سب سے بڑا گناہ - طالب محسن

سب سے بڑا گناہ

 

 عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَیُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ؟ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَہُوَ خَلَقَکَ. قَالَ: قُلْتُ لَہُ: إِنَّ ذٰلِکَ لَعَظِیْمٌ. قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مَخَافَۃَ أَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ. قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: ثُمَّ أَنْ تُزَانِیَ حَلِیْلَۃَ جَارِکَ.
حضرت عبد اللہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، جبکہ اس نے تمھیں پیدا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے عرض کی: یہ تو واقعی بڑا گناہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: تو اپنی اولاد کو اس اندیشے سے قتل کردے کہ وہ تمھارے کھانے میں شریک ہو گی۔ وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔

قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَیُّ الذَّنْبِ أَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ؟ قَالَ: أَنْ تَدْعُوَ لِلّٰہِ نِدًّا وَہُوَ خَلَقَکَ. قَالَ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مَخَافَۃَ أَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ. قَالَ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِیَ حَلِیْلَۃَ جَارِکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ تَصْدِیْقَہَا: ’وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا‘.
حضرت عبد اللہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ، اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ تو اللہ کا ہم سر ٹھہرائے، حالاں کہ اس نے تمھیں پیدا کیا ہے۔ اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے مار دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔ اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے (الفرقان ۲۵: ۶۸ میں) آپ کے فرمان کی تصدیق بھی نازل فرما دی: ’’وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکارتے اور نہ کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، مگر یہ کہ حق قائم ہو جائے اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرتے ہیں، وہ اپنے گناہوں کے انجام سے دوچار ہوں گے‘‘۔

عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا أُنَبِّءُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَاءِرِ؟ ثَلَاثًا، اَلْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ، وَشَہَادَۃُ الزُّوْرِ أَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَّکِءًا، فَجَلَسَ، فَمَا زَالَ یُکَرِّرُہَا حَتّٰی قُلْنَا: لَیْتَہُ سَکَتَ.

حضرت ابوبکرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ آپ نے فرمایا: کیا میں تمھیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (آپ نے یہ بات ) تین مرتبہ (دہرائی)، اللہ کے ساتھ شرک، والدین کی حق تلفی اور جھوٹی گواہی یا جھوٹی بات۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ بیٹھ گئے۔ آپ یہ بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہمارے جی میں آنے لگا: آپ چپ ہوجائیں۔

عَنْ أَنَسٍ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْکَبَاءِرِ، قَالَ: الشِّرْکُ بِاللّٰہِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَوْلُ الزُّوْرِ.

حضرت انس (رضی اللہ عنہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبائر کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک، والدین کی حق تلفی، قتل نفس اور جھوٹی بات۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْکَبَاءِرَ أَؤْ سُءِلَ عَنِ الْکَبَاءِرَ. فَقَالَ: الشِّرْکُ بِاللّٰہِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ. وَقَالَ: أَلَا أُنَبِّءُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَاءِرِ؟ قَالَ: قَوْلُ الزُّوْرِ أَوْ قَالَ: شَہَادَۃُ الزُّوْرِ. قَالَ شُعْبَۃُ: أَکْبَرُ ظَنِّی أَنَّہُ شَہَادَۃُ الزُّوْرِ.

حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبائر کا ذکر کیا یا آپ سے کبائر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک، کسی جان کا قتل اور والدین کی حق تلفی۔ اور آپ نے فرمایا: میں تمھیں کبائر میں سے بھی سب سے بڑے گناہ کے بارے میں بتاؤں؟ آپ نے فرمایا: جھوٹی بات یا آپ نے کہا: جھوٹی گواہی۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی۔

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ. قِیلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَمَا ہُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْکُ بِاللّٰہِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَکْلُ مَالِ الیَتِیْمِ، وَأَکْلُ الرِّبَا، وَالتَّوَلِّیْ یَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصِنَاتِ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ.

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو، پوچھا گیا: یا رسول اللہ، وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک، جادو، کسی جان کو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، اسے قتل کرنا، مگر یہ کہ حق قائم ہو جائے، یتیم کا مال کھا جانا، سود کھانا، جنگ کے دوران پیٹھ پھیرنا اور بھولی بھالی، مومن اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مِنَ الْکَبَاءِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَیْہِ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَہَلْ یَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، یَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَیَسُبُّ أَبَاہُ. وَیَسُبُّ أُمَّہُ فَیَسُبُّ أُمَّہُ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبائر میں یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ، کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، آدمی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے اور (جواب میں) وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ اسی طرح آدمی دوسرے آدمی کی ماں کو گالی دیتا ہے اور (جواب میں) وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔

لغوی مباحث

’حلیلۃ‘:’حلیلۃ‘، ’فعیلۃ‘ کے وزن پر ’حل‘ سے اسم صفت ہے، جس کا مطلب بیوی ہے۔ایک راے یہ ہے کہ یہ ’حل‘ سے ہے، اس صورت میں یہ ’فاعلۃ‘ کے معنی میں ہے۔ ایک راے یہ ہے کہ یہ ’حلول‘ سے ہے، یعنی یہ اس کے لیے حلال ہے اور یہ اس کے لیے حلال ہے۔
’عقوق الوالدین‘: والدین کا جو حق یا تعلق قائم ہوتا ہے، اس کو کاٹ دینا۔

معنی

اوپر درج روایات میں درج ذیل گناہوں کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے:

۱۔ غیر اللہ کو اللہ کا شریک قرار دینا، جبکہ وہ خالق ہے،

۲۔سحر،

۳۔ خوراک میں شرکت کے خوف سے اولاد کو قتل کرنا،

۴۔ ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنا،

۵۔ کسی پاک دامن عورت پر الزام لگانا،

۶۔ والدین کی حق تلفی،

۷۔ یتیم کا مال کھانا،

۸۔ سودخوری،

۹۔ جھوٹی گواہی،

۱۰۔ قتل نفس،

۱۱۔ اپنے والدین کو گالی دینا،

۱۲۔ میدان جنگ سے بزدلانہ فرار۔

یہ فہرست دوسری روایات اور قرآن مجید کو سامنے رکھیں تو بالکل واضح ہے کہ مکمل نہیں ہے۔ کچھ جرائم اور بھی ہیں جنھیں اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح ان روایات میں گناہوں کی ترتیب سے بھی کوئی حتمی معنی اخذ نہیں کیے جا سکتے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس طرح کی روایات میں بالعموم راوی حضرات ترتیب بیان میں مختلف ہو جاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ خود مسلم ہی کے متون سے واضح ہے کہ ترتیب ایک نہیں ہے۔ راویوں کے تصرف سے اگر صرف نظر بھی کر لیا جائے تو اس سے زیادہ کچھ کہنا موزوں نہیں کہ ایک موقع کلام پر آپ نے کچھ پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک خاص ترتیب اختیار فرمائی ۔ اس ترتیب میں مخاطب کی رعایت بھی ہو سکتی ہے اور معنوی ترتیب بھی۔ لہٰذا گناہ کی درجہ بندی میں ان روایات سے کوئی حتمی نتیجہ نکالنا موزوں نہیں ہے۔ اصلاً اس میں فیصلہ قرآن مجید ہی پر منحصر ہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق اللہ تعالیٰ کے ہوں یا انسانوں کے، ان کو تلف کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ چنانچہ توحید خدا کا سب سے بڑا حق ہے، اس کی خلاف ورزی، یعنی شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے اور قیامت کے دن اس کی معافی نہ ملنے کی وعید سنائی گئی ہے، پھر انسانوں کی جان، مال اور آبروکے خلاف تعدی کو بھی بڑے جرم کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے اور ان کے ارتکاب پر دنیا اور آخرت میں سزا کا حکم سنایا ہے۔ قرآن مجید سے کبیرہ گناہ کا یہی تصور ملتا ہے۔ البتہ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ سرکشی اور اصرار بھی کسی گناہ کو کبیرہ بنا دیتے ہیں اور اس کے وہی نتائج نکل سکتے ہیں جو کبیرہ گناہ کے ہیں۔ دراں حالیکہ وہ گناہ اپنی نوعیت میں اتنا بڑا نہ ہو۔ قرآن مجید سے ایک اور حقیقت بھی سمجھ میں آتی ہے کہ دین کے دفاع اور حمایت کاتقاضا جب سامنے آجائے تو اس سے گریز وانحراف بھی ایک بڑا جرم ہے۔ ان روایات میں ان تینوں ہی نوعیت کے جرائم کی بعض مثالیں بیان ہو گئی ہیں۔ شرک کے بعد جرائم کی درجہ بندی مختلف پہلوؤں سے ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اخلاقی شناعت کا پہلو، معاشرے میں اس کے اثرات کا پہلو، فرد کے انحراف کے درجے کا پہلو وغیرہ، لیکن ان روایات کی تفہیم میں اس تفصیل میں جانے کی کوئی افادیت نہیں ہے۔ بنیادی بات یہی ہے کہ خدا اورانسانوں کے حقوق کو تلف کرنا کبیرہ گناہ ہے اور شرک کا نتیجہ تو لازماً ابدی جہنم ہے اور باقی جرائم میں بھی اگر تلافی کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی تو ابدی جہنم کا امکان ہے۔
کبیرہ گناہ کا تصور قرآن مجید سے لیا گیا ہے۔ عام گناہوں پر معافی ملنے کی نوید دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا.(النساء۴: ۳۱)
’’ اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمھیں روکا جا رہا ہے تو ہم تمھاری چھوٹی چھوٹی برائیاں تمھارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ میں داخل کریں گے۔‘‘

جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ گناہ کا بڑا اور چھوٹا ہونا خدا اور بندوں کے حقوق کے پہلو سے بھی ہے، کرنے والے کے رویے کے پہلو سے بھی اورسماج پر اپنے اثرات کے پہلو سے بھی۔ قرآن مجید کا سادہ مطالعہ بھی یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کون سے جرائم بڑے جرائم شمار ہوتے ہیں۔ خود انسانی فطرت میں بھی اس کا شعور موجود ہے اور وہ کسی گناہ کے بڑے یا چھوٹے ہونے کا ادراک بآسانی کر لیتی ہے۔قرآن مجید کی محولہ آیت یہ جاننے کی تحریک کا باعث بنی ہے کہ کبیرہ گناہ کیا ہیں؟ اس لیے کہ اس میں کبیرہ گناہوں سے بچنے کی صورت میں بخشش اور نجات کی بڑی خوش خبری دی گئی ہے۔ کبیرہ گناہ کیا ہے؟ اس بات کو مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے، لیکن اس میں بنیادی باتیں وہی ہیں، جنھیں ہم نے اوپر بیان کر دیا ہے۔
قرآن مجید میں نہ صرف یہ کہ دین کے اوامر ونواہی بیان ہوئے ہیں، بلکہ ان کی فضیلت و شناعت بھی زیر بحث آئی ہے۔ یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ کن احکام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور کون سے احکام تفصیل یا فرع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل میں وہ بنیادی اخلاقی احکام بیان ہوئے ہیں جن پر عمل خدا کے دین کو اپنانے کا لازمی تقاضا ہے۔ اسی طرح سورۂ فرقان کی آخری آیات میں ایک سچے بندۂ مومن کی تصویر کھینچ کر دکھا دی گئی ہے۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے مقامات سے مومن مطلوب کی جو تصویر سامنے آتی ہے، اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ جو اعمال اس تصویر سے جتنا زیادہ بعد رکھتے ہیں، وہ اتنے ہی زیادہ قبیح ہیں۔
قرآن مجید کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کبیرہ گناہوں سے بچا رہے تو اس کی بخشش ہو جائے گی۔ یہ حقیقت میں خدا تعالیٰ کی رحمت کا اظہار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بندوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہیں کرنا، اصلاً رحمت اور شفقت کا معاملہ کرنا ہے۔ کبیرہ گناہوں سے بچنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب اصلاً کوئی شخص اپنی زندگی خدا خوفی کے اصول پر گزار رہا ہو۔ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ایک حد تک بے پروائی پر اترے بغیر ہو نہیں سکتا۔ یہی وہ چیز ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے الگ ہونے کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ ان روایات کے مطالعے کا حاصل یہ ہے کہ یہ وہ جرائم ہیں جن کے ساتھ ایمان والی زندگی اور آخرت کی طرف دھیان کی نفی ہو جاتی ہے، لیکن اگر کوئی آدمی ان سے بچا ہوا ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ وہ اصلاً بندگی کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جسے یہ خبر دی گئی ہے کہ اسے گناہوں اور کوتاہیوں کے باوجود خدا کی مغفرت حاصل ہو جائے گی۔
ان روایات میں شرک کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بڑا جرم ہونے کو کئی پہلوؤں سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس پہلو کو یہاں نمایاں کیا ہے، وہ اس باب کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ جس ہستی نے تمام خلق کو عدم سے وجود بخشا ہو، اس ہستی کا ادراک کرنے کے بعد کسی اور کو الٰہ بنانا حماقت ہی نہیں، بلکہ اپنے خالق سے بغاوت بھی ہے۔ ان الفاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام شرک کرنے والوں کو اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ اللہ کو خالق ماننے کے بعد کسی اور کو الٰہ ماننا ممکن ہی نہیں ہے۔ فطرت اور عقل کی سادہ بساط پر بھی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ خالق کے علاوہ کوئی اور الٰہ نہیں ہو سکتا، مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ تمام مشرکین اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کے بعد ہی دوسری ہستیوں کو اس کی خدائی میں شریک مانتے ہیں۔ چنانچہ حضور نے اسی حقیقت کو نمایاں کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ خالق کا شعور رکھنے کے باوجود کوئی شخص کسی دوسرے کو کار الوہیت میں شریک مانے۔
پہلی روایت میں دوسرا جرم تنگ دستی کے خوف سے قتل اولاد ہے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل ایک ایسا جرم ہے جو ابدی جہنم کا باعث بن سکتا ہے۔ کسی دوسرے انسان کی جان لینا ایک درجے کی شقاوت پر اترے بغیر ممکن نہیں ہے۔ پھر یہ کہ یہ شقاوت خود اپنی ہی اولاد کے خلاف نمایاں ہو تو یہ جرم کی شناعت کو اور بڑھا دیتی ہے۔ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوراک میں شریک ہونے کے الفاظ میں سبب بیان کیا ہے اور قرآن مجید میں یہی بات تنگ دستی کے اندیشے کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ یہ اس جرم کو دہرا جرم بنا دیتی ہے: ایک جرم یہ کہ اس نے ایک انسان کی جان لی جس کا اسے کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ دوسرے یہ کہ اس کے رزق کے بارے میں اس زعم میں مبتلا ہوا کہ یہ اسی کے ناخن تدبیر پر منحصر ہے۔ آج جو کچھ حاصل ہے، اس میں اضافہ نہیں ہو گا اور اگر کل اس کی جدوجہد سے کچھ اضافہ بھی ہوا تو اس سے وہی فائدہ اٹھائے، کوئی دوسرا اس میں شریک کیوں ہو؟ یہاں تک کہ وہ اپنی اولاد کو بھی اس میں شریک کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عربوں کے بعض قبائل اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اس کی وجہ عورت کے ساتھ وابستہ ناموس کا مسئلہ بیان کی جاتی ہے۔ قرآن مجید اور اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ معاشی تھا۔ یہ ممکن ہے کہ اسے بیان نہ کیا جاتا ہو اور معاشرے میں شاباش لینے کے لیے اسے غیرت کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہو۔
اس روایت میں تیسرا جرم ہمسائی کے ساتھ زنا بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید میں زنا کو برا طریقہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح (بنی اسرائیل ۱۷: ۳۲ میں) زنا کے لیے ’فاحشۃ‘ کا لفظ بھی قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زنا انسانی فطرت میں موجود حیا کے جذبے کی انتہائی خلاف ورزی ہے، اسی وجہ سے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ جرم اعلیٰ اخلاقی وصف وفا کے بھی خلاف ہے اور خاندانی زندگی جس اصول پر قائم ہے، اسے برباد کرتا ہے۔ خاندان اور معاشرہ رشتوں کے تقدس پر قائم ہے۔ اسی سے باہمی احترام اور اعتماد کی فضا قائم رہتی اور معاشرہ تعمیری سرگرمیوں اور تخلیقی نمو سے آراستہ نظر آتا ہے۔ ہمسائے کی بیوی کے ساتھ ناجائز تعلق جرم کی شناعت کے اسی پہلو کو بیان کرنے کے لیے بیان ہوا ہے۔ زنا بذات خود جرم ہے، لیکن اگر یہ اس طرح کیا جائے کہ باہمی رشتوں کے تقدس ہی کو پامال کردے تو اس کی شناعت اور بڑھ جاتی ہے۔
دوسری روایت میں سورۂ فرقان کی اس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں یہ تینوں جرائم بیان ہوئے ہیں۔ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ یہ آیت اصل میں اعلیٰ درجے کے بندۂ مومن کی صفات کا حسین مرقع پیش کرتی ہے۔ حوالہ دینے کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً حضور نے جب یہ باتیں بیان کیں تو خدا کی طرف سے یہ آیت اس کی تصدیق میں نازل ہوئی۔ ہمارے نزدیک بیان کرنے والے کی مراد صرف یہ ہے کہ یہی بات قرآن میں بھی بیان ہوئی ہے۔ روایات کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ بالعموم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فہم قرآن ہی کا بیان ہوتی ہیں۔
اگلی روایت میں والدین کی حق تلفی اور جھوٹی گواہی کو بڑے جرائم کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ قرآن مجید نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے لیے احسان کی تعبیر اختیار کی ہے۔ احسان کا تقریباً وہی مطلب ہے جو اردو کے لفظ حسن سلوک سے ہم ادا کرتے ہیں۔ اس لفظ سے والدین کے ساتھ تعلق کے حدود طے ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ماننا ، ان کی خدمت کرنا، ان کے آگے سر نہ اٹھانا، زبان سے گستاخی نہ کرنا، اپنا مال ان پر خرچ کرنا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سر گرم رہنا، حسن سلوک ہی کے مختلف مظاہر ہیں۔ یہی والدین کا حق ہے اور اس کی خلاف ورزی والدین کے حق کو نہ ماننا ہے۔ ’عقوق‘ کے لفظ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ یہاں محض خلاف ورزی ہونا مراد نہیں ہے، بلکہ ارادے کے ساتھ والدین کے حق سے دست برداری مراد ہے۔
جھوٹی شہادت بھی ایک بڑا گنا ہ ہے۔ دنیا میں نظام عدل کا سارا انحصار قرائن وشواہد یا گواہی پر ہے۔ جھوٹی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے کسی کے جان، مال اور آبرو کی حفاظت کا جو بندوبست معاشرے میں موجود ہے، اس کو برباد کر دیا ہے۔ قرآن مجید نے جان، مال اور آبرو کے خلاف تعدی کودنیا میں بھی قابل سزا جرم قرار دیا ہے اور آخرت میں بھی ان کی سزا جہنم بیان کی ہے۔ دنیا میں اشرار سے جان، مال اور آبرو کی حفاظت کا ایک ذریعہ عدل کا نظام ہے جو ہر معاشرہ اپنے حالات کے مطابق تشکیل دیتا ہے۔ سچی شہادت اس نظام کو صحت پر قائم رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ جو آدمی جھوٹی گواہی دیتا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ جھوٹ بولتا ہے، بلکہ جان، مال اور آبرو کے خلاف اس تعدی میں بھی شریک ہو جاتا ہے جو کسی دوسرے نے کی ہے اور یہ جھوٹ بول کر حق دار کا حق اسے ملنے کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔
’سبع موبقات‘ والی روایت میں ’موبقات‘ کے لفظ سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ یہ وہ اعمال ہیں جو نیکیوں کو اکارت کر دیں گے۔ شارحین نے اس لفظ کو بالعموم مہلکات کے لفظ سے کھولا ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ وہ اعمال ہیں جو ہلاکت میں ڈالنے والے ہیں۔ یہ ہلاکت اصلاً اخروی ہے، لیکن ان اعمال کا جائزہ لیں تو ان کے دنیوی نتائج بھی کم مہلک نہیں ہیں۔ شرک کے بارے میں ہم بات کر چکے ہیں۔ شرک کے بعد جادو کا ذکر ہے۔ جادو کا ایک پہلو شیطانی قوتوں کے ساتھ ربط وتعلق ہے۔ ظاہر ہے کہ شیطانی قوتیں کسی شخص کو خدا کی بندگی پر کیسے رہنے دے سکتی ہیں۔ قرآن مجید نے جادو کو کفر کہا ہے۔ مزید یہ کہ اپنے ایک پیغمبر، یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام سے اس کے کسی تعلق کی شدت کے ساتھ نفی کی ہے۔ ان دونوں باتوں کامطلب یہ ہے کہ جادو اصل میں خدا سے دوری پر منتج ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نافرمانی کی زندگی اختیار کیے بغیر اس کو اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے فنون سے اشتغال رکھنے والے بالعموم منفی قسم کی سرگرمیوں ہی میں غلطاں دکھائی دیتے ہیں۔اس کا دوسرا پہلو دنیا کی زندگی کے بارے میں صائب رویے سے ہٹ جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی کو اصل میں محنت اور تدبیر کے اصول پر استوار کیا ہے۔ اس طرح کے فنون سے دل چسپی انسان کو توہم پرست بھی بنا دیتی ہے اور سعی وجہد کے راستے سے ہٹا کر ٹونوں اور ٹوٹکوں کا پجاری بھی بنا دیتی ہے۔ یہ چیز نہ صرف یہ کہ آخرت کے لیے سخت نقصان دہ ہے، بلکہ دنیا کی بربادی کا ذریعہ بھی ہے۔
قتل نفس کی شناعت پر ہم پہلے بات کر چکے ہیں۔ اس کے بعد یتیم کا مال کھانے کی برائی کا ذکر ہے۔ قرآن مجید میں یتیم کے مال کے حوالے سے بڑی تفصیل سے احکام دیے گئے ہیں۔ وراثت کی تقسیم کا موقع ہو یا آپ کسی کے مال کے ذمہ دار ہوں، ہر حال میں لوگوں کے حق کی حفاظت ضروری ہے۔ بطور خاص وہ لوگ جو اپنے حق کی حفاظت کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ یتیم اس کی سب سے نمایاں مثال ہے، یعنی یہ وہ مظلوم ہے جو اپنا حق چھیننے والے کا ہاتھ کسی طور نہیں روک سکتا۔ یہ صرف حق دینے والے ہیں جو اگر انصاف کریں تو اس کا حق محفوظ رہ سکتا ہے۔ کسی یتیم کا حق مارنا صرف مالی بددیانتی ہی نہیں ہے، بلکہ ایک بچے کی زندگی کو عذابوں میں مبتلا کرنا بھی ہے۔ یہی چیز ہے جس کے باعث یہ جرم بہت زیادہ شنیع ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ معاشرے کے بے کس عناصر پر کی گئی تعدی بھی اسی قبیل کا جرم ہے اور اس طرح کے لوگ آخرت میں کبیرہ گناہ کے مرتکب ہی قرار دیے جائیں گے۔
سود خوری کو قرآن مجید میں بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی اصل میں اکل اموال بالباطل کی قبیل کی چیز ہے، لیکن اس کی شناعت اس لیے زیادہ ہے کہ بحیثیت مجموعی معاشرے میں معاشی انصاف کے روبہ عمل ہونے کے قدرتی عوامل کی راہ کو مسدود کردیتا ہے، یعنی سود خوری صرف ایک فرد کے مال پر دست درازی نہیں ہے، بلکہ معاشرے کے خلاف جرم ہے۔
مقابلے کے وقت پیٹھ دکھانا، اس جملے کا تعلق اسلامی جہاد سے ہے۔ جہاد بھی وہ جسے خدا کے پیغمبر نے اسلامی جہاد قرار دیا ہے اور جس کے بارے میں بغیر کسی اشتباہ کے یہ یقین ہے کہ وہ صرف اور صرف اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے ہے اور اس میں کوئی اور محرک موجود نہیں ہے۔ پھر اس جہاد کو کرنے کے لیے کوئی فضا پیدا نہیں کی گئی، دین کے دشمنوں نے پر امن دعوتی جدوجہد کو قتال کے راستے پر ڈالا ہے اور دشمن خود دین کو ختم کرنے کے لیے مسلح ہو کر آیا ہے۔ اس موقع پر مڈبھیڑ سے گریز درحقیقت دین کے دشمنوں کا ساتھ دینا ہے۔ یہی چیز ہے جسے واضح کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موبقات میں سے قرار دیا ہے۔
اس روایت کی آخری چیز کسی پاک دامن بھولی بھالی عورت پر تہمت لگانا ہے۔ عورت کی جو صفات یہاں بیان ہوئی ہیں، وہ جرم کی شناعت کو واضح کرنے کے لیے ہیں۔اصل یہ ہے کہ کسی عورت پر الزام لگانے کے لیے اسلام نے چار گواہوں کی شرط عائد کی ہے۔ یہ شرط لگانے سے مقصود یہ ہے کہ شریف زادیوں کی عصمت کی حفاظت ہو اور انھیں خواہ مخواہ بدنام کرنے کا موقع کسی کو حاصل نہ ہو۔ اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے کسی شریف زادی پر تہمت لگاتا ہے تو اس نے حقیقت میں ایک عورت کی زندگی اجیرن کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی چیز ہے جو اس جرم کو زیادہ شنیع بناتی ہے۔
اس سلسلے کی آخری روایت وہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو گالی دینے کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ والدین کے حوالے سے اصل تقاضا کیا ہے؟ اسے ہم نے اوپر تفصیل سے بیان کیا ہے۔ قرآن مجید نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دینے میں بعض نازک پہلوؤں کو بھی بیان کیا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ والدین کے ساتھ بد تمیزی نہیں ہو نی چاہیے، یہاں تک کہ ناگواری کا اظہار بھی نہیں ہونا چاہیے۔ جب قرآن مجید میں والدین کا احترام اس درجے میں مطلوب ہے تو گالی دینا واضح طور پر ایک بڑا جرم قرار پاتا ہے۔ یہاں روایت میں ایک اور پہلو بھی بیان ہوا ہے۔ ایسے کم بخت بہت کم ہوتے ہیں جو اپنے والدین کو گالی دیں۔ چنانچہ سننے والے کو یقین نہیں آیا کہ کوئی شخص اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے۔ حضور نے اس امکان کو بیان کرنے کے بجاے کہ ایسے بد بخت بھی ہو سکتے ہیں، گالی دینے کی ایک دوسری صورت کو بیان کر دیا۔ یہ وہ صورت ہے جو عام طور پر معاشرے میں معمول بہ نظر آتی ہے۔ حضور نے واضح کیا کہ دوسرے کو گالی دینا بھی حقیقت میں اپنے والدین کو گالی دینا ہے، اس لیے کہ جب کسی دوسرے کو گالی دی جائے گی تو جواب میں دی گئی گالی اسی شخص کی طرف لوٹ رہی ہے ۔ اگرچہ اس نے خود تو اپنے والدین کو گالی نہیں دی، مگر دوسرے کو گالی دے کر اپنے والدین کو گالی دینے کا بندوبست کر دیا ہے۔ والدین کو گالی دینا ایک جرم ہے۔ یہ جرم کم نہیں ہوتا، اگرچہ انسان دوسرے کے والدین کو گالی دے رہا ہو۔

متون

زیر نظر مضمون پانچ روایتوں کی شرح پر مشتمل ہے۔ ان روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کبائر کا بیان نقل ہوا ہے۔ اگرچہ محل اور اجزاے بیان میں فرق ہے، لیکن بات چونکہ ایک ہی نوعیت کی ہے، اس لیے ہم نے ان روایات کو ایک ہی مضمون کا حصہ بنا دیا ہے۔
جس روایت میں والدین کو گالی دینے کی بات بیان ہوئی ہے، اس روایت کے زیادہ متون کتب حدیث میں موجود نہیں ہیں۔ چنانچہ اس میں میرے سامنے جو متون موجود ہیں، ان میں کوئی اختلاف مذکورنہیں ہے۔ اسی طرح ’سبع موبقات‘ والی روایت میں بھی کم وبیش ایک ہی متن تمام کتب میں منقول ہے، صرف ایک جگہ پر ایک اختلاف منقول ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں ’سحر‘ کی جگہ ’الشح‘ کا لفظ آیا ہے، لیکن یہ اختلاف محل نظر ہے۔ سحر کا کبیرہ گناہ ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ’الشح‘ کا کبیرہ گناہ ہونا کافی مشکل نظر آتا ہے۔
وہ روایت جس کا آغاز ’ألا أنبئکم بأکبر الکبائر؟‘ کے الفاظ سے ہوا ہے، اس میں بھی زیادہ تر اختلافات لفظی ہی ہیں۔ البتہ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا:

عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: أرأیتم الزانی والسارق و شارب الخمر؟ ماترون فیہم؟ فقالوا: أللّٰہ ورسولہ أعلم، قال ہن فواحش وفیہن عقوبۃ. ثم قال: ألا أنبئکم بأکبر الکبائر؟...(مسند اسحاق بن راہویہ، رقم ۴۴۴)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم زانی، چور اور شراب پینے والے کو دیکھتے ہو؟ تمھاری ان کے بارے میں کیا راے ہے؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: یہ فواحش ہیں اور ان پر سزا بھی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں کبیرہ گناہوں سے بھی بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟...‘‘

وہ روایت جس میں کبائر کے متعلق حضور سے سوال سے بات شروع ہوئی ہے، وہ کئی کتابوں میں آئی ہے۔ چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر جملہ تمام ممکن اسالیب میں بیان ہو گیا ہے۔ نمایاں اختلاف ترتیب کے فرق اور سوال کے حضرت عبد اللہ سے نسبت اور عدم نسبت کا ہے۔

کتابیات

مسلم، رقم۸۶۔ ۹۰؛ بخاری، رقم۲۵۱۰، ۲۵۱۱، ۲۶۱۵، ۴۲۰۷، ۴۴۸۳، ۵۶۳۱، ۵۶۳۲، ۵۶۵۵، ۵۹۱۸، ۶۲۹۸، ۶۴۲۶، ۶۴۶۵، ۶۴۶۸، ۶۴۷۶، ۶۴۷۷، ۶۵۲۱، ۷۰۸۲، ۷۰۹۴؛ ابوداؤد، رقم ۲۳۱۰، ۲۸۷۴، ۲۸۷۵؛ ترمذی، رقم ۱۲۰۷، ۱۹۰۱، ۲۳۰۱، ۳۰۱۸۔ ۳۰۲۱، ۳۱۸۲،۳۱۸۳؛ نسائی، رقم۳۶۷۱، ۴۰۱۰، ۴۰۱۱، ۴۰۱۳۔ ۴۰۱۵، ۴۸۶۷، ۴۸۶۸؛ مسند طیالسی، رقم۲۶۴؛ مصنف عبد الرزاق، رقم۱۹۷۰۴، ۱۹۷۰۵، ۱۹۷۰۷،۱۹۷۱۹؛ مسند حمیدی، رقم ۱۰۳۔ مسند ابن الجعد، رقم۳۳۰۳؛ مسند اسحاق بن راہویہ، رقم۴۴۴؛ احمد، رقم ۳۶۱۲، ۳۸۱۱، ۴۱۰۲، ۴۱۳۱، ۴۱۳۲، ۴۱۳۴، ۴۴۱۱، ۴۴۲۳، ۱۲۳۵۸، ۲۰۴۰۱، ۲۰۴۱۰؛ الادب المفرد، رقم۸، ۳۰؛ خلق افعال العباد، رقم۳۴۶، ۳۴۸؛ مسند حارث، رقم۲۹؛ السنن الکبریٰ، رقم۳۴۷۳، ۳۴۷۶۔ ۳۴۷۸، ۶۰۲۲، ۶۴۹۸، ۷۱۲۴، ۷۱۲۵، ۱۰۹۸۷، ۱۱۰۹۹، ۱۱۱۰۱، ۱۱۳۶۱، ۱۱۶۳۸، ۱۱۳۶۹؛ مسند ابو یعلیٰ، رقم۵۰۹۸، ۵۱۳۰، ۵۱۶۷؛ ابن حبان، رقم ۴۴۱۴۔ ۴۴۱۶، ۵۵۶۱، ۵۵۶۳؛ مسند شامیین، رقم۲۳۷۵، ۲۶۳۵؛ المعجم الکبیر، رقم۱۰۲، ۱۶۵، ۵۶۳۶، ۹۸۱۹، ۹۸۲۰، ۱۳۰۲۳؛ مستدرک، رقم۱۹۷، ۷۶۶۶، ۷۸۰۸؛ بیہقی، رقم۶۵۱۴، ۶۵۱۵، ۱۲۴۴۷، ۱۵۶۰۰، ۱۵۶۰۱، ۱۵۶۱۷۔ ۱۵۶۱۹، ۱۵۶۲۹، ۱۶۹۰۵، ۱۷۸۵۶، ۲۰۱۶۷، ۲۰۳۶۵۔

____________

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت جولائی 2010ء
مصنف : طالب محسن
Uploaded on : Mar 25, 2016
1369 View