا: میں تمھیں مار ڈالو ں گا۔ ہرمزان نے کہا: آپ مجھے امان دے چکے ہیں۔ عمررضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ، احنف بن قیس اور دوسرے حاضرین نے اس کے امان میں آنے کی تائید کی تو وہ خاموش ہو گئے اور کہا: ہرمزان، تو نے مجھے دھوکا دیا ہے۔ بخدا، میں صرف مسلمان ہی سے دھوکا کھاتا ہوں۔ تب ہرمزان مسلمان ہوگیا اور مدینے میں مقیم ہو گیا۔ امیرالمومنین نے اس کے لیے ۲ ہزار درہم وظیفہ مقرر کیا۔وہ عمر کے ساتھ ساتھ رہتا اور وہ بھی اس سے مشورہ طلب کرتے۔جب خلیفۂ ثانی کی شہاد ت ہوئی تو ہرمزان ہی پران کے قتل کی سازش رچانے کا الزام لگا۔ عبیداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسی بنا پر اسے اور اس کے ساتھی جفینہ کو قتل کیا۔
سیدنا عمر کو بہت تجسس تھا کہ ایرانی مسلمانوں سے کیے ہوئے معاہدات کا پاس کیوں نہیں کرتے؟بار بار ان کی طرف سے عہد شکنی کیوں ہوتی ہے؟ان کا خیال تھا کہ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ مسلمان اہل کار ذمیوں سے اچھا سلوک نہ کرتے ہوں۔ شوستر (تستر)سے آنے والے وفد نے اس خیال کی شدت سے نفی کی۔احنف بن قیس نے کہا: آپ نے ہمیں ملک ایران میں مزید پیش قدمی سے روک رکھا ہے جبکہ ایرانی بادشاہ یزدگرد اپنی قوم میں موجود ہے اور انھیں ہمارے خلاف اکساتا رہتا ہے ۔آپ اجازت دیں ،ہم آگے بڑھ کر اس کا رہا سہا اقتدار بھی ختم کر ڈالیں۔ایرانیوں کو کسی جانب سے امید نہ رہے گی تب ہی ان کا جوش مزاحمت سرد پڑے گا ۔ہر مزان نے بھی اس بات کی تائید کی تو عمر رضی اللہ عنہ کو اطمینان ہو گیا۔
ادھر نہاوند میں اکٹھے ہونے والے ایرانی سردارجو اپنی پے در پے شکستوں کے اسباب پر غور کر رہے تھے، اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران کی مرکزی حاکمیت کمزورہونے سے اس کی افواج بھی کمزورپڑ گئی ہیں۔ سب نے مل کر یزدگرد کو دعوت دی کہ وہ ایران کی شاہی روایات کا امین ہونے کی وجہ سے اپنی ا فواج کی قیادت خودکرے۔اس نے یہ دعوت بخوشی قبول کرلی۔ شاہ مدائن سے فرار ہونے کے بعد در بدر کی ٹھوکریں کھا چکا تھا،وہ حلوان سے رے آیا ،وہاں سے اصفہان پہنچا، پھر اصطخر۔ اس کے بعد مرواس کی پناہ گاہ رہی ۔ اس نے ایران کے گوشے گوشے میں موجود فوجی قوت نہاوند منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ اس طرح ۱۵ لاکھ کی فوج نہاوند میں اکٹھی ہو گئی، فیرزان ان کی قیادت کر رہا تھا۔ اب خلیفۂ ثانی کے لیے ممکن نہ تھا کہ پیش قدمی سے گریزکرنے کی پالیسی بر قرار رکھتے، انھوں نے فتوحات عجم کو وسعت دینے کا فیصلہ کر لیا۔
اسی اثنا میں کوفہ کے لوگ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے خلاف طرح طرح کی شکایتیں دارالخلافہ ارسال کر رہے تھے۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ وہ تو نماز بھی خوب نہیں پڑھاتے۔ اس مہم میں جراح بن سنان پیش پیش تھا۔ مدینہ میں ان کا وفد حضرت عمررضی اللہ عنہ سے ملا تو انھوں نے محمد مسلمہ کو تحقیقات کے لیے کوفہ بھیجا۔ محمد، سعد اور جراح مدینہ پہنچے، سعد رضی اللہ عنہ کے خلاف کوئی الزام ثابت نہ ہو سکا تھا پھر بھی سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے انھیں معزول کرنا بہتر سمجھا۔ انھوں نے کوفہ میں سعدرضی اللہ عنہ کے قائم مقام امیرعبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اللہ عنہ کی تقرری برقرار رکھی۔ عبداﷲ رضی اللہ عنہ نے اطلاع بھیجی کہ فیرزان اپنی فوج لے کر ہمدان جا رہا ہے، اس کی منزل حلوان ہے۔ عمررضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانے کے بعد لوگوں سے مشورہ کیا کہ کیا میں خودقیادت کرتے ہوئے اسلامی فوج عراق لے جاؤں؟ کچھ لوگوں نے اثبات میں جواب دیا، تاہم علی رضی اﷲ عنہ نے کہا: آپ نے اسلامی سلطنت کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے۔ عجمی آپ کومیدان جنگ میں پا کرختم کرنے کی کوشش کریں گے، اگر یہ لڑی بکھرگئی تو دوبارہ کبھی اکٹھی نہ ہوسکے گی۔ آپ اہل کوفہ کو خط لکھیں کہ وہ اس مہم میں شریک ہوں اور اہل بصرہ ان کے ساتھ تعاون کریں۔ مزید مشاورت کے بعد نعمان بن مقرّن رضی اللہ عنہ کو کمانڈرمقرر کرنے کا فیصلہ ہوا۔
[باقی]

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جنوری 2008
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : Mar 25, 2017
593 View