حدیث عہد بہ عہد - ساجد حمید

حدیث عہد بہ عہد

 [یہ مصنف کا کوئی باقاعدہ مضمون نہیں ہے، بلکہ یہ ایک لیکچر کا خاکہ (outline)ہے جو شرکا کے مطالبہ پر لکھا گیا۔ اسے استفادۂ عام کے لیے یہاں شائع کیا جارہا ہے۔ ادارہ]

 

مقام نبوت

ایک طرف: ۱۔ دین کا تنہا ماخذ ۱؂ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے، ۲۔ یہ صرف انھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم (mankind) کو ان کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی ، ۳۔ یہ صرف انھی کا مقام ہے کہ اپنے قول ۲؂ و فعل ۳؂ اور تقریر ۴؂ و تصویب ۵؂ سے وہ جس چیز کو دین کہہ دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین ہو گا۔ دوسری طرف: ۱۔ ہر مسلمان کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ۶؂ کو ماننا ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔لہٰذا ۲۔ امت کا ہر وہ شخص جس کے سینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان کی رمق ۷؂ بھی باقی ہے، وہ یہی مانتا ہے، اوراسے یہی ماننا چاہیے کہ دین کے معاملے میں آپ کے ہر حکم کو ماننا مسلمان ہونے کے لیے لازم ہے۔ آج تک اس بات پر کسی مسلمان کو اختلاف نہیں ہوا ہے۔ اختلاف صرف اور صرف اس بات پر ہوا ہے کہ ۱۔ ایک فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا قول رسول(saying) واقعی آپ کا فرمان ہے بھی یا نہیں ؟ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قول کی نسبت ۸؂ کے ثبوت ۹؂ میں اختلاف ہوا ہے)۔ ۲۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ آپ ہی کا فرمان ہے تو پھر اس میں اختلاف ہے کہ وہ ثبوت کس درجے کا ہے؟ (یعنی اس کا ثبوت اتنا قوی ہے کہ وہ یقینی درجے کو پالے ۱۰؂ یا وہ صرف ظنی درجے۱۱؂ کا ہے)۔ ۳۔ اگر کوئی بات ظنی درجے پر ثابت ہوتی ہے تو اسے دین کا حصہ بنایا جائے یا نہیں؟ یہ بات واضح رہے کہ یقینی درجے پر ثابت ہو کر دین بننے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے، لیکن اس میں اختلاف ہے کہ ظنی الثبوت ۱۲؂ کا کیا کیا جائے؟ واضح رہے کہ ہمارا موضوع ثبوت مآخذ ہے، یہاں فہم اور اس کا اختلاف زیر بحث نہیں ہے۔ یقیناً امت میں فہم کا اختلاف بھی ہوا ہے، لیکن وہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔

اس اختلاف کی وجہ

اگر کسی بات کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یقینی سطح پر ثابت ہوجاتی ہے تو اس کو دین میں شامل کرنا درست ہے، اس پر سب کا اتفاق ہے۔لیکن جب کوئی بات ظنی ہوتی ہے تو کیا اس کو دین کا حصہ بنایا جائے؟ ۱۳؂ اختلاف اسی میں ہے۔ امت کا اصلاً مسلک ۱۴؂ یہی ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ کچھ نے اس کا صریح انکار کیا اور کچھ نے اسے مانا، مگر مشروط طریقے پر۔ان کے قبول کرنے کے شرائط ۱۵؂ و دلائل آگے آتے ہیں۔ اس انکار یا قبولیت کے لیے شرائط لگانے کی وجہ یہ تھی کہ جو چیز ظن ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ وہ غلط ہو سکتی ہے، وہ جھوٹ یا افترا ۱۶؂ ہو سکتی ہے، وہ کسی راوی کا وہم ہو سکتی ہے۔ اس لیے اسے دین میں داخل کرنا کسی راوی ۱۷؂ کی بات کو دین میں داخل کرنے کے مترادف ۱۸؂ ہے۔ اگر ایسا کردیا جائے تو امام شاطبی اور امام ابن حزم کے الفاظ میں شریعت معصوم (pure) نہیں رہے گی۔ ساری امت اصولی مسائل میں حدیث کے معاملے میں پچھلی چودہ صدیوں سے انھی نکات میں اختلاف سے نبرد آزما ۱۹؂ رہی ہے۔ آگے ہم اسی کی تفصیل کریں گے۔

عہد۲۰؂ صحابہ رضی اللہ عنہم

صحابہ رضی اللہ عنہم کا عہد دو حصوں میں منقسم ۲۱؂ ہے: ۱۔ عہد نبوی میں، ۲۔ عہد نبوی کے بعد۔

۱۔عہد نبوی میں

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں (یعنی آپ کی زندگی میں)دین کے معاملے میں جو کچھ آپ فرماتے، سب کے لیے واجب الاطاعت تھا، اس کا انکار نبوت کا انکار بن سکتا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم صرف یہ فرق کرتے تھے کہ آیا یہ بات آپ ذاتی حیثیت ۲۲؂ میں کہہ رہے ہیں یا رسول کی حیثیت سے؟۲۳؂ اس لیے وہ پوچھ لیتے تھے کہ آیا یہ آپ اللہ کی طرف سے کہہ رہے ہیں یا اپنی طرف سے۔ اس دور میں قرآن ،سنت اورحدیث سب کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سننے کی وجہ سے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں تھی، اگر کسی کو شک یاconfusion بھی ہوتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر دوبارہ پوچھ سکتا تھا۔

۲۔ عہد نبوی کے بعد

آپ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد معاملہ یوں نہیں رہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر سنائی گئی ہر بات کو ایسے ہی نہیں مانا گیا، بلکہ صحابہ کرام نے آپس میں ایک دوسرے سے سننے کے باوجود بھی تحقیق و تدقیق کی ضرورت محسوس کی ۔ اس کے لیے درج ذیل طریقے صحابہ کرام میں نظر آتے ہیں۔ ۱۔ گواہی لے کر یہ جاننا کہ واقعی آپ نے ایسا فرمایا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تین دفعہ دروازہ کھٹکھٹانے پر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوسرا گوا ہ لے کر آؤ، ۲۴؂ (تحقیق کا یہ طریقہ بعد میں روایت ۲۵؂ کہلایا، اور علم رجال۲۶؂ کا عظیم علم وجود میں آیا)۔ ۲۔ قرآن پر پیش کرنا، مثلاً میت کو رونے والوں کے رونے سے عذاب ہونا ۲۷؂ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکا قرآن۲۸؂ کی روشنی میں رد کرنا،(یہ طریقہ بعد میں درایت۲۹؂ کہلایا)۔ ۳۔ سنت جاریہ یا معلوم و معروف متفق علیہ چیزوں پر پیش کرکے رد و قبول کرنا۔ مثلاً چولہے پر پکی چیز سے وضوکا ٹوٹنا ۳۰؂ کو حضرت عروہ کے بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس اصول پر رد کردیا کہ آپ کا ایک عمومی عمل جس پر سب لوگ عمل کرتے ہیں اور پانی گرم کرکے وضو کرتے ہیں، اس کی رو سے یہ روایت کمزور ہے لہٰذا انھوں نے ماننے سے انکار کردیا، (یہ طریقہ بھی درایت کہلایا)۔ ۴۔عقل پر پیش کرنا ۔ جب سیدہ کے سامنے یہ روایت پیش کی گئی کہ عورتوں اور کتوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو سیدہ نے کہا کہ تم نے ہمیں ان جانوروں جیسا بنا دیا، ۳۱؂ (یہ طریقہ بھی درایت کہلایا)۔

خلفاے راشدین اور حفاظت حدیث

۱۔اخبار آحاد (حدیث)کو عہد نبوی ہی کی طرح دور خلفاے راشدین میں بھی محفوظ کرنے کی کوئی خاطر خواہ کوشش نظر نہیں آتی، حالاں کہ اگر حفاظت دین کا انحصار اس پر تھا تو ایسا ضرور ہونا چاہیے تھا،بلکہ بعض مواقع پرجمع کردہ مواد کو ضائع کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ۳۲؂ ۲۔البتہ خلفاے راشدین کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے گئے فیصلوں (قضا )کی تلاش رہتی تھی۔ ایسا چند مقدمات میں ہوا ہے۔ ۳۔مقدمات ہی کے معاملے میں۳۳؂ یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلوں کے لیے چارچیزوں کو اہمیت دیتے: ۱۔قرآن میں دیکھا جائے ، اس میں نہ ملے تو ب۔نبی اکرم کے عمل و قول میں دیکھا جائے،اس میں نہ ملے تو ج۔پہلے سے طے شدہ امور میں دیکھا جائے، اس میں نہ ملے تو د۔ خود قیاس ۳۴؂ کے اصول پر غور کیا جائے۔ ۳۵؂

عہد ما بعد الصحابہ

ائمۂ فقہ

ثبوت کے اعتبار سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والی چیزوں کو دو حصوں میں بانٹا گیا: ۱۔ تواتر سے ملنے والی(قرآن اور سنت)، اس کو یقینی مانا گیا، اسے علم قرار دیا گیا۔ ۲۔ خبر واحد سے ملنے والی(حدیث)، اس کو بالاتفاق ظنی مانا گیا، اسے علم نہیں، بلکہ خبر قرار دیا گیا۔ ۳۶؂ قرآن مجید، اور سنت متواترہ سے (یعنی تواترسے )ملنے والے دین کو لازماً مانا جائے گا، اس کا منکر کافر ہو گا۔ خبر واحد سے ملنے والے دین کو ماننا لازم نہیں ، دلیل کی بنا پر انکار جائز ہے۔ اس کے منکر کو کافر نہیں کہا جائے گا۔ دین یقینی ہے، اس میں ظن کو داخل نہیں کیا جائے گا۔اسی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر انکارحدیث کا پہلا الزام لگا ۔۳۷؂ یہ نظریات اہل ظاہر اور محدثین کے سوا اس وقت کی امت کے بڑے حصے(main-stream) کے تھے۔

امام شافعی(ولادت 135ھ)

امام شافعی رحمہ اللہ نے فقہا کے اس فکر کے دھارے کہ ظن کو دین میں شامل نہیں کیا جائے، کو تبدیل کیا۔ ۳۸؂ ان کے زمانے تک جمع حدیث کا کام شروع ہو کر تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا، اور سند کے اصولوں ۳۹؂ کا کام اپنے ابتدائی مراحل میں تھا۔ امام شافعی نے یہ نظریہ دیا کہ علم کے دو درجے ہیں: ایک یقینی دوسرا ظنی ۴۰؂ (یہاں تک وہ اپنے سے پہلے علماسے متفق ہیں)۔ لیکن انھو ں نے ظن کو دین میں عملی معاملات میں شامل کیا ۔ ۴۱؂ بہت سے دلائل میں سے ان کی حتمی دلیل یہ ہے کہ حدود کے معاملے میں دوگواہوں کی گواہی کے اصول پر ہم ظنی بات پر عمل کرتے ہیں، انھوں نے مثال دی کہ قاضی ایک قاتل کو صرف دو گواہوں کی گواہی پر سزاے موت دے دیتا ہے، اور یہ ثبوت ظنی درجے کا ہے۔ اگر قاضی سے پوچھیں کہ یہ قاتل واقعی (یعنی یقینی معنی میں)قاتل ہے؟ تو قاضی انکار کرے گا، وہ کہے گا کہ یہ ظاہری معنی ۴۲؂ میں ہے، جبکہ یہ اللہ و رسول ہی کا حکم ہے کہ دو گواہوں کی گواہی پر حدود نافذ کیے جائیں۔ اس لیے یہ بات مانی جائے کہ دو گواہوں کی گواہی پر حدیث کی بات پر بھی ہم عمل کریں ،مگر عقیدہ نہیں بنائیں۔ جیسے ہم قتل اور اس پر دو گواہوں کی صورت میں کرتے ہیں۔

امام شافعی کے بعد

اگلی تمام صدیوں میں امام شافعی ہی کا نقطۂ نظر حکومت کرتا رہا ہے۔ احناف ، ۴۳؂ مالکیہ ۴۴؂ اور شوافع،۴۵؂ سب یہ مانتے ہیں کہ خبر واحد پر عمل کیا جائے گا، اور محض اس کی بنیاد پر عقیدہ نہیں بنایا جائے گا۔

امام ابن حزم (۱۰۶۴ء) یا اہل ظاہر

ابن داؤد ظاہری کے اصولوں کی روشنی میں ابن حزم نے یہ نظریہ دیا کہ دین کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے، اس لیے وہ یقیناً محفوظ ہے۔ لہٰذا ثقہ راویوں کے ذریعے سے ملنے والی حدیثیں ، معجزانہ طور پر حفاظت الہی سے ہم تک پہنچی ہیں، لہٰذا وہ یقینی ہیں۔

استدلال

۴۶؂ ابن حزم کے استدلال کے دو حصے ہیں: ۱۔ ان کے نزدیک شریعت معصوم ہے، یعنی خطا ، تبدیلی اور ضائع ہونے سے پاک ہے۔ ان کے نزدیک دین صرف اور صرف قطعی ہونا چاہیے، وگرنہ ا س کی حجت۴۷؂ باقی نہیں رہے گی۔ ۲۔ اور ظن کو دین میں داخل کرنا حرام ہے۔ اب اس بات کا لازمی نقاضا ہے کہ سارے کا سارا دین قطعی اور یقینی ہونا چاہیے، لیکن حقیقتاًایسا نہیں ہے۔ قرآن اور سنت متواترہ یقینی ہیں، لیکن خبر واحد ظنی ہے۔ امام ابن حزم خبر واحد کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں، وگرنہ ان کے اصول کے مطابق دین کی حجت باقی نہیں رہی گی، یا یہ ماننا پڑے گا کہ دین ضائع ہو گیا، اور ابن حزم اسے ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ لہٰذا انھوں نے یہ کہا کہ اگر میں تم لوگوں کو ایک ایسی دلیل بتادوں جو ظنی کو یقینی بناتی ہے تو تمھیں اسے یقینی ماننا پڑے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ واقعۂ افک میں ایک طرف منافقین کا الزام تھا، اور دوسری طرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکی اپنی ذات کے حق میں گواہی تھی کہ میں پاک دامن ہوں، یہ دونوں باتیں ظنی تھیں۔ جب قرآن مجید میں براء ت ۴۸؂ نازل ہوئی کہ آپ پاک دامن ہیں اور منافقین جھوٹ بول رہے ہیں تو اس سے سیدہ عائشہ کی بات یقینی ہو گئی، اور منافقین کی بات یقیناًباطل قرار پائی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ظنی بات کی تصدیق اگریقینی ذرائع سے ہو جائے تو اس سے وہ ظنی بات یقینی ہو جاتی ہے۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ اب میں آپ کو حدیث کے بارے میں قرآن کی ایسی ہی بات بتاتا ہوں، جیسی سیدہ کی براء ت، جس سے یہ ظنی روایتیں یقینی ہو جائیں گی۔ان کی یہ بات دو نکات پر مشتمل ہے:

پہلا نکتہ

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ.(الحجر ۱۵: ۹)

''بے شک یہ (الذکر)نصیحت ہمیں نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔''

اس آیت میں اللہ تعالی نے 'اَلذِکْر' کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ تمام اہل لغت اس بات پر متفق ہیں کہ 'اَلذِکْر' سے مراد وحی ۴۹؂ ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ اس لیے تمام وحی کی حفاظت ہونی چاہیے۔

دوسرا نکتہ

پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْہَوٰی. اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی. (النجم ۵۳: ۳۔۴)

''اور آپ خواہش نفس سے منہ سے بات نہیں نکالتے، یہ تو وحی ہے جو ان پر کی جاتی ہے۔''

یعنی آپ کی ہر بات وحی ہے۔ اور آپ کی یہ ذمہ داری تھی:

وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ.(النحل ۱۶: ۴۴)

''اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر واضح کردواور اس لیے کہ وہ غور و فکر کریں۔''

یعنی یہ کہ آپ لوگوں کے لیے تبین (وضاحت)کریں جو کچھ ان کی طرف نازل ہوا ہے۔ ان دونوں آیات سے واضح ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین دین کی تبیین ہیں، اور ان کی تمام باتیں وحی ہیں۔ لہٰذا ان دونوں باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن کی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام فرامین بھی وحی ہیں، جب وہ وحی ہیں تو اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے، جس کی ذمہ داری اللہ نے لی ہو، اس کی حفاظت میں نقص کیسے رہ سکتا ہے، لہٰذا ثقہ راویوں سے آنے والی ہر حدیث ویسے ہی محفوظ ہے، جیسے قرآن۔ لہٰذا ہر صحیح حدیث پر عمل بھی کیا جائے گا اوراس سے عقیدہ بھی بنایا جائے گا۔

امام شاطبی

امام شاطبی ایک اور راہ نکالتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ سنت قرآن پر مبنی اور اس کے گرد گھومتی ہے، لہٰذا اسے قرآن کاسہارا حاصل ہے ۔ان کے نزدیک بھی شریعت معصوم ہے، یعنی خطا ، تبدیلی اور ضائع ہونے سے پاک ہے۔۵۰؂ یعنی سنت کو قرآن مجید کی قطعیت کا سہارا حاصل ہے۔

سرسید احمد خان

وقارنبوت اور وقاراسلام پرحرف لانے والی تمام روایات کو، اگر ان کی تاویل بھی ناممکن ہو تو قبول نہیں کیا جائے گا (مقالات سرسید) ۵۱؂ ،لیکن ان کے کام کے نتیجے میں: بعض لوگوں نے سرے سے ہی حدیث و سنت کا انکار کردیا۔چنانچہ اہل قرآن نامی مسلک وجود میں آیا، جو صرف قرآن ہی کو ماخذدین مانتا ہے۔ بعض لوگ ایسے پیدا ہوئے کہ انھوں نے اہل ظاہر کا مسلک اختیار کرلیا۔

مدرسۂ فراہی

مدرسۂ فراہی حدیث کی وہی حجت مانتا ہے جو امام شافعی سے اب تک جمہور امت میں چلی آرہی ہے، انھی کی طرح یہ لوگ سنت متواتر ہ اور خبر آحاد کو حجت کے اعتبار سے مختلف مانتے ہیں۔ سنت متواترہ قرآن ہی کی طرح ثابت اور یقینی ہے، اس کا انکار کفر ہے، جبکہ حدیث کی حجیت ظاہری اور ظنی ہے۔ یہ وہی مسلک ہے جوبالاتفاق (اہل ظاہر اورموجودہ اہل حدیث کے سوا )ساری امت کا متفقہ مسلک ہے، مدرسہ فراہی صرف اس بات میں مختلف ہے کہ خبر واحد(حدیث)کی قبولیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا مضمون قرآن اور سنت متواترہ کا سہارا پائے۵۲؂ ۔ اس کے بغیر اسے دین کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا ، اس لیے کہ ان کے سہارے کے بغیر خبر میں آیا ہوا علم ظن ہے ،جسے دین بنانا درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ جو چیز ظن ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ وہ غلط ہو سکتی ہے، وہ جھوٹ یا افترا ہو سکتی ہے، وہ کسی راوی کا وہم ہو سکتی ہے۔ اس لیے اسے دین میں داخل کرنا کسی راوی کی بات کو دین میں داخل کرنے کے مترادف ہے۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی اس موقف کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

'' سنت یہی ہے اور اِس کے بارے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اِس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے ۔وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے ،یہ اِسی طرح اُن کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا اِس کے بارے میں اب کسی بحث و نزاع کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔ دین لاریب، اِنھی دو صورتوں میں ہے ۔ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے ،نہ اُسے دین قرار دیا جاسکتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کے اخبارِآحادجنھیں بالعموم ''حدیث'' کہا جاتا ہے، اِن کے بارے میں یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ اِن کی تبلیغ و حفاظت کے لیے آپ نے کبھی کوئی اہتمام نہیں کیا، بلکہ سننے اور دیکھنے والوں کے لیے چھوڑ دیا ہے کہ چاہیں تو اِنھیں آگے پہنچائیں اور چاہیں تو نہ پہنچائیں، اِس لیے دین میں اِن سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں اِن میں آتی ہیں ،وہ درحقیقت، قرآن و سنت میں محصور اِسی دین کی تفہیم و تبیین اور اِس پرعمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کابیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اِس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اُسے قبو ل کیا جا سکتا ہے۔ اِس دائرے کے اندر ، البتہ اس کی حجت ہر اُس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اِس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اسے قبول کر لیتا ہے ۔ اِس سے انحراف پھر اُس کے لیے جائز نہیں رہتا ، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اِس میں بیان کیا گیا ہے تو اُس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے ۔'' (میزان ۱۵)

_______

۱۔only source of devine-religion
۲۔ verbal expression, saying
۳۔ practice or act
۴۔ tacit approvals
۵۔ verbal approvals
۶۔ commands and sayings
۷۔ mild traces
۸۔ act of attributing a hadith to the Holy Prophet
۹؂ ثبوت کے طریقے: ایک طریقہ تواتر ہے، جس کو پوری امت ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل (transmit ) کرتی ہے، اور اس میں منتقل کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ خطا، بھول چوک اور وہم کا امکان نہیں رہتا۔ اسے بالاتفاق یقینی مانا جاتا ہے۔دوسرا طریقہ خبر واحدہے (اسے حدیث بھی کہا جاتا ہے)، یعنی ایک سے چار ، ایک سے دس یا ایک سے ستر تک کی تعداد کا ایک بات کو منتقل کرنا۔ اسے جمہور امت(majority ) ظنی مانتی ہے اور اہلِ ظاہر (a sect )اور اہل حدیث اسے یقینی مانتے ہیں۔ان طریقوں سے ثابت ہونے والے دین کے مآخذ یوں ہیں:
۱۔تواتر سے ملنے والے =قرآن، سنت متواترہ= ثبوت :یقینی۔
۲۔ خبر واحد سے ملنے والی = حدیث = ثبوت :ظنی ۔
۱۰۔ having 100 percent certitude
۱۱۔ having a 51 to 99 percent certitude
۱۲۔ a proof of a satisfactory level, but not providing a 100 % certitude
۱۳؂ تفصیل کے لیے دیکھیے ابن حزم کی ’’الاحکام‘‘ اور شاطبی کی ’’موافقات‘‘، امام شافعی کی ’’الرسالہ‘‘ ،جصاص کی ’’فصول فی الاصول‘‘ اور آمدی کی الاحکام۔ ابن حزم کی بحث بہت تفصیلی ہے، ان کی کتاب کی جلد۱کے صفحہ ۲۹۲ سے آگے اسی موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ خطیب بغدادی کی الکفایہ: ص ۴۳۲
۱۴۔ point of view
۱۵؂ مثلاً یہ کہ روایت ثقہ راویوں سے ہو، قرآن و سنت ، عقل ، فعل الجاری کے خلاف نہ ہو، اور احکام سے متعلق ہو، عقیدہ و علم سے متعلق نہ ہو وغیرہ۔
۱۶۔ fabrication
۱۷۔ reporter of a hadith
۱۸۔ equal
۱۹۔ to be in contest
۲۰۔ era, time period
۲۱۔ divided
۲۲۔ as mere a human, not as a prophet
۲۳۔ as a prophet
۲۴؂ بخاری، رقم ۶۲۴۵غالباً اسی سے بعد میں امام شافعی نے ’’الرسالہ‘‘ میں قبول روایت میں دوگواہوں سے ثابت ہونے والے حکم پر عمل کا استدلال اختیار کیا۔
۲۵۔ rules of authentic narration
۲۶۔ a Muslim discipline regarding the judgment of a hadith-narrator, whether he qualifies to be considered a reliable/trustworthy reporter or not
۲۷؂ بخاری، رقم ۱۲۸۸۔
۲۸؂ وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرَی (الانعام ۶: ۱۶۴) کی روشنی میں، یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
۲۹؂ قرآن، سنت متواترہ ،مسلمات عقل اور ثابت شدہ حقائق جو تواتر یا مشاہدے سے ثابت ہوں، کی روشنی میں خبر واحد کے مندرجات کو رد و قبول کے امتحان سے گزارنا۔ اصول الفقہ کو بھی علم درایت کہا جاتا ہے۔علامہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے ’’الکفایہ‘‘ میں ان اصولوں کو یوں بیان کیا ہے:

خبر الواحد لا یقبل فی شیء من أبواب الدین المأخوذ علی المکلفین العلم بہا والقطع علیہا والعلۃ فی ذلک أنہ: إذا لم یعلم ان الخبر قول رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کان أبعد من العلم بمضمونہ فأما ما عدا ذلک من الاحکام التی لم یوجب علینا العلم بان النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم قررہا وأخبر عن اللّٰہ عز و جل بہا فان خبر الواحد فیہا مقبول والعمل بہ واجب... ولا یقبل خبر الواحد فی منافاۃ حکم العقل وحکم القرآن الثابت المحکم والسنۃ المعلومۃ والفعل الجاری مجری السنۃ کل دلیل مقطوع بہ (۴۳۲)
’’خبر واحد دین کے ان موضوعات میں قبول نہیں کی جائے گی جن میں امت کو یقینی علم اور قطعیت کا مکلف کیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس چیز میں یہ بات ہی قطعی نہ ہو کہ یہ خبر قول رسول ہے تو وہ اپنے مضمون میں تو اور بھی اس مقام سے بعید تر ہے کہ اسے علم قرار دیا جائے۔ چنانچہ دین کے ان موضوعات کے سوا جو چیزیں احکام سے متعلق ہیں، جن میں علم کا وجوب نہیں ہے، اور وہ آپ ہی نے مقرر کی ہوں ، اور اللہ ہی کی طرف سے ہمیں آگاہ کیا ہو، ان موضوعات میں خبر واحد قبول کی جائے گی، اور اس پر عمل کیا جائے گا۔... خبر واحد اس وقت بھی قبول نہیں کی جائے گی، جب وہ عقل کے فیصلے کے منافی ہو، قرآن کے محکم فیصلے کے منافی ہو، اور معلوم و معروف سنت کے منافی ہو یا اس عمل کے منافی ہو جو سنت ہی کی طرح جاری و ساری ہو، گویا جو کسی بھی قطعی دلیل کے منافی ہو(قبول نہیں کی جائے گی)۔‘‘

۳۰؂ مسلم، رقم ۳۵۳۔
۳۱؂ بخاری، رقم ۵۱۱ واضح رہے کہ اس حدیث میں دونوں استدلال اختیار کیے گئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی عمل سے اور عقل سے۔ جب انھوں نے یہ کہا کہ تم نے ہمیں کتوں کی طرح بنا دیا ہے، تو یہ عقلی استدلال ہے۔ روایت کے الفاظ یوں ہیں: عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَاءِشَۃَ، أَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَہَا مَا یَقْطَعُ الصَّلٰوۃَ، فَقَالُوا: یَقْطَعُہَا الکَلْبُ وَالحِمَارُ وَالمَرْأَۃُ، قَالَتْ: لَقَدْ جَعَلْتُمُوْنَا کِلاَبًا، لَقَدْ رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ وَاِنِّی لَبَیْنَہُ وَبَیْنَ القِبْلَۃِ، وَأَنَا مُضْطَجِعَۃٌ عَلَی السَّرِیرِ، فَتَکُوْنُ لِیَ الحَاجَۃُ، فَأَکْرَہُ أَنْ أَسْتَقْبِلَہُ، فَأَنْسَلُّ انْسِلاَلًا وَعَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَاءِشَۃَ نَحْوَہُ۔
۳۲؂ تاریخ تشریع الاسلامی، ص ۴۵۔
۳۳؂ اس لیے کہ یہ اقوال حکمران صحابہ کے ہیں، اور انھوں نے یہ باتیں اپنے اپنے زمانے کے قاضیوں (judges ) کو کہی تھیں۔ دینی احکام کے بارے میں مجھے صحابہ کی طرف سے ایسی کوئی بات نہیں ملی کہ دین کی تلاش کے لیے بھی یہی بات کہتے ہوں جو فیصلوں کے لیے اوپر کہی گئی ہے۔
۳۴۔ Analogy: a juristic instrument to derive law on the bases of cause, like wine is prohibited due to intoxication; so every intoxicant is prohibited
۳۵؂ یہ باتیں الفاظ کے اختلاف کے ساتھ حضرت ابو بکر کے سوا باقی چاروں حکمران صحابہ (حضرت عمر،عثمان، علی اورمعاویہ رضی اللہ عنہم)سے ملتی ہیں۔ حضرت معاذ کو بھی شامل کرلیا جائے تو ان کانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی ایک مکالمہ ریکارڈ پر ہے۔
۳۶؂ خبر اور علم میں فرق ہے۔ علم یقینی اور غلطی سے پاک ہے، جبکہ خبر کے سچا اور جھوٹا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
۳۷؂ کیونکہ وہ مجمع علیہ چیز(سنت متواترہ)سے مخالفت پر حدیث کو رد کرتے تھے، حدیث کو صرف سند کی وجہ سے قبول نہیں کرتے تھے، بلکہ اپنی مجتہدانہ راے کی بنا پر قبول کرتے تھے۔ دیکھیے: التمہید۱۴/۱۳۔
۳۸؂ امام شافعی نے ’’الرسالہ‘‘ کے صفحہ ۴۵۵ پر ان علما کے نام گنوائے ہیں جو ان سے پہلے یا ان کے زمانے کے ہیں اورخبر واحد کی حجیت کے قائل ہیں۔ امام شافعی نے اسے ناقابل تردید استدلال دیا ہے جس کی وجہ سے انھیں اس باب میں اولیت حاصل ہے۔
۳۹۔ a set of principles that deals with the status of chain of reporters
۴۰؂ الرسالہ ۳۵۷۔۳۵۹۔ان کی اپنی اصطلاحات یقینی کے لیے: ’احاطۃ الظاہر والباطن‘، اور ظنی کے لیے: ’احاطۃ الظاہر ‘کی ہیں۔
۴۱؂ الرسالہ ۳۵۹،۴۶۱۔ امام صاحب نے صفحہ ۳۴سے ’البیان الخامس‘ میں اجتہاد سے ثابت ہونے والے امور کو، جن میں اجماع اور قیاس شامل ہیں، ان کو بھی واجب العمل قرار دیاہے۔ خاص طور سے دیکھیے: صفحہ ۳۹۔
۴۲۔ apparently
۴۳۔ followers of Imam Abu Hanifah (RAA )
۴۴۔ followers of Imam Malik (RAA )
۴۵۔ followers of Imam Shafi`e (RAA )
۴۶۔ argumentation
۴۷۔ authoritative position
۴۸۔ innocence, guiltlessness
۴۹۔ revelation
۵۰؂ دیکھیے: الموافقات ۲/ ۵۸۔
۵۱؂ سرسید کے ہاں اس بحث کا اصل محرک انگریز کے حملے کے مقابلے اسلام کا دفاع ہے۔اپنے اس دفاعی کام سے پہلے، ان کے علمی ترکے میں وہ تحریریں موجود ہیں جس میں وہ قبولیت حدیث کے باب میں شاہ ولی اللہی مسلک کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔اس کی جھلک بعد کی تحریروں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
۵۲؂ یعنی وہ اپنے مضمون کے اعتبار سے قرآن و سنت کی تفہیم و تبیین ہو یا ان پرعمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ قرارپاتی ہو۔

-----------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت جولائی 2012
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Nov 12, 2015
1851 View