انصاری خواتین کی بیعت اسلام - معز امجد

انصاری خواتین کی بیعت اسلام

 

ترجمہ و تدوین: شاہد رضا

عَنْ أُمَیْمَۃَ بِنْتِ رُقَیْقَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نِسْوَۃٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ بَایَعْنَہُ عَلَی الْإِسْلاَمِ، فَقُلْنَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، نُبَایِعُکَ عَلٰی أَنْ لاَ نُشْرِکَ بِاللّٰہِ شَیْءًا وَلاَ نَسْرِقَ وَلاَ نَزْنِیَ وَلاَ نَقْتُلَ أَوْلاَدَنَا وَلاَ نَأْتِیَ بِبُہْتَانٍ نَفْتَرِیْہِ بَیْنَ أَیْدِیْنَا وَأَرْجُلِنَا وَلاَ نَعْصِیَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فِیمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ، قَالَتْ: فَقُلْنَ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا ہَلُمَّ نُبَایِعْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنِّیْ لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءََ إِنَّمَا قَوْلِیْ لِمِاءَۃِ إِمْرَأَۃٍ کَقَوْلِیْ لِإِمْرَأَۃٍ وَاحِدَۃٍ.
حضرت امیمہ بنت رقیقہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ انھوں نے کہاکہ میں انصاری خواتین کے ایک گروہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی۱، یہ خواتین آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس دین اسلام پر بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوئی تھیں۔ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عرض کیا: یارسول اللہ، ہم آپ سے اس بات پر بیعت کرتی ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہیں لائیں گی۲ اور بھلائی کے کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک تمھاری طاقت اور قدرت میں ہو۳۔ انھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ، اللہ اور اس کا رسول خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے، اپنا ہاتھ دیجیے تاکہ ہم آپ کی بیعت کریں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں خواتین سے ہاتھ نہیں ملاتا۴۔ میرا سو خواتین سے کہنا ایسا ہی ہے، جیساکہ (ان میں سے) ہر ایک خاتون سے کہنا۵۔

ترجمے کے حواشی

۱۔ قبولیت اسلام کے حوالے سے یہ وہی بیعت ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۂ ممتحنہ (۶۰) کی آیت ۱۲ میں حکم ہواہے۔
۲۔ اصل میں ’لاَ نَأْتِیَ بِبُہْتَانٍ نَفْتَرِیْہِ بَیْنَ أَیْدِیْنَا وَأَرْجُلِنَا‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان کے معنی ہیں کہ ہم بہتان نہیں باندھیں گی اور جنسی اسکینڈل نہیں بنائیں گی۔
۳۔ تمام دینی احکام قدرت اور استطاعت کی شرط پر مبنی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو اس بات کی نصیحت فرمائی ہے کہ ان سے صرف اس بات کا تقاضا کیا گیا ہے کہ جہاں تک قدرت اور استطاعت ہو، وہ میرے احکام کی پیروی کریں۔ ذمہ داری کے حوالے سے یہ شرط ایک عام اصول پر مبنی ہے، یہ اصول قرآن مجید میں ’لاَیُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَا‘، ’’اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا‘‘ (البقرہ۲: ۲۸۶) کے الفاظ میں مذکور ہے۔
۴۔ ہاتھ ملانے کی ممانعت کو کوئی حکم شرعی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چونکہ یہ عمل معاشرتی اقدار اور تزکیۂ نفس کے لحاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ ذاتی اوصاف کے خلاف تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے دوران ان خواتین سے ہاتھ ملانے سے احتراز فرمایا۔
۵۔ اس لیے جو میں نے تم سب کو حکم دیا ہے، اور جو تم نے اجتماعی طور پر مجھ سے عہد کیا ہے، اسے ایسے ہی سمجھو، جیسے میں نے تم سے ہر ایک کو فرداً فرداً حکم دیا ہے، اور اس بیعت کو ایسے ہی سمجھو، جیسے یہ میں نے تم میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً لی ہے۔

متون

یہ روایت بعض اختلافات کے ساتھ موطا امام مالک، رقم۱۷۷۵؛ ابن ماجہ ، رقم۲۸۷۴؛ ترمذی، رقم۱۵۹۷؛ نسائی، رقم۴۱۸۱، ۴۱۹۰؛ احمد، رقم۲۷۰۵۱۔۲۷۰۵۴، ۲۷۱۰۷؛ ابن حبان، رقم۴۵۵۳؛ سنن النسائی الکبریٰ،رقم۷۸۰۴، ۷۸۱۳، ۸۷۱۳، ۸۷۲۵، ۱۱۵۸۹؛ بیہقی، رقم۱۶۳۴۵؛ مسند الحمیدی، رقم ۳۴۱، ۳۶۸ اور عبدالرزاق، رقم۹۸۲۶ میں روایت کی گئی ہے۔
من الأنصار‘ (انصار میں سے) کے الفاظ نسائی، رقم۴۱۸۱ میں روایت کیے گئے ہیں۔ بعض روایات، مثلاً احمد،رقم ۲۷۰۵۲ میں ان الفاظ کے بجاے ’من المسلمین‘ (مسلمانوں میں سے) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً احمد،رقم۲۷۰۵۲ میں ’فیما استطعتن وأطقتن‘ (جہاں تک تمھاری طاقت اور قدرت میں ہو) کے الفاظ کے بجاے ’فیما استطعتن وأطعتن‘ (جہاں تک تمھاری طاقت ہو اور جہاں تک تم اطاعت کرسکو) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً احمد،رقم۲۷۰۵۲ میں ’إنی لاأصافح النساء. إنما قولی لماءۃ إمرأۃ کقولی لإمرأۃ واحدۃ‘ (میں خواتین سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ میرا سو خواتین سے کہنا ایسا ہی ہے، جیسا کہ (ان میں سے) ہر ایک خاتون سے کہنا) کے الفاظ کے بجاے ’إذہبن فقد بایعتکن. إنما قولی لماءۃ إمرأۃ کقولی لإمرأۃ واحدۃ. قالت: ولم یصافح رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم منا إمرأۃ‘ (اب تم سب جا سکتی ہو، میں نے تم سے بیعت لے لی ہے۔ میرا سو خواتین سے کہنا ایسا ہی ہے، جیسا کہ (ان میں سے) ہر ایک خاتون سے کہنا۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: (بیعت لینے کے دوران) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے کسی خاتون سے ہاتھ نہیں ملایا) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسند الحمیدی، رقم۳۴۱ میں ’إنی لا أصافح النساء‘ (میں خواتین کے ساتھ ہاتھ نہیں ملاتا) کے الفاظ کے بجاے ’إنی لا أصافحکن‘ (میں تم سے ہاتھ نہیں ملاؤں گا) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ جبکہ مسند الحمیدی، رقم۳۶۸ میں یہ الفاظ ’أنی لا أصافحکن.إنما آخذ علیکن ما أخذ اللّٰہ عز وجل‘ (میں تم سے ہاتھ نہیں ملاؤں گا۔ میں نے تم سے وہی بیعت لی ہے جو اللہ عز و جل نے تم سے لی ہے ) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً احمد،رقم۲۷۰۵۲ میں ’إنما قولی لماءۃ إمرأۃ کقولی لإمرأۃ واحدۃ‘ (میرا سو خواتین سے کہنا ایسا ہی ہے، جیسا کہ (ان میں سے) ہر ایک خاتون سے کہنا) کے الفاظ کے بجاے ’إنما قولی لإمرأۃ قولی لماءۃ إمرأۃ‘ (میرا ایک خاتون سے کہناایسا ہی ہے، جیسا کہ سو خواتین سے کہنا) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً موطا امام مالک، رقم۱۷۷۵ میں ’کقولی لإمرأۃ واحدۃ‘ (جیسا کہ میرا ایک خاتون سے کہنا) کے الفاظ کے بجاے ان کے مترادف الفاظ ’مثل قولی لإمرأۃ واحدۃ‘ (جیساکہ میرا ایک خاتون سے کہنا) روایت کیے گئے ہیں۔
احمد، رقم۲۷۱۰۳ میں یہ روایت قدرے مختلف الفاظ میں روایت کی گئی ہے:

عن عائشۃ بنت قدامۃ قالت: أنا مع أمی رائطۃ بنت سفیان الخزاعیۃ والنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یبایع النسوۃ ویقول: أبایعکن علی أن لا تشرکن باللّٰہ شیءًا ولا تسرقن ولا تزنین ولا تقتلن أولادکن ولا تأتین ببہتان تفترینہ بین أیدیکن وأرجلکن ولا تعصین فی معروف. قالت: فاطرقن. فقال لہن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: قلن نعم فیما استطعتن، فکن یقلن وأقول معہن.
’’حضرت عائشہ بنت قدامہ کہتی ہیں کہ میں اپنی والدہ رائطہ بنت سفیان الخزاعیہ کے ساتھ تھی، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے فرما رہے تھے: میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری نہیں کرو گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہیں لاؤ گی اور بھلائی کے کسی معاملے میں میری نافرمانی نہیں کرو گی۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ عورتیں خاموش رہیں، پھر ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم سب ’ہاں‘ کہو، جہاں تک تم استطاعت رکھتی ہو۔ چنانچہ ان سب نے یہ کہا اور میں نے بھی ان کے ساتھ یہ کہا۔‘‘

____________



بشکریہ ماہنامہ اشراق
تحریر/اشاعت فروری 2015
مصنف : معز امجد
Uploaded on : Jan 11, 2016
455 View