صبر کیا ہے، اسے کیسے حاصل کریں؟ - ساجد حمید

صبر کیا ہے، اسے کیسے حاصل کریں؟

چند اہم باتیں

نیکی کے شعبے

واضح رہے کہ ایمان کی طرح ہر وصف اور ہر نیکی کے شعبے ہوتے ہیں۔مثلاً توکل کے بھی شعبے ہیں، بعض لوگ خدا کی طرف سے آنے والے امتحانات میں تو توکل پر قائم رہ پاتے ہیں ، مگر انسانوں کی طرف سے آنے والے مصائب پر وہ ایسا نہیں کرپاتے اور خدا کے توکل کو بھول کر انتقام لینے نکل پڑتے ہیں اور بعض اس کے برعکس لوگوں کے ساتھ تو معاملات بخوبی نبھاتے ہیں، مگر سماوی تکالیف میں وہ خدا سے نالاں ہوتے یا مایوس ہو جاتے ہیں۔ ٹھیک ایسا ہی مسئلہ صبر میں ہے۔ آدمی بعض پہلووں میں بہت اچھا صابرہو گا اور بعض میں وہ نہایت بے صبرا۔ کہیں غصے میں بھڑ ک اٹھے گا اور کہیں نہایت صبر و حوصلے کے ساتھ شاہ راہ حیات پر گام زن ہوگا۔ہر آدمی کو ان اوصاف میں کامل ہونے کی سعی کرنی ہے۔
دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے کہ وہ مکمل معنی میں غیر صابر ہو۔ وہ کہیں نہ کہیں صبر کررہا ہوتا ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنا جائزہ لے اور اپنے آپ کو کامل معنی میں صابر بنائے۔

ہم کمرۂ امتحان میں ہیں

ہم سب آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ آخرت پر ایمان کے معنی یہ ہیں کہ ہم چوبیس گھنٹے اس یاد میں رہیں کہ ہم امتحان دینے آئے ہیں۔ ہماری حالت اس طالب علم کی سی ہے جو کمرۂ امتحان میں بیٹھا ہے۔ جس کی ساری توجہ اپنے پرچے پر ہے۔اس کی توجہ ان چیزوں پر نہیں ہوتی کہ اس کا کمرہ صحیح ہے یا نہیں ، جس میز پر وہ بیٹھا ہے ، اس کا خیال اس کی تعمیر و رعنائی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ اس کی سر تا سر کوشش یہی ہوتی ہے کہ بس امتحان دے اور فارغ ہوچکے۔ وہ ہمہ وقت اس میں مگن ہے کہ کسی نہ کسی طرح پرچہ اچھا ہوجائے۔ کسی کی نقل کرکے، کسی سے پوچھ کر ، بھولی ہوئی بات یاد کرکے سوال کا جواب پورا دے دے ۔ ہر لمحہ وہ اسی کوشش میں ہوتا ہے کہ اس کا پرچہ صحیح حل ہو جائے۔
جو آدمی اپنے امتحان میں یوں مگن ہوجائے تو وہ بس اپنے بینچ اور میز کی اتنی ہی فکر کرے گا جس پرو ہ بیٹھ کر امتحان دے سکے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ یہی حالت ہماری اس کمرۂ امتحان میں ہے جس میں ہم ساٹھ ستر یا اس سے کم یا زیادہ برسوں کے لیے ڈال دیے جاتے ہیں، لیکن چونکہ ہم اس امتحان میں نسل در نسل ڈالے گئے ہیں۔ ایک کے بعد ایک تو ایسا لگتا ہے کہ کمرۂ امتحان ہی میں ترکھان نے دکان کھول لی ہے۔ اور وہ ہر طالب علم کی خواہش کے مطابق میز اور بینچیں بنانے لگا ہے۔چنانچہ اب پرچے کے بجائے بینچ اور میز کی رعنائی پر توجہ ہو گئی ہے ۔ پرچہ ممتحن کے ہاتھ میں دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بینچوں اور میزوں کا مقابلہ شروع ہو گیا ہے اور امتحان کی جانب کسی کو توجہ نہیں ہے۔ اگر امتحان کی جانب توجہ ہوتی تو ٹوٹی میز اور ہلتی ہوئی بینچ بھی کافی تھی، مگر اب اس سے توجہ اٹھ گئی ہے،اس لیے میزوں میں مقابلہ ہو گیا ہے ۔ جس میں غصہ بھی آرہا ہے اور بے صبری بھی ظاہر ہو رہی ہے۔آپا دھاپی کا سماں ہے۔ حسن و رعنائی کے مقابلے ہیں اور امتحان کی کھٹک سی سینے میں ہے ۔ میزوں میں مقابلہ ہارتے ہیں تو سیخ پا ہو جاتے ہیں ، اور چھینا جھپٹی جاری ہو گئی ہے۔
یہی آج کی دنیا کے انسان کی حقیقت ہے کہ وہ کمرۂ امتحان میں ہے ،مگر سمجھتا ہے کہ اس سے باہر ہے۔اگر وہ دوبارہ کمرۂ امتحان میں آجائے تو اسے نہ غم ستائیں گے ، اور نہ مادیت میں دوسروں کی ترقی اور نہ اپنی کم مائیگی۔اگر کوئی چیز اسے ستائے گی تو یہی کہ اس کا پرچہ صحیح حل ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر پرچہ صحیح حل نہیں ہو رہا تو میز کی خو ب صورتی اسے کھلنے لگے گی۔ بینچ کی نرمی اس کے لیے تکلیف دہ ہو جائے گی۔
اس تمثیل کو ہم نے اس لیے بیان کیا ہے کہ آپ پر یہ حقیقت واضح ہو کہ آخرت کا ایمان آدمی میں کیا نظر اور زاویۂ نگاہ پیدا کرتا ہے اوراس سے گریز اور دوری کیا مسائل پیدا کرتی ہے۔ یعنی جب آدمی راستے کو منزل سمجھ لے اور گزر گاہ کو گھر بنا لے تو اس سے کیا مسائل پیدا ہوں گے۔ایک تو وہ منزل کھوٹی کر لے گا اور دوسرے اس دنیا میں ایک تکلیف سے بھرپور قسم کی کیفیت میں مبتلا رہے گا جو اس سے ہر طرح کے اعلیٰ اوصاف کو آہستہ آہستہ چھین لے گی۔جن میں صبر سب سے بڑا وصف ہے۔

نیکی کے اسباب

نیکی کے اسباب دنیوی بھی ہوتے ہیں اور دینی بھی۔ہمیں حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے محرکات اور اسباب دینی ہو جائیں۔ مثلاً صبر ہی میں دیکھیں تو کبھی ہم اپنے بچوں کے محض پیار اور شفقت کے پیش نظر ان کی غلطیوں پرصبر کرلیتے ہیں اور ان کی برائی سے صرف نظر کرتے ہیں ، مگر اسے دینی بنا لینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم پیار اور محبت کے ساتھ ساتھ اسے خدا کی رضا جوئی کے لیے ایسا کریں ، پھر ہم محض صرف نظر نہیں کریں گے اور شفقت دکھا کر نہیں رہ جائیں گے ، بلکہ ان کی خیرخواہی میں ان کی اصلاح کی بھی کوشش کریں گے۔ ان کے دنیوی مستقبل ہی پر نہیں اخروی مستقبل پر بھی ہماری نگاہ ہو گی۔ اور یہ صبر پھر محض ایک باپ یا ماں کا عمل بن کر نہیں رہ جائے گا، بلکہ ایک بندۂ مؤمن کا عمل خیر بن جائے گا۔ جس سے خود اس کی اپنی تربیت بھی ہو گی اور اس کو اجر بھی ملے گا۔

_______

باب ۱

صبر کیا ہے؟

صبر کے معنی

عربی زبان کے اس لفظ کو اگر ہم قرآن مجید اور عربی ادب کے استعمالات کی رو سے دیکھیں تو اس کے بنیادی معنی ’رکے رہنے ‘ یا ’روکنے ‘کے ہیں۔ پھر یہ لفظ وسعت پاکر ثابت قدمی اور استقامت کے معنی میں استعمال ہونے لگااوراب یہ زیادہ تر اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔یہ ثابت قدمی اپنے’’موقف‘‘ پر ہوتی ہے۔ یہ’’موقف‘‘ میدان جنگ بھی ہوسکتا ہے اور اعلیٰ اوصاف و اخلاق بھی۔ یعنی آدمی ہر حالت میں اپنے اچھے’’موقف‘‘ پر ڈٹا رہے تو یہ صبر ہے۔صبر میں غلط چیزوں پر ڈٹے رہنے کا مفہوم داخل نہیں ہے۔اس لیے صبر کا لفظ ہمیشہ مثبت معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے ۔ تاہم اپنے حقیقی یا لغوی معنی (روکنے) میں یہ منفی پہلو سے بھی استعمال ہو جاتا ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ صبر مشکلات میں رونے دھونے اور چیخنے چلانے کے متضاد معنی میں بھی آتا ہے ،لیکن بنظر غائر دیکھیں تواس کے معنی بھی وہی ہیں۔ یعنی رونا دھونا حوصلہ مندی جیسے اعلیٰ وصف پر قائم نہ رہنے کا نام ہے۔چنانچہ جب ہم چیخنے چلانے والے سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ صبر کرو تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ حوصلہ مندی پر قائم رہو۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ عرب صبر کی جگہ ’تجمل‘کا لفظ بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ یعنی وہ رونے دھونے والے سے کہتے ہیں کہ’ تجمل‘ بھلا کام کرو یعنی صبر کرو اور کمزوری ظاہر نہ ہونے دو،وغیرہ ۔ امرؤ القیس کا شعر ہے:

وقوفًا بہا صحبي عليَّ مطیَّہم
یقولون:لا تھلک اأسیً و تجمَّلِ

’’ ببول کے درختوں کے پاس مجھ پر میرے دوست اپنی سواریاں روکے کہہ رہے تھے، غم سے خود کو ہلاک نہ کرو، بھلے بنو(یعنی کمزوری نہ دکھاؤ، صبر کرو)۔

اسی طرح بعد میں صبر کے ساتھ جمیل کا اضافہ ہونے لگا۔ جس میں احسان اور نیکی کے معنی ہوتے ہیں۔ اس طرح صبر جمیل ان مواقع پر استعمال ہونے لگا،جہاں صبر سے بڑھ کرمزیدکسی حسن سلوک اور نیکی کی بھی ضرورت ہو۔جیسے قصۂ یوسف میں سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈال آئے ،اور آکر ان سے جھوٹ کہا نی کہہ سنائی تو انھوں نے جواب میں فرمایا:’بل سولت لکم انفسکم امرا، فصبر جمیل واللّٰہ مستعان علی ما تصفون‘ یعنی ایک طرف سیدنا یوسف کے کھونے کا دکھ ہے اور دوسری طرف برادران یوسف کی دھوکا دہی کا غم و غصہ۔ چنانچہ ایک طرف غم یوسف سے نبرد آزما ہونے کے لیے حوصلہ چاہیے اور دوسری طرف برادران یوسف سے عفو و درگزر کے لیے صبرجمیل ۔

صبر کا ایک اور رخ

ابھی تک ہم نے صبر کے ساتھ مشکلات ہی کا ذکر کیا ہے کہ صبر مشکلات میں ثابت قدمی کا نام ہے، مگرجس طرح مشکلات میں صبر کرنا پڑتا ہے، ایسے ہی انعامات کے وقت بھی صبر کرنا پڑتا ہے۔ یعنی جس طرح مشکل کی وجہ سے اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ آدمی اپنے موقف سے ہٹ جائے، اسی طرح نعمتیں بھی اس بات کا امکان پیدا کردیتی ہیں کہ آدمی ان میں مگن ہو کر اپنے موقف سے ہٹ جائے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:

’’اگرہم انسان کو اپنے کسی فضل سے نوازتے ہیں،پھر اس سے اس کو محروم کردیتے ہیں، تو وہ مایوس و ناشکرا بن جاتا ہے۔اور اگر کسی تکلیف کے بعد، جو اس کو پہنچی اس کونعمت سے نوازتے ہیں، توکہتا ہے کہ میری مشکلات رفع ہوئیں، پھر یہ ہوتا ہے کہ وہ اکڑنے والا اور شیخی بھگارنے والا بن جاتا ہے۔اس سے صرف وہی بچے رہتے ہیں، جو صبر کرنے والے اور نیک اعمال کرنے والے ہیں، انھی کے لیے بڑی نجات اور اجر کبیر ہے‘‘۔(ہود۱۱: ۹۔ ۱۱)

یہاں قرآن مجید نے نعمتیں چھننے پر مایوس ہونے اور نعمتیں ملنے پر اکڑنے اور تکبر کرنے کو خلاف صبر رویہ قرار دیا ہے۔ ہماری مراد یہ ہے کہ صبریہ بھی ہے کہ نعمتیں پا کر بھی آپے سے باہرنہ ہو۔ یہ صرف چیخنے چلانے یا رائے میں حق پرستی کا نام نہیں ہے، بلکہ صبریہ بھی ہے کہ آدمی مشکلات میں پڑنے کے بعد عملی طور پر بھی صحیح موقف پر قائم رہے۔

ہم امتحان میں ہیں

اوپر کی بحث کا اگرخلاصہ کریں، تو پوری بات یہ ہے کہ صبر کے معنی یہ ہیں کہ ہم ہر حالت میں علم و عمل میں صحیح ’’موقف‘‘ پر قائم رہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صحیح ’’موقف‘‘ سے کیا مرادہے؟
قرآن مجید نے سورۂ ملک کی پہلی آیات میں اس دنیا کی حقیقت ان الفاظ میں بیان کی ہے:

’’بڑی ہی عظیم اور بافیض ہے، وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں(اس کائنات کی)بادشاہی ہے،اور جوہر چیز پر قادر ہے۔اس نے زندگی اورموت کو پیدا کیا تاکہ تمھارا امتحان کرے، کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا بنتا ہے۔اور (اللہ)غالب بھی ہے اور مغفرت فرمانے والا بھی۔‘‘ (الملک۶۷: ۱۔۲)

اس آیت سے ہمیں یہ بات واضح الفاظ میں معلوم ہو رہی ہے کہ ہمیں یہ زندگی اس لیے دی گئی ہے کہ ہمارا امتحان لیا جائے اور اچھے عمل والوں کو جنت کے لیے چن لیا جائے۔اس دنیامیں ہمارا اصل’’موقف‘‘ یہی ہے۔ یعنی ہم ہرلمحہ امتحان میں ہیں۔ جب ہمیں کوئی نعمت ملے یا نہ ملے، جب کوئی آسانی آئے یا مشکل درپیش ہو توہرحالت میں ہمیں یہ بات پوری طرح ملحوظ رہنی چاہیے کہ ہم امتحان میں ہیں۔جس شخص کو یہ حقیقت سمجھ میں آجائے، اور وہ اسی نقطۂ نظر سے زندگی بسر کرنے لگ جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ جس کی بھلائی چاہتا ہے ، اسے دین کی یہ سمجھ عطا کردیتا ہے۔(مسلم، رقم ۱۰۳۷)
اس موقف کے واضح ہو جانے کے بعد ہماری پوری بات کا مطلب یہ ہے کہ صبر کے معنی یہ ہیں کہ ہم ہر حالت میں امتحان دینے والے بن کر رہیں۔
قرآن مجید نے صحابہ رضوان اللہ علیہم کو اپنی زبان میں اس پوری بات کو سمجھا کر ہم پر واضح کردیا ہے کہ صبر کیا ہے ۔سورۂ بقرہ میں فرمایا ہے:

’’اے ایمان والو، صبر اور نماز سے مدد لو، اللہ بس ثابت قدموں کے ساتھ ہے،اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو مردہ نہ کہو،بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم محسوس نہیں کرسکتے۔بے شک ہم تمھاراامتحان کریں گے۔کسی قدر خوف ، بھوک اور جان و مال میں کمی سے،اور ان صابروں کو یہ خوش خبری سنا دو،جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں:’انا للّٰہ و انا الیہ راجعون‘ یعنی ہم اللہ ہی کے ہیں، اور (ایک دن )اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یہی لوگ ہیں، جن پر تیرے رب کی عنایتیں اور رحمتیں ہیں، اور یہی لوگ راہ یاب ہیں ۔ (البقرۃ ۱۵۳۔ ۱۵۷)

صحابہ کے لیے قرآن کا یہ مطالبہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ہمیں اس سے خدائی اسکیم اور اس آزمایش کی طرز، ذرائع اور مطلوب رویوں کا پتا چلتا ہے۔اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ صبر بڑے سے بڑے موقع پر بھی چھوڑنے کی چیز نہیں ہے۔ یہ ایک اعلیٰ و محمود رویہ ہے ۔مولا نا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ اپنی تفسیر ’’نظام القرآن و تاویل الفرقان بالفرقان ‘‘میں تحریر فرماتے ہیں:

أن الصبر ربما یکون فعلا، ینشأ من شرافۃ النفس و إباۂا، و رسوخ القدم فی الطاعۃ و احتمال عظائم الأمور، و ربما یکون انفعالا و احتمالا للقہر والظلم و ہذا ادنی الصبر.(۲۳۶)
’’صبر ایک ایسا عمل ہے جو کبھی اعلیٰ ظرفی ،روح کی ابا اور بندگی میں راسخ القدمی سے پھوٹتا ہے۔ اور یہ بڑے کاموں کے تحمل کے حوصلہ سے پیدا ہوتا ہے۔اورکبھی یہ ظلم و جبرکے مقابلے میں محض منفعل مزاجی کی بنا پر سامنے آتا ہے۔ یہ دوسری صورت صبر کی گھٹیا شکل ہے‘‘۔

صبر اور بدی کے بدلے نیکی

صبر کا ایک لازمی تقاضا قرآن مجید سے یہ سامنے آتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ہم جب کسی کی طرف سے برائی سامنے آئے تو اسے نہ صرف برداشت کریں ، بلکہ ان کی برائی کے بدلے نیکی سے جواب دیں۔ اگر ہم اس کے برعکس کریں گے تو یہ عمل صبر کے خلاف ہو گا۔ اس لیے کہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ صبر صرف یہ نہیں ہے کہ ہم چیخنے چلانے سے گریز کریں۔ بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اخلاق اور کردار کی بلندی پر قائم رہیں۔ اور دوسرے اگر برائی کر رہے ہوں تو ہم ان کی نقل میں یا انتقام لینے میں برائی نہ کریں ۔ بلکہ کوشش کریں کہ ہم لوگوں کی برائی کا جواب بھلائی سے دیں۔ مزید یہ بات بھی قرآن سے معلوم ہوتی ہے کہ بسا اوقات ایسا کرنا اگر ممکن ہو تو اس موقع پر اپنے مقابل کے ساتھ نیکی کرکے اللہ کی راہ میں خیرات وغیرہ کرنی چاہیے :

اُوْلٰءِکَ یُؤْتُوْنَ اَجْرَہُمْ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِءَۃَ ، وَمِمَّا رَزَقَنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ. (القصص ۲۸: ۵۴)
’’یہ لوگ ہیں کہ جنھیں دہرا اجر ملے گا، بوجہ اس کے کہ وہ ثابت قدم رہے ، اور وہ برائی کو بھلائی سے دور کرتے، اور ہمارے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘

[باقی] 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت نومبر 2004
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Apr 07, 2017
1019 View