نماز کی اہمیت - محمد رفیع مفتی

نماز کی اہمیت

 

نماز کی اہمیت

۱۔عن عبد اللّٰہِ قال سَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إلی اللّٰہِ قال الصَّلَاۃُ علی وَقْتِہَا قال ثُمَّ أَیٌّ قال ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قال ثُمَّ أَیٌّ قال الْجِہَادُ فی سَبِیلِ اللّٰہ.(بخاری، رقم۵۲۷)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا، پوچھا اس کے بعد، آپ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘

۲۔عن نَافِعٍ مولی عَبْد اللّٰہ بن عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بن الْخَطَّابِ کَتَبَ إلی عُمَّالِہِ إِنَّ أَہَمَّ أَمْرِکُمْ عِنْدِی الصَّلاَۃُ فَمَنْ حَفِظَہَا وَحَافَظَ علیہا حَفِظَ دِینَہُ وَمَنْ ضَیَّعَہَا فَہُوَ لِمَا سِوَاہَا أَضْیَعُ.(موطا، رقم۶)

نافع مولی ابن عمر سے روایت ہے کہ: ’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کے نام ایک خط میں لکھا: تمھارے دینی معاملات میں میرے نزدیک سب سے اہم چیز نماز ہے۔ جو اپنی نمازکی حفاظت اور پابندی کرے گا ، وہ پورے دین کی حفاظت کرے گا، اور جو اِسے ضائع کر دے گا ، وہ باقی دین کو سب سے بڑھ کر ضائع کرنے والا ہو گا۔‘‘

۳۔عَنْ جَابِرِ بنِ عبدِ اللّٰہِ یقول سمعتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یقول بین الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ.(مسلم، رقم۲۴۷)

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی اور اُس کے کفر و شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔‘‘

۴۔عَنْ عُبَادَۃَ بنِ الصَّامِتِ أَشْہَدُ أَنِّی سمعت رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یقول خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَہُنَّ اللّٰہ تَعَالَی مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَ ہُنَّ وَصَلَّاہُنَّ لِوَقْتِہِنَّ وَأَتَمَّ رُکُوعَہُنَّ وَخُشُوعَہُنَّ کان لہ علی اللّٰہِ عَہْدٌ أَنْ یَغْفِرَ لہ وَمَنْ لم یَفْعَلْ فَلَیْسَ لہ علی اللّٰہِ عَہْدٌ إن شَاءَ غَفَرَ لہ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَہُ.(ابوداؤد،رقم۴۲۵)

عبادہ بن ثابت سے روایت ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: یہ ’’پانچ نمازیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر فرض کیا ہے ، جس نے اِن کے لیے اچھے طریقے سے وضو کیا، اِنھیں وقت پر ادا کیا اور اپنا ظاہر و باطن اِن میں پوری طرح اپنے پروردگار کے سامنے جھکا دیا ، اُس کے لیے اللہ کا عہد ہے کہ اُسے بخش دے گا اور جس نے یہ نہیں کیا، اُس کے لیے اللہ کا کوئی عہد نہیں۔ وہ چاہے تو اُسے بخش دے اور چاہے تو عذاب دے ۔‘‘

۵۔عن أبی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ سمع رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یقول أَرَأَیْتُمْ لو أَنَّ نَہَرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ فیہ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسًا ما تَقُولُ ذلک یُبْقِی من دَرَنِہِ قالوا لَا یُبْقِی من دَرَنِہِ شیئا قال فَذَلِکَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ یَمْحُو اللّٰہ بہا الْخَطَایَا.(بخاری، رقم ۵۲۸)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہائے تو کیا اُس کے جسم پر میل نام کی کوئی چیز باقی رہ جائے گی؟ لوگوں نے عرض کیا: اِس صورت میں تو یقیناًذرا میل بھی باقی نہ رہے گی۔ آپ نے فرمایا : یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ اِن کے ذریعے سے گناہوں کو (بالکل اِسی طرح) مٹا دیتا ہے۔‘‘

توضیح

۱۔اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ محبوب عمل نماز ہے۔
۲۔ اپنی نمازکی حفاظت اور پابندی کرنے والے ہی سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ پورے دین کی حفاظت کرے گا، دوسرے سے نہیں۔
۳۔اللہ وحدہ لا شریک کے لیے نماز کا اہتمام ہی نہ کرنا، ایمان اور کفر و شرک کے درمیان فاصلے کو ختم کر دیتا ہے۔
۴۔ نماز پنج گانہ بخشش کی ضمانت ہے۔
۵۔ اللہ تعالیٰ نمازوں کے ذریعے سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔

تہجد کی نماز کی خصوصی اہمیت

۶۔عن أبی ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ إلی السَّمَاءِ الدُّنْیَا حین یَبْقَی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْآخِرُ یقول من یَدْعُونِی فَأَسْتَجِیبَ لہ من یَسْأَلُنِی فَأُعْطِیَہُ من یَسْتَغْفِرُنِی فَأَغْفِرَ لہ.(بخاری، رقم۱۱۴۵)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمارا بلند اور با برکت پروردگار ہر رات کو اُس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اُس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اُسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اُس کو بخش دوں۔‘‘

۷۔قال یَنْزِلُ اللّٰہ إلی السَّمَاءِ الدُّنْیَا کُلَّ لَیْلَۃٍ حین یَمْضِی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْأَوَّلُ فیقول أنا الْمَلِکُ أنا الْمَلِکُ من ذَا الذی یَدْعُونِی فَأَسْتَجِیبَ لہ من ذَا الذی یَسْأَلُنِی فَأُعْطِیَہُ من ذَا الذی یَسْتَغْفِرُنِی فَأَغْفِرَ لہ فلا یَزَالُ کَذَلِکَ حتی یُضِیءَ الْفَجْرُ عن أبی ہُرَیْرَۃَ عن رسول اللّٰہِ.(مسلم، رقم۱۷۷۳)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تبارک وتعالیٰ ہر رات کا ابتدائی حصہ گزرنے کے بعد آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا اور ارشاد فرماتا ہے: میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اُس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اُسے عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں اُسے معاف کر دوں، اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح روشن ہو جاتی ہے۔‘‘

توضیح

۱۔خدا شہنشاہ کائنات ہے اُس کی خوبی اور اچھائی ناقابل بیان ہے۔ وہ تہجد کے وقت میں وہ خود آگے بڑھ کر اپنے عابد بندوں کی دعائیں قبول کرتا، اُنھیں اپنی عطاؤں سے نوازتا اور اپنی بخششوں سے بہرہ مند کرتا ہے۔

صاحب ایمان کے لیے نماز کی حیثیت

۸۔عن عبد اللّٰہِ بن مُحَمَّدِ بن الْحَنَفِیَّۃِ قال انْطَلَقْتُ أنا وَأَبِی إلی صِہْرٍ لنا من الْأَنْصَارِ نَعُودُہُ فَحَضَرَتْ الصَّلَاۃُ فقال لِبَعْضِ أَہْلِہِ یا جَارِیَۃُ اءْتُونِی بِوَضُوءٍ لَعَلِّی أُصَلِّی فَأَسْتَرِیحَ قال فَأَنْکَرْنَا ذلک علیہ فقال سمعت رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یقول قُمْ یا بِلَالُ فَأَرِحْنَا بِالصَّلَاۃِ.(ابوداؤد، رقم۴۹۸۶)

عبداللہ بن محمد بن حنفیہ سے روایت ہے کہ: ’’میں اور میرے والد اپنے ایک انصاری سسرالی رشتہ دار کی عیادت کو گئے تو وہاں نماز کا وقت آ گیا، صاحب خانہ نے اپنے گھر کے کسی فرد یا اپنی لونڈی سے کہا کہ اے لڑکی میرے لیے وضوکا پانی لاؤ تا کہ میں نماز پڑھ لوں اور آرام پاؤں، ہمیں اُن کی یہ بات ناگوار محسوس ہوئی، تواُنھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے بلال اٹھو اور ہمیں نماز سے راحت پہنچاؤ۔‘‘

۹۔عن أَنَسٍ قال قال رسول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُبِّبَ إلی النِّسَاءُ وَالطِّیبُ وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِی فی الصَّلَاۃِ.(نسائی، رقم ۳۳۹۲)

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے عورتوں اور خوشبو کی محبت دی گئی ہے اور نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی ہے۔‘‘

توضیح

۱۔ خدا سے سچا تعلق رکھنے والوں کے لیے نماز باعث راحت و سکون ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو جب قوت ایمانی غیب کے پردوں کو اٹھا دیتی ہے تو پھر کیا خدا کے حضور میں قیام اور رکوع و سجود کی سرگوشیوں سے بڑھ کر بھی کوئی آنکھ کی ٹھنڈک اور دل کی راحت ہو سکتی ہے۔

آداب نماز

۱۰۔عن بن عُمَرَ قال قال رسول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ... إذا کان لِأَحَدِکُمْ ثَوْبَانِ فَلْیُصَلِّ فِیہِمَا فَإِنْ لم یَکُنْ إلا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْیَتَّزِرْ بِہِ ولا یَشْتَمِلْ اشْتِمَالَ الْیَہُودِ.(ابوداؤد، رقم ۶۳۵)

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو دونوں میں نماز پڑھے اور اگر ایک ہی ہو تو تہ بند باندھ لے، اُسے نماز میں یہودیوں کی طرح چادر بنا کر لپیٹے نہیں ۔‘‘

توضیح

۱۔ آدمی کو تن ڈھانپنے کے لیے جتنا کپڑا بھی میسر ہے، اُسے وہ انتہائی باحیا طریقے سے اوڑھے۔چنانچہ ایک ہی چادر میسر ہو تو اُس سے تہ بند باندھ لے۔ یہ درست نہیں ہے کہ اِس صورت میں وہ اپنے اوپر کے حصے کو ڈھانپتا پھرے۔

نماز دین ابراہیمی کی روایت

۱۱۔عَنْ عبد اللّٰہ بن صامت قال قال أَبُو ذَرٍّ... وَقَدْ صَلَّیْتُ یَا بْنَ أَخِی قَبْلَ اَنْ أَلْقَی رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ سِنِینَ قلت لِمَنْ قال لِلّٰہِ قلت فَأَیْنَ تَوَجَّہُ قال أَتَوَجَّہُ حَیْثُ یُوَجِّہُنِی رَبِّی.(مسلم، رقم۶۳۵۹)

عبداللہ بن صامت سے روایت ہے کہ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا کہ اے میرے بھتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سے تین سال پہلے سے ہی نماز پڑھتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کس کے لیے پڑھتے تھے؟ فرمایا:اللہ کے لیے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کس طرف رخ کیا کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ادھر جدھر میرا رب میرا رخ کر دیتا تھا۔

توضیح

یہ حدیث بتاتی ہے کہ بعثت نبوی کے موقع پر دین ابراہیمی کی باقیات بہت واضح صورت میں موجود تھیں۔

ابراہیمی روایت کی تجدید و اصلاح

۱۲۔عن بن عَبَّاسٍ قال قال رسول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَّنِی جِبْرِیلُ علیہ السَّلَام عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ فَصَلَّی بِیَ الظُّہْرَ حین زَالَتْ الشَّمْسُ وَکَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاکِ وَصَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حین کان ظِلُّہُ مثلہ وَصَلَّی بِیَ یَعْنِی الْمَغْرِبَ حین أَفْطَرَ الصَّاءِمُ وَصَلَّی بِیَ الْعِشَاءَ حین غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّی بِیَ الْفَجْرَ حین حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ علی الصَّاءِمِ فلما کان الْغَدُ صلی بِیَ الظُّہْرَ حین کان ظِلُّہُ مثلہ وَصَلَّی بِی الْعَصْرَ حین کان ظِلُّہُ مِثْلَیْہِ وَصَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حین أَفْطَرَ الصَّاءِمُ وَصَلَّی بِیَ الْعِشَاءَ إلی ثُلُثِ اللَّیْلِ وَصَلَّی بِیَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إلی فقال یا محمد ہذا وَقْتُ لأنبیاء من قَبْلِکَ وَالْوَقْتُ ما بین ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ.(ابوداود، رقم۳۹۳)

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے دو مرتبہ خانہ کعبہ کے پاس میری امامت کی ہے، چنانچہ ایک دن تو اُنھوں نے ایسے وقت میں مجھے ظہر کی نماز پڑھائی جب سورج (بس)ڈھلا ہی تھا اور ہر چیز کا سایہ جوتے کے تسمہ کے برابر ہو گیا اور عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور مغرب کی نماز ایسے وقت میں پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے اور عشاء کی نماز ایسے وقت میں پڑھائی جب شفق غائب ہوگئی اور فجر کی نماز اُس وقت میں پڑھائی جب روزہ دار کے لیے کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے پھر دوسرے دن ظہر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس سے دوگنا ہو گیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے اور عشاء کی نماز تہائی رات پر پڑھائی اور فجر کی نماز روشنی پھیلنے پر پڑھائی۔ اِس کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے محمد! یہ ہیں تم سے پہلے انبیاء کی نمازوں کے اوقات (اورتمھارے لیے بھی) نماز کے اوقات ، وقت کی اِنھی دو حدوں کے درمیان ہیں۔

توضیح

۱۔ اس حدیث سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس وقت کی موجود ملت ابراہیمی کی روایت کی تجدید و اصلاح کس طریقے سے فرمائی تھی۔

------------------------------

 

بشکریہ محمد رفیع مفتی

تحریر/اشاعت اکتوبر 2012

مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : May 28, 2016
638 View