نبی کریم کا جہاد و قتال - محمد بلال

نبی کریم کا جہاد و قتال
[مدیر ’’اشراق‘‘ کے افادات پر مبنی]

سوال : حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا دین اصل میں دین جہاد ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی غزوات میں بہ نفس نفیس حصہ لیا ۔ کئی سرایا منظم کیے ۔ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ جہادی مصروفیات میں گزرا، حتیٰ کہ آپ نے وفات سے کچھ دیر قبل بھی حضرت اسامہ بن زید کی قیادت میں ایک جہادی مہم روانہ کی ۔ آپ کا اس بارے میں کیا نقطۂ نظر ہے ؟
جواب : ہم ’’جہادوقتال کے شرائط‘‘ کے عنوان سے سوال کا جواب دیتے ہوئے بہ دلائل یہ بات واضح کر چکے ہیں ۱؂ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جزیرہ نماے عرب میں غلبۂ حق قائم کرنے پر مامور تھے۔ اس لیے آپ نے قانون اتمام حجت کی رو سے اپنے سرکش مخاطبین میں سے قریش کو موت اور اہل کتاب کو مغلوبیت کی سزا دینی تھی۔اسی طرح آپ نے جزیرہ نماے عرب میں فتنہ (Persecution) کا خاتمہ کرنا تھا۔ ابتداءً آپ نے اپنے مخاطبین کو قلبی طور پر اسلام کے تابع کرنے کی بھرپور سعی و جہد کی ، مگر اکثر مخاطبین نے آپ کا انکار کیا ، بلکہ اسلام اور مسلمانوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے آپ پر جنگیں مسلط کیں ۔ چنانچہ بدر ، احد اور احزاب میں آپ نے دفاعی جہاد کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے اپنے مذکورہ مقصد بعثت کی تکمیل اور فتنے کے استیصال کے لیے اپنے سرکش مخاطبین کے خلاف بلاشبہ اقدامی جہادو قتال بھی کیا، جس میں کئی غزوات اور سرایا شامل ہیں ۔ یہاں یہ نکتہ ذہن میں رہے کہ جزیرہ نماے عرب میں اسلام اور مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے لیے اور قانون اتمام حجت کی رو سے کیے جانے والا یہ جہاد وقتال ایک ایسا خدائی معاملہ تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا ۔ اس کا تعلق شریعت سے نہیں ہے ۔ اس میں ہمارے لیے کوئی اسوہ نہیں ہے ۔ یہ دراصل ایک قیامت صغریٰ تھی جو قیامت کبریٰ کی حسی دلیل بنا کر پیش کی گئی۔ اس میں اللہ و رسول کے فرماں برداروں کو ان کی فرماں برداری کے لحاظ سے جزا ملی اور نافرمانوں کو ان کی نافرمانی کے لحاظ سے سزا۔
اس سلسلے میں ضمنی طور پر یہ بات پیش نظررکھیے کہ جس دور میں تاریخ اسلام لکھی گئی ، اس وقت تاریخ نویسی زیادہ تر جنگ و جدال اور فتوحات کے ذکر پر مبنی ہوتی تھی۔ کسی قوم کے اندر سیاسی اور سماجی حالات میں امن و محبت کے اوصاف کتنی ہی زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہوں،تاریخ دان اس کی جنگوں ہی کو قابل اعتنا سمجھا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی جنگوں کا ذکر بہت نمایاں انداز میں کیا گیا ہے ۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت اکتوبر 2002
مصنف : محمد بلال
Uploaded on : Oct 08, 2016
589 View