آیت بسم اللہ - حمید الدین فراہی

آیت بسم اللہ

  

اس آیت کی تفسیر کے لیے ایک خاص حصہ مخصوص کرنے کی وجہ

یہ آیت بسم اللہ کی تفسیر ہے۔ جو کتابیں ہم نے اپنی تفسیر ’’نظام القرآن‘‘ کے لیے بطور مقدمہ لکھی ہیں، ان کے بعد ہماری اصل کتاب کا یہ پہلا حصہ ہے۔ اس عظیم آیت کی تفسیر کے لیے ہم نے اپنی تفسیر کا ایک مستقل حصہ مندرجہ ذیل وجوہ سے خاص کیا:

اولاً، یہ آیت نہایت عظیم الشان معارف کا خزانہ ہے۔
ثانیاً، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر سورہ کا تاج بنایا ہے۔
ثالثاً، ہر سورہ کے ساتھ الگ الگ اس کی تفسیر موجب تکرار ہوتی۔
رابعاً، کسی جگہ اس کی تفسیر کرنا اور کسی جگہ نہ کرنا، ایک ایسی بات ہوتی جس کے لیے ہمارے پاس کوئی معقول وجہ نہیں تھی، یہ ترجیح بلا مرجح ہوتی۔

سورۂ فاتحہ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت

یہ بات کہ یہ آیت سورۂ فاتحہ کا ایک جزو ہے اور دوسری سورتوں کے شروع میں زائد ہے، علما کے درمیان مختلف فیہ ہے۔ ہمارے نزدیک صحیح راے غالباً ان لوگوں کی ہے جو اس معاملہ میں فاتحہ اور غیر فاتحہ میں کوئی فرق نہیں کرتے، عام اس سے کہ اس کو سورہ کی آیات کے اندر شامل سمجھا جائے یا ان سے خارج سمجھا جائے۔ اس صورت میں اس آیت کی حیثیت ایک اصولی بات کی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اگر یہ قرآن مجید کی ایک آیت نہ ہوتی تو ہم اس پر بحث کرنے کے لیے ان مقدمات میں جگہ نکالتے جو ہم نے اصولی باتوں پر لکھے ہیں، کیونکہ ہماری اس کتاب کی قراردادہ ترتیب یہ ہے کہ ہم نے اصولی باتوں پر علیحدہ بحث کی ہے تاکہ ضرورت کے وقت ان کے حوالہ پر اکتفا کیا جا سکے اور مباحث کی تکرار سے سلسلۂ کلام میں حتی الامکان کوئی خلل واقع نہ ہو۔
اپنے معنی کے لحاظ سے یہ آیت نزول قرآن سے پہلے سے منقول چلی آتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکۂ سبا کو جو نامہ لکھا، اس میں اس کا ذکر موجود ہے: ’اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘، ’’یہ سلیمان کی جانب سے ہے اور یہ خداے رحمن و رحیم کے نام سے شروع ہے‘‘ (النمل ۲۷: ۳۰)۔ مجوس کی کتاب ’’اوستاتیر‘‘ میں بھی یہ موجود ہے، لیکن ’’اوستاتیر‘‘ کا اعتبار نہیں۔ یہ جعلی کتاب ہے۔ اہل نظر اس کے جعلی ہونے سے اچھی طرح واقف ہیں۔ خود مجوس میں سے بھی تھوڑے ہی سے لوگ اس کو مانتے ہیں۔
اسی طرح کی کتنی آیتیں ہیں جو اگرچہ قرآن سے پہلے نازل ہو چکی تھیں، لیکن جیسا کہ سورۂ فاتحہ میں معلوم ہو گا، اس بلاغت کو نہیں پہنچ سکیں جس بلاغت کو وہ قرآن میں پہنچیں۔
ہمارے نزدیک بسم اللہ سورۂ فاتحہ کی ایک آیت اور ہر سورہ کا فاتحہ ہے۔ قرآن کا طریقۂ نزول اور پھر جس طرح وہ محفوظ ہوا، اس دعوے پر دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ ۱؂ نیز بسم اللہ کا مفہوم آغاز کلام کے لیے نہایت مناسب ہے۔ علاوہ ازیں اس کی وہ تاویل بھی جو آگے بیان ہو گی، اس کی تائید کرتی ہے۔ پھر احادیث میں وارد ہے کہ یہ فاتحہ کی ایک آیت ہے۔

بسم اللہ کا مفہوم

بسم اللہ میں ’ب‘ عظمت، برکت اور سند کے مفہوموں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ۲؂
یہ کلام خبریہ نہیں ہے، بلکہ الحمد للہ کی طرح دعائیہ ہے، جیسا کہ آگے چل کر واضح ہو گا۔
اپنے نام سے شروع کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں دے دیا تھا۔ چنانچہ سورۂ اقراء میں ہے۔ ’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘ (پڑھ اپنے اس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا)۔ دین کی بنیاد نماز ہے اور نماز کی حقیقت اللہ کے نام کی یاد، جیسا کہ فرمایا ہے: ’وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی‘ ۳؂ (اور اپنے پروردگار کے نام کو یاد کیا اور نماز پڑھی)۔ دوسری جگہ ہے: ’وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا‘ ۴؂ (اور یاد کر اپنے رب کے نام کو اور اسی کی طرف یکسو ہو)۔ ’تَبَتَّلْ اِلَیْہِ‘ (اسی کی طرف یکسو ہو)، یعنی اس کی نماز پڑھ کر، جیسا کہ سیاق سے واضح ہے۔ کسی شے کا نام اس کی یاد کا واسطہ ہوا کرتا ہے۔ پس اللہ کے نام کی یاد ہی درحقیقت اللہ کی یاد ہے۔ اور یہی چیز نماز کی روح ہے۔ اسی وجہ سے جب نماز کو اس کی کامل صورت کے ساتھ ادا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم ذکر اللہ کو قائم رکھنے کا حکم ہوا۔ اور امن و اطمینان کی حالت میں بھی اس کی تاکید فرمائی گئی تاکہ یہ حقیقت واضح رہے کہ نماز کی اساس یہی چیز ہے۔ چنانچہ فرمایا:

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ.(البقرہ ۲: ۲۳۹)
’’پھر اگر تم کو خطرہ لاحق ہو تو پیادہ یا سوار جس حالت میں بھی ہو پڑھ لیا کرو۔ اور جب تم کو اطمینان ہو جائے تو خدا کی یاد اس طرح کرو (یعنی نماز پڑھو) جس طرح تم کو سکھلایا ہے، جو تم نہیں جانتے (یعنی نماز کی کامل صورت)۔‘‘

اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شروع ہی میں اس حقیقت سے آگاہ کر دیا گیا تھا:

اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ.(طٰہٰ ۲۰: ۱۴)
’’میں ہی اللہ ہوں، نہیں ہے کوئی معبود مگر میں۔ پس میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔‘‘

سورۂ اعراف میں فرمایا:

وَالَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بِالْکِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ. (۷: ۱۷۰)
’’اور جو کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔‘‘

علاوہ ازیں اس ذیل میں یہ نکتہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ‘ کو شیطان سے پناہ کا ذریعہ قرار دیا ہے، اسی طرح اپنے نام سے بھول چوک سے (جو شیطان ہی کی جانب سے ہوتی ہے) امان کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس کا اشارہ سورۂ اعلیٰ کی آیت ’سَنُقْرِءُ کَ فَلاَ تَنْسٰی‘ (ہم تم کو پڑھا دیں گے، پھر تم نہ بھولو گے) میں پایا جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے نام کی تسبیح کے حکم کے بعد فرمائی ہے۔
پس آغاز قرآن کے لیے یہ موزوں ترین کلام ہے۔ یہ قلب کو تمام تشویشوں سے پاک کر کے مطمئن کر دیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ’اَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ‘ (آگاہ رہو کہ اللہ کی یاد ہی سے قلوب مطمئن ہوتے ہیں) اور یہ بات اوپر معلوم کر چکے ہو کہ اللہ کی یاد دین کی بنیاد ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر ہی کو قرآن کی بنیاد بھی قرار دیا اور اسی چیز کے ساتھ اول اول اس کا نزول ہوا اور اسی چیز کا حکم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہوا۔
پھر بسم اللہ اس بات کا اقرار ہے کہ تمام فضل و احسان اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے ہے۔ گویا ہم بسم اللہ پڑھ کر اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو احسانات فرمائے ہیں، یہ ہمارے استحقاق کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ سب کچھ اس کے اسماے حسنیٰ رحمن و رحیم کا فیضان ہے۔ تورات کی بھی ایک سے زیادہ آیات اس کی تائید کرتی ہیں۔
نیز اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ تمام قوت و زور اسی کا بخشا ہوا ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے ابتداے وحی کے وقت ہی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے نام کی یاد کا حکم ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی الواح کی تیاری کے بعد طور پر سب سے پہلے اللہ کا نام ہی نازل ہوا۔ کتاب خروج (۳۴: ۵۔۸) میں ہے:

’’تب خداوند ابر میں ہو کر اترا اور اس کے ساتھ وہاں کھڑے ہو کر خداوند کے نام کا اعلان کیا۔ اور خداوند اس کے آگے سے یہ پکارتا ہوا گزرا، خداوند، خداوند، خدائے رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفا میں غنی۔ ہزاروں پر فضل کرنے والا، گناہ اور تقصیر اور خطا کا بخشنے والا، لیکن وہ مجرم کو ہرگز بری نہیں کرے گا، بلکہ باپ دادا کے گناہ کی سزا ان کے بیٹوں اور پوتوں کو تیسری اور چوتھی پشت تک دیتا ہے۔ تب موسیٰ نے جلدی سے سر جھکا کر سجدہ کیا۔‘‘

یہ ساری عبارت ہم نے محض اس مقصد سے نقل کی ہے کہ بسم اللہ کی اہمیت اور اس کے ساتھ نماز کا تعلق تمھاری سمجھ میں آ جائے۔ قرآن مجید نے بھی جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرگذشت کی تفصیل کی ہے، وہاں اس معاملہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے۵؂ ............ نیز اس سے سورۂ اقراء اور سورۂ’سَبِحِ اسْمَ رَبِّکَ‘ کی تاویل پر بھی روشنی پڑے گی، کیونکہ ان کے مضامین اور تورات کے بیان میں بہت مماثلت ہے۔ ان سورتوں کی تفسیر نیز سورۂ فاتحہ کے ذیل میں ہم کسی قدر ان اشارات کی تفصیل کریں گے۔
یہاں تک اظہار برکت و عظمت کے مفہوم کی تشریح ہوئی۔ اب ہم بالاختصار سند کے مفہوم کو بھی واضح کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پہلو بھی نہایت اہم لطائف و حقائق پر مشتمل ہے۔ اس پہلو کے اعتبار سے بسم اللہ کے معنی گویا یہ ہوئے کہ یہ کلام خداوند تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اور یہ اس پیشین گوئی کی طرف اشارہ ہو گا جس کا ذکر حضرت موسیٰ کی پانچویں کتاب (۱۸: ۱۸۔۱۹) میں ہے:

’’میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام ان کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا، وہی وہ ان سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔‘‘

چنانچہ یہ بات حرف بہ حرف پوری ہو کے رہی۔ جو لوگ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے اور جنھوں نے ان باتوں کو نہیں مانا جو آپ نے اللہ کا نام لے کر کہیں، ان سے نہایت سخت مواخذہ ہوا۔ اور یہ بھی اسی پیشین گوئی کی تصدیق تھی کہ اولین وحی اللہ کے نام کے ساتھ نازل ہوئی: ’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘ (پڑھ اپنے اس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا)۔
پھر اس کے ساتھ رحمن و رحیم کی صفتیں لائے ہیں۔۶؂ ........ یہود نے یہ نام (رحمن و رحیم) ضائع کر دیے تھے جس کی سزان کو یہ بھگتنی پڑی کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے یکسر قہر و جلال بن کے رہ گیا اور ان کا پیغمبر بھی ان کی سخت دلی کے سبب سے ان کے لیے ہیبت و شدت ہی کے بھیس میں نمودار ہوا اور ان کی سرکشی کے باعث ان کی شریعت بھی ان کے لیے نہایت سخت ہو گئی۔ جیسا کہ سورۂ انعام (۶) میں وارد ہے:

وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْْہِمْ شُحُوْمَہُمَآ اِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُوْرُہُمَآ اَوِ الْحَوَایَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذٰلِکَ جَزَیْْنٰہُمْ بِبَغْیِہِمْ.(۱۴۶)
’’اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کیے اور گائے اور بکری میں سے ان کی چربی کو ان پر حرام کیا، مگر جو ان کی پیٹھ سے لگی یا انتڑیوں پر یا ہڈی سے لگی ہوئی ہو۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کا بدلہ دیا۔‘‘

اس کی شہادت اسپنوزا نے بھی دی ہے۔ وہ کہتا ہے:

’’یرمیاہ نبی نے کہا تھا کہ بنی اسرائیل کا خدا اس دن سے ان پر غضب ناک ہے جس دن سے انھوں نے اپنے شہر کی تعمیر کی۔ لیکن ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ بنی اسرائیل پر خدا کی غضب ناکی اسی روز سے ہے جس روز سے ان کو شریعت ملی اور حزقیل نبی کے کلام سے ہمارے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ باب ۲۰ میں ہے: ’’سو میں نے ان کو برے آئین اور ایسے احکام دیے جن سے وہ زندہ نہ رہیں‘‘۔‘‘

اس کی پوری تفسیر سورۂ انعام میں ملے گی۔
اگر اس معاملہ پر غور کرو گے تو یہ حقیقت تم پر واضح ہو گی کہ اس طرح کی سخت شریعت دائمی شریعت نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ جو رحمن و رحیم ہے، لوگوں کو ہمیشہ کے لیے کسی شکنجہ میں کس کر نہیں رکھ سکتا۔ چنانچہ اس سخت شریعت سے نجات کی بشارت بھی اس نے شروع ہی میں دے دی تھی۔ سورۂ اعراف (۷) میں اس بشارت کی طرف اشارہ موجود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خطاب کر کے فرمایا جاتا ہے:

عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُ وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْْءٍ فَسَاَکْتُبُہَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ، اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ.(۱۵۶۔۱۵۷)
’’رہا میرا عذاب، تو میں اس کو جس پر چاہتا ہوں، نازل کرتا ہوں۔ اور میری رحمت ہر چیز پر عام ہے۔ سو اس کو میں ان لوگوں کے لیے لکھ رکھوں گا جو تقویٰ پر قائم رہیں گے، زکوٰۃ دیں گے اور ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔ جو پیروی کریں گے نبی امی کی جس کو لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں۔‘‘

نیز سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) میں فرمایا:

عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَرْحَمَکُمْ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا.(۸)
’’توقع ہے کہ تمھارا پروردگار تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر فساد کرو گے تو ہم پھر سزا دیں گے۔‘‘

یہود کے متعلق توریت سے ثابت ہے کہ عین اس وقت، جبکہ رحمت الٰہی ان کی طرف متوجہ تھی اور ان کو شریعت ملنے والی تھی، انھوں نے گوسالہ پرستی کی اور اس جرم کے مرتکب ہو کر وہ اس عورت کے مانند بن گئے جس نے پہلی ہی شب میں اپنے شوہر کے ساتھ بے وفائی کی ہو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی اس بے وفائی کے سبب سے یہ اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے اور ان پر رحمت کا معاملہ ان کی ناقدری کی وجہ سے آخری نبی کی بعثت پر اٹھا رکھا گیا۔ چنانچہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تمام عالم کے لیے رحمت بن کر مبعوث ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تعریف میں فرمایا گیا:

وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ. (الانبیآء ۲۱: ۱۰۷)
’’اور ہم نے نہیں بھیجا تم کو، مگر عالم کے لیے رحمت بنا کر۔‘‘

اور ایسی ہی تعریف آپ کے صحابہ کی بھی بیان ہوئی ہے:

اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ.(الفتح ۴۸: ۲۹)
’’کفار کے لیے سخت اور آپس میں رحم دل۔‘‘

اسم ’’اللہ‘‘ کا مفہوم

’’اللہ‘‘ میں الف لام تعریف کے لیے ہے۔ یہ نام صرف اللہ واحد کے لیے مخصوص تھا جو تمام آسمان و زمین اور تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ اسلام سے پہلے عرب جاہلیت میں بھی اس لفظ کا یہی مفہوم تھا۔ عرب مشرک ہونے کے باوجود، اپنے دیوتاؤں میں سے کسی کو بھی، اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں قرار دیتے تھے۔ وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ آسمان و زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ دوسرے دیوتاؤں کو وہ صرف اس وجہ سے پوجتے تھے کہ ان کے خیال میں وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہیں اور اللہ سے ان کی سفارش کریں گے۔ قرآن شریف میں ان کے اقوال نقل ہیں:

یَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدِ اللّٰہ.(یونس ۱۰: ۱۸)
’’کہتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔‘‘

مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی. (الزمر ۳۹: ۳)
’’کہتے ہیں ہم نہیں پوجتے ان کو، مگر اس لیے کہ یہ اللہ سے ہم کو قریب کر دیں۔‘‘

وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ، اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ لَہٗ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْمٌ، وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ. (العنکبوت ۲۹:۶۱۔۶۳)
’’اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنایا ہے آسمانوں اور زمین کو اور مسخر کیا سورج اور چاند کو؟ کہیں گے: اللہ۔ پھر کہاں ان کی عقل الٹ جاتی ہے! اللہ ہی روزی میں وسعت دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے۔ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور اگر ان سے پوچھو کہ کس نے اتارا بادل سے پانی، پھر زندہ کی اس سے زمین اس کے مرنے کے بعد؟ کہیں گے: اللہ۔ کہو، اللہ ہی کے لیے شکر ہے، لیکن ان میں سے اکثر نہیں سمجھتے۔‘‘

بعض مسیحی اہل قلم کا خیال ہے کہ اس لفظ (اللہ) کی اصل ’’ایل‘‘ ہے جو اکثر عبرانی ترکیبوں میں استعمال ہوئی ہے۔ مثلاً اسرائیل (اللہ کا بندہ)، اسمٰعیل (اللہ نے سنی) اور عمانویل (اللہ ہمارے ساتھ ہے)۔ اور وہ اس کو ’’بعل‘‘ سے مشتق سمجھتے ہیں اور ’بعل‘ ان کے خیال میں سورج کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بالکل لغو اور مہمل خیال آرائی ہے اور یہ ان لوگوں کی اپج ہے جو نبوت کے منکر ہیں اور جو عبرانیوں کے مذہب کو بت پرستوں کے مذہب سے ماخوذ بتلاتے ہیں۔
اس باب میں صحیح راے یہ ہے کہ عبرانی زبان نے سہ حرفی الفاظ میں سے بالعموم ایک حرف ضائع کر دیا ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے محققین زبان، عبرانی الفاظ کی تصحیح عربی زبان کی مراجعت سے کیا کرتے ہیں، کیونکہ تمام سامی زبانوں میں سب سے زیادہ مکمل اور اصل سے قریب تر زبان یہی ہے، بلکہ سامی زبانوں کے علما اور مسیحی مستشرقین کا اعتراف تو یہ ہے کہ یہی تمام سامی زبانوں کی اصل محفوظ ہے۔ پہلا لفظ جس سے تورات شروع ہوتی ہے، ’’الوہیم‘‘ کا لفظ ہے۔ یہ لفظ تورات میں اکثر آیا ہے اور یہی ’’ایل‘‘ کی اصل ہے۔
یہ لفظ، دین صحیح کے ان باقیات صالحات میں سے ہے جو عربوں کو وراثت میں ملی تھیں۔ یہود اور نصاریٰ نے اس لفظ کو ضائع کر دیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے ان کے ہاں کوئی خاص لفظ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ وہ ’’الٰہ‘‘ کا لفظ غیراللہ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ لفظ ’’الٰہ‘‘ ان کے ہاں ’’سید‘‘ کے مفہوم میں بھی مستعمل ہے۔ زبور ۸۲ میں ہے:

’’خدا کی جماعت میں خدا موجود ہے۔
وہ الہٰوں کے درمیان عدالت کرتا ہے۔
تم کب تک بے انصافی سے عدالت کرو گے۔
اور شریروں کی طرف داری کرو گے۔‘‘

اس میں جس لفظ کا ترجمہ ’’خدا‘‘ کیا گیا ہے، وہ ’’الوہیم‘‘ ہے۔ یہ واحد اور جمع، دونوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، کیونکہ ’’یم‘‘ جو عبرانی میں علامت جمع ہے۔ تعظیم کے لیے بھی آتی ہے۔ پس ’’خدا کی جماعت‘‘ دراصل ’’الہٰوں کی جماعت‘‘ ہے، جیسا کہ بعد کے فقرے سے واضح ہوتا ہے۔ اور بعد کے فقرے کا پہلے فقرے سے مشابہ لانا عبرانی زبان کا ایک عام اسلوب ہے۔ اس کا صحیح مفہوم یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ حکام کے مجمع میں موجود ہے اور وہ ججوں کے درمیان عدالت کرتا ہے۔ پس کب تک بے انصافی سے عدالت کرو گے اور شریروں کی طرف داری کرو گے۔
جو باتیں بنی اسرائیل سے مخفی رہ گئیں، ان میں سے بہت سی باتوں کی قرآن مجید نے توضیح کی ہے۔ چنانچہ اس مضمون کی توضیح قرآن نے ان الفاظ میں کی ہے:

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمْ وَلَآ اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْثَرَ اِلَّا ہُوَ مَعَہُمْ اَیْْنَ مَا کَانُوْا ثُمَّ یُنَبِّءُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْمٌ.(المجادلہ ۵۸: ۷)
’’کیا نہیں دیکھتے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ نہیں ہوتا ہے تین کا مشورہ، مگر چوتھا وہ ہوتا ہے اور نہ پانچ کا، مگر چھٹا وہ ہوتا ہے اور نہ اس سے کم و بیش، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔ پھر ان کو خبر دے گا ان کے عمل کی قیامت کے دن۔ بے شک، اللہ ہر بات کو جانتا ہے۔‘‘

زبور کی مذکورہ بالا عبارت پر غور کرو، کس طرح ’’الٰہ‘‘ اور ’’حکام‘‘ کے الفاظ میں التباس ہونے کی وجہ سے دونوں کے لیے ایک ہی لفظ استعمال کر دیا گیا ہے۔ سفر خروج (۴: ۱۶) میں بھی اس کی مثال موجود ہے:

’’اور وہ (ہارون) تیری طرف سے لوگوں سے باتیں کرے گا اور وہ تیرا منہ بنے گا، اور تو اس کے لیے خدا ہو گا۔‘‘

اسی طرح سفر خروج ۷: ۱ میں ہے:

’’پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا: دیکھو میں نے تجھے فرعون کے لیے خدا ٹھہرایا اور تیرا بھائی ہارون تیرا پیغمبر ہو گا۔‘‘

حالاں کہ ان دونوں عبارتوں کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تجھ کو امیر مقرر کیا اور ہارون فرعون سے گفتگو کرنے کے لیے تیرا سفیر ہو گا۔ سفر تکوین ۳۲: ۲۴۔۲۹ میں بھی اس کی مثال موجود ہے:

’’اور یعقوب اکیلا رہ گیا اور پو پھٹنے کے وقت تک ایک شخص وہاں اس سے کشتی لڑتا رہا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ اس پر غالب نہیں ہوتا تو اس کی ران کو اندر کی طرف سے چھوا اور یعقوب کی ران کی نس اس کے ساتھ کشتی کرتے میں چڑھ گئی۔ اور اس نے کہا: مجھے جانے دے، کیونکہ پو پھٹ چلی۔ یعقوب نے کہا: جب تک تو مجھے برکت نہ دے میں تجھے جانے نہیں دوں گا۔ تب اس نے اس سے پوچھا کہ تیرا کیا نام ہے؟ اس نے جواب دیا: یعقوب۔ اس نے کہا: تیرا نام آگے کو یعقوب نہیں، بلکہ اسرائیل ہو گا، کیونکہ تو نے خدا اور آدمیوں کے ساتھ زور آزمائی کی اور غالب ہوا۔ تب یعقوب نے اس سے کہا کہ میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنا نام بتا دے۔ اس نے کہا: تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اور اس نے اسے وہاں برکت دی اور یعقوب نے اس جگہ کا نام فنی ایل رکھا اور کہا کہ میں نے خدا کو روبرو دیکھا تو بھی میری جان بچی رہی۔‘‘

یہ ایک عجیب و غریب قصہ ہے اور یہود نے اس میں جو خرافات ملا رکھی ہیں، ان کی کوئی تاویل کرنا یا ان کی ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو بچا لے جانا ان کے لیے بالکل ناممکن ہے۔ اس کو غور سے پڑھو تو معلوم ہو گا کہ جہاں جہاں ’’عفریت‘‘ یا ’’جبار‘‘ وغیرہ کے الفاظ ہونے چاہییں وہاں ’’الٰہ‘‘ اور ’’ایل‘‘ کے الفاظ ٹھونس دیے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’الٰہ‘‘ کے لفظ کی بنی اسرائیل کے یہاں کوئی خاص اہمیت و منزلت نہیں رہ گئی تھی۔ جس طرح امیر، سید، جبار، شدید وغیرہ الفاظ ہیں، اسی طرح ایک لفظ یہ بھی تھا اور اس کے معنی ان کے ہاں طاقت ور اور مضبوط کے ہیں۔ اللہ کے لیے غیرمشترک اور مخصوص نام ان کے ہاں صرف ’’یہوہ‘‘ ہے، لیکن اس لفظ کے حروف اور ان کی حرکات کے بارہ میں بڑے شکوک اور اختلافات ہیں، یہاں تک کہ ان کا تلفظ بھی ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ سفر خروج ۲: ۲ میں ہے:

’’پھر خدا نے موسیٰ سے کہا: میں خداوند ہوں۔ اور میں ابراہام اور اضحاق اور یعقوب کو خدائے قادر مطلق کے طور پر دکھائی دیا، لیکن اپنے یہوداہ نام سے ان پر ظاہر نہ ہوا۔‘‘

یہود اس نام کی بڑی تعظیم کرتے ہیں، کیونکہ یہ نام مخصوص طور پر ان کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا۔ وہ اس کو اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم قرار دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس کو عام طور پر زبان پر لانا جائز نہیں ہے۔ جماعت کے سامنے سال میں صرف ایک مرتبہ یہ نام لیا جاتا تھا، اور اس ڈر سے کہ کہیں اس کا استعمال عام ہو جائے، اس کو حرکات سے مجرد کر دیا گیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ بالکل مجہول ہو کے رہ گیا۔ جب کبھی تلاوت میں یہ لفظ آتا ہے، اس کی حرکات کی ناواقفیت کی وجہ سے یہود اس کو ادا نہیں کرتے اور صحیح قراء ت چھوڑ کر اس کے عوض ’’اودنیم‘‘ پڑھتے ہیں۔ کس قدر عبرت انگیز مقام ہے کہ ان لوگوں نے نہ صرف اللہ کی کتاب ضائع کر دی، بلکہ اللہ کے نام کو بھی ضائع کر دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کا دروازہ بھی بند ہو گیا اور قرآن کی بات ان پر پوری طرح صادق آئی: ’فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ‘، ’’جب وہ کج ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل کج کر دیے‘‘(الصف ۶۱: ۵)۔
(مجموعہ تفاسیر فراہی ۶۹۔۷۶)

________

۱؂ مصنف رحمۃ اللہ علیہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ آیت ہر سورہ کے آغاز میں اللہ ہی کے حکم سے ثبت نہ کی گئی ہوتی تو کوئی دوسرا اس کا مجاز نہ تھا کہ اسے بطور خود لکھ دیتا، خواہ تبرکاً ہی سہی۔ اور اس دلیل کو یہ بات مزید قوت پہنچاتی ہے کہ سورۂ توبہ کے آغاز میں جب صحابۂ کرام کو بسم اللہ لکھی ہوئی نہ ملی تو انھوں نے اسے بلا بسم اللہ ہی مصحف میں درج کیا۔ (مترجم)
۲؂ اس اجمال کی شرح آگے آتی ہے۔
۳؂ الاعلیٰ ۸۷: ۱۵۔
۴؂ المزمل ۷۳: ۸۔
۵؂ اصل کتاب میں مصنف رحمۃ اللہ نے یہاں بیاض چھوڑی ہے۔ میرا خیال ہے کہ سورۂ طٰہٰ کی آیات ’اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ‘ کی طرف اشارہ ہے۔ ’واللّٰہ أعلم بالصواب‘ (مترجم)۔
۶؂ یہاں بھی مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے بیاض چھوڑی ہے۔ غالباً رحمن و رحیم پر کچھ لکھنا چاہتے تھے۔ چونکہ اس کی تفصیل کسی قدر تفسیر سورۂ فاتحہ میں ملے گی، اس لیے یہاں ہم اس کی توضیح غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ (مترجم)

------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت مئی 2015
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Jan 23, 2016
1145 View