مقدمہ تفسیر نظام القرآن - حمید الدین فراہی

مقدمہ تفسیر نظام القرآن

 

اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے میں نے اپنی ’’تفسیر نظام القرآن‘‘ میں اس بات کی کوشش کی ہے کہ آیات قرآن کے باہمی تعلق کو واضح کروں اور قرآن مجید کی ایک ایسی سادہ و صاف تفسیر لکھوں جو ان تمام اختلافات سے بالکل پاک ہو جو ہمارے اندر عہد نبوت کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ میں نے ہر آیت کا مفہوم اس کی مشابہ دوسری آیات کی روشنی میں متعین کیا ہے اور ہر سورت کے نظام کو اس کی تہ میں اتر کر اور اس کے سیاق کو سمجھ کر معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ پھر اس جدوجہد سے جو کچھ سمجھ میں آیا ہے، اس کو عقل و نقل سے پوری طرح مدلل کیا ہے۔

نظم قرآن

میں پورے اطمینان قلب کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ نظم کی تلاش میں، میں نے کسی شخص کی پیروی نہیں کی ہے، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی بصیرت میری رہنما رہی ہے، تاہم یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہو گا کہ قرآن کے اندر نظم کی تلاش میں، میں تنہا ہوں۔ مجھ سے پہلے بھی علما کی ایک جماعت نے اس راہ میں کوششیں کی ہیں اور اس موضوع پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ چنانچہ علامہ سیوطی ’’اتقان‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ابوحیّان کے شیخ علامہ ابوجعفر بن زبیر نے خاص اس عنوان پر ایک کتاب تالیف کی ہے۔ اس کا نام ’’البرہان فی مناسبۃ ترتیب سور القرآن‘‘ ہے۔ ہمارے ہم عصروں میں سے شیخ برہان الدین بقاعی نے بھی اپنی کتاب ’’نظم الدُرر فی تناسب الآي والسور‘‘ میں نظم کو خاص طور پر پیش نظر رکھا ہے۔‘‘ (۲/ ۲۸۸)

اس کے بعد علامہ سیوطی نے خود اپنی ایک کتاب کا بھی ذکر کیا ہے جس میں سورتوں اور آیتوں کی مناسبت کے علاوہ اعجاز قرآن کے مختلف پہلو بھی انھوں نے بیان کیے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’نظم کا علم ایک نہایت اعلیٰ علم ہے۔ اس کے اشکال کی وجہ سے علما نے اس سے بہت کم بحث کی ہے۔ امام فخر الدین رازی تنہا شخص ہیں جنھوں نے اس کی طرف سب سے زیادہ توجہ کی ہے۔ انھوں نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ قرآنی حکمت کا بڑا حصہ ترتیب و نظم کے اندر چھپا ہوا ہے۔
خود مجھے امام رازی کی ’’تفسیر کبیر‘‘ میں، آیت ’وَلَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْآنًا اَعْجَمِیًّا الایہ‘ (حٰم السجدہ۴۱: ۴۴) کے تحت نظم قرآن سے متعلق ان کا مندرجہ ذیل بیان ملا:

’’اس آیت کی شان نزول کے بارہ میں یہ روایت ہے کہ کفار نے ازراہ شرارت کہا کہ قرآن مجید کسی عجمی زبان میں کیوں نہیں نازل کیا گیا تو یہ آیت اتری۔ میرے نزدیک اس طرح کی باتوں سے قرآن مجید پر سخت اعتراض لازم آتا ہے۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن میں باہم دگر کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ چیز قرآن مجید پر ایک بہت بڑے اعتراض کا دروازہ کھولتی ہے۔ اس اعتراض کے ہوتے ہوئے قرآن کو ایک معجزہ ثابت کرنا تو الگ رہا ہم اس کے ایک منظم کتاب ہونے کا بھی دعویٰ نہیں کر سکتے۔ میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ یہ سورہ شروع سے لے کر آخر تک بالکل مسلسل کلام ہے (اس کے بعد سورہ کے مضمون پر اجمالاً گفتگو کر کے فرماتے ہیں) ہر شخص جس میں انصاف ہو گا وہ دیکھ سکتا ہے کہ اگر آیت کی یہ تفسیر کی جائے جو ہم نے کی ہے تو یہ سورہ شروع سے لے کر آخر تک ایسے منظم کلام کی صورت میں ڈھل جاتی ہے جس میں ایک خاص موضوع پیش نظر رکھا گیا ہو اور یقیناًیہ تفسیر اس تفسیر سے کہیں بہتر ہو گی جو لوگ بیان کرتے ہیں۔‘‘ (۹/ ۵۶۹)

اس کے بالمقابل ایک دوسری جماعت بھی ہے جس کا خیال ہے کہ قرآن مجید میں کسی قسم کا نظم نہیں ہے۔ چنانچہ شیخ عزالدین بن عبدالسلام کہتے ہیں:

’’قرآن مجید، بیس سال سے کچھ زیادہ کی طویل مدت میں، مختلف حالات کے لیے گوناگوں احکام لے کر نازل ہوا، جس چیز کا نزول اس طرح ہوا ہو، اس میں کسی قسم کا ربط و نظم نہیں ہو سکتا۔‘‘ (الاتقان فی علوم القرآن ۲/ ۲۸۹)

یہ علما کے دو مختلف مذہب ہیں اور ان دونوں مذہبوں کے حامی و مویّد ہمارے ہاں موجود ہیں۔ میرے نزدیک پہلا مذہب صحیح ہے اور میں اسی کا پیرو ہوں۔
اس تفصیل سے دو باتیں واضح کرنی چاہتا ہوں: ایک یہ کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے بارہ میں علما نے یک قلم سکوت اختیار کیا ہو، بلکہ ایک گروہ نے اس کی طرف نہایت اہتمام کے ساتھ توجہ کی ہے۔ دوسری یہ کہ یہ ایک تنگ راہ ہے جس پر چلنے والے تھوڑے ہیں اور یہ ایک ایسا مدفون خزانہ ہے جس کا بہت قلیل حصہ اب تک دریافت ہو سکا ہے۔
مجھ پر نظم کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے، سب سے پہلے سورۂ بقرہ اور سورۂ قصص میں کھولا، اور اس کی طرف میری رہنمائی باہر سے نہیں، بلکہ خود قرآن کے اندر سے ہوئی۔ میں قرآن کی تلاوت کا ہمیشہ سے دل دادہ رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہوں کہ میری سب سے زیادہ محبوب اور لذیذ کتاب یہی رہی ہے۔ میں سنا کرتا تھا کہ قرآن مجید چونکہ مختلف اوقات و حالات میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا ہے، اس وجہ سے نظم کے اعتبار سے یہ سب سے زیادہ منتشر کتاب ہے، لیکن دو سورتوں میں مجھے نظم معلوم ہو گیا تو بقیہ سورتوں پر غور کرنے کی مجھے تحریک ہوئی۔ یہ اس زمانہ کا قصہ ہے جب میں ابتدائی زندگی کی تعلیمی مشغولیتوں میں منہمک تھا اور اس طرح کے کسی کام کے لیے بہت کم وقت بچا سکتا تھا۔ اس طرح دس سال سے کچھ زیادہ کی مدت بیت گئی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق نے میری دست گیری فرمائی اور میں نے قرآن پر ایک طرف سے، اس نقطۂ نظر سے غور کرنا شروع کیا۔ سال بھر کی مدت میں اس کام کو میں نے تمام کیا۔ اس کے بعد یہ خیال ہوا کہ اپنے فکر و تدبر کا نتیجہ لوگوں کے سامنے پیش کر دوں، لیکن ایک عظیم ذمہ داری اور اس کے دور رس نتائج کے ہیبت ناک احساس نے مجھے ڈرا دیا۔ چنانچہ ایک طویل مدت تک میں قرآن مجید پر باربار غور کرتا رہا اور اللہ تعالیٰ سے برابر دعا مانگتا رہا کہ وہ مجھے نفس کی شرارتوں اور جہل کی آفتوں سے محفوظ رکھے۔ ہر چند کہ حقیقت ایک عرصہ سے میرے سامنے بالکل واضح تھی، لیکن میری دلی خواہش یہی رہی کہ میں اس کے اظہار کی مسؤلیت اور اس کے خیر و شر کی ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو بچا لے جاؤں، لیکن مندرجہ ذیل اسباب نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس ذمہ داری کے اٹھانے سے گریز نہ کروں:
۱۔ سب سے پہلی چیز جس نے مجھے اس ذمہ داری کے اٹھانے کے لیے مجبور کیا ہے، یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ تاویل کا بیش تر اختلاف نتیجہ ہے اس بات کا کہ لوگوں نے آیات کے اندر نظم کا لحاظ نہیں رکھا ہے۔ اگر نظم کلام ظاہر ہوتا اور سورہ کا عمود، یعنی مرکزی مضمون واضح طور پر سب کے سامنے ہوتا تو تاویل میں کسی قسم کا اختلاف نہ ہوتا، بلکہ سب ایک ہی جھنڈے کے نیچے جمع ہو جاتے اور سب کے منہ سے ایک ہی صدا بلند ہوتی، ’کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ‘ ۱؂ (ایک بار آور درخت کے مانند جس کی جڑ زمین کے اندر دھنسی ہوئی اور جس کی شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہوں) اور سارے مسلمان اللہ کی رسی کو متحد ہو کر تھام لیتے، جیسا کہ فرمایا ہے: ’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا‘۲؂ (اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو اور منتشر نہ ہو)، لیکن جب صورت حالات اس کے بالکل برعکس ہو چکی ہے، اور لوگوں نے اس ’حَبْلِ اللّٰہِ الْمَتِیْنَ‘ کو جس کی تعریف یہ ہے کہ ’لَا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ۳؂ الآیہ‘، ٹکڑے ٹکڑے سمجھ رکھا ہے تو اس اختلاف سے نجات کی کیا شکل ہو سکتی ہے؟ حالت یہ ہے کہ ہر فریق اپنے اپنے خیال کے مطابق قرآن کی تاویل کر رہا ہے اور کلام کو اس کی صحیح سمت سے ہٹا کر جس وادی میں چاہتا ہے، اس کو گھسیٹے پھرتا ہے اور نظم کلام، جو صحیح سمت کو متعین کرنے والی واحد چیز ہے اور جس سے اہل بدعت و ضلالت اور اصحاب تحریف کی کج رویوں کی اصلاح ہو سکتی ہے، وہ بیچ سے بالکل غائب ہے۔
۲۔ دوسری چیز جو اس کے لیے محرک ہوئی، وہ ملحدین کا اعتراض تھا۔ انھوں نے قرآن مجید پر بے نظمی کا الزام لگایا اور میں نے دیکھا کہ علماے اسلام ان کے جواب میں بجاے اس کے کہ حق کا اظہار کرتے اور کتاب الٰہی سے اس الزام کو دفع کرتے، اسی قسم کی باتیں خود بولنے لگے جس قسم کی باتیں یہ ملحدین کہہ رہے تھے۔ ’کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ‘ ۴؂ اور ’وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا‘ ۵؂ ، ایسی حالت میں میرے لیے ممکن نہ رہا کہ میں حق کو سرنگوں اور باطل کو سربلند دیکھتا رہوں اور چپ چاپ بیٹھا رہوں، بالخصوص جبکہ میں پورے یقین کے ساتھ محسوس کر رہا تھا کہ ملحدین کا اعتراض بالکل غلط ہے۔
۳۔ علاوہ ازیں یہ امر ہر شخص کو معلوم ہے کہ نظم کلام، کلام کا ایک جز ہوا کرتا ہے، اگر اس کو چھوڑ دیجیے تو خود کلام کے مفہوم و معنی کا ایک حصہ غائب ہو جائے گا۔ ترکیب میں ایک زائد حقیقت ہوتی ہے جو ایک چیز کے متفرق اجزا میں الگ الگ نہیں ہوا کرتی۔ انگور اور شراب ایک ہی چیز نہیں ہے۔ اس سبب سے اگر کوئی شخص فہم نظام سے محروم رہ جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خود کلام کی ایک بڑی حقیقت اس کی نگاہوں سے اوجھل رہ گئی اور عجب نہیں کہ وہ اہل کتاب کی اس صف سے جا ملے جس کا حال قرآن نے یوں بیان کیا ہے کہ:

فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَھُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ. (المائدہ ۵: ۱۴)
’’پس انھوں نے ایک بڑا حصہ اس کتاب کا فراموش کر دیا جس کے ذریعہ سے ان کو یاددہانی کی گئی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور جھگڑے کی آگ بھڑکا دی۔‘‘

مجھے اندیشہ ہو تا ہے کہ ممکن ہے یہ عداوت اور بغض، جس کی وبا آج مسلمانوں میں پھوٹ پڑی ہے، اسی بات کا نتیجہ ہو کہ ہم نے نظم قرآن کو نظرانداز کر کے خود قرآن کے ایک حصہ کو نظرانداز کر دیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس فتنہ کا دبنا مشکل ہے، اس کی وجہ، جیسا کہ اوپر بیان ہو چکی ہے، یہ ہے کہ جب کلام الٰہی کے معانی کے بارہ میں ہماری رائیں مختلف ہو جائیں گی تو لازماً ہماری خواہشیں اور ہمارے ارادے بھی مختلف ہو جائیں گے اور ہمارا حال وہی ہو جائے گا جو اہل کتاب کا ہوا۔ صرف یہ فرق ہو گا کہ ان کے لیے آخری بعثت اور آخری صحیفہ کے ذریعہ سے اصلاح حال کا موقع باقی تھا اور ہمارے لیے آخری چارۂ کار صرف یہی قرآن ہے۔
یہ نظم کلام ہی کا تقاضا ہے کہ انسانی فطرت کے ضعف کے سبب سے، جیسا کہ ’وَلَقَدْ عَھِدْنَآ اِلآی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ ۶؂ الایۃ‘ والی آیت میں بیان ہوا ہے، جو آیتیں بطور تخفیف کے نازل ہوئیں، ان کو اصل احکام کے پہلو میں جگہ دی گئی ہے۔ اس کی تصدیق ’اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ۷؂ الآیۃ‘ سے ہوتی ہے۔ یہ آیت اپنے اصل سابق حکم کے پہلو میں رکھی گئی ہے۔ اسی طرح سورۂ مزمل کی آخری آیت اس کی ابتدائی آیات کے بہت بعد نازل ہوئی ہے، لیکن رکھی وہیں گئی جہاں اس سلسلہ کے سابق احکام موجود تھے۔ یہی حال ’اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآءِکُمْ‘ ۸؂ والی آیت کا ہے۔ اسی طرح آیت ’وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا۹؂ الآیہ‘ اس سلسلہ کے اصل احکام کے بعد بطور تتمہ نازل ہوئی اور غایت اہتمام کی وجہ سے، جیسا کہ آیت کی تفسیر کے سلسلہ میں ہم نے بالتفصیل بیان کیا ہے، پہلے تتمہ کے بعد رکھی گئی۔ اس طرح کی توضیحی و تشریحی آیات کے بعد بالعموم یہ آیت آیا کرتی ہے: ’کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ‘ ۱۰؂ (اور اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت اس وعدہ کا ایفا ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ قیامہ میں فرمایا ہے ’ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘۱۱؂ (پھر ہمارے اوپر اس کو (قرآن کو) واضح کرنا ہے) اور اس دعا کا جواب ہے جو سورۂ طٰہٰ میں مذکور ہے کہ ’رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا ۱۲؂ ‘ (میرے پروردگار، میرے علم کو زیادہ کر)۔
ہمارا یہ استنباط قرآن سے تھا۔ بعینہٖ اسی بات کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ جب کوئی آیت اترتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھا جائے اور وہ اسی جگہ رکھی جاتی۔ اسی طرح یہ بھی روایات میں آتا ہے کہ جب تمام ہو جاتی تو حضرت جبریل امین آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری سورہ ازسرنو سنا دیتے۔ ہمارے نزدیک یہی وہ جمع کرنا اور پڑھنا ہے جس کا ذکر سورۂ قیامہ میں ہوا ہے اور جس کی پیروی کا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا تھا۔
علاوہ ازیں یہ امر محتاج بیان نہیں ہے کہ جہاں تک قرآن مجید کی آیتوں کی ترتیب کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اس بارہ میں امت کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مسلمانوں کے جس قدر فرقے ہیں، سب کے پاس قرآن مجید اسی ترتیب کے ساتھ موجود ہے۔
پھر نظم قرآن کی سب سے بڑی شہادت ان لوگوں کا علم و یقین ہے جن پر حسن ترتیب کے محاسن کچھ بے نقاب ہو گئے ہیں اور جنھوں نے ان حقائق کی کوئی تجلی دیکھ لی ہے جو نظم قرآن کے اندر ودیعت ہیں۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ کتاب اللہ اسرار و عجائب کا کیسا عظیم الشان خزانہ ہے جس کی کلید صرف نظم ہے۔ یہ چیز ان کے ذوق جستجو کو شہ دیتی اور ان کی طمانیت و بصیرت میں اضافہ کرتی ہے، اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ اس مخفی خزانہ کو اجاگر کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس سعی کو بامراد کرتا ہے اور جتنا ان کے مقدر میں ہوتا ہے، وہ اس میں سے پا جاتے ہیں۔ جو دروازے کھلتے جاتے ہیں ان کے لیے، وہ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہوتے ہیں اور جو دروازے نہیں کھلتے، ان کو وہ اپنی قلت علم و نارسائی فہم پر محمول کرتے ہیں، کیونکہ معلوم ہے کہ کتاب الٰہی ایک سمندر ہے جس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ کوئی شخص آفتاب کو اپنے احاطہ میں نہیں لے سکتا، اور نہ کوئی شخص قرآن کے معاملہ میں کبھی غلطی سے محفوظ ہو سکتا۔ لیکن یہ چیز ان کے شوق و طلب کی سرگرمی کو کمزور نہیں کرتی، بلکہ ان کا ذوق جستجو برابر مشتعل رہتا ہے، اور وہ اس محنت سے جتنا کچھ بھی پاتے ہیں، اس کی قدر کرتے ہیں۔ چنانچہ جس نے بھی اس علم میں سے کوئی حصہ پایا ہے، اس نے اس نعمت عظمیٰ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔ امام سیوطی اپنی کتاب میں نقل کرتے ہیں کہ:

’’پہلے شخص جنھوں نے علم مناسبت (علم نظم) کو ظاہر کیا شیخ ابوبکر نیشا پوری ہیں۔ فقہ و ادب میں ان کا بڑا رتبہ تھا۔ ان کے لیے منبر رکھا جاتا جس پر بیٹھ کر وہ قرآن کی آیتوں کی شرح کرتے اور بتاتے کہ فلاں آیت فلاں آیت کے پہلو میں کیوں رکھی گئی اور فلاں سورت کے فلاں سورت کے ساتھ رکھنے میں کیا حکمت ہے، اور علمائے بغداد کی تنقیص کرتے کہ یہ لوگ نظم کے علم سے بالکل محروم ہیں۔‘‘ (الاتقان فی علوم القرآن ۲/ ۲۸۸)

امام سیوطی نے ابن عربی کا بھی مندرجہ ذیل قول نقل کیا ہے:

’’آیات قرآن کے باہمی تعلق کو اس طرح سمجھنا کہ وہ ایک مسلسل اور مربوط کلام کے قالب میں ڈھل جائیں ایک عظیم الشان علم ہے۔ صرف ایک عالم نے اس علم سے تعرض کیا ہے۔ اسی اصول پر اس نے پوری سورۂ بقرہ کو منظم کر دیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ہم پر یہ دروازہ کھولا، لیکن ہم نے لوگوں کے اندر اس علم کے قدردان نہیں پائے۔ ساری دنیا دوں ہمتوں اور کاہلوں سے بھری ہوئی ہے۔ پس ہم نے اس کو مہربند ہی رکھا اور اپنے اور اپنے خدا کے درمیان کے اس معاملہ کو اسی کی طرف لوٹا دیا۔‘‘(الاتقان فی علوم القرآن ۲/ ۲۸۸)

یہی حال امام رازی کا ہے، وہ بھی جگہ جگہ تفسیر میں اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ مخدوم مہائمی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کا موضوع ہی نظم ہے۔ انھوں نے اس نعمت کی عظمت کا جن لفظوں میں اعتراف کیا ہے اور اس کے مقابل میں اپنی بے مائیگی اور آلودگی کا جس درجہ ان کو احساس ہے، وہ ان کی تفسیر کا مطالعہ کرنے والوں سے مخفی نہیں ہے۔ وہ اس علم کو محض فضل الٰہی کی بخشش قرار دیتے ہیں اور اسی احساس کے ماتحت انھوں نے اپنی کتاب کا نام ’’تبصیر الرحمان و تیسیر المنان‘‘ رکھا ہے۔
جن لوگوں نے اس علم میں سے کوئی حصہ پایا، ان کی نگاہوں میں اس کا یہ درجہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اعترافات ان کی زبانوں سے اسی وقت نکلے ہوں گے، جبکہ انھوں نے محسوس کر لیا ہو گا کہ قرآن مجید کی آیتیں ایک نادر اسلوب کے ساتھ مرتب ہیں۔ جیسا کہ شیخ ولی الدین ملوی نے کہا ہے:

’’جو لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیتوں میں اس لیے نظم نہیں تلاش کرنا چاہیے کہ وہ مختلف وقتوں میں مختلف حالات کے ماتحت نازل ہوئی ہیں، وہ غلط کہتے ہیں۔ ٹھیک بات یہ ہے کہ وہ نزول کے پہلو سے تو واقعات کے لحاظ سے ہیں، لیکن ترتیب کے پہلو سے بالکل مطابق حکمت ہیں۔‘‘(الاتقان فی علوم القرآن ۲/ ۲۸۹)

اور ظاہر ہے کہ جو شخص قرآن کے اندر اس کی مہک پا رہا ہو، اس کے جلوے دیکھ رہا ہو، اور اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے چھو رہا ہو، وہ اس چیز کا انکار کیسے کر سکتا ہے؟ ہاں جس نے اس کا مزہ ہی نہ چکھا ہو، وہ اگر اس کا انکار کر دے تو وہ کچھ قابل الزام بھی نہیں۔
جو چیز مجھے لوگوں کے سامنے لانی ہے، اس کے متعلق اس طول بیان کی چنداں ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے یہ تمہید اس لیے ضروری سمجھی کہ نظم کی جستجو تدبر کی محتاج ہے اور اگر تمھارے دماغ میں یہ بات جاگزیں ہے کہ قرآن مجید میں نظم سرے سے ہے ہی نہیں تو اس راے کے ساتھ اس دشوار گزار وادی میں ایک قدم بھی اٹھانا مشکل ہو گا۔ ہر چیز تمھیں بے گانہ معلوم ہو گی اور اس میں سر کھپانا طبیعت پر بہت بار ہو گا۔
ایک بات تم، البتہ پوچھ سکتے ہو کہ اگر نظم ایسی ہی عظیم الشان اور کثیر المنفعت چیز تھی تو آخر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے متعلق کیوں سکوت اختیار فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی توضیح کیوں نہیں فرمائی؟ ہماری طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ آیات کا موقع و محل صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے بالکل واضح تھا۔ وہ تمام تر انھی کے حالات اور انھی کے پیش نظر معاملات سے متعلق تھیں۔ اگر ہم بھی اس مبارک زمانہ میں ہوتے تو ان کا نظم ہمارے لیے بھی بالکل واضح ہوتا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے تفسیر بہت کم منقول ہے۔ زبان ان کی تھی، اسلوب ان کے تھے اور معاملات و حالات ان کے تھے۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو ہمارے اور ان کے درمیان مشترک ہو۔ پھر نظم کے سمجھنے میں ہمارا اور ان کا حال یکساں کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن اس نمایاں فرق کے باوجود یہ ضرور ہے کہ کلام کی لپیٹ اور اس کی تہوں کے اندر ایسے اشارات موجود ہوتے ہیں جو آگے کی طرف انگلی اٹھاتے رہتے ہیں اور اگر آدمی کند ذہن نہ ہو، بلکہ کلام کے تمام اطراف میں پھیل کر آگے بڑھنے کا عادی ہو تو یہ اشارات نظم کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔
یہ ہم نے اپنی تفسیر کے بنیادی اصول نظم سے متعلق کہا ہے۔ اور یہاں اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ آگے مقدمات تفسیر کے سلسلہ میں بعض مفید مطلب اشارات اور ملیں گے۔

_______

۱؂ ابراہیم ۱۴: ۲۴۔
۲؂ آل عمران ۳: ۱۰۳۔
۳؂ حٰم السجدہ ۴۱: ۴۲۔ ’’جس کے اندر باطل نہ اس کے آگے سے داخل ہوتا ہے، نہ اس کے پیچھے سے۔‘‘
۴؂ الکہف ۱۸: ۵۔ ’’کیا ہی بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔‘‘
۵؂ النساء ۴: ۱۴۱۔ ’’اور اللہ کافروں کو ہرگز مسلمانوں پر گرفت کا کوئی موقع نہیں دے گا۔‘‘
۶؂ طٰہٰ ۲۰: ۱۱۵۔ ’’اور ہم نے آدم سے ایک بات کا اس سے پہلے عہد لیا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادہ کی پختگی نہیں پائی۔‘‘
۷؂ الانفال ۸: ۶۶۔ ’’اب اللہ نے تمھاری ذمہ داری ہلکی کر دی اور اس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔‘‘
۸؂ البقرہ ۲: ۱۸۷۔ ’’تمھارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا۔‘‘
۹؂ البقرہ ۲: ۲۳۴۔ ’’اور جو تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔‘‘
۱۰؂ البقرہ ۲: ۱۸۷۔
۱۱؂ ۷۵: ۱۹۔
۱۲؂ ۲۰: ۱۱۴۔

------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت مارچ 2014
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Jan 26, 2016
682 View