پیغام بیداری کی تذکیر - محمد بلال

پیغام بیداری کی تذکیر

 

۱۵ دسمبر ۱۹۹۷ء کی صبح تین بجے ہی تین برس سخت بیمار رہنے کے بعد مولانا امین احسن اصلاحی اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے تھے۔
جب بھی دسمبر آتا ہے ہمیں اصلاحی صاحب کی یاد شدت سے آنے لگتی ہے۔صورت حال یہ ہے کہ وقت کا دریا پیچھے کی طرف بہنے لگا ہے۔ آنکھوں کے آگے کچھ مناظر لہرا رہے ہیں۔ پردۂ سماعت سے کچھ باتیں ٹکرا رہی ہیں۔ بصیرت کی آنکھیں خوش گوار حیرت سے دوچار ہورہی ہیں:

اصلاحی صاحب کا مسکراتا ہوا سرخ و سفید چہرہ، ان کی سوچتی ہوئی آنکھیں، ان کے چمکتے ہوئے بال ...... ان کی مشکلات قرآن کی عقدہ کشائی، ان کی پیچیدہ احادیث میں واضح رہنمائی،ن کی فلسفیانہ امور میں نکتہ آفرینیاں .... ان کی معنی خیز لطیف طنز، ان کی مغربی مفکرین کی حماقتوں پر چوٹیں، ان کے بے لاگ گہرے تبصرے ..... ان کی سلطانی پر فائق دہقانی، ان کا اقتدار کے ایوانوں سے استغنا، ان کا شدائد و مصائف میں صبر و ثبات۔
محمد علی جوہر اور سید سلیمان ندوی جیسی ہستیوں کی موجودگی میں نوجوان امین احسن تقریر کرتے ہیں۔ عطاء اللہ بخاری جیسے عظیم مقرر ان کی خطابت کے بارے میں کہتے ہیں:خطیب تو میں بھی ہوں، لیکن تم عالم بھی ہو خطیب بھی۔
۱۹۵۳ء: اصلاحی صاحب جیل میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ قیدہیں۔ جیل کا عملہ مودودی صاحب کو یہ کہہ کر وہاں سے لے جاتا ہے کہ آپ ان قیدیوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ آپ کو سزاے موت ہو گئی ہے۔ آپ کو پھانسی کی کوٹھری میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کوٹھری میں لے جانے کے بعد جیل کا عملہ مودودی صاحب کو سزاے موت کے قیدی کا مخصوص لباس پہنا دیتا ہے اور ان کے اتارے ہوئے کپڑے واپس اسی جیل میں بھیج دیتا ہے، اصلاحی صاحب فرط محبت سے ان کپڑوں کو لے کر کبھی اپنے سینے ، کبھی اپنی آنکھوں اور کبھی اپنے سر پر لگاتے اور مسلسل روتے جاتے ہیں۔
۱۹۹۷ء: اصلاحی صاحب کے شاگرد محترم خالد مسعود مرحوم حج کر کے وطن لوٹے ہیں۔ ان کے پاس حاضر ہوئے اور مصافحہ کرکے بیٹھنے لگتے ہیں۔ اصلاحی صاحب، شاگرد کے لیے معانقہ کرنے کے لیے فوراہاتھ اٹھادیتے ہیں کہ حاجیوں سے ملنے کا یہی دستور ہے۔
۱۹۷۵ء:اصلاحی صاحب ،جناب جاویداحمد غامدی کے گھرتشریف لاتے ہیں۔غامدی صاحب مولانا مودودی کے گھر کے بالکل سامنے مقیم ہیں۔ اصلاحی صاحب کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے لیے صحن میں آتے ہیں تو غامدی صاحب سے پوچھتے ہیں: مودودی صاحب کا گھر یہی ہے؟ جی ہاں۔غامدی صاحب عرض کرتے ہیں۔پھر اصلاحی صاحب بار بار دہرا رہے ہیں:

’’کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔‘‘

اپنی تفسیر، تدبر قرآن کی تکمیل کے لیے اصلاحی صاحب ایک گاؤں میں منتقل ہوچکے ہیں۔غامدی صاحب اپنے استاذ کو ملنے وہاں جاتے ہیں۔رات وہیں ٹھیرتے ہیں۔ فجر سے کچھ پہلے غامدی صاحب محسوس کرتے ہیں کہ ذرا دور کوئی ہاتھ کے نل سے پانی کی بالٹی بھرتا اور پھر اسے انڈیل دیتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد اصلاحی صاحب ،غامدی صاحب کی چارپائی کے پاس آتے ہیں اور فرماتے ہیں: میں نے تازہ پانی نکال دیا ہے، اٹھیے اور وضو کر لیجیے۔غامدی صاحب کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کہیں اور کیا کریں۔
مولانا منظور احمد صاحب نعمانی انڈیا سے لاہور آتے ہیں۔اصلاحی صاحب انھیں بتاتے ہیں کہ میری اہلیہ کہتی ہیں کہ تمھاری کتابیں تو میری سمجھ میں نہیں آتیں، لیکن مولانا نعمانی کی کتابیں میں خوب سمجھ لیتی ہوں۔ مولانا نعمانی جواب میں کہتے ہیں: مولانا، ہم اُن کے لیے لکھتے ہیں، اور آپ ہمارے لیے لکھتے ہیں۔
غیرت۔وقار۔خوداری۔بے نیازی۔صدر ایوب خان صاحب پوچھتے ہیں: مولانا کوئی خدمت بتائیے۔ اصلاحی صاحب کا جواب ہے: آپ سے جو کچھ کہنا ہوتا ہے، ’’میثاق‘‘ کے اداریوں میں کہہ دیتا ہوں، اس پر عمل کیجیے، یہی سب سے بڑی خدمت ہے۔وزیر اعظم بھٹو صاحب پیغام بھیجتے ہیں: حکومت آپ کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے۔ جواب دیتے ہیں: میں حکومت کے وظیفہ خواروں کو ہمیشہ ملت فروش کہتا رہا ہوں۔ کیا اب خود بھی یہی کام کروں گا؟ صدر ضیاء الحق کی طرف سے پیش کش آتی ہے۔اصلاحی صاحب فرماتے ہیں۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے، اسے اپنی لائبریریوں تک پہنچائیے، یہی کافی ہے۔
آخری ملاقات ۔شام کا وقت۔ ہم کچھ احباب اصلاحی صاحب کو ملنے آئے ہیں۔ ان کے ساتھ مصافحہ کیا تو انھوں نے ہم سب کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر ا س طرح پیار کیا جس طرح ایک باپ اپنے بچے کو پیار کرتا ہے۔ حالانکہ ہم میں سے بعض افراد کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی۔ مصافحہ کرتے تو بہت دیر تک ملنے والے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے رکھتے اور بڑی شفت و محبت سے اس کی طرف دیکھتے رہتے تھے۔
جنازہ اٹھنے سے قبل اصلاحی صاحب کی افسردہ صلبی اور روحانی اولاد بیٹھی انھیں یاد کررہی ہے:

’’ایک دور ختم ہو گیا‘‘.....’’ وہ ٹوٹ کر محبت کرنے والے تھے‘‘ ..... ’’اُن کے خلوص میں بہت گہرائی تھی‘‘ ..... ’’بسااوقات وہ بچوں کی طرح معصوم لگتے تھے‘‘ ..... ’’وہ رات ۳ بجے خدا کے حضور گریہ و زاری کیا کرتے تھے‘‘ ..... ’’وہ اس قدر کمزور ہو چکے تھے کہ جسم پر گوشت نظر نہیں آتا تھا بس ہڈیاں اور جلد ہی دکھائی دیتی تھی‘‘ ..... ’’دعا کریں خدا اس چیز کو ان کے لیے کفارہ بنا دے‘‘ ..... ’’بیماری میں بھی ان کا لب و لہجہ بہت حوصلہ افزا ہوتا تھا‘‘ ..... ’’وہ جزع فزع کرنے والے آدمی نہیں تھے‘‘ ..... ’’حال پوچھیں تو بسا اوقات کہتے: بہت اچھا ہے‘‘ ... ’’وہ صبر کا پہاڑ تھے۔‘‘ ........ ’’وہ ۱۹۰۴ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۹۷ء میں وفات پائی۔ ان کا کام ایک صدی پر محیط ہے۔‘‘

مولاناامین احسن اصلاحی نے علم و عرفان کے جو گوہر نایاب تلاش کیے ہیں، وہ ہمیشہ چمکتے اور دمکتے رہیں گے۔ وقت کی گزران ان کی قدر میں اضافہ ہی کرے گی، ان کا کام ایک ایساباغ ہے جو ہمیشہ پُربہار ہی رہے گا۔ تعصبات کی عمر بہت کم ہوتی ہے۔ ان شاء اللہ، قوم ایک دن خواب گراں سے ضرور جاگے گی۔ مضبوط دلائل اپنی قوت منوا کر رہیں گے۔ ایک دن قوم جنگل کی اس آبشار، صحراکے اس کنویں اور پہاڑوں کے اس چشمے سے ضرور آگاہ ہو گی۔ جب تعصبات میں جکڑی قوم آزاد ہوگی تووہ امین احسن کی عظمت کو جان لے گی اور پھر وہ اس کے کام کی ’’امین‘‘ بن جائے گی۔
امین احسن ہم میں موجود نہیں مگر ان کا کام چھُپا ہوا نہیں ہے، بلکہ چھپا ہوا ہے۔او رپکار رہا ہے:

 

برقِ آتش خُو نہیں فطرت میں گو ناری ہوں میں
مہرِعالم تاب کا پیغامِ بیداری ہوں میں
تیرے مستوں میں کوئی جویائے ہشیاری بھی ہے
سونے والوں میں کسی کو ذوقِ بیداری بھی ہے؟

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جنوری 2013
مصنف : محمد بلال
Uploaded on : Mar 25, 2017
360 View