شیطان اورانسان - طالب محسن

شیطان اورانسان

 

عن أنس رضی اﷲ عنہ قال : قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم : إن الشیطان یجری من الانسان مجری الدم ۔
’’ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شیطان انسانی جسم میں اسی طرح گرداں ہے جیسے خون گرداں ہے ۔‘‘

لغوی مباحث

یجری مجری ۔۔۔: کسی کی جگہ آنا ، قائم مقام ہونا۔

متون

بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد اپنے ایک عمل کی دلیل کے طور پر تھا ۔ روایت کے الفاظ ہیں:

عن علی بن الحسین رحمہ اﷲکان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فی المسجد و عندہ أزواجہ فرحن۔ فقال لصفیۃ بنت حیی: لا تعجلی حتی انصرف معک و کان بینہا فی دار اسامۃ ۔ فخرج النبی صلی اﷲ علیہ وسلم معھا ۔ فلقیہ رجلان من الانصار ۔ فنظرا الی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ، ثم أجازا۔ و قال لہما النبی صلی اﷲ علیہ وسلم : تعالیا ، إنھا صفیۃ بنت حیی ۔ قالا : سبحان اﷲ یا رسول اﷲ ۔ قال : إن الشیطان یجری من الانسان مجری الدم و إنی خشیت أن یلقی فی أنفسکما شیئا۔ (بخاری ، کتاب الاعتکاف ، باب ۱۱)
’’ حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی ازواج بیٹھی خوش ہو رہی تھیں۔ آپ نے صفیہ بنت حیی سے کہا : جلدی نہ کرو میں تمھارے ساتھ لوٹوں گا ۔اور صفیہ کا گھر دارِ اسامہ میں تھا ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے ۔ اس موقع پر انصار کے دو آدمی ملے ۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا ، پھر آگے بڑھ گئے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو کہا : ادھر آؤ ، یہ صفیہ بنت حیی ہیں ۔ ان دونوں نے کہا : سبحان اللہ ، یا رسول اللہ ۔ آپ نے فرمایا : شیطان انسانی جسم میں اسی طرح گرداں ہے جیسے خون گرداں ہے ۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ تمھارے دل میں کوئی بات نہ ڈال دے ۔‘‘

بخاری کی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صفیہ کے مسجد میں حضور سے ملنے آنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے ۔اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئی تھیں ۔
معلوم ہوتا ہے کہ صاحب مشکوٰۃ نے یہ روایت مسلم سے لی ہے اور پوری روایت لینے کے بجائے باب کی مناسبت سے مکالمے کا ایک جز لے لیا ہے ۔ اس جز کے اعتبار سے متون میں صرف ایک ہی فرق روایت ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’۔۔۔یجری ۔۔۔مجری‘ کے بجائے ’۔۔۔یبلغ۔۔۔مبلغ‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں ۔
دارمی ، ابنِ ماجہ اور احمد میں مروی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ ایک اور موقع پر بھی بولا تھا ۔ اس روایت کے الفاظ ہیں :

عن جابر قال : قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم : لا تدخلوا علی المغیبات ۔ فان الشیطان یجری من ابن آدم کمجری الدم۔ قالوا : و منک؟ قال : نعم ولکن اﷲأعاننی علیہ فأسلم۔ (دارمی ، کتاب الرقاق ، باب ۶۴)
’’ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اکیلی بیوی ہو تو گھر میں داخل نہ ہو، کیونکہ شیطان ابنِ آدم میں اس کے خون کی طرح گرداں ہے ۔ لوگوں نے پوچھا : کیا آپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے ۔ آپ نے فرمایا : ہاں ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا۔‘‘

معنی

شیطان نے جس مشن کو اختیار کیا ہے ، اس کے لیے اس کو متعدد کارندے دستیاب ہیں اور وہ انھیں انسانوں کے پیچھے لگائے رکھتا ہے ۔ اس روایت میں ان شیاطین کی مستعدی کو واضح کیا گیا ہے ۔ یعنی یہ ایک انسان پراپنے افکار کے ساتھ حملہ آور ہونے کی بار بار کوشش کرتے ہیں ۔ یہ کوشش شب وروز میں اتنی بارکی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خون کی گردش سے تشبیہ دی ہے ۔
مقصود یہ ہے کہ شیطان کے معاملے میں صالح سے صالح آدمی کو بھی بے پروا نہیں ہونا چاہیے۔ شیاطین ہر وقت چپکے رہتے ہیں اور دراندازی کے ہر موقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ متون کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کے ساتھ کھڑے ہونے پر راہ سے گزرنے والوں پر واضح کرنا ضروری سمجھا کہ آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔جب انھوں نے کسی سوے ظن کی نفی کرنی چاہی تو آپ نے یہ واضح کیا کہ اسی طرح کے مواقع ہوتے ہیں جب شیاطین فائدہ اٹھاتے اور برائی کا بیج بوتے ہیں ۔ اسی طرح آپ نے اکیلی عورت کے گھر میں داخل ہونے سے منع کرتے ہوئے بھی یہی جملہ کہا ہے ۔ اس موقع پر بھی آپ کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کے لیے برائی کی طرف ابھارنے کے مواقع پیدا نہ کرو ۔
اس روایت سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ابلیس ہر آدمی کی رگوں میں گرداں رہتا ہے ۔ یہ محض غلط فہمی ہے ۔ ابلیس کو یہ طاقت نہیں دی گئی کہ وہ ہرجگہ ہروقت موجود رہے ۔ یہ اس کے کارندے ہیں جو وہ مختلف لوگوں پر مسلط کر دیتا ہے اور وہ مسلسل اپنے ہدف کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔

کتابیات

بخاری ، کتاب الاعتکاف ، باب ۱۱۔ ۱۲۔ کتاب بدء الخلق باب ۱۰۔ کتاب الاحکام ،باب ۲۱۔ مسلم کتاب السلام ، باب ۹۔ ترمذی ، کتاب الرضاع ، باب ۱۶۔ ابوداؤد ، کتاب الصوم ، باب ۷۹۔کتاب السنۃ ، باب ۱۸۔ کتاب الادب ، باب ۸۸۔ابن ماجۃ ، کتاب الصیام ، باب ۶۵۔احمد ، مسند انس بن مالک ۔مسند جابر بن عبداللہ۔ حدیث صفیہ ام المؤمنین۔ دارمی ، کتاب الرقاق ، باب۶۴۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت جنوری 2001
مصنف : طالب محسن
Uploaded on : Oct 19, 2016
786 View