نبی کریم کے مخاطب یہود کی سرگزشت - محمد بلال

نبی کریم کے مخاطب یہود کی سرگزشت

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب جزیرہ نماے عرب کے یہود کے مختلف نام تھے ۔ ان کے نام نضیر، قریظہ، قینقاع ، مرحب ، حارث وغیرہ تھے ، جو خالص عربی نام ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ بہت سے عرب بھی یہودی ہوگئے تھے ۔ اس کے علاوہ عرب کے یہود بڑے دلیر اور بہادر تھے ۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ یہود بالعموم اپنا نام نہیں بدلتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو اسرائیلی ہی کہتے تھے۔
بنو نضیر، بنو قینقاع اور بنو قریظہ مدینہ کے اطراف میں آباد تھے ۔ انھوں نے مضبوط برج اور قلعے بنائے ہوئے تھے ۔ حضور مدینہ آئے تو ہجرت کے پہلے ہی سال آپ نے ان کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا، جس کا خلاصہ یہ ہے :
۱۔ خون بہا اور فدیہ کا جو طریقہ پہلے سے چلا آتا تھا ، اب بھی قائم رہے گا ۔
۲۔ یہود کو مذہبی آزادی حاصل ہو گی اور ان کے مذہبی امور سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔
۳۔ یہود اور مسلمان باہم دوستانہ برتاؤ رکھیں گے ۔
۴۔ یہود یا مسلمان کو کسی سے لڑائی پیش آئے گی تو ایک فریق دوسرے کی مدد کرے گا ۔
۵۔ کوئی فریق قریش کو امان نہ دے گا ۔
۶۔ مدینہ پر کوئی حملہ ہو گا تو دونوں فریق مل کر دفاع کریں گے ۔
۷۔ کسی دشمن سے اگر ایک فریق صلح کرے گا تو دوسرا بھی شریک صلح ہو گا ، لیکن مذہبی لڑائی اس سے مستثنیٰ ہو گی ۔
سن ۲ ہجری میں تحویل قبلہ کا معاملہ ہوا۔ نماز میں مسلمانوں نے بیت المقدس کے بجائے مسجد حرام کی طرف رخ کر لیا ۔ اس پر یہود سخت برہم ہوئے ۔ انھیں مشرکین کے مقابلے میں مذہبی برتری حاصل تھی ۔ مشرکین بھی ان کے اس مذہبی امتیاز کے معترف تھے ۔ جن لوگوں کی اولاد زندہ نہ رہتی تھی، وہ منتیں مانتے تھے کہ بچہ زندہ رہے گا تو ہم اس کو یہودی بنائیں گے ۔ چنانچہ مدینہ میں اس طریقے سے بنے ہوئے بھی بہت سے یہود موجو دتھے ۔ اسلام نے اگرچہ ان کے مذہبی اعزاز کو متاثر کیا تھا، تاہم وہ اس پر فخر کرتے تھے کہ مسلمان بھی انھی کے قبلے کی طرف رخ کرتے ہیں ۔ تحویل قبلہ نے ان کے لیے صورت حال خراب کر دی ۔ انھوں نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) چونکہ ہر بات میں ہماری مخالفت کرنا چاہتے ہیں،اس لیے قبلہ بھی مخالفت کے ارادے سے بدل رہے ہیں۔ حالانکہ اس وقت تحویل قبلہ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرما دیا تھا کہ اس کی عبادت کے لیے مشرق و مغرب سب برابر ہیں ۔ خدا تو ہر جگہ اور ہر سمت میں ہے ۔
تحویل قبلہ کا معا ملہ ایک آزمایش بھی تھی۔ اس سے مومنین اور منافقین نے الگ الگ ہوجانا تھا ۔ چنا نچہ جو یہودی منافقانہ طور پر مسلمان بنے ہوئے تھے ،قبلے کی تبدیلی سے ان کی اصلیت بے نقاب ہوگئی ۔ ظاہر ہے کہ کوئی یہودی اپنے مذہب کی بنیاد یعنی بیت المقدس سے رشتہ تو نہیں توڑسکتا ۔
یہود اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی گٹھ جوڑ کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے رہتے تھے ۔ ادھر قریش عبد اللہ بن ابی کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر اکساتے رہتے تھے اور خود بھی لڑنے کے منصوبے بناتے رہتے تھے۔ جنگ بدر میں عبرت ناک شکست سے قریش کا ہر گھر ماتم کدہ بنا ہوا تھا۔ قریش کا رئیس ابو سفیان مقتولین بدر کا انتقام لینے کے لیے دوسو شتر سواروں کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھا ۔ یہاں یہود کا رویہ دیکھیے ،ابو سفیان بنو نضیر کے سردار سلام بن مشکم کے پاس گیا۔ اس نے ابو سفیان کا پر جوش استقبال کیا، خوش گوار کھانے کھلائے ، شراب پلائی اور مدینہ کے مخفی راز بتائے ۔ صبح کو ابو سفیان عریض پر حملہ آور ہوا جو مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے ۔ وہاں ایک انصای سعد بن عمرو رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور ساتھ کچھ مکانات اور گھاس کے انبار جلا دیے ۔ یوں اپنی قسم پوری کر کے بھاگ گیا۔
اسلام مدینہ میں آیا تو یہود کے مذہبی وقار میں کمی آنے لگی ۔ مشرکین میں مسلسل پھیلتی ہوئی یہودیت ، دفعتہ رک گئی ۔ حضور نے اگرچہ ان کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ ان کو ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہو گی ،مگر اصلاح و دعوت تو آپ کا فرض نبوت تھا۔ یہود زنا کرتے تھے ، سود لیتے تھے ۔ اسلام ان چیزوں کی سخت مذمت کرتا تھا۔ اس سے بھی یہود مسلمانوں سے خفا رہتے تھے، چنانچہ ا نھیں جب کبھی موقع ملتا تو وہ حضور کو اذیت بھی پہنچاتے تھے ، مگر حضور صبر وضبط سے کام لیتے تھے ۔ مثال کے طور پر یہود حضور سے علیک سلیک کے وقت السلام علیکم کے بجائے السام علیک (تجھ کو موت آئے، نعوذ باللہ ) کہتے ۔ حضور اس کے باوجود صبر سے کام لیتے، بلکہ حضور مشرکین کی نسبت ان کی ایسی باتوں میں موافقت کرتے جس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں تھی۔ اہل عرب بالوں میں مانگ نکالتے تھے ۔ یہود بالوں کو یونہی چھوڑ دیتے تھے ۔حضور بھی بالوں کو یونہی چھوڑ دیتے تھے ۔ فرعون سے بنی اسرائیل کی رہائی کے حوالے سے شکرانے کے طور پر یہود عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے ۔ آپ نے بھی حکم دیا کہ لوگ عاشورہ کا روزہ رکھیں ۔ کسی یہودی کا جنازہ گزرتا تو آپ تعظیماً کھڑے ہو جاتے ۔ پھر اسلام نے اہل کتاب کا کھانا مسلمانوں کے لیے حلال قرار دیا۔ اہل کتاب کو دعوت دی کہ آؤ ایسی باتوں کی طرف جو ہم دونوں میں مشترک ہیں ۔ مگر یہود اپنی روش پر قائم رہے۔ انھوں نے اسلام کے بارے میں بے اعتباری پھیلانے کے لیے یہ کام بھی کرنا شروع کر دیا کہ وہ مسلمان ہو کر مرتد ہو جاتے۔ تاکہ لوگ یہ خیال کریں کہ یہ مذہب اگرسچا ہوتا تو اسے قبول کر کے کیوں چھوڑا جاتا ۔ اس کے علاوہ وہ انصار کے دو قبائل اوس اور خزرج کو باہم لڑانے کی کوشش کرتے رہتے ۔ ادھر قریش نے بدر کی شکست کے بعد یہود کو لکھاکہ تم لوگوں کے پاس اسلحہ جنگ اور قلعے ہیں ۔ تم ہمارے حریف (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) سے لڑو، ورنہ ہم تمھارے ساتھ یہ اور یہ کریں گے ۔ اور کوئی چیز ہمیں تمھاری عورتوں کے کڑوں تک پہنچنے سے روک نہ سکے گی۔ صورت حال ایسی تھی کہ مسلمانوں کے ہاں یہ اندیشہ پیدا ہو چکا تھا کہ یہود حضور پر حملہ نہ کردیں ۔ حضرت طلحہ بن براء نے انتقال کے وقت وصیت کی کہ اگر میں رات کے وقت مروں تو حضور کو خبر نہ کرنا، اس لیے کہ یہود کی طرف سے ڈر ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے آپ پر کوئی حادثہ گزر جائے ۔ بدر کی فتح کے بعد یہود بھی اندیشہ ناک تھے کہ اسلام اب ایک طاقت بن گیا ہے ۔ یہود میں قینقاع سب سے زیادہ جری اور بہادر تھے ۔ چنانچہ سب سے پہلے انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اعلان جنگ کی جرأت کی اور بدر اور احد کے درمیانی زمانے میں مسلمانوں سے لڑائی کی۔
ہوا یہ تھا کہ ایک یہودی نے ایک انصاری کی بیوی کی بے حرمتی کی ۔ انصاری مسلمان غیرت سے بے تاب ہو گیا اور اس یہودی کو مار ڈالا ۔ یہودیوں نے اس مسلمان کو قتل کر دیا ۔ حضور کو خبر ہوئی تو یہودکے پاس گئے اور فرمایا کہ خدا سے ڈرو ۔ ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی بدر والوں کی طرح عذاب آئے ۔ وہ بولے: ہم قریش نہیں ہیں ۔ ہم سے معاملہ پڑا تو ہم دکھا دیں گے کہ لڑائی اس کا نام ہے ۔ چونکہ ان کی طرف سے نقض عہد اور اعلان جنگ ہو چکا تھا، اس لیے مجبور ہو کر حضور نے جنگ کی ۔ وہ قلعہ بند ہوئے ۔ مسلمانوں نے ان کا پندرہ دن تک محاصرہ کیا۔ بالآخر وہ اس پر راضی ہوئے کہ حضور جو فیصلہ کریں گے ان کو منظور ہو گا۔ عبد اللہ بن ابی ان کا حلیف تھا۔ اس نے حضور سے درخواست کی کہ انھیں جلا وطن کر دیا جائے ۔ چنانچہ وہ شام کے ایک علاقے اذرعات میں جلا وطن کر دیے گئے ۔ اسی ضمن میں سورۂ حشر میں ہے :

’’اور اگر اللہ نے ان کے لیے جلا وطنی نہ لکھی ہوتی تو وہ دنیا ہی میں انھیں عذاب دے کر ان کا نام و نشان مٹا دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب مقرر ہی ہے ۔ ‘‘ (۵۹: ۳)

مشہور یہودی شاعر کعب بن اشرف کو اسلام سے سخت عداوت تھی ۔ وہ بہت دولت مند آدمی تھا۔ بدر میں قریش کے سردار مرے تو چالیس آدمیوں کے ساتھ تعزیت کرنے مکہ گیا۔ مرنے والوں کے مرثیے پڑھے جن میں قریش کو انتقام کی ترغیب دی۔ ابو سفیان کو حرم میں لے آیا۔ حرم کا پردہ تھام کر عہد کیا کہ بدر کا انتقام لیں گے ۔ اس کے ساتھ حضور کو دھوکے سے قتل کرنے کا قصد کیا ۔ مدینہ آیا تو حضور کی ہجو میں اشعار کہے ۔ اس کی حیثیت معاند یعنی اسلام کے سخت ترین دشمن کی تھی۔ ایسے لوگوں کو قانونِ اتمام حجت کی رو سے موت کی سزا دی جا رہی تھی ۔ جنگ بدر میں بھی ایسے بہت سے معاندین یہ سزا پا چکے تھے۔ موت کی سزا مسلمانوں کے ہاتھوں سے نافذ ہورہی تھی۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی حیثیت موت کے فرشتوں کی تھی۔ جس طرح موت کے فرشتے موت کی سزا دینے سے پہلے الزام نہیں لگاتے، مقدمہ قائم نہیں کرتے اور موت کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتے، ایسے ہی مسلمانوں نے کعب بن اشرف کو اس کے سنگین جرم کی وجہ سے موت کی سزا دے دی۔
بنو نضیر نے بھی سازش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا کر آپ کے او پر پتھر گرا کر قتل کرنے کی ناکام کوشش کی۔ قریش نے بھی بنو نضیر کو حضورکے قتل کے لیے کہا۔ پھر انھوں نے ایک اور چال چلی ۔ حضور کو پیغام بھیجا کہ آپ تین آدمی لے کر آئیں ۔ ہم بھی تین علما کو ساتھ لے کر آتے ہیں ۔ یہ علما آپ پر ایمان لائیں گے تو ہم بھی لے آئیں گے ۔ آپ نے منظور فرمایا ۔ لیکن راہ میں ایک ذریعے سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ تلواریں باندھ کر تیارہیں کہ آ پ آئیں تو آپ کو قتل کر دیا جائے۔ تب حضور نے ان کا محاصرہ کیا۔ یہ غزوۂ بنو نضیر ۴ ہجری میں پیش آیا۔ بالآخر بنو نضیر اس شرط پر راضی ہوئے کہ جس قدر مال و اسباب اونٹوں پر لے جا سکیں، لے جانے دیں تو ہم مدینہ سے نکل جائیں گے ۔ ان میں معزز روسا مثلاً سلام بن ابی الحقیق، کنایہ بن الربیع ، حئ بن اخطب خیبر چلے گئے ۔ وہاں لوگوں نے ان کا اس قدر احترام کیا کہ خیبر کا رئیس تسلیم کر لیا ۔ یہاں پہنچ کربھی وہ اپنے ہتھکنڈوں سے باز نہ آئے۔وہاں انھوں نے ایک بڑی سازش شروع کی۔ یہ روسا مکہ گئے اور قریش سے کہا کہ اگر ہمارا ساتھ دو تو اسلام کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ قریش اس کے لیے ہمیشہ سے تیار تھے ۔ اس طرح دوسرے قبائل کو بھی ساتھ ملا لیا۔ یوں ایک عظیم لشکر مدینہ کی طرف بڑھا۔ مسلمانوں نے خندق کھود کر اپنا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا۔ بنو قریظہ کے یہود اس سارے معاملے سے ابھی تک الگ تھے ۔ بنو نضیر کا رئیس حئی بن اخطب خود قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا اور کہا کہ تمام عرب مسلمانوں کے خلاف امڈ آیا۔ اب اسلام کا خاتمہ ہے ۔ یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔ کعب نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عہد شکنی خلاف مروت ہے ۔ مگر بالآخرکعب پر حئ بن اخطب کا جادو چل گیا۔ حضور نے صورت حال کی تحقیق کے لیے دو صحابیوں کو بھیجا ۔ دونوں نے بنو قریظہ کو معاہدہ یاد دلایا۔ مگر انھوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ محمد کون ہیں اور معاہدہ کیا چیز ہے ۔ چنانچہ بنو قریظہ بھی مسلمانوں کے خلاف لشکر میں شامل ہو گئے ۔ پھر جنگ خندق ہوئی، جسے جنگ احزاب بھی کہا جاتا ہے ۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی مستورات جس قلعہ میں تھیں، وہ بنو قریظہ کی آبادی کے قریب تھا۔اسی جنگ میں اس قلعہ پرحملے کا موقع ڈھونڈنے کے لیے ایک یہودی پھاٹک تک پہنچ گیا جو حضرت صفیہ کے ہاتھوں قتل ہوا تھا۔ بہرحال خندق نے اس لشکر کو مسلمانوں تک نہ پہنچنے دیا۔اس کے علاوہ موسم کی سختی ، رسد کی قلت ، یہود کی علیحدگی اور زور دار آندھی نے ان کے پاؤں اکھیڑ دیے ۔ یوں قریش واپس جانے پر مجبور ہوگئے۔
بنو قریظہ کو حئ بن اخطب نے اس شرط پر مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر راضی کر لیا تھا کہ اگر قریش چلے گئے تو میں خیبر چھوڑ کر تمھارے پاس آ جاؤں گا ۔ قریش کے جانے کے بعد حئی بنو قریظہ کے ساتھ آ گیا۔ حضور نے احزاب سے فارغ ہو کر حکم دیا کہ ابھی لوگ ہتھیار نہ کھولیں ۔ مسلمانوں نے بنو قریظہ کی طرف رخ کیا۔ بنو قریظہ صلح کا رویہ اختیار کرتے تو انھیں امن دیا جاتا، مگر انھوں نے مقابلہ کیا ۔ حضورکے خلاف غلیظ زبان استعمال کی اور قلعہ بند ہو گئے ۔ مسلمانوں نے ایک مہینے تک ان کا محاصرہ کیا۔ بالآخر بنو قریظہ نے درخواست کی کہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ ہمارے بارے میں جو فیصلہ کریں گے ،ہم کو منظور ہے ۔ حضور نے یہ درخواست منظور فرمائی ۔ حضرت سعد نے فیصلہ کیا کہ لڑنے والے قتل کر دیے جائیں ، عورتیں اور بچے قید ہوں اور مال و اسباب مال غنیمت قرار دیا جائے ۔ حضور نے حضرت سعد سے کہا کہ تم نے آسمانی فیصلہ کیا۔ اصل میں حضرت سعد کا فیصلہ تورات کے مطابق تھا۔
چنانچہ بنو نضیر کے ساتھ اس طرح معاملہ کیا گیا۔ غزوۂ بنو نضیر ۵ ہجری میں ہوا تھا۔
اُدھر خیبر میں موجود یہود نے اسلام کے خلاف سازشیں جاری رکھیں ۔ آس پاس کے قبائل کو مسلمانوں کے مقابلے کے لیے تیار کیا۔ یہاں تک کہ ایک عظیم لشکر تیار کر لیا۔ یہ ۷ ہجری کی بات ہے ۔ حضور کو اس کی اطلاع ہوئی۔ حضور کی طرف سے چند آدمی اس بات کی تحقیق کے لیے گئے ۔ حضور کی خواہش تھی کہ ان کے ساتھ معاہدہ ہو جائے ۔ یہود خود سخت دل اور بدگمان قوم تھی ۔ ادھر عبد اللہ بن ابی انھیں مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر ابھار رہا تھا۔ یہود نے قبائلِ غطفان کو بھی لالچ دے کر ساتھ ملا لیا۔ غطفان کے چند افرادنے حضور کی اونٹنیوں کی ایک چراگاہ پر حملہ کر دیا۔ اونٹنیوں کی حفاظت پر مامور حضرت ابوذر کے صاحب زادے کو قتل کر دیا۔ ان کی بیوی گرفتار کر لی ۔ بیس اونٹنیاں ساتھ لے گئے ۔ حضرت سلمہ بن الا کو ع کو اس غارت گری کی خبر ہوئی توانھوں نے دو ڑکر حملہ آوروں کو جا لیا ۔ وہ اونٹنیوں کو پانی پلا رہے تھے ۔ سلمہ رضی اللہ عنہ نے تیر برسائے ۔ حملہ آور بھا گ گئے ۔ انھوں نے تعاقب کیا اورلڑ بھڑ کرتمام اونٹنیاں چھڑا لائے ۔ اس واقعہ کے تین دن بعد خبیر کی جنگ ہوئی۔
جب حضور کو یقین ہو گیا کہ یہود لڑنے کے درپے ہیں تو آپ نے جنگ کا قصد کیا ۔آپ جزیرہ نماے عرب میں دین حق کا غلبہ قائم کرنے پر مامور تھے۔چنانچہ آپ نے اعلان عام کر دیا کہ اس جنگ میں وہی لوگ شریک ہوں جن کا مقصد صرف جہاد اور اعلاے کلمۃ اللہ ہو ۔ یہود معاہدہ صلح پر آمادہ نہ تھے ۔ وہ مسلمانوں کو ختم کرنے کے درپے تھے ۔ اور پھر اہل کتاب کے بارے میں خدا کا یہ حتمی فیصلہ بھی نازل ہو چکا تھا:

’’ان اہل کتاب سے جنگ کرو ۔ جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، نہ قیامت کے دن کو مانتے ہیں ، نہ اللہ اور اس کے رسول نے جو حرام ٹھیرایا ہے ، اسے حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں ، (ان سے جنگ کرو) یہاں تک کہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں ، اور ماتحت بن کر زندگی بسر کریں ۔‘‘ ( التوبہ ۹ : ۲۹)

اس جنگ میں اہل خیبر کو شکست ہوئی۔ اور ان کے اہل توحید ہونے کی وجہ سے انھیں موت کی سزا تو نہیں دی گئی ، البتہ انھیں مسلمانوں کے ماتحت ہو کر زندہ رہنے کی اجازت دے دی گئی۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اگست 2002
مصنف : محمد بلال
Uploaded on : Jan 17, 2017
259 View