سانحۂ نیویارک - سید منظور الحسن

سانحۂ نیویارک

 

۱۱ ستمبر کو امریکا کے شہر نیویارک میں ہزاروں انسانوں کو اجتماعی طور پر قتل کر دیا گیا۔چشمِ فلک نے ایسے منظر پہلے بھی بارہا دیکھے ہیں، مگر یہ حادثہ شایداس لیے منفرد ہے کہ یہ عین اس زمانے میں رو نما ہوا ہے جب تہذیبِ انسانی اپنی ترقی کی آخری منزلوں کو چھو رہی ہے،جب ملکوں کی حدیں معدوم ہو رہی ہیں اور فرزندان آدم مل کر ایک عالمی برادری تشکیل دے رہے ہیں اور جب پروردگارِ عالم کا یہ فرمان کہ : جس نے کسی انسان کو قتل کیا، اس نے گویاسب انسانوں کو قتل کیا،دنیا کے علم و فکر،فلسفہ و حکمت اور قانون و اخلاق میں اساسی اصول کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا وجودِ اجتماعی یہ ماننے ہی کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس قتل کے خون آشام مجرم اسی نوع سے تعلق رکھتے ہیں جسے خالقِ حقیقی نے انسان کے نام سے موسوم کیا ہے۔اس کی چشمِ حیراں مجسم سوال ہے کہ یہ قاتل:

 

انساں ہیں کہ صحرا میں شبِ تار کی وحشت
آدم  ہیں  کہ  ابلیس  کے  چہرے کی سیاہی

الہامی قانون میں ایسی دہشت وبربریت عالم کے پروردگار اور اس کے فرستادوں کے خلاف اعلانِ جنگ اور اقلیمِ خداوندی میں فتنہ و فسادکے مترادف ہے ۔ اس کی رو سے ’’محاربہ‘‘ اور ’’فساد فی الارض‘‘ کے ان مجرموں کے لیے دنیوی سزا عبرت ناک طریقے سے قتل اوراخروی انجام جہنم کا عذابِ عظیم ہے:

’’وہ لوگ جو اللہ اور رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد برپا کرنے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں ، اُن کی سزا بس یہ ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا سولی چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا وہ جلاوطن کر دیے جائیں ۔یہ اُن کے لیے اس دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑی سزا ہے ۔‘‘ ( المائدہ۵: ۳۳۔ ۳۴)

۱۱ ستمبر کا سانحہ بہت بڑا ہے،مگر اس کے بعد اس سے بھی بڑا سانحہ یہ رونما ہوا ہے کہ اس قتل وغارت کے ملزم وہ لوگ قرار پائے ہیں جو تاریخ انسانی میں امن و سلامتی کے سب سے بڑے علم بردارکے پیرو ہیں۔جس کایہ اعلان آج بھی میدان عرفات میں گونج رہا ہے کہ :

’’لوگو، تمھارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک ہے ۔ اور تمھارا خون اور تمھارا مال قیامت تک اسی طرح حرام ہے ، جس طرح حج کا یہ دن، ذوالحج کا یہ مہینا اور ام القریٰ کا یہ شہر حرام ہے۔‘‘

محمدِ عربی کے پیرووں سے اس ظلم کا تصور بھی محال ہے ، لیکن اگر یہ الزام عدل کے ایوانوں میں ثابت ہو جاتا ہے تو پھر اسلام اور اہلِ اسلام ان کی ذات، ان کے نظریات اور ان کے اقدامات سے برأت کا اعلان کرتے ہیں۔

_____

امریکا نے اس دہشت گردی کو اپنی قوم اور پوری انسانیت کے خلاف اقدامِ جنگ سے تعبیر کیا ہے اور اس کے ذمہ داروں اور ان کے معاونین کے خلاف جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے ۔اس کارروائی سے پہلے اس نے افغانستان میں موجود عرب مسلمان اسامہ بن لادن پردہشت گردی کا الزام عائد کیا اور طالبان سے یہ مطالبہ کیاکہ اسے بلاتاخیر امریکا کے حوالے کیا جائے۔ طالبان حکومت نے اس الزام کا انکار کرتے ہوئے شواہد پیش کرنے پر اصرار کیا۔ امریکا نے اپنی تحقیقات طالبان کے سامنے تو پیش نہیں کیں، البتہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور طالبان کی معتمد اور حلیف ریاست پاکستان کو ان سے آگاہ کیا اور بڑی حد تک ان کا اطمینان اور اعتماد حاصل ہو جانے کے بعد ہی افغانستان پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس دوران میں امریکی حکومت نے پاکستان سے تعاون کا بھی مطالبہ کیا ۔اس کے جواب میں ہماری حکومت نے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔
جنگی کارروائی شروع ہو جانے کے بعد اس کے اثرات اگرچہ عالم گیر ہیں ، مگر عملی تناظر میں تین اقوام اس صورتِ حال میں براہِ راست شریک ہیں :
۱۔ امریکا
۲۔ افغانستان
۳۔ پاکستان
ہم یہاں ان تینوں قوموں کے طرزِعمل کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر پیش کریں گے۔

امریکا

امریکانے دہشت گردی کا شکار ہونے کے بعد یہ موقف اختیار کیا تھا کہ:
O امریکا کی جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے اور دنیا سے دہشت گرد گروہوں کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
O اس مقصد کے حصول کے لیے ہر راستہ اختیار کیا جائے گا۔
O یہ کوئی مذہبی جنگ نہیں ہے۔
O اس ضمن میں امریکا کی اولین ترجیح حالیہ دہشت گردی کے مجرم اسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم ’’القاعدہ‘‘ پر قابو پانا ہے۔
O اسامہ کو طالبان حکومت نے پناہ دے رکھی ہے۔ طالبان کی حکومت نہ صرف افغان عوام پر ظلم ڈھا رہی ہے، بلکہ دہشت گردوں کو پناہ دے کر اوران کی کارروائیوں کی حمایت کر کے ہر جگہ لوگوں کے لیے خطرات کا سامان پیدا کر رہی ہے ۔
O طالبان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ:
۱۔ افغانستان میں موجود ا سامہ بن لادن اور اس کی تنظیم کے تمام رہنماؤں کو امریکا کے حوالے کر دیں ۔
۲۔ کابل میں عیسائیت کی تبلیغ اور دوسرے جرائم میں گرفتار غیر ملکیوں کو باعزت رہا کر دیں۔
۳۔ افغانستان میں دہشت گردی کے تمام تربیتی مراکز بند کر دیں اور دہشت گردوں اور ان کے معاونین کو امریکا کے سپرد کر دیں۔
۴۔امریکا کو افغانستان کے اندر مکمل رسائی کی سہولت فراہم کریں تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ دہشت گردی کے مراکز فی الواقع ختم ہو گئے ہیں۔
ان مطالبات کو سامنے لانے کے بعد امریکا نے افغانستان کو یہ دھمکی دی کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو افغانستان پر فوج کشی کر دی جائے گی ۔ مطالبات پورے نہ ہوئے اور بالآخر ۷ اکتوبر کو فوجی کارروائی شروع ہو گئی۔
ہمارے نزدیک جہاں تک امریکا کے اس اصولی موقف کا تعلق ہے کہ دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہونا چاہیے تو یہ بالکل درست ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی لہر پوری دنیا میں جس تیزی سے پھیل رہی ہے ، اس کی بیخ کنی ضروری ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جو دہشت گردوں کی کارروائیوں سے محفوظ ہو۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہر شخص خوف کا شکار ہے۔ گلیوں بازاروں میں اندھی گولیوں کا خوف ہے، ویرانوں میں لوٹ کھسوٹ اور اغوا کا خوف ہے، آبادیوں، اجتماع گاہوں اور ذرائع رسل و رسائل میں بم دھماکوں کا خوف ہے۔ اس خوف و دہشت کو پیدا کرنے والے کسی مذہب، کسی قوم یا کسی ملک کے دشمن نہیں ہیں ، بلکہ پوری انسانیت کے دشمن ہیں ۔ ان کے خلاف جنگ انسانیت کی بقاکی جنگ ہے ۔ انسانیت کا کوئی وفادار اس جنگ میں تعاون سے گریز نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ہرفرد اور ہر قوم کو اس جنگ میں حصہ لینا چاہیے اور دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے ماضی کی تلخیاں، حال کے اختلاف اور مستقبل کے اندیشے نظر انداز کر کے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے ۔
امریکی موقف کی اصولی صحت کے باوجود یہ سوال ابھی تک حل طلب ہیں کہ کیا یہ لازم ہو گیا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میدانِ جنگ ہی میں لڑی جائے ؟ کیا ۲۵ دن اتنا وقت ہے کہ قوموں کے مابین معاملات کو اس کے دوران میں طے کیا جا سکے ؟ کیا افغان حکومت نے مذاکرات کے دروازے ہر لحاظ سے بند کر دیے تھے ؟ اور کیا مقررہ تاریخ کا کوئی الٹی میٹم دے کر کارروائی کی گئی ؟ یہ اور اس طرح کے بعض دوسرے سوال ہر شخص کے ذہن میں موجود ہیں اور یہ شبہ پیدا کر رہے ہیں کہ کہیں اس کارروائی کے پیچھے انتقامی جذبہ تو کارفرما نہیں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جنگ ہر حال میں ضرر رساں ہوتی ہے ۔ اس کی نوبت اسی صورت میں آنی چاہیے جب بات چیت کا ہر دروازہ بند ہو جائے ۔ چنانچہ ہمارے نزدیک جس طرح نیو یارک میں ہونے والی دہشت گردی قابل مذمت ہے ،اسی طرح امریکا کا افغانستان پر حملہ بھی قابل مذمت ہے ،یہاں تک کہ امریکا کی جانب سے اس کا کوئی معقول عذر سامنے آ جائے ۔
بہرحال واقعہ یہ ہے کہ امریکا نے جنگی کارروائی شروع کر دی ہے ، اس کے اخلاقی جواز پر تو بحث ہوتی رہے گی ، مگر اس وقت سب سے بڑھ کر ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا کو اس بات پر آمادہ رکھا جائے کہ وہ فوجی کارروائی کو محدود تر رکھے اور اسے مکمل کر لینے کے بعد افغانستان میں امن و امان بحال کر کے رخصت ہو ۔ اس ضمن میں جنرل پرویز مشرف صاحب کی طرف سے بیان کی گئی یہ اساسات نہایت صائب ہیں ، اقوام عالم کو انھی پر اصرار کرنا چاہیے :
۱۔ فوجی اقدام افغانستان کے عوام کے خلاف نہ ہو اور یہ بہت مختصر وقت کے لیے ہو ۔
۲۔ فوجی اقدام کے بعد افغانستان میں ایسی وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے جس میں مختلف طبقات کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے ہو۔
۳۔ افغانستان کی نئی حکومت کا رویہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ ہو ۔
۴۔ فوجی اقدام کے بعد افغانستان کی آباد کاری تیزی سے مکمل کی جائے ۔
اس تناظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا کوہر قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے اور ان امور کو ہر گز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے:
۱۔امریکا پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ تقویمِ خداوندی میں قوموں کے استمرارِ اقتدار کا انحصار مادی وسائل سے زیادہ اخلاقی اقدار پر ہوتا ہے اورانسان کے اجتماعی وجود کے لیے سب سے بڑی اخلاقی قدر عدل و قسط ہے۔ امریکا اگردنیا پر اپنے اقتدار کا دوام چاہتا ہے تو اسے اپنے ہر عمل اور ردِ عمل کی اساس پروردگارِ عالم کے ان فرامین کو بنانا ہو گا:

’’اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمھیں اللہ کی راہ سے ہٹا دے۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ، ان کے لیے سخت عذاب ہے ، بوجہ اس کے کہ انھوں نے روزِ حساب کو بھلائے رکھا۔ ‘‘ (ص ۳۸ :۲۶)

’’ایمان والو، عدل پر قائم رہنے والے بنو۔ اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس طرح نہ ابھارے کہ تم عدل سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے ۔‘‘(المائدہ ۵: ۸)

’’تم اپنے بھائیوں کے مقدموں کو سننا، پر خواہ بھائی بھائی کا معاملہ ہو یا پردیسی کا، تم ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کرنا۔ تمھارے فیصلے میں کسی کی رو رعایت نہ ہو ۔ جیسے بڑے آدمی کی بات سنو گے ، ویسے ہی چھوٹے کی سننا۔‘‘ (استثنا ۱۶۔۱۷)

عدل کا ایک پہلو ظلم و بے انصافی کا خاتمہ اوردوسرا پہلوحق وانصاف کا احیا ہے۔ امریکا کو اپنی کارروائی کرتے ہوئے عدل کے ان دونوں پہلووں کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ چنانچہ جہاں اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسانیت کے ان مجرموں پر قابو پانے کے لیے مذاکرات سے لے کر جنگی کارروائی تک ہر طریقہ اختیار کیا جائے، مجرموں کی پشت پناہی اور سرپرستی کرنے والوں کوبھی مجرم تصور کرتے ہوئے ان پر بھی گرفت کی جائے اور انھیں عبرت ناک سزائیں دی جائیں، وہاں اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ فردقرار دادِ جرم حقیقی ہو اور اضافی الزامات سے پاک ہو، تحقیقی عمل اس قدر شفاف ہو کہ اس پر بڑے سے بڑا ناقد بھی انگلی نہ اٹھا سکے اورکارروائی کا دائرہ ہر حال میں مجرموں تک محدود رکھا جائے۔
۲۔ امریکا کو مغرب اور غیرِ مغرب میں موجودان عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جودہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو اسلام اور مغرب کی جنگ کے طور پر پیش کر رہے ہیں ۔ اس کے اربابِ حل و عقد کو اس موقع پر نہایت حکمت و دانش کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں اسے دو پہلووں سے اپنے طرزِ عمل اور اقدامات کو مزید موثر کرنا ہو گا:
ایک یہ کہ وہ اپنے بیانات اور اپنی فہرستِ اہداف میں ان غیر مسلم تنظیموں کو بھی نمایاں کرے جودہشت گردی کے حوالے سے مسلمہ طور پر معروف ہیں۔
دوسرے یہ کہ وہ اس معاملے کوسیاسی رنگ آمیزی سے پاک رکھے اور امریکا سے اختلاف رکھنے والے عراق، ایران اور لیبیا جیسے مسلمان ملکوں پر تاخت کرنے سے گریز کرے تاکہ یہ صورت حال مسلمانوں اور مغرب کی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔اس موقع پر وہ محض اس اطمینان کو کافی نہ سمجھے کہ مسلمان ریاستوں کے سربراہوں کی اکثریت ان کی حلیف ہے، اسے اس امرِ واقعی کو بھی اہمیت دینی چاہیے کہ دنیا بھر کے مسلمان عوام کی اکثریت اس کی پالیسیوں کومفاد پرستی اور بے انصافی پر مبنی سمجھتی ہے۔
۳۔ا س موقعے پر امریکا کوتما م جذبات اورتعصبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس پر غور کرنا چاہیے کہ کہیں یہ حادثہ اس کے اپنے اقدامات اور پالیسیوں کا ردِ عمل تو نہیں ہے۔ ہیرو شیما، ناگا ساکی اور ویت نام میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون اس کی گردن پر تصور کیا جاتا ہے ، فلسطین اور کشمیر میں جبرِ مسلسل کو اس کی پالیسیوں سے منسوب کیا جاتا ہے ، ترقی پزیر ممالک میں حکومتوں کے عدمِ استحکام کو اسی سے وابستہ قرار دیا جاتا ہے ،اقوام کی باہمی آویزش کو اسی کے اقدامات کا نتیجہ کہا جاتا ہے اور دنیا میں پائی جانے والی غربت و افلاس کو اسی کے نظامِ سرمایہ داری کی دین سمجھا جاتا ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پوری دنیا کے عوام کی اکثریت میں اس کا تعارف ایک ظالم حکمران، ایک غیر عادل قاضی، ایک غاصب سرپرست اور ایک مفاد پرست دوست کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ امریکا اگر دنیا میں فی الواقع کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اس تعارف کو تبدیل کرنا ہو گا اور ان آوازوں کی طرف متوجہ ہونا ہو گا جو اب اس کے اپنے وجود سے بھی اٹھنے لگی ہیں۔ مثال کے طور پرامریکی جریدے ’’زیڈ‘‘ کے مدیر مائیکل البرٹ لکھتے ہیں:

’’تیسری دنیا کے عوام کی تقدیر اور ان کا مستقبل غیر ملکی حکمرانوں کے پاس ہمیشہ سے یرغمال چلا آرہا ہے۔ لہٰذا ہم جو خود کو انتہائی ترقی یافتہ قوم تصور کرتے ہیں،اس حقیقت کو محسوس نہیں کر سکتے کہ لاکھوں افراد محض اس لیے فاقہ کشی پر مجبور ہیں کہ ان کے غریب ملک کی تمام تر توانائیاں ملٹی نیشنل سرمایہ کو منافع فراہم کرنے کی غرض سے صرف کی جا رہی ہیں۔یہ بھی تو قتلِ عام ہی کی ایک صورت ہے ۔ ہاں یہ بھی قتل ہے جس کے نتیجے میں تیسری دنیا کے ممالک مکمل طور پر اپنے غیر ملکی آقاؤں کے رحم و کرم پر زندہ ہیں۔ چنانچہ یہ اشد ضروری ہے کہ دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ دارانہ تجارت کی بھی اسی شدت کے ساتھ مذمت کی جائے ۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ جنگ ، ۲۰ ستمبر ۲۰۰۱)

امریکی دانش ورنوم چومسکی کا کہنا ہے:

’’اس نوعیت کے جرائم ان لوگوں کے لیے سوچنے اور غور وفکر کرنے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتے ہیں جن کا خیال ہے کہ طاقت اور قوت کے استعمال سے ہر چیز ممکن ہو سکتی ہے۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ جنگ ، ۲۰ ستمبر ۲۰۰۱)

رابرٹ فسک نے بیان کیا ہے:

’’ اگر کسی عرب سے (۱۱ ستمبر کو ہونے والی ) ان بیس یا تیس ہزار ہلاکتوں کے بارے میں دریافت کریں تو چاہے وہ مرد ہو یا خاتون ،اسے ایک شدید جرم قرار دے گا۔لیکن ساتھ ہی وہ یہ ضرور پوچھے گا کہ ہم سے ان پابندیوں کے بارے میں کیوں نہیں پوچھا جا رہا جن کے نتیجے میں تقریباً پانچ لاکھ عراقی بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ؟ ہم اس بات پر اپنی شدید خفگی کا اظہار کیوں نہ کریں کہ ۱۹۸۲ میں لبنان پر اسرائیلی حملے میں ۱۷۵۰۰ شہری ہلاک ہو گئے ؟ مشرقِ وسطیٰ میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کو نظر انداز کرنے پر ایک قوم کے خلاف تو کچھ نہیں کہا گیا ، مگر دوسروں کے ایسا کرنے پر فوراً پابندیاں عائد کردی گئیں۔ ان بنیادی وجوہات ہی کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ ستمبر میں آگ بھڑکتی رہی ۔ عربوں کی زمین پر اسرائیلیوں کا قبضہ ، فلسطینیوں کی بے دخلی ، بم باری، ہلاکتیں، تشدد ، ان تمام عوامل کو گزشتہ روز کی وحشیانہ کارروائی کا ایک ہلکے سے ہلکا سبب سمجھا جا سکتا ہے۔ چلیے ہم اسرائیل کو دوش نہیں دیتے ۔ ہم اس بات کا بھی یقین کر لیتے ہیں کہ صدام حسین اور اسی قماش کے چند دیگر لوگ اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، مگر اس معاملے میں تاریخ ہم پر بھی ذمہ داری عائد کرتی ہے اور ہمار ا تاریک رخ بھی اس کا یقینی طور پر ایک کردار ہے۔ ہمارے جھوٹے وعدوں اور شاید سلطنتِ عثمانیہ کی تباہی نے بھی اس المیے کی راہ ہموار کی۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ جنگ ، ۲۰ ستمبر ۲۰۰۱)

افغانستان

امریکا کے مطالبات کے جواب میں افغانستان کی طالبان حکومت نے جو موقف اختیار کیا ہے،اس کے بنیادی نکات یہ ہیں:
O ہم امریکا میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔
O اسامہ بن لادن ہمارے مہمان ہیں، انھیں ہم امریکا کے حوالے نہیں کر سکتے۔
O امریکا نے اگر ہم پر جنگ مسلط کی تو ہم اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
افغانستان کے اس موقف کو ممکن ہے کہ بعض لوگ حریت و خوداری سے تعبیر کریں، مگر ہم سمجھتے ہیں کہ بعض آدرش ان سے بھی مقدم ہیں اورجن کی تقدیم پر اسلام اور انسانیت کے ضمیرِ اجتماعی کو اصرار ہے۔افغانستان کے لیے موجودہ تناظر میں حسب ذیل معیارات کی اہمیت بہت بنیادی ہے:
۱۔ افغانیوں کی مخصوص تہذیبی روایات کے پس منظر اور بیرونی تاخت اور اندرونی خلفشار کی وجہ سے اس خطۂ ارض میں اگرچہ انسانی جان بہت ارزاں ہو گئی ہے ، مگرنوشتۂ خداوندی میں ایک انسانی جان کی قیمت پوری نوعِ انسانی کی قیمت کے برابرہے۔چنانچہ اس امر کی ناگزیر ضرورت ہے کہ افغان قوم اس معاشرے کی تشکیل میں سرگرمِ عمل ہو جائے جس میں جنگ وجدال کے بجائے امن و سلامتی کی دعوت ہو، جہاں اقتدار کے بجائے انسانی خون قیمتی ہو اورجہاں اجتماعی فیصلے گولابارود کے بجائے رائے عامہ کی بنیاد پرہوں۔ ایسے ہی معاشرے کو حقیقی معنوں میں اسلامی قرار دیا جا سکتا اور ایسا ہی معاشرہ دنیا کی اخلاقی ترقی میں کوئی مثبت کردار ادا کر سکتاہے۔
۲۔ فرد ہو یا قوم، دنیا میں اس کے شرف و وقار کا معیار علوِ انانیت نہیں ، بلکہ بلندیِ کردار ہوتاہے۔ کسی صاحبِ عزت پر اگر کوئی الزام لگ جائے اور وہ اسے ہر لحاظ سے غلط سمجھتا ہو تو اس کے شایانِ شان یہی ہے کہ وہ اس کے ثبوت طلب کرنے کے بجائے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کر دے اوراپنے رب سے یہ توقع رکھے کہ وہ اسے کبھی رسوا نہیں کرے گا ۔ سانحۂ نیویارک کے بعد افغانستان پر یہ الزام لگ گیا تھا کہ اس کی سرزمین کو دہشت گردوں نے اپنا مستقر بنا رکھا ہے اور وہ وہاں سے تربیت پا کر دنیا میں فساد اور تباہی برپا کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔اس شک میں اس کے دشمن ہی نہیں، بلکہ دوست بھی مبتلا ہو گئے تھے۔ اس کے بعد اس کے وقار کا تقاضا یہی تھا کہ وہ تحقیق و تفتیش کے لیے اپنے دروازے پوری طرح کھول دے ۔ اس کا دامن اگر بے داغ ہے تو ساری دنیا کی اخلاقی قوت اس کے ساتھ آ جائے گی۔یہی رویہ اسامہ بن لادن کو اختیار کرنا چاہیے تھا۔ اس اقدام کی اس لیے بھی ضرورت تھی کہ دنیا میں یہ پراپیگنڈا باقی نہ رہے کہ اسلام اور دہشت گردی لازم و ملزوم ہیں۔
۳۔حکمت و دانش اور سیاسی مصالح کے پہلو سے طالبان کا مطالبات ماننے سے انکارکرنا اور اس کے نتیجے میں اپنی قوم کو جنگ کے لیے پیش کر دینا ناقابلِ فہم ہے۔اس وقت اس کی اندرونی صورتِ حال یہ ہے کہ اس کا اقتدار پورے ملک پرقائم ہی نہیں ہے،کئی علاقے دوسری تنظیموں کی قبضے میں ہیں اور وہ اس کے خلاف مسلسل سرگرمِ جنگ ہیں۔ملک میں کوئی مستحکم نظام کارفرما نہیں ۔ بیرونی لحاظ سے دیکھا جائے توطا لبان حکومت کود نیا کے صرف تین ممالک پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے تسلیم کیا تھا اور اب وہ بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ اس اندرونی خلفشار اور خارجی تنہائی کے بعد عقل مندی کا کم سے کم تقاضا یہ تھا کہ امریکا جیسی عالمی طاقت کے ساتھ تصادم سے ہر حال میں بچا جاتا اور کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جاتاجو اقوامِ عالم کے عمومی منشا کے خلاف ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر طالبان قیادت نے اپنے موقف میں اتنی لچک بھی پیدا نہیں کی کہ وہ دنیا کی محض ہمدردی حاصل کر نے میں کامیاب ہو جاتی۔
قومی مفادکے لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو طالبان حکومت نے سمجھ داری کا ثبوت نہیں دیا۔ اسے اس بات کو باور کرنا چاہیے تھا کہ اس وقت اس کا سب سے بڑا مسئلہ قومی تعمیر ہے۔ اس کے عوام اس وقت اپنی تاریخ کی بدترین غربت سے دوچار ہیں۔ مسلسل جنگوں نے خوددار افغانوں کے ہاتھوں میں کاسۂ گدائی تھما دیا ہے ۔ لاکھوں افغان اپنے ہمسایہ ملکوں کی سرحدوں پر بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ امریکی مطالبات کو ماننے سے انکار کر کے افغانیوں نے اپنی عزت و ناموس اور خودداری کا بھر پور اظہار کیا ہے ، مگر معلوم نہیں کہ یہ خودداری اس وقت کہاں چلی جاتی ہے جب ان کے خوب رو بچے ، پردہ دار عورتیں اور ضعیف بزرگ چند نوالوں کے لیے غیر ملکیوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہوتے ہیں؟ جنگوں کا یہ تسلسل اگر اسی طرح قائم رہا توخدانخواستہ ان کی عظیم خودداری ان کے وجود ہی سے محو ہو سکتی ہے۔

پاکستان

حادثے کے فوراً بعد امریکا نے افغانستان کو اپنی تاخت کا اولین ہدف قرار دے کر حکومتِ پاکستان سے فوجی کارروائی میں عملی تعاون کا مطالبہ کیاتھا۔ اس ضمن میں اس نے یہ تقاضا کیاتھا کہ پاکستانی حکومت اسے:
۱۔دہشت گردوں کے بارے میں انٹیلی جنس سے متعلق معلومات فراہم کرے۔
۲۔جنگی کارروائی کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دے۔
۳۔اپنی سرزمین پر فوجی اڈے فراہم کرے۔
پاکستان نے امریکا کے ان مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ جنرل پرویز مشرف صاحب نے اس موقع پر قوم کو اعتماد میں لینے کے لیے حسبِ ذیل چار قومی ترجیحات کا تعین کیا اور امریکا سے تعاون نہ کرنے کی صورت میں ان کے مجروح ہونے کا تاثر دیا:
۱۔غیر ملکی خطرے سے ملک کی حفاظت ۔
۲۔معیشت کی بحالی۔
۳۔سٹریٹجک اثاثوں کی حفاظت۔
۴۔مسئلۂ کشمیر کا حل۔
۷ ۱کتوبر کو افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان نے حسبِ وعدہ اپنا اخلاقی اور عملی تعاون جاری رکھا ہے۔پاکستانی عوام کی اکثریت نے اسے مجبوری قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی تائید کی ہے ، جبکہ مذہبی جماعتوں کی اکثریت نے اسے بزدلی قرار دیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے امریکا کی حمایت کا اعلان دانش مندی پر مبنی ہے۔پاکستان اس وقت اپنی بدحال معیشت اور بھارت کے ساتھ تنازعات کی وجہ سے اگرچہ اس پوزیشن ہی میں نہیں ہے کہ امریکا جیسی قوت کی ناراضی کا خطرہ مول لے سکے،لیکن اگر وہ اس صورتِ حال میں نہ بھی ہوتا ، تب بھی اسے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھر پور تعاون کرنا چاہیے تھا۔چنانچہ ملکی سا لمیت کے پہلو سے بھی اور انسانیت کے تحفظ کے حوالے سے بھی حکومتِ پاکستان کا اقدام درست ہے۔
اس صورتِ حال میں حکومتِ پاکستان کوجو امور ملحوظ رکھنے چاہییں ، وہ ہمارے نزدیک یہ ہیں:
۱۔اپنے ہر فیصلے کی اساس عدل و انصاف کے مسلمات پر قائم کی جائے اور پروردگارِ عالم کی اس ہدایت کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ:

’’ایمان والو ،انصاف پر قائم رہنے والے بنو ، اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اگرچہ اس کی زد خود تمھاری اپنی ذات ، تمھارے والدین اور تمھارے اقربا ہی پر پڑے ۔کوئی امیر ہو یا غریب ، اللہ ہی دونوں کے لیے احق ہے ۔اس لیے تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر اسے بگاڑو گے یا اعراض کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے۔‘‘(النسا ء ۴ :۱۳۵)

عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ افغانستان اگر ظالموں اور دہشت گردوں کا حامی ہے تو اس کا محض اس بنا پر ساتھ نہ دیا جائے کہ وہ ہم قوم اور ہمسایہ ملک ہے اور امریکا اگر حدود سے تجاوز کر کے ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرتا ہے تو صرف اس بنیاد پر اس کی تائید نہ کی جائے کہ وہ عالم کی مسندِ اقتدار پر فائز ہے اور اس سے ہمارے مفادات وابستہ ہیں۔ اس موقع پر تعاون اور عدمِ تعاون کی بنیاد مادی مفادات کے بجائے عدل و انصاف اوراخلاقی اقدار کی حفاظت ہونی چاہیے۔
۲۔ موجودہ صورتِ حال میں اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے یہ امر ناگزیر ہے کہ دنیا کو اسلام کی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے رو شناس کرایا جائے ۔انھیں بتایا جائے کہ دنیا میں اسلام کا ہدف حصول اقتدار نہیں، بلکہ دعوت و اصلاح کے ذریعے سے دین و اخلاق کا فروغ ہے۔اس کے ماننے والے اس دنیا کو ایک آزمایش گاہ تصور کرتے اور اہلِ دنیا کو حق کی تذکیر محض اس لیے کرتے ہیں کہ آخرت میں ان کی معذرت قبول ہو سکے اور وہ جہنم کے عذاب سے بچ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوامِ عالم کے سامنے اس بات پر بھی اصرار کیا جائے کہ اسلام کو ان چند مسلمانوں کے حوالے سے دیکھنا درست نہیں ہے جو اپنے فتنہ و فساد کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں۔ اسلام کو اگر دیکھنا ہے تو اس کے صحیفۂ مقدس ، اس کے پیغمبر کے اسوۂ حسنہ اور اس کے اولین نمائندوں کی خلافتِ راشدہ میں دیکھنا چاہیے۔
۳۔ دنیا پر اسلام کے غلبے کی تمنا رکھنے والے عام مسلمانوں کو حقیقت حال سے روشناس کرایا جائے ۔ انھیں بتایا جائے کہ وہ اس وقت دنیا کی محکومِ محض قوم ہیں۔ دنیا پر تسلط و بالا دستی تو بہت دور کی بات ہے، وہ اپنی ریاستوں کے اندر بھی حقیقی اقتدار سے محروم ہیں۔ مغرب کی تہذیب و تمدن ، فکر و فلسفہ اورعلم و فن ان کے مادی وجود کے ساتھ ساتھ ان کے دل و دماغ کو بھی مغلوب کر چکے ہیں ۔ ان کے اہلِ دانش یورپ کی زبان بولتے اور اسی کی اقدار کو واجب العمل قرار دیتے ہیں، ان کے حکمران اسی کی قصیدہ خوانی کرتے اور کاسۂ گدائی لے کر اسی کے دروازوں پر دستک دیتے ہیں، ان کے ہنر مند اسی کے فنون کی تفہیم کواپنی تخلیق کی معراج تصور کرتے ہیں ، ان کے عوام الناس اسی کی سر زمین کو جنت ارضی سمجھتے اور اس کے حصول کے لیے اپنا معاشرہ، اپنا وطن اوراپنا خاندان تک چھوڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔یہ مسلمانوں کی حالت ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ مغرب پر غلبے کا نعرہ لگاتے ہیں تو اسے زیادہ سے زیادہ ایک نفسیاتی عارضے ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اہلِ اسلام کی یہ حالت لائق صد افسوس ہے، مگر ماتم اس بات کا ہے کہ مسلمان قوم کو اس مرض میں مبتلا کرنے والے وہ لوگ ہیں جنھیں منصبِ مسیحائی حاصل ہے۔ ان کی اس مسیحائی کا نظارہ مسجدوں کے منبروں اور مذہبی مجلسوں کے اسٹیجوں پر کیا جا سکتا ہے ۔جہاں سے تباہ و برباد کر دو،جلاکر راکھ بنا دو اور جان سے مارڈالو کے نعرے سنائی دیتے ہیں۔ سادہ لوح مسلمانوں کویہ باور کرایا جاتا ہے کہ اسلام کا ہدفِ اصلی دنیا پر غلبہ اور حکمرانی قائم کرنا ہے، اس لیے ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے لیے پوری جدوجہد کرے۔یہ مقدمہ اگرچہ بجائے خود سراسر غلط ہے ، لیکن اگر اسے درست بھی مان لیا جائے تب بھی طرفہ تماشا یہ ہے کہ ان علمبردارانِ انقلاب کا طرزِ عمل اپنے مقاصد ہی کے بالکل خلاف ہے۔ اس ہدف کی طرف بڑھنے کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ ایک طرف اپنے اخلاق و کردار کو اس قدر بلند کیا جائے کہ اقوامِ عالم کی نظریں ان کی جانب اٹھنی شروع ہو جائیں اور دوسری طرف دورِ جدید کے اسلحہ سے اپنے آپ کو لیس کیا جائے اور اس امرِ واقعی کا ادراک کر لیا جائے کہ دورِ حاضر کے اسلحہ تیر و تفنگ اور گولا بارود نہیں ، بلکہ علم و ہنر، سائنس اور ٹیکنالوجی، میڈیا اوراقتصادی وسائل ہیں۔
ہماری مذہبی جماعتوں کے قائدین نے حکومتِ پاکستان کی طرف سے امریکا کی حمایت اور امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد جس ردِ عمل کا اظہار کیا ہے ، اس کے بارے میں جو بات کم سے کم کہی جا سکتی ہے ، وہ یہی ہے کہ یہ رویہ اسلام کے ان نمائندوں کے ہر گز شایانِ شان نہیں تھا۔ اسلام تو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مصیبت کے موقع پر صبر و استقامت اور حکمت و دانش سے کام لیا جائے ، بیرونی افتاد کی صورت میں قیادت کا ساتھ دیا جائے ، اختلاف کی ضرورت ہو تو بہت شایستگی سے اس کا اظہار کیا جائے اور نہایت پر امن طریقے سے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مذہبی رہنماؤں کا طرزِ عمل ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی ان اسلامی تعلیمات کے برعکس ظاہر ہوا ہے۔ دیکھیے ،یہ چند بیانات ہی ان کے رویے کی عکاسی کر رہے ہیں:

’’افغانستان پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے ۔ اگر ہماری حکومت نے افغانستان پر حملہ کے لیے غیر مسلموں کو اپنے کندھے پیش کیے تو ہم ایسی حکومت کو رہنے نہیں دیں گے ۔ہم اپنی فوج سے لڑنا نہیں چاہتے ، لیکن اگر افغانستان پر حملے کے لیے غیر ملکی فوج کو اڈے دیے گئے تو ہم اس حکومت کو نہیں چھوڑیں گے ۔‘‘ ۔۔۔ ’’پاکستان کی فضائی اور زمینی خلاف ورزی ہوئی تو اس کے نتائج امریکا کے ساتھ خود حکمرانوں کے لیے بھی خطرناک ہوں گے۔ اگر امریکا نے غلطی کی تو ذلت اس کا بھی مقدر بنے گی۔ جب دشمن مقابلے پر اتر آئے تو پھر جہاد فرض بن جاتا ہے۔‘‘ ۔۔۔ ’’پاکستان کی قوم طالبان کے ساتھ ہے، ہم پاکستان کی سرزمین پر امریکی فوجیوں کو قدم نہیں رکھنے دیں گے۔ ہم امریکیوں کا محاسبہ کریں گے اور پاکستان کی دھرتی کو امریکیوں کا قبرستان بنا دیں گے۔‘‘ ۔۔۔ ’’ہم نے اپنے کارکنوں کو سرحد کارخ کرنے کا حکم دے دیا ہے اور جہاد کے لیے رجسٹریشن شروع کر دی ہے ۔ ہم نے کارکنوں کو کہا ہے کہ جو لوگ سرکاری ٹی وی پر آ کر اسامہ کے خلاف باتیں کر رہے ہیں ، ان کی فہرستیں بنائیں ۔ ہم ان امریکی ایجنٹوں پر زمین تنگ کر دیں گے۔ یہ امریکی ایجنٹ اپنے کفن ساتھ رکھیں، ہم انھیں معاف نہیں کریں گے۔‘‘۔۔۔ ’’ امریکا اسامہ کے بہانے تباہی پھیلا رہا ہے، اس کا اصل مقصد پاکستان پر قبضہ کرنا ہے۔‘‘۔۔۔ ’’افغانستان پر امریکی حملوں کو ہم صلیبی جنگوں کا آغاز سمجھتے ہیں۔‘‘۔۔۔ ’’امریکا نے حملہ کر کے اپنی موت کو آواز دی ہے۔‘‘۔۔۔ ’’ہمارے مجاہد افغانستان جا کر طالبان کے شانہ بشانہ جہاد میں حصہ لیں گے۔ اس سلسلے میں مجاہدین کی رجسٹریشن شروع کر دی گئی ہے، ان شا اللہ فتح طالبان کی ہو گی۔‘‘(بحوالہ روزنامہ نوائے وقت، ۲۲ ستمبر۲۰۰۱، روزنامہ جنگ،۹ اکتوبر ۲۰۰۱)

-----------------------------

 

بشکریہ سید منظور الحسن

تحریر/اشاعت نومبر 2001
مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Aug 25, 2016
282 View