اذکار و ادعیہ مسنونہ (۱) - محمد رفیع مفتی

اذکار و ادعیہ مسنونہ (۱)

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اذکار اور دعائیں منقول ہیں، ذیل میں ان سے متعلق احادیث لائی گئی ہیں ۔ یہ اذکار اور دعائیں ہمیں اس لیے سکھائی گئی ہیں تاکہ ہمارا دل ہر وقت خدا کی یاد سے معمور رہے۔انسان کا دل، بلا شبہ خدا کی یاد ہی سے زندہ رہتا ہے اور جس دل میں اس کی یاد نہ ہو، وہ مردہ ہوتا ہے۔دل کی اس زندگی ہی کو انسان کی روحانی زندگی کہا جاتا ہے۔ جیسے ہماری مادی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ ہم سانس لیتے رہیں،اسی طرح ہماری روحانی زندگی کے لیے خدا کی یاد میں مداومت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بھی اللہ کے ذکر کی بہت تاکید کی گئی ہے اور احادیث شریفہ میں بھی اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔
ان احادیث میں مختلف اذکار پر آخرت میں جس عظیم اجر کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کلمات انسان کے ذہن و قلب میں خدا کی اس یاد کو مستحضر کرتے ہیں جو اس کے شعور کو ترقی، نفس کو پاکیزگی اور روح کو بالیدگی عطا کرتی ہے اور پھر اس کے نتیجے میں وہ خدا کی اس خالص بندگی کو عملاً اپنا لیتا ہے جس کے لیے وہ تخلیق کیا گیا ہے۔

(۸۷)

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ أَقُوْلَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ.(مسلم، رقم ۶۸۴۷)حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ‘ (اللہ پاک ہے، سارا شکر اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے) کہنا ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔

(۸۸)

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ فِیْ یَوْمٍ مِاءَۃَ مَرَّۃٍ حُطَّتْ خَطَایَاہُ وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ. (بخاری، رقم ۶۴۰۵)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے دن میں سو مرتبہ ’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ‘ (اللہ پاک ہے اور ستودہ صفات ہے)کہا ،اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

(۸۹)

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِیْنَ یُصْبِحُ وَحِیْنَ یُمْسِی سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ مِاءَۃَ مَرَّۃٍ لَمْ یَأْتِ أَحَدٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِہِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَیْہِ. (مسلم، رقم ۶۸۴۳)حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے صبح اور شام ’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ‘ (اللہ پاک ہے اور ستودہ صفات ہے)کہا تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے افضل عمل لانے والا نہ ہو گا، سوائے اس کے جس نے یہی کلمات کہے ہوں گے یا انھی پر کچھ اضافہ کیا ہو گا۔

(۹۰)

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ حَبِیْبَتَانِ إِلَی الرَّحْمٰنِ: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ.(بخاری، رقم ۶۶۸۲۔مسلم، رقم ۶۸۴۶)حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری اور اللہ کو بہت محبوب ہیں، یہ کلمے ’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ‘ (اللہ پاک ہے اور ستودہ صفات ہے، اللہ پاک ہے عظمت والا) ہیں۔

(۹۱)

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ فِیْ یَوْمٍ مِاءَۃَ مَرَّۃٍ کَانَتْ لَہُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَکُتِبَتْ لَہُ مِاءَۃُ حَسَنَۃٍ وَمُحِیَتْ عَنْہُ مِاءَۃُ سَیِّءَۃٍ وَکَانَتْ لَہُ حِرْزًا مِّنْ الشَّیْطَانِ یَوْمَہُ ذٰلِکَ حَتّٰی یُمْسِیَ وَلَمْ یَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِہِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِک.(بخاری، رقم ۳۲۹۳)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ’لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوْ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘ (اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں؛ وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں؛ بادشاہی اس کی ہے اور حمد بھی اسی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہے) کہے، اس کے لیے دس غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر اجر ہوتا ہے، سو نیکیاں اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں، اس کے سو گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اس دن شام تک وہ شیطان سے (اللہ کی) پناہ میں ہوتا ہے۔ (قیامت کے دن) کوئی شخص بھی اس سے افضل عمل والا نہ ہو گا، سوائے اس کے جس نے یہی ذکر اس سے زیادہ کیا ہو گا۔

(۹۲)

عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ ... أَشْرَفَ النَّاسُ عَلٰی وَادٍ فَرَفَعُوْا أَصْوَاتَہُمْ بِالتَّکْبِیْرِ: أَللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ارْبَعُوْا عَلٰی أَنْفُسِکُمْ إِنَّکُمْ لَا تَدْعُوْنَ أَصَمَّ وَلَا غَاءِبًا إِنَّکُمْ تَدْعُوْنَ سَمِیْعًا قَرِیْبًا وَہُوَ مَعَکُمْ وَأَنَا خَلْفَ دَابَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَنِیْ وَأَنَا أَقُوْلُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ فَقَالَ لِی: یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ، قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: أَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی کَلِمَۃٍ مِّنْ کَنْزٍ مِنْ کُنُوْزِ الْجَنَّۃِ؟ قُلْتُ: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَدَاکَ أَبِیْ وَأُمِّیْ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ.(بخاری، رقم ۴۲۰۵)حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ... (کسی سفر کے دوران میں) لوگ ایک وادی میں داخل ہوئے اور بلند آواز سے کلمۂ تکبیر’أَللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں) کہنے لگے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی آوازوں کو پست کرو، تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو، تم اسے پکار رہے ہو جو سننے والا ہے، قریب ہے اور تمھارے ساتھ ہے۔ (ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ) میں (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے تھا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے مجھے ’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ‘ (ہمت اور قدرت، سب اللہ ہی کی عنایت سے ہے) کہتے ہوئے سنا، تو آپ ؐنے مجھ سے کہا :اے عبداللہ بن قیس، میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ (میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول)، آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمھیں وہ کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ نے فرمایا: ’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ‘ (ہمت اور قدرت، سب اللہ ہی کی عنایت سے ہے)۔

(۹۳)

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سَیِّدُ الإِسْتِغْفَارِ أَنْ تَقُوْلَ: أَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّیْ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَأَبُوْءُ لَکَ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَإِنَّہُ لَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ: وَمَنْ قَالَہَا مِنْ النَّہَارِ مُوْقِنًا بِہَا فَمَاتَ مِنْ یَوْمِہِ قَبْلَ أَنْ یُّمْسِیَ فَہُوَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ وَمَنْ قَالَہَا مِنْ اللَّیْلِ وَہُوَ مُوْقِنٌ بِہَا فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ یُّصْبِحَ فَہُوَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ.(بخاری، رقم ۶۳۰۶)حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ سید الاستغفار دعا یہ ہے:
اے اللہ، تو میرا پروردگار ہے؛ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں؛ تونے مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں؛ میں اپنے اعمال کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں؛ اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اعتراف اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں؛ تو مجھے بخش دے، اس لیے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی یقین کے ساتھ یہ دعا دن میں کرے اور اسی دن شام سے پہلے دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے لیے جنت ہے اور جو یقین کے ساتھ رات میں کرے اور صبح سے پہلے رخصت ہو جائے تو اس کے لیے بھی جنت ہے۔

(۹۴)

عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوٰی إِلٰی فِرَاشِہِ قَالَ: بِاسْمِکَ أَمُوْتُ وَأَحْیَا وَإِذَا قَامَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُوْرُ.(بخاری، رقم ۶۳۱۲۔مسلم، رقم ۶۸۸۷)حضرت حذیفہ بن یمان( رضی اللہ عنہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو کہتے: اے اللہ، میں تیرے نام ہی سے مرتا اور زندہ ہوتا ہوں، اور جب آپ بیدار ہوتے تو کہتے: اس اللہ ہی کے لیے شکر ہے جس نے ہم کو موت کے بعد پھر زندگی عطا فرمائی اور( ایک دن) اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

(۹۵)

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسٰی قَالَ: أَمْسَیْنَا وَأَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، أَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ ہَذِہِ اللَّیْلَۃِ وَخَیْرِ مَا فِیْہَا وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا فِیْہَا، أَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ الْکَسَلِ وَالْہَرَمِ وَسُوْءِ الْکِبَرِ وَفِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ.
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ رَفَعَہُ، أَنَّہُ قَالَ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ. (مسلم، رقم ۶۹۰۹)
حضرت عبد اللہ بن مسعود( رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت یہ دعا کیا کرتے : ہم نے شام کی اور خدا کی بادشاہی بھی شام میں داخل ہو گئی ہے۔ شکر اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں؛ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اے اللہ، میں اس رات کی بھلائی چاہتا ہوں اور اس کی بھی جو اس میں ہے؛ اور رات کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی جو اس میں ہے۔ اے اللہ، میں سستی سے، بڑھاپے سے، بڑھاپے کی برائی سے، دنیا کی آزمایش سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
حضرت عبداللہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ؛وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں؛ بادشاہی اس کی ہے اور حمد بھی اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

(۹۶)

عَنِ الْبَرَّاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَکَ فَتَوَضَّأْ وُضُوْءَ کَ لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّکَ الْأَیْمَنِ ثُمَّ قُلْ: أَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْلَمْتُ وَجْہِیْ إِلَیْکَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ إِلَیْکَ وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِیْ إِلَیْکَ رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ أَنْزَلْتَ وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَ وَاجْعَلْہُنَّ مِنْ آخِرِ کَلَامِکَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَیْلَتِکَ مُتَّ وَأَنْتَ عَلَی الْفِطْرَۃِ...وَإِنْ أَصْبَحَ أَصَابَ خَیْرًا.(مسلم، رقم ۶۸۸۲۔۶۸۸۳)حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سونے لگو تو اپنا نماز والا وضو کرو، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹو اور کہو: اے اللہ، میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا ہے اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا ہے اور تجھ سے ٹیک لگالی ہے، تیری عظمت سے لرزتے ہوئے اور تیرے اشتیاق میں بڑھتے ہوئے۔ تجھ سے بھاگ کر کہیں پناہ اور کہیں ٹھکانا نہیں، اور اگر ہے تو تیرے ہی پاس ہے۔ (پروردگار )میں تیری کتاب پر ایمان لایا ہوں جو تونے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر ایمان لایا ہوں جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔( آپ نے فرمایا): تم کوشش کرو کہ سونے سے پہلے تمھارے آخری کلمات یہی ہوں،پھر اگر تم اسی رات وفات پا گئے تو تمھاری موت فطرت (اسلام) پر ہو گی ... اور اگر صبح بیدار ہوئے توخیر پر بیدار ہو گے۔

(۹۷)

عَنْ سُھَیْلٍ قَالَ: کَانَ أَبُوْ صَالِحٍ یَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أحَدُنَا أَنْ یَّنَامَ أَنْ یَّضْطَجِعَ عَلٰی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ ثُمَّ یَقُوْلُ: أَللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی وَمُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیْلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، أَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْءٌ وَأَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ.(مسلم، رقم ۶۸۸۹)حضرت سہیل ( رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ حضرت ابوصالح ہمیں حکم دیتے کہ جب ہم میں سے کوئی سونے کا ارادہ کرے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹے اور کہے:اے اللہ، آسمانوں کے پروردگار، زمین کے پروردگار اور عرش عظیم کے پروردگار، ہمارے پروردگار اور ہر چیز کے پروردگار؛ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات و انجیل اور فرقان کے نازل کرنے والے؛ میں ان سب چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جن کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اے اللہ، تو اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور توآخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں؛ تو ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اورتو باطن ہے، تیرے نیچے کوئی چیز نہیں۔ تو ہمارے قرض ادا فرما اور ہماری محتاجی کو دور کر کے ہمیں غنی کردے۔

[ باقی]

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت نومبر 2011
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Apr 07, 2017
555 View