جمعہ کے وقت کا باب - ساجد حمید

جمعہ کے وقت کا باب

 

[۱۳] حدثنی یحیٰی عن مالک عن عمہ ابی سہیل بن مالک عن ابیہ انہ قال:کُنْتُ اَرَی طِنْفَسَۃً لِعَقِیْلِ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، یَوْمَ الْجُمُعَۃِ تُطْرَحُ اِلٰی جِدَارِ الْمَسْجِدِ الْغَرْبِیْ فَاِذَا غَشِیَ الطِّنْفَسَۃَ کُلَّہَا ظِلُّ الْجِدَارِ خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَصَلَّی الْجُمُعَۃَ.
قَالَ مَالِکٌ (وَالِدُ اَبِیْ سُہَیْلٍ ): ثُمَّ نَرْجِعُ بَعْدَ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ فَنَقِیْلُ قَاءِلَۃَ الضَّحَاءِ.

امام مالک کے چچاسہیل بن مالک اپنے والد کے حوالے سے کہتے ہیں کہ
’’میں دیکھتا تھا کہ عقیل بن ابی طالب کے پاس ایک بوریا تھا،جسے جمعہ کے دن مسجد کی مغربی دیوار کے ساتھ بچھا دیا جاتا، جب مسجد کا سایہ اس پورے بوریا کو ڈھانپ لیتا، تو عمر بن خطاب نکلتے اور جمعہ پڑھاتے۔
ابو سہیل کے والدمالک بن ابی عامر کہتے ہیں، پھر ہم نماز جمعہ کے بعد نکلتے توہم چاشت کے وقت والا قیلولہ (جو رہ گیا تھا وہ اس وقت )کرتے۔‘‘ 

شرح

مفہوم و مدعا

یہ روایت یہ بتارہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن زوال کے بعد اتنا انتظار کرتے تھے کہ ایک بوریا پوری طرح دیوار کے سائے میں آجاتا تھا۔اس روایت کے الفاظ سے بھی بات پوری طرح واضح ہے اور دوسری روایتو ں سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ زوال کے بعد پڑھا جاتا تھا۔ لیکن اس روایت میں زبان کے چند مسئلے ایسے ہیں، جن کی وجہ سے بعض لوگوں نے زوال سے پہلے بھی جمعہ ادا کرناجائز قرار دیا ہے،لیکن جمہور کی رائے میں جمعہ کا وقت زوال کے بعد ہی ہے۔
بوریا کے بچھائے جانے کا مقصد وقت کا تعین نہیں تھا، نہ حضرت عمر اسے اس مقصد سے بچھواتے تھے۔ یہ تو عقیل بن ابی طالب اپنی ضرورت کے لیے بچھاتے تھے۔ حضرت عمر اپنے اندازے کے مطابق گھر سے نکلتے تھے۔ وہ اس بوریا کو دیکھ کر نہیں نکلتے تھے۔یہ سہیل کے والد مالک کا مشاہدہ ہے ۔ جس سے بس اتنا اندازہ ہوتا ہے کہ ایک بوریے جتنا سایہ بڑھ جانے کے بعدحضرت عمر جمعہ کے لیے نکلتے تھے۔حضرت عمر کا اس بوریے سے کوئی ادنیٰ سا تعلق بھی نہیں ہے۔
یہ بوریا وہ نماز پڑھنے کے لیے بچھاتے تھے، اس لیے یہ بس ان کی اپنی ضرورت کے مطابق ہی ہوگا۔ اس لیے معلوم یہی ہوتا ہے کہ اس کی چوڑائی لمبائی زیادہ سے زیادہ ہمار ے عام جاے نماز جتنی ہی ہوگی۔اور چونکہ مسجد نبوی کا قبلہ جنوب مشرق میں، بلکہ اصلاً مشرق کی طرف تھا، اس اعتبار سے جب یہ بوریا بچھایا جاتا ہوگا تو یقیناًاس کا طول دیوار کے ساتھ ساتھ لگا ہوگا اور عرض پر سایہ آہستہ آہستہ پھیلتا ہوگا۔ ایک آدمی کے بیٹھنے کے لیے ڈیڑھ دو فٹ سے زیادہ چوڑا کپڑا ہی کافی ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ایک اندازہ سا لگایا جا سکتا ہے کہ مسجد نبوی کی اس دیوار کے دو ڈھائی فٹ سایہ ہونے پر نماز پڑھ لی جاتی تھی۔

لغوی مسائل

جدار المسجد الغربی، الغربی جدار کی صفت ہے نہ کہ مسجد کی۔
اس جملے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مغربی دیوار کے مغرب میں بوریا بچھایا جاتا تھا یا مشرق میں۔ اگر مغرب میں بچھایا جاتا تھا ، تو پھر یہ بات زوال سے پہلے کی ہورہی ہے اور اگر وہ مشرق میں بچھایا جاتا تھا تو پھر بات زوال کے بعد کی ہورہی ہے۔
روایت کے اگلے حصہ میں دو قرینے ہیں ، جو اس کا فیصلہ کرسکتے ہیں، لیکن دونوں ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ یعنی ’الضحاء‘ کا لفظ قرینہ پید اکررہا ہے کہ ابھی زوال سے پہلے ہی کا وقت تھا۔ اور بوریا پر سایہ کے چھانے کے الفاظ اس بات کا قرینہ پیدا کررہے ہیں کہ بوریا دیوار کی مشرقی جانب بچھایا جاتا تھا۔
لیکن ’ضحا‘کالفظ اپنے معنی میں حتمی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس سے کنایۃً مراد ظہر کا اول وقت بھی ہو سکتا ہے۔ جبکہ بوریا پر سایہ چھانے کے الفاظ حتمی ہیں۔ اس لیے کہ اگر بوریا مغربی دیوار کی مغربی سمت میں بچھا ہوتا تو یہ نہ کہا جاتا کہ ’’جب مسجد کا سایہ اس پورے بوریا کو ڈھانپ لیتا‘‘ بلکہ یہ کہا جاتا کہ جب سایہ صرف بوریے پر رہ جاتا۔ اس لیے کہ سورج کے طلوع ہوتے وقت دیواروں کے مشرقی جانب سایے سب سے لمبے ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ کم ہوتے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا ہی صحیح ہوتا کہ جب سایہ کم ہو کر صرف بوریے پر رہ جاتا تو جمعہ کے لیے حضرت عمر نکلتے۔بوریے اور سایے کے مغربی دیوار کے مشرق میں ہونے پر مزید گفتگو رجال متن کے تحت ہوگی۔
نقیل قائلۃ الضحاء،اس کی وضاحت میں علامہ زرقانی لکھتے ہیں:

قال البونی بفتح الضاد والمد وہو اشتداد النہارمذکر، فأما بالضم والقصر فعند طلوع الشمس مؤنث، ای انہم یقیلون فی غیر الجمعۃ قبل الصلٰوۃ وقت القائلۃ و یوم الجمعۃ یشتغلون بالغسل و غیرہ عن ذلک فیقیلون بعد صلاتہا القائلۃ التی یقیلون فی غیر یومہا قبل الصلٰوۃ، وقال فی الاستذکار ای انہم یستدرکون ما فاتہم من النوم علی ماجرت بہ عادتہم .
’’بونی نے کہا ہے کہ’ الضحاء ‘ مد اور ’ض‘ کے زبر کے ساتھ ہے۔ اس کے معنی روشن و تاباں دن کے ہیں۔یہ مذکر ہے۔ اور جو ’الضحی‘ الف مقصورہ اور ’ض‘ کی پیش کے ساتھ ہوتا ہے، اس کے معنی طلوع آفتاب کے بعد کا وقت کے ہیں، اور یہ ضحی مونث ہوتا ہے۔مراد یہ ہے کہ وہ جمعہ کے دن اپنے معمول کے مطابق نماز سے پہلے قیلولہ نہیں کرتے تھے۔ جمعہ کے دن غسل وغیرہ میں مصروف ہونے کی وجہ سے وہ قیلو لہ جو وہ باقی دنوں میں ظہر سے پہلے کرتے تھے، جمعہ کے بعد کرتے۔ ’استذکار ‘میں انھوں نے کہاہے کہ (مراد یہ ہے کہ )اپنے معمول کی نیند جو وہ پوری نہ کرسکے تھے، اس کا تدارک کرتے۔‘‘

نقیل قائلۃ الضحائکی تالیف دراصل یہ ہے کہ ’ قائلۃ ‘مصدر ہے اور مصدر مفعول مطلق للنوعیہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس سے بالعموم یہی سمجھا گیا ہے کہ ہم چاشت میں قیلولہ کرنے جیسا قیلولہ کرتے۔ لیکن اسے محض مفعول بہ لینے میں بھی کوئی خرابی نہیں ہے۔ یعنی پھر ہم وہ قیلولہ جو چاشت میں کرتے ،وہ جمعہ کے بعد کیاکرتے تھے۔اس تاویل کے بعد’ضحی‘ اور’ الضحاء ‘کے اس فرق کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے کہ لغت عامہ میں یہ دونوں لفظ چاشت ہی کے لیے بولے جاتے ہیں۔ کسی بعید معنی میں لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

درایت

قرآن و سنت سے تعلق

جمعہ کا وقت سنت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ظہر کی جگہ پڑھی جانے والی نماز ہے۔اسی لیے جس دن جمعہ کی نماز ہوتی ہے، اس دن ظہر کی نماز نہیں ہوتی۔اس سنت کی روشنی میںیہی بات درست ہے کہ اس کا وقت بھی زوال سے لے کر عصر تک کا وقت ہو۔ لیکن چونکہ یہ نظم اجتماعی کے تحت ادا کی جانے والی نماز ہے، اس لیے اس میں شرکت کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے، اس لیے اس کو وسط نہار میں ٹھیک زوال کے تھوڑی دیر بعد ادا کیا جاتا تھا تا کہ لوگ صبح اس کی تیاری کرکے زوال پر مسجد میں پہنچ جائیں اور پھر اطمینا ن سے اپنے گھروں میں پہنچ سکیں۔تاکہ قرب و جوار کی بستیوں اور دیہاتوں سے آنے والوں کے لیے عصر کی نماز کا مسئلہ نہ ہو۔اگر جمعہ تاخیر سے ادا کیا جاتا تو یقیناًواپس جانے والوں کی عصر کے قضا یا اس میں تاخیرکا اندیشہ ہوتا۔
اب چونکہ جمعہ ہر محلے کی مسجد میں ادا کرلیا جاتا ہے ، اس لیے اس مسئلے کو سمجھنا ذرا مشکل ہے ۔

احادیث باب پر نظر

یہ بات بہت سی روایتوں سے معلوم ہوتی ہے کہ گرمیوں میں ظہر میں تاخیر کی وجہ سے صحابہ اس سے پہلے کھانا کھا لیتے اور قیلولہ بھی کرلیتے تھے۔ یہاں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے کہ وہ قیلولہ جو صحابہ عام دنوں میں ظہرسے پہلے کرتے تھے، وہ قیلولہ جمعہ کے دن وہ نماز کے بعد کرتے تھے۔ اس لیے کہ جمعہ کی تیاری اور ظہر سے ذرا پہلے ادا کرنے کی وجہ سے پہلے قیلولہ ممکن نہ ہوتا تھا۔مثلاً بخاری کی روایت ہے:

عن انس قال کنا نبکر بالجمعۃ ونقیل بعد الجمعۃ . ( بخاری، رقم ۸۶۳)
’’انس کہتے ہیں کہ ہم جمعہ جلدی ادا کرلیتے تھے اور قیلولہ جمعہ کے بعد کرتے تھے۔‘‘

لیکن اس جلدی ادا کرنے کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ جمعہ زوال سے پہلے ادا کیا جاتا تھا۔ دوسری بہت سی روایتیں یہ بتاتی ہیں کہ آپ جمعہ زوال کے بعدہی ادا کرتے تھے۔ مثلاً بخاری کی روایت ہے:

عن انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ :ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یصلی الجمعۃ حین تمیل الشمس . (بخاری ،رقم ۸۶۲)
’’انس بن مالک کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورج کے مائل ہونے پرجمعہ پڑھاتے۔‘‘

اس روایت سے واضح ہورہا ہے کہ جمعہ زوال سے پہلے نہیں، بلکہ بعد میں پڑھا جاتا تھا۔ لیکن یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ میں ظہر کی طرح گرمیوں میں تاخیر نہیں کی جاتی تھی،بلکہ زوال کے فوراً بعد پڑھ لیا جاتا تھا۔ اس کی وجوہات ہم اوپر بیان کرچکے ہیں۔مسلم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے اور پھر سایے اتنے نہ ہوتے تھے کہ ان کے سایے میں گھروں کو لوٹ جائیں:

قال سلمۃ بن الاکوع :کنا نجمع مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا زالت الشمس ثم نرجع نتتبع الفیء . (مسلم، رقم۸۶۰)
’’سلمہ بن الاکوع کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے ، جب سورج کو زوال ہوتا، پھر ہم سایے ڈھونڈتے ڈھونڈتے گھروں کو جاتے۔‘‘

یہی بات اس روایت سے بھی معلوم ہوتی ہے:

قال سلمۃ بن الاکوع: کنا نصلی مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الجمعۃ فنرجع وما نجد للحیطان فیأ نستظل بہ. (مسلم، رقم۸۶۰)
’’سلمہ بن الاکوع کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے اور پھر جب ہم لوٹتے تو دیواروں کے سایے اتنے نہ ہوتے کہ ہم ان کی چھاؤں پاتے۔‘‘

بخاری میں ایک روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا روایات کے برخلاف جمعہ میں بھی ظہر کی طرح گرمیوں میں دیر کی جاتی تھی:

عن انس بن مالک قال:کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا اشتد البرد بکر بالصلاۃ واذا اشتد الحر ابرد بالصلاۃ یعنی الجمعۃ قال یونس بن بکیر اخبرنا ابو خلدۃ فقال بالصلاۃ ولم یذکر الجمعۃ.(بخاری، رقم ۸۶۴)
’’انس بن مالک سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی شدیدہوتی تو نماز جلدی کراتے اور جب گرمی زیادہ ہوتی تو نماز کو مؤخر کرکے، ٹھنڈا کرکے ،پڑھتے۔نماز سے مراد جمعہ ہے۔ یونس کہتے ہیں کہ خلدہ نے بھی الصلوٰۃ کہا ہے، لیکن انھوں نے جمعہ کا ذکر نہیں کیا۔‘‘

اس روایت کے پہلے حصے میں ’الصلٰوۃ ‘کہا گیا ہے، جس کی وضاحت ’’نماز سے مراد جمعہ ہے‘‘ کے الفاظ سے کی گئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس روایت کے اگلے حصے میں اس کی تردید بھی موجود ہے۔ اس لیے یہ روایت اس بات میں قابل احتجاج نہیں ہے کہ جمعہ میں بھی ظہر کی طرح شدت موسم کی بنا پر تاخیر و تقدیم کی جاتی تھی۔
جن علما نے اسے زوال سے پہلے ادا کرنے کا کہا ہے، ان کے دلائل دو طرح کی روایتوں سے ہیں۔ ایک وہ اثر ہیجس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما زوال آفتاب سے پہلے ہی جمعہ پڑھ لیتے، اور دوسرے وہ حدیث ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو عید کہا ہے۔ حنابلہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر یہ عید ہے تو پھر عید کے وقت پر ہی نماز پڑھنی چاہیے۔(فتح الباری ۲: ۳۸۷)
ہمارے خیال میں یہ بات کہ جمعہ زوال سے پہلے پڑھا جائے ،درج ذیل امور کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہے:
۱۔ جاری سنت کے خلاف ہے۔
۲۔ اگر یہ عیدکی نماز ہے تو پھر جمعہ کے دن بھی عید کی طرح ظہر ادا ہونی چاہیے۔
۳۔جمعہ کو عید کہنے کا مطلب اس میں عید جیسے اجتماع عام کی طرف اشارہ ہے، نہ کہ اس کی نماز اس کے احکام کے پہلو سے۔ایسا اجتماع پانچ نمازوں میں نہیں ہوتا۔
۴۔ رہا یہ مسئلہ کہ ابو بکر و عمر نے جمعہ زوال سے پہلے پڑھایا تھا تو یہ وقت کے تعین کی غلطی ہے۔ جو راوی کو لگی ہے۔ سردیوں میں بالخصوص ظہر کا وقت ایک تو جلدی آنے کی وجہ سے، دوسرے مطلع میں نکھار اور عدم وضوح کی وجہ سے یہ گمان ہو سکتا ہے کہ ابھی شاید زوال نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ظہر کے بارے میں بھی ایک روایت ملتی ہے جس میں صحابی کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتا چلتا تھا کہ وقت کتنا گزر گیا ہے اور کتنا باقی ہے۔

عن انس بن مالک قال:کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصلی صلاۃ الظہر ایام الشتاء وما ندری ما ذہب من النہار اکثر او ما بقی منہ. (مسند احمد، رقم ۱۲۶۵۵)
’’انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھاتے تو ہم نہیں جان پاتے تھے کہ کتنا دن گزر گیا جو گزر گیا وہ زیادہ ہے یا جو باقی رہ گیاہے۔‘‘

یہ مسائل اس دور کے ہیں ، اس لیے یہ ممکن ہے کہ ایسے دنوں ہی کی وہ جمعہ کی نمازیں ہوں جن کے بارے میں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ زوال سے پہلے پڑھی گئیں۔ 

روایت

امام مالک نے جمعہ کے وقت کے لیے سیدنا عمر کے عمل سے استشہاد کیا ہے۔ یہ استشہاد نہایت قوی ہے، اس لیے کہ
۱۔ یہ خلفاے راشدین کے زمانے کا عمل ہے۔
۲۔ فعل جاری ہونے کی وجہ سے یہ کہنا نا ممکن ہے کہ اس سے پہلے عمل کوئی اور تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسے تبدیل کیا ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کے بارے میں ویسے ہی ریکارڈ محفوظ ہوتا جیسا کہ تراویح کی جماعت کا اہتمام کرنے کاریکارڈ موجود ہے۔اگلی روایت میں چل کر ہم دیکھیں گے کہ امام مالک کا اپنا مسلک بھی یہی ہے کہ جمعہ زوال کے بعد دوپہر میں پڑھا جاتا ہے، نہ کہ چاشت کے وقت۔یعنی اہل مدینہ کا اصلاً عمل اور مسلک یہی ہے کہ جمعہ ظہر ہی کے وقت میں پڑھا جاتا ہے ، البتہ ظہر میں ابراد کے حکم کا اطلاق جمعہ پر نہیں کیا جاتا تھا۔

رجال سند

یہ روایت امام مالک نے اپنے چچا سہیل سے اور انھوں نے اپنے والد یعنی امام مالک کے دادا مالک بن ابی عامرسے کی ہے۔ اس لیے یہ روایت ایک طرح سے اہل مدینہ کے ایک گھرانے کا مشاہدہ ہے۔

رجال متن

اس روایت میں عقیل بن ابی طالب کے بوریا کا ذکر ہے۔ یہ حضرت علی کے بھائی اور ابو طالب کے صاحب زادے ہیں۔ یہ بزرگ ترین صحابہ میں سے تھے ۔یہ چونکہ بزرگ تھے، اس لیے ننگی زمین پر ان کا بیٹھنا مشکل ہوتا ہوگا۔ اس لیے یہ اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بوریا بچھا لیتے تھے جس سے فرش کی سختی جاتی رہتی ۔
مسجد نبوی کا قبلہ جنوب مشرق میں(جنوب کی طرف زیادہ اور مشرق کی طرف کم) ہے ۔چنانچہ مغربی دیوار کی مشرقی سمت ہی مسجد کے صحن میں ہوگی۔ اس لیے زوال کے بعد مسجد نبوی کی دیوارکے مشرق میں سایہ ہوگا، دھوپ سے بچنے کے لیے جس کے سایے میں نمازی بیٹھنا پسند کرتے ہوں گے۔ بزرگ ہونے کی وجہ سے حضرت عقیل اس دیوار کے سائے میں نماز سے پہلے ہی اپنا بوریا بچھا دیتے ہوں گے کہ ان کی یہ جگہ محفوظ رہے اور جب جمعہ ہو تو وہ سایے میں نماز پڑھ سکیں ۔
اس تفصیل سے بھی ہماری اس رائے کو تقویت ملتی ہے جو ہم نے بوریے کی سمت متعین کرتے ہوئے شروع میں بیان کی ہے کہ بوریا مغربی دیوار کی مشرقی سمت میں بچھتا تھا۔اس روایت کی حکایت کرنے والے کایہ مشاہدہ حضرت عقیل کے اس مستقل عمل سے ہوا۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جولائی 2005
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Dec 02, 2017
48 View