جائز نذریں - محمد رفیع مفتی

جائز نذریں

 

روي۱ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: من نذر أن یطیع اللّٰہ فلیطعہ ومن نذر أن یعصي اللّٰہ فلا یعصہ۲.
’’روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت (کے کسی کام) کی نذر مانے اسے چاہیے کہ وہ اسے پورا کرے اور جو اللہ کی نافرمانی (کے کسی کام) کی نذر مانے، اسے چاہیے کہ وہ اسے پورا نہ کرے۱۔‘‘

ترجمے کے حواشی

۱۔ نذر در حقیقت خدا کا شکر ادا کرنے کی ایک صورت ہے۔ اس میں انسان خداکی طرف سے کسی کام کے پورا ہونے کی شرط کے ساتھ اپنے اوپر کوئی عمل لازم کر لیتا ہے۔
خدا کا یہ شکر اس کی کسی فرماں برداری ہی کی صورت میں ادا ہو سکتا ہے، نافرمانی کرتے ہوئے اداے شکر کا کوئی سوال ہی نہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ صرف وہ نذریں پوری کرو جن میں تم نے فرماں برداری کے کسی کام کو اپنے اوپر لازم کیا ہو، نافرمانی کے کاموں والی نذریں ہرگز پوری نہ کرو۔

متن کے حواشی

۱۔ یہ موطا امام مالک کی روایت، رقم ۱۰۱۴ ہے۔ انھی الفاظ کے ساتھ یہ روایت حسب ذیل کتب میں بھی موجود ہے۔
سنن أبی داؤد ، رقم۳۲۸۹۔ سنن ترمذی، رقم ۱۵۲۶۔ سنن نسائی، رقم ۳۸۰۶، ۳۸۰۷،۳۸۰۸۔ سنن ابن ماجہ، رقم۲۱۲۶۔ سنن دارمی، رقم ۲۳۳۸۔ صحیح ابن حبان، رقم ۴۳۸۷، ۴۳۸۸، ۴۳۸۹۔سنن البیہقی، رقم ۱۸۶۳۲، ۱۹۸۴۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۱۴۶۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم ۲۲۴۱۔
بعض اختلافات کے ساتھ یہی روایت حسب ذیل کتب میں موجود ہے۔
صحیح بخاری ، رقم ۶۳۱۸، ۶۳۲۲۔ احمد بن حنبل، رقم ۲۴۱۲۱،۲۴۱۸۷، ۲۵۹۱۹۔ سنن البیہقی، رقم ۱۹۸۷۶۔
اور اسی روایت کا دوسرا آدھا حصہ (من نذر ان یعصی اللّٰہ فلا یعصہ) درج ذیل کتب میں موجود ہے۔
احمد بن حنبل، رقم ۲۵۷۷۹۔ صحیح ابن حبان، رقم ۴۳۹۰۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۴۸۶۳۔
۲۔ بعض روایات مثلاً صحیح بخاری ، رقم ۶۳۱۸، ۶۳۲۲ اور سنن البیہقی، رقم ۱۹۸۷۶ میں’یعصی اللّٰہ‘ (اللہ کی نافرمانی کرے) کے بجائے ’یعصہ‘(اس کی نافرمانی کرے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
اسی طرح بعض روایات مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۲۴۱۲۱میں لفظ ’اللّٰہ‘ کے بجائے ’اللّٰہ جل وعز‘کے الفاظ اور احمدبن حنبل، رقم ۲۴۱۸۷، ۲۵۹۱۹ میں لفظ ’اللّٰہ‘ کے بجائے ’اللّٰہ عز وجل ‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
مندرجہ بالا روایت کا مضمون سنن البیہقی، رقم ۱۹۸۵۸ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: النذر نذران فما کان من نذر فی طاعۃ اللّٰہ فذلک لک وفیہ الوفاء وما کان من نذر فی معصیۃ اللّٰہ فذلک للشیطان ولا وفاء فیہ فیکفرہ ما یکفر الیمین.
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر دو طرح کی ہوتی ہے، وہ نذر جو اللہ کی اطاعت (کے کسی کام) کی ہو، تو وہ تمھارے لیے صحیح ہے، اسے لازماً پورا کیا جائے اور جو نذر اللہ کی معصیت (کے کسی کام )کی ہو، تو وہ شیطانی چیز ہے اور اسے ہرگز پورا نہ کیا جائے، (بلکہ اسے توڑ کر اس کا کفارہ دیا جائے) اور اس کا کفارہ وہی ہو گا جو قسم کا کفارہ ہے۔‘‘

اور یہی مضمون سنن البیہقی، رقم ۱۹۸۶۵ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ان النذر نذران فما کان للّٰہ فکفارتہ الوفاء بہ وما کان للشیطان فلا وفاء لہ وعلیہ کفارۃ یمین.
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر دو ہی طرح کی ہے، ( ایک وہ جو اللہ کو راضی کرنے والی ہو اور دوسری وہ جو شیطان کو راضی کرنے والی ہو) چنانچہ جو نذر اللہ کے لیے ہو، اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے بجا لایا جائے اور جو نذر شیطان کے لیے ہو، اسے ہرگز پورا نہ کیا جائے، (بلکہ اسے توڑ کر اس کا کفارہ ادا کیا جائے، چنانچہ) ایسی نذر ماننے والے کو کفارۂ قسم ادا کرنا ہو گا۔‘‘

ان احادیث میں دو باتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ باطل نذر ماننے والے کو نذر توڑنا ہو گی اور دوسری یہ کہ اسے اپنی نذر کو توڑنے پر کفارۂ قسم ادا کرنا ہو گا۔
اسی روایت کا ایک حصہ سنن ابن ماجہ، رقم ۲۱۱۰میں ’ من حلف فی قطیعۃ رحم أو فیما لا یصلح فبرہ أن لا یتم علی ذلک‘(جس نے قطع رحمی کی قسم کھائی یا کسی ایسے کام کی قسم کھائی جو جائز نہیں تو اس کا پورا کرنا یہی ہے کہ وہ اس پر عمل نہ کرے) کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس میں باطل نذر کے کفارے کی نفی کی گئی ہے اور ایسی نذر ماننے والے کے لیے نذر کے پورا نہ کرنے ہی کوکافی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس حدیث سے ہم کوئی استدلال نہیں کر سکتے، کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی ضعیف ہے۔چنانچہ وہی بات صحیح ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے کہ باطل نذر توڑنا بھی ہو گی اور اس کا کفارہ بھی ادا کرنا ہو گا۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت مارچ 2007
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Oct 15, 2016
387 View