طلب مدد کے لیے قریش کا یہود سے رابطہ (1) - خالد مسعود

طلب مدد کے لیے قریش کا یہود سے رابطہ (1)

’’سیر و سوا نح ‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

 

قرآن مجید قریش کے عقائد، عبادات اور تصور دین ہر چیز پر تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور نبی ﷺ بے کم و کاست ہر چیز کو عوام کے آگے رکھ رہے تھے۔ قریش اپنی معلومات کے مطابق ان چیزوں کا جواب مہیا کر کے اپنے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے لیکن انہیں احساس ہوتا کہ اس پر شکوہ آسمانی کلام کے مقابلہ میں بات بنتی نظر نہیں آتی۔ چنانچہ انہو ں نے نئے دین کے توڑ کے لیے اپنے ایک لیڈر نضر بن حارث کو یثرب کے یہودی لیڈروں کے پاس بھیجا کہ وہ بھی محمد (ﷺ) کی مخالفت میں سرگرم ہو جائیں اور قریش کو ایسی چیزیں بتائیں جن کا حوالہ دے کر ان کامنہ بند کیا جا سکتا ہو۔ یہود اب تک خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے یا وہ اپنے تعلق کے مکی اکابر کو کچھ اعتراضات سجھاتے رہتے تھے لیکن نضر بن حارث کے مشن کے بعد وہ پوری طرح سرگرم ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ حضورکی بعثت کے بعد ابتدائی سالوں میں اہل کتاب کا تذکرہ قرآن مجید میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ بعد کے سالوں میں اسلام کے ان درپردہ دشمنوں کی کارگزاری کو طشت از بام کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب رسول اللہ کی دعوت اور اس کے ممکنہ نتائج سے نہ صرف پوری طرح آگاہ تھے بلکہ انہوں نے قریش کو اس کے مقابلہ میں خم ٹھونک کر آنے میں پوری علمی، اخلاقی اور سیاسی مدد دی۔
نضر بن حارث کامشن یہ معلوم ہوتا ہے کہ قریش اہل کتاب کی رائے لینا چاہتے تھے کہ کیا ہمارے اندر پیدا ہونے والا یہ شخص واقعی نبی ہے یا ہمارے اوپر دھونس جمانے کے لیے نبوت کا دعویدار بن گیا ہے۔ نبی کو پہچاننے کے طریقے کیا ہیں۔ ہمیں اس شخص کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ دیکھا جائے تو قریش کے اندر نبی موعود کی بعثت کامعاملہ اہل کتاب کے لیے سوہان روح تھا۔ وہ اپنی کتابوں میں وارد پیشینگوئیوں کی بنا پر جانتے تھے کہ ایک عظیم رسول کی بعثت ہونے والی ہے۔ وہ اس کی ذات سے خدا کی نصرت اور دوسری اقوام پر غلبہ کی توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے۔ انہیں یہ امید تھی کہ آخری رسول بنی اسرائیل کے سلسلہ انبیاء ہی کے ایک فرد ہوں گے۔ یہ ان کی موہوم امید تھی کیونکہ انبیائے بنی اسرائیل کی پیشینگوئیوں میں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ نبی موعود بنی اسرائیل سے ہو گا۔
بنی اسماعیل کو یہود ہمیشہ حقارت کی نظر سے دیکھتے رہے تھے اس لیے رسالت کاتاج ان کے سروں پر سجا ہوا انہیں ایک نظر نہیں بھایا۔ دوسری طرف زمینی حقیقت یہ تھی کہ قریش عرب کے سردار تھے۔ رسول اللہ کی علانیہ مخالفت کرنے کی صورت میں اندیشہ تھا کہ عربوں کی قومی حمیت نہ جاگ اٹھے۔ اس لیے اہل کتاب کی منصوبہ بندی نہایت محتاط نظر آتی ہے۔ مکی دور میں ان کے دو رویے سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ نئی نبوت کے رنگ ڈھنگ دیکھتے رہو اور حالات پر کڑی نظر رکھو۔ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنا نقصان دہ ہو گا۔ دوسرا یہ کہ قریش کو اکسا کر انہیں اس دعوت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا جائے اور اہل کتاب خود پارٹی بننے سے حتی الامکان گریز کریں۔

قرآن کے وحی ہونے پر اعتراض:

نبی ﷺ جو کچھ پیش کرتے اس کے بارے میں یہ وضاحت فرما دیتے تھے کہ یہ اللہ رب العزت کی طرف سے نازل ہوا ہے اور مجھے اس کی تبلیغ کا حکم ہوا ہے۔ اہل کتاب نے پہلے پہل قریش کو یہ باور کرانا چاہا کہ جو شخص بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر خدا نے کوئی کتاب اتاری ہے وہ برخود غلط آدمی ہے۔ بھلا خدا کسی شخض پر وحی کے ذریعے کتاب کیوں نازل کرے گا۔ قرآن مجید نے اہل کتاب کی اس شرارت کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا:

وَمَا قَدَرُواللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ۔ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِہٖ مُوْسٰی نُوْرًا وَّ ھُدًی لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَہ‘ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَہَا وَ تُخْفُوْنَ کَثِیرًا وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْا اَنْتُمْ وَلَا آبآؤُکُمْ۔ قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِی خَوضِہِمْ یَلْعَبُوْنَ۔ (الانعام ۶: ۹۱) اور انہوں نے اللہ کی صحیح قدر نہیں پہچانی جب یہ کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر بھی کوئی چیز نہیں اتاری۔ ان سے پوچھو، وہ کتاب کس نے اتاری جس کو موسیٰ روشنی اور لوگوں کے لیے ہدایت کی حیثیت سے لے کر آئے، جس کو تم ورق ورق کر کے کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور زیادہ کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو ان باتوں کی تعلیم دی گئی جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا؟ کہہ دو اللہ ہی نے ۔ پھر ان کو ان کی کج بحثیوں میں چھوڑ دو، کھیلتے رہیں۔

حیرت ہوتی ہے کہ اتنا لایعنی اعتراض اہل کتاب کو سوجھا کیوں، جبکہ ان کی اپنی شناخت اسی بنیاد پر تھی کہ وہ وحی و الہام سے واقفیت رکھنے والے لوگ تھے۔ یقیناً وہ قریش کی سادہ لوحی اور امور وحی سے ان کی عدم واقفیت سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اسی لیے جواب یہ دیا گیا کہ آخر موسیٰ علیہ السلام جو کتاب (تورات) لائے تھے اس کا منبع کون سا تھا۔ تورات کے نزول کے وقت اگر انسانوں کو آسمانی رہنمائی اور روشنی کی ضرورت تھی تو کیا اب وہ اس کے ضرورت مند نہیں رہے؟ یا کیا اب اللہ تعالیٰ انسانوں کی رہنمائی کے کام سے دستبردار ہو چکا ہے؟ جب اہل کتاب تورات کی تعلیم کو چھپا چھپا کے رکھیں گے تو کیا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو تاریکی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دے گا؟ خدا شناسی کے ان مدعیوں نے اللہ رب العزت کو بہت کم پہچانا ہے۔ وہ اس کی صفات سے آگاہ ہیں اور نہ اس کے افضال و عنایات سے۔ اہل کتاب کا القا کردہ اسی طرح کا مضحکہ خیز دوسرا اعتراض یہ تھا کہ وحی آسمانی کی خاص زبان عبرانی ہے۔ تمام صحیفے اسی زبان میں نازل ہوئے جبکہ قرآن عربی میں ہے۔ اگر یہ واقعی آسمانی صحیفہ ہوتا تو اسے عبرانی زبان میں ہونا چاہیے تھا۔ آخر اللہ تعالیٰ وقت گزرنے کے ساتھ اپنی زبان تو نہیں بدلے گا۔ اس اعتراض کے جواب میں فرمایا:

وَلَوْ جَعَلْنٰہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَولَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُہ‘۔ ءَ اَعْجَمِیّ’‘ وَّ عَرَبِیّ’‘۔ قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّ شِفَاء’‘۔ وَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِی اٰذَانِھِمْ وَقْر’‘ وَّ ھُوَ عَلَیْھِمْ عَمًی۔ اُولٰءِکَ یُنَادُوْنَ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ۔ (حم السجدہ ۴۱: ۴۴) اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی قرآن کی شکل میں اتارتے تو یہ لوگ یہ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی! کلام عجمی اور مخاطب عربی! کہہ دو یہ ان لوگوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے جو اس پر ایمان لائیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لا رہے ہیں تو ان کے کانوں میں بہرا پن ہے اور یہ ان کے اوپر ایک حجاب ہے۔ اب یہ لوگ ایک دور کی جگہ سے پکارے جائیں گے۔

یعنی یہود کے صحیفوں کے مخاطب عبرانی تھے تو صحیفے بھی عبرانی میں نازل ہوئے۔ قرآن کے مخاطب عربی ہیں تو ضروری ہوا کہ آسمانی ہدایت عربی زبان ہی میں نازل ہو ورنہ اس کلام کو سمجھنے والا کوئی نہ ہوتا اور اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا کہ عربی مخاطبوں کے سامنے عجمی کلام پیش کرنے کا کیا تُک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل کتاب نے اپنی کتاب ہدایت سے آنکھیں بند رکھ کر ان کو تاریکی ہی کاخوگر بنا لیا ہے۔ اب قرآن مجید کی روشنی مہیا ہوئی ہے تو یہ ان کی نگاہوں کو خیرہ کر رہی ہے اور وہ اس کی تاب نہیں لا رہے ہیں۔ کیا وہ رسول کے پیغام پر کان دھرنے کے بجائے یہ پسند کریں گے کہ قیامت کے روز اللہ کا منادی ان کو پکارے اور ہدایت سے اعراض کے جرم میں ان کو جہنم کی طرف لے جائے۔

اہل کتاب کی معاونت کا الزام

اہل کتاب کے لیے ایک پریشان کن صورت حال اس وقت پیدا ہوتی جب قرآن انہی کی تاریخ کے حوالے دیتا اور قریش کو ایسی باتوں سے آگاہ کرتا جن کا ذکر ان کے صحیفوں میں تھا۔ اس پر وہ یہ موقف اختیار کرتے کہ محمد ﷺ اس کتاب کو بعض اہل کتاب کی مدد سے مرتب کر رہے ہیں۔ یہ اعتراض بالعموم مبہم ہوتا تاکہ اس کی اصلیت کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔ یہ کہا جاتا کہ کچھ لوگ صبح و شام محمدکو لکھ کر دے دیتے ہیں اور وہ اسے لوگوں کو سنادیتے ہیں۔ اتفاق سے چند لوگ جو نبی ﷺ کے قریب بھی تھے وہ عجمی تھے، لہٰذا انہی کا نام ان کی زبان پر آتا۔ اس پر قرآن نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّہُمْ یَقُولُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہ‘ بَشَر’‘۔ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیّ’‘ وَّ ھٰذَا لِسَان’‘ عَرَبِیّ’‘ مُّبِیْن’‘۔ (النحل ۱۶: ۱۰۳)اور ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کو تو ایک انسان سکھاتا ہے۔ اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں عجمی ہے جب کہ یہ فصیح عربی زبان ہے۔

مطلب یہ ہے کہ یہ لغو اعتراض کرنے سے پہلے قرآن مجید کے بیان کی سطوت و جلالت اور اس کی زبان کی بے مثال فصاحت ہی پر غور کر لیتے۔ کیا ایک عجمی شخص ایسا کلام مرتب کرنے پر قادر ہو سکتا ہے۔ اگر یہ انسانی کلام ہے تو قریش اپنے بے پناہ وسائل کو استعمال کر کے اہل کتاب کی ایک جماعت سے قرآن کی نظیر تیار کرنے کی خدمت کیوں نہیں لے سکتے۔
قرآن کی تالیف میں اہل کتاب کی معاونت کی بات دوسرے پہلو سے بھی بالکل بے حقیقت ہے۔ اگر فی الواقع یہ معاونت ہوتی تو قرآن کا بیان تورات کے مطابق ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نقل تیار کرنے میں کوئی دانشمند آدمی یہ خطرہ مول نہیں لے سکتا کہ نقل اصل کے مطابق نہ رہے۔ ورنہ لوگ فوراً انکار کر سکتے ہیں۔ قرآن مجید کا معاملہ یہ ہے کہ اس نے تورات کے بیان کی موافقت کو کوئی اہمیت نہیں دی بلکہ وہ بیان دیا ہے جو حقیقت پر مبنی تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کے بیانات میں مضمون کا فطری ارتقاء نظر آتا ہے جبکہ تورات میں ایسا نہیں۔ بسا اوقات قرآن نے تورات کے بیان کو غلط کہہ کر اس کو درست کر دیا ہے۔ لہٰذا قرآن کا انداز محاکمہ کا ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اہل کتاب کی کوئی جماعت پیغمبر ﷺ کی خاطر ایسا کیوں کرتی! بعض مضامین ایسے بھی ہیں جن کے بیان میں قرآن منفرد ہے۔ آخر ان کا ذریعہ کون بنا؟
یاد رہے کہ اہل کتاب کی معاونت کا یہی گھسا پٹا اعتراض آج کے عقلیت پسند دور میں مستشرقین نے اٹھا رکھا ہے۔یہ چودہ سو سال پہلے جس طرح مبہم تھا آج کی دقیقہ رس جستجو کے بعد بھی اسی طرح مبہم ہے۔ وسائل تحقیق سے لیس مغربی محققین اس کو مدلل اور حقیقت پسندانہ بنانے پر قادر نہیں ہو سکے۔ گویا اس معاملہ میں ان کا ذہن دور نبوت کے قریش اور اہل کتاب کی ذہنی سطح سے بلند نہ ہو سکا۔ قرآن نے اپنے مخاطبوں کے ذہن سے تو تمام کانٹے نکال دیے تھے اور وہ اس کے بعد اس کتاب کے علمبردار بن کر ابھرے لیکن مستشرقین کو ابھی تک یہ توقع ہے کہ وہ قرآن کو ایک انسانی تصنیف ثابت کر پائیں گے۔ ولیم میور کی بے چارگی کا اندازہ اس سے کیجئے کہ وہ مختلف احتمالات کا تذکرہ ایسے طور پر کرتا ہے کہ تحقیق بھی اس پر سر پیٹ کر رہ گئی ہو گی۔ کہتا ہے:

مکہ اور مدینہ میں عیسائی روایات ناکافی تھیں جن کی مدد سے محمد ایسی تحریر لا سکتے جو بہت سے مقامات میں بائبل سے مطابقت رکھتی ہو۔ ہو سکتا ہے محمدنے مکہ کے غلاموں سے اہل کتاب کی معلومات سن رکھی ہوں لیکن یہ غلام بالعموم لڑکپن میں اپنے اپنے علاقوں سے لائے گئے تھے ، انہیں چند کہانیاں یا بنیادی عقیدے یاد رہ گئے ہوں گے۔ ہو سکتاہے کسی نے لوقا کی ابتدائی سطور پڑھ رکھی ہوں جن میں یحییٰ کی ولادت کا ذکر ہے۔ اس نے محمد سے اس کا تذکرہ کر دیاہو۔ ہو سکتا ہے کسی نے اپنی یادداشت سے کچھ بیان کر دیا ہو۱؂۔

جہاں تک مکہ میں اہل کتاب کے وجود کا تعلق ہے۔ خاص مکہ میں یہود و نصاریٰ اجنبی نہ تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے عزیز ورقہ بن نوفل انجیل کو اس کی اصل زبان میں لکھتے پڑھتے تھے۔ زید بن عمرو بن طفیل، سلمان فارسی، ابو فکیہہ رومی، ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ پہلے عیسائی تھے۔ نبی ﷺ کے متبنیؓ بن حارثہ کا تعلق بنو کلب سے تھا جن میں عیسائیت جانی پہچانی تھی۔ جہاں تک یہود کا تعلق ہے ان کے اکابر کے دوستانہ تعلقات قریشی سرداروں کے ساتھ ایک تاریخی حقیقت ہیں۔ یثرب کے بعض با اثر یہودی مکہ میں آباد ہو گئے تھے۔ یہودی سردار کعب بن اشرف کا مکہ میں ہفتوں قیام رہتا۔ قرشی سرداروں کی آمدورفت مدینہ کے بنونضیر کے ہاں رہتی۔
نبی ﷺ کے زمانہ میں اہل کتاب حج کی عبادات میں شامل ہوتے رہے ہوں یا ان سے اجتناب کرتے رہے ہوں، تاریخ سے اس اہم اجتماع میں ان کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔ خود مستشرقین تاریخی حوالوں سے بیان کرتے ہیں کہ ایک زمانہ میں نبی ﷺ نے منیٰ میں نجران کے اسقف اعظم قس بن ساعدہ کی تقریر سنی تھی۔ حج کے اجتماع کی سیاسی، سماجی اور تجارتی اہمیت کے باعث اہل کتاب کے لیے عربوں کے اس اہم قومی مرکز کو نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔
باقی رہ گیا یہ سوال کہ کیا مکہ یا اس کے گردونواح میں اہل کتاب کی موجودگی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ نبی ﷺ نے ان کی مدد سے قرآن تصنیف کیا تو یہ بات کوئی عاقل تسلیم نہیں کر سکتا ۔ اس کی وجوہ حسب ذیل ہیں:
۱۔ مستشرقین اوائل اسلام کے مکہ میں جن اہل کتاب کی موجودگی اب تک ثابت کر پائے ہیں وہ یا تو غلام تھے یامحنت کش۔ ان کی معلومات ایسی نہیں ہو سکتیں جن کی بنا ء پر اہل کتاب کی معلومات کو محل نظر ٹھہرایا اور معرض بحث میں لایاجا سکتا۔ قرآن مجید نے اہل کتاب کی تاریخ اور ان کے عقائد پر ایسی بھرپور بحث کی ہے جو سنی سنائی معلومات کے بل بوتے پر ہرگز نہیں کی جا سکتی۔ اس میں اہل کتاب کے غلط تصورات کی تصحیح بھی کی گئی ہے۔
۲۔ کسی بھی مذہب کے لوگ اپنے مذہب کے وفادار ہوتے ہوئے ایک متوازی دین قائم کرنے میں کیسے ممد و معاون ہو سکتے تھے؟ وہ اپنے ہی گھر میں نقب کیوں لگاتے؟ ان کی مخالفت تو قرین قیاس ہے لیکن نبی ﷺ کے مشن میں ان کی معاونت بالکل غیر فطری ہے۔ نبی ﷺ کی آواز بعثت کے وقت ایک تنہا آدمی کی آواز تھی ۔ اس پر لبیک کہنا اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ اہل کتاب ان کی اعانت کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تو آخر کس طمع میں؟ ان کا کوئی مفاد اس سے پورانہیں ہو رہا تھا۔ اہل کتاب کے دونوں گروہوں، یہود اور نصاریٰ، کے ساتھ تو بعد کے ادوار میں بڑی خونریز جنگیں ہوئیں۔ ابتدائی دور میں ان کے افراد اسلام کے معاون کیسے ہو سکتے تھے؟
۳۔ قرآن مجید میں اہل کتاب سے متعلق حصہ بہت زیادہ نہیں۔ فرض کر لیجیے کہ اس حصہ کی تصنیف اہل کتاب کی معاونت سے ممکن ہوئی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی حصہ جو اہل کتاب سے متعلق حصہ سے چھ سات گنا زیادہ ہے کس کی اعانت سے مرتب ہوا؟ گویا قرآن کی تصنیف کا معاملہ پھر بھی حل طلب رہتا ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارے یہ دانشور یہ بات تو تسلیم کرتے ہیں کہ بیسیوں مصنف باہم مل کر بھی شیکسپیئر کے ڈراموں کی نظیر پیش نہیں کر سکتے، جو بہرحال ایک انسانی ذہن کی تخلیق ہے۔ اسی طرح یہ تسلیم کرنا بھی ان کے لیے مشکل ہے کہ سائنس دانوں کی ایک بڑی جماعت آئن سٹائن کی پشت پر رہی ہو گی جس کی مدد سے یہ عظیم سائنس دان اپنا نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) پیش کرنے کے قابل ہو سکا۔ لیکن قرآن مجید کے بارے میں، جس کے کھلے چیلنج کے باوجود اس کی سورتوں جیسی ایک سورہ چودہ صدیوں میں تصنیف نہ ہو سکی، یہ بڑہانک دی جاتی ہے کہ اس کو چند معمولی افراد کی مدد سے محمد ﷺ نے تصنیف کر لیا۔ جبکہ یہ بات بھی طے ہے کہ آنحضرت ؐ نے کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا اور آپؐ امی تھے۔
قرآن مجید کا نقطہ نظر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی دلیل کے طور پر یہی بات کافی ہے کہ ایک شخص جس نے نہ آسمانی صحیفوں میں سے کوئی صحیفہ پڑھا، نہ وہ لکھنے کے فن سے واقف ہوا ، آخر اس کے اوپر سابق صحیفوں کی مانندکلام اور انہی جیسے اعلیٰ مضامین کیسے وارد ہو گئے اور وہ پچھلی امتوں اور رسولوں کے احوال سے کیسے واقف ہو گیا؟ فرمایا :

وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہِٖ منْ کِتَابٍ وَّلَا تَخُطُّہ‘ بِیَمِیْنِکَ اِذًا لَّا رْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ۔ (العنکبوت ۲۹: ۴۸)اور تم تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ ایسا ہوتا تو یہ جھٹلانے والے شک کرنے میں حق بجانب ہوتے۔

لہذا ہمارے نزدیک مکہ میں اہل کتاب کا موجود ہونا یا نہ ہونا قرآن کی تصنیف کے نقطہ نظر سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

قرآن اور قدیم صحف میں فرق کا اعتراض:

اہل کتاب نے جب یہ دیکھا کہ نئی نبوت کا انحصار قرآن مجید پر ہے جو الہامی کلام کے طور پر لوگوں کو سنایاجاتا ہے اور وہ اس سے متاثر ہو جاتے ہیں تو انہوں نے یہ موقف اختیار کر لیا کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سابق کتاب تورات موجود ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی نئی کتاب کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ اس کے جواب میں قرآن نے یہود کا وہ رویہ سامنے کر دیا جو انہوں نے تورات کے ساتھ ملحوظ رکھا تھا۔ فرمایا:

کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ۔ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرآنَ عِضِیْنَ۔ (الحجر۱۵:۹۰۔۹۱) اسی طرح ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر بھی اتارا تھا جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیے۔

اس میں اشارہ ہے یہود کی اس حرکت کی طرف کہ انہوں نے حق کو چھپانے کی غرض سے تورات کے حصے بخرے کر دیے اور ان پر خزانے کاسانپ بن کر بیٹھ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی ہدایت عام لوگوں کی رسائی میں نہ رہی۔ یہود کے علماء اپنی حسب منشاء اس میں تحریف کرتے اور خلق خدا کو صراط مستقیم سے محروم رکھتے۔ علمائے یہود کی اس حرکت پر اپنے دور نبوت میں سیدنا مسیح علیہ السلام کو یہ کہنا پڑا کہ چراغ اس لیے دیا جاتا ہے کہ اس کو چراغ دان پر رکھا جائے تاکہ اس کی روشنی چاروں طرف پھیلے، نہ اس لیے کہ اس کو پیمانے سے ڈھانپ دیا جائے۔ یہود کی اس حرکت کے باعث تورات کے بعض حصے تلف ہو گئے۔ ایک وقت آیا جب تورات گم ہو گئی اور اس کو یادداشت کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا گیا۔ چنانچہ نزول قرآن کے وقت تورات کے نام سے جوکچھ یہود کے پاس تھا وہ متضاد و متناقض روایات کا ایک مجموعہ تھا۔ آج بھی تورات کو پڑھیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی راوی اپنے الفاظ میں کتاب کی املا کرا رہا ہے۔ کہیں کہیں بعض اقتباسات ایسے ملتے ہیں جن میں آسمانی کلام کا جمال و جلال نظر آتا ہے۔ تورات کی اس ہیئت کذائی کے باوجود اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے رہنمائی کا کوئی متبادل انتظام نہ کرتا تو اس میں مخلوق خدا کی حق تلفی ہوتی۔
اپنے اس اعتراض کو مدلل کرنے کے لیے یہود یہ کہتے کہ قرآن میں کھانے پینے کے احکام ان احکام سے مختلف ہیں جو تورات میں دیے گئے تھے۔ اسی طرح سبت کا حکم، جو تورات کی شریعت کا ایک اساسی حکم تھا، قرآن میں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اگر قرآن ایک الہامی کتاب ہوتا تو اس میں تورات کے احکام سے سرمو انحراف نہ ہوتا۔ بھلا اللہ میاں آئے دن اپنے احکام بدل دیا کرتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ قرآن محض افترا پردازی ہے۔ قرآن مجید نے شریعت کی تبدیلی کے اس اعتراض کی وضاحت یوں کی کہ اللہ تعالیٰ نے نزول شریعت میں ترتیب و تدریج ملحوظ رکھی ہے۔ اس تدریج کا تقاضا ہوا کہ احکام اب کسی خاص قوم کے مزاج کے لحاظ سے نہیں بلکہ عام فطرت انسانی کے لحاظ سے دیے جائیں۔ قرآن میں جو احکام دیے گئے وہ ملت ابراہیم کے مطابق دیے گئے جب کہ یہود کی شریعت میں دخل ان کے قومی مزاج کو بھی تھا۔ یہود نے بہت سے احکام خود اپنے اوپر نافذ کر لیے اور اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کو ان پر باقی رکھا۔ یہود اتنے سرکش تھے کہ ان کی تربیت کے لیے ملت ابراہیم سے ماوراان کے بندھنوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ البتہ ان سے وعدہ کیا گیا کہ جب آخری رسول مبعوث ہوں گے تو وہ یہود کی ان بیڑیوں کو کاٹ کر ان کا بوجھ ہلکا کریں گے۔ لہٰذا اس وعدہ کے مطابق اب قرآن میں یہود کی شریعت کے سخت احکام کو ترک کر کے وہ بیڑیاں کاٹی جا رہی ہیں۔

معجزات کا مطالبہ:

وحی و الہام اور قرآن مجید کے حوالے سے اعتراضات کے علاوہ اہل کتاب کی جانب سے یہ بھی کہاگیا کہ پیغمبر کی پہچان معجزات سے ہوتی ہے اور انبیائے بنی اسرائیل کی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے بکثرت معجزے دکھائے۔ لہٰذا محمد ﷺ اگر سچے نبی ہیں تو ان سے بھی معجزات ظاہر ہونے چاہئیں۔ اس مطالبہ کا جواب نبی ﷺ کی زبان سے یہ دلوایا گیا کہ اصل چیز پیغمبر کے مخاطبوں کا اپنے ذہنوں کو قبول ہدایت پر آمادہ کرنا اور اپنی نیک فطرت کی آواز سننا ہے۔ اگر لوگ اپنی عقل پر قفل لگائے رکھیں تو معجزات دکھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ خود بنی اسرائیل کی تاریخ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک دو نہیں، نو عظیم الشان معجزے فرعون کی طلب پر دکھائے تھے لیکن فرعون چونکہ ذہنی طور پر قبول ہدایت پر آمادہ نہ تھا اس لیے اس نے موسیٰ علیہ السلام کو سحر زدہ ہونے کا طعنہ دے دیا:۔

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ فَسْءَلْ بَنِی اِسْرَآءِیلَ اِذْ جَاءَ ھُمْ فَقَالَ لَہ‘ فِرعَوْنُ اِنِّی لَاَظُنُّکَ یٰمُوسٰی مَسْحُوْرًا۔ (بنیاسرائیل۱۰۱) اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی ہوئی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے پوچھ لو جب کہ وہ ان کے پاس آیا تو فرعون نے اس سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو ایک سحرزدہ آدمی سمجھتا ہوں۔

نبی ﷺ کی زبان سے یہ وضاحت کرائی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے جو انسان کی فطرت کو اجاگر کرنے والی اور اپنی تعلیم کو مدلل طور پر پیش کرنے والی ہے۔ یہی معجز کتاب میرے دعوائے نبوت پر حجت ہے۔ اگر تم عقل سے کام لو گے اور اپنی فطرت کی صدا سنو گے تو تمہیں میری تعلیم کی حقانیت کا یقین آ جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب اس وضاحت کے باوجود اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوئے۔ ان کا اصرار یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ پاک اور اچھوتے اوراق لے کر اترے۔ ان اوراق میں نہایت واضح اور قطعی احکام مرقوم ہوں۔ فرشتے کے سوا ان اوراق کو کسی جن و بشر نے ہاتھ نہ لگایا ہو۔ تب ہم مانیں گے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ اسی کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا:

لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَاتِیَھُمُ الْبَیِّنَۃ۔رَسُول’‘ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَھَّرَۃ۔ فِیْھَا کُتُب’‘ قَیِّمَۃ’‘۔(البینہ۹۸:۱۔۳) اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے (قرآن کا) انکار کیا وہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانی آ جائے۔ یعنی اللہ کی طرف سے ایک فرستادہ، پاکیزہ اوراق پڑھتا ہوا، جس میں صاف احکام لکھے ہوئے ہوں۔

خیال ہوتا ہے کہ اس مطالبہ کے پس منظر میں یہ بات رہی ہو گی کہ تورات کے احکام عشرہ کی لکھی ہوئی الواح حضرت موسیٰ براہ راست کوہ طور پر عطا ہوئی تھیں اور بنی اسرائیل کی ایک جماعت اس کی شاہد تھی۔ قرآن مجید نے ایسے مطالبات کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی اور لوگوں کو قرآن کی دعوت کے دلائل و شواہد پر غور کرنے کی راہ اپنانے کی طرف توجہ دلائی۔

[باقی]

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت اکتوبر 2008
مصنف : خالد مسعود
Uploaded on : Sep 09, 2016
820 View