قرآن پر قریش کے اعتراضات - خالد مسعود

قرآن پر قریش کے اعتراضات

[’’سیر و سوانح ‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

(جناب خالد مسعود صاحب کی تصنیف ’’حیات رسول امی‘‘ سے انتخاب)

 
شاعری اور کہانت

قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا تو ابتدائی سورتوں میں، جو مصحف کے آخری حصہ میں شامل ہیں، آیات نہایت گٹھے ہوئے، مختصر، لیکن جامع جملوں کی شکل میں تھیں۔ یہ کلام بے حد فصیح و بلیغ، اعجاز بیان کا کامل نمونہ، پر معانی اور پرشکوہ ہے۔ اس میں جلالت شان ہے۔ علاوہ ازیں اس میں قافیہ بندی پائی جاتی ہے۔ ان سورتوں میں اس دنیا کے خاتمہ، اس کے بعد پیش آنے والے واقعات، آخرت میں انسان کے محاسبہ اور جزا و سزا کا بکثرت ذکر ہے۔ ان تمام باتوں کا تعلق مستقبل یا ایک دوسرے جہان سے ہے۔ اس کلام کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

کَلَّا وَالْقَمَر. وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَ. وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ. اِنَّھَا لَاِحْدَی الْکُبَرِ. نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ. لِمَنْ شَآءَ مِنْکُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَو یَتَاَخَّرَ.(المدثر ۷۴: ۳۲۔۳۷)

ان آیات کے قافیہ میں ’’َ ر‘‘ کی تکرار دیکھیے۔

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ.وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ.وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ.وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ.عَلِمََتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْ.(الانفطار ۸۲: ۱۔۵)

ان آیات میں تقریباً برابر جملوں کا اختتام قافیہ ’’َ تْ‘‘ پر ہو رہا ہے۔

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا.اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا.وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا.(المعارج ۷۰: ۱۹۔۲۱)

یہاں جملے برابر طوالت کے ہیں اور ان کا اختتام ’’َ وْعًا‘‘ پر ہوا ہے۔

کَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ.وَ قِیلَ مَنْ رَاقٍ.وظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ.والْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ. اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَءِذٍ الْمَسَاقُ.(القیامہ ۷۵: ۲۶۔ ۳۰)

یہاں تمام آیات ’’َ اق‘‘ پر ختم ہو رہی ہیں۔
ان آیات میں قافیہ بندی دیکھیے تو شعروں کا گمان ہوتا ہے، لیکن شعر میں جو وزن ہوتا ہے، وہ ان میں نہیں ہے، لہٰذا یہ نثری کلام ہے۔ چھوٹے چھوٹے جملے، لیکن قافیہ کے ساتھ، اگر مماثلت رکھتے ہیں تو وہ کاہنوں کے کلام میں پائی جانے والی سجع سے ہے، لیکن یہاں کلام با مقصد، پرحکمت اور ایک واضح پیغام کا حامل ہے، جبکہ کاہنوں کا کلام تُک بندی کی نوعیت کا ہوتا جس کا مدعا سمجھنا بھی مشکل ہوتا۔ ان آیات میں مستقبل کا تذکرہ دو ٹوک انداز میں ہے جو ایک ان دیکھی حقیقت سے پردہ اٹھا رہا ہے۔ اس کے برعکس کاہنوں کی خبریں ذو معانی اور غیر یقینی ہوتیں۔ جہاں تک فصاحت و بلاغت کا تعلق ہے، وہ اس کلام میں بدرجہ اتم موجود ہے، لیکن یہ اس فصاحت سے کہیں زیادہ بلند و برتر ہے جو انسانوں کے یا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی کلام میں پائی جاتی ہے۔ اس کلام میں اس طرح کے بے معنی الفاظ بھی نہیں ہیں جو جادو کے منتروں میں ہوتے ہیں۔ ہر بات پر مغز، حقیقت افروز اور دل کو بھانے والی ہے۔ پورا قرآن اسی طرح کے فصیح و بلیغ کلام پر مشتمل ہے۔ اس کی خصوصیات کو دیکھتے ہوئے اس کو تنقید کا نشانہ بنانا اور اس کے مخالف جذبات ابھارنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں۔ تاہم قریش نے پروپیگنڈا کی خاطر قرآن کو ہدف بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس کو کبھی شاعری ، کبھی کہانت، کبھی انسانی کاوش اور کبھی جادو کہہ کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے۔
عرب بالعموم کلام کے حسن و قبح کو پہچاننے والے اور اس کے زبردست نقاد تھے، اس لیے قرآن کو شاعری قرار دینا اپنی نادانی کا ثبوت پیش کرنا تھا۔ لیکن ایک پہلو ایسا تھا جس کی رو سے قریش یہ غلط بات کر کے بھی اپنی بات کی لاج رکھ سکتے تھے۔ عربوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر شاعر کسی جن کے زیر اثر اپنا کلام پیش کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ بتاتے تھے کہ میرے اوپر فرشتۂ وحی کلام نازل کرتا ہے، قریش اس کو آپ کی غلط فہمی قرار دیتے کہ آپ جس کو فرشتہ سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں جن ہے جو شاعروں پر کلام کا الہام کرتا ہے۔
عربوں میں کاہنوں کی بڑی قدر تھی جو غیب دانی کے دعوے دار تھے۔ لوگ کسی معاملہ میں مشورہ لینے کے لیے ان سے رجوع کرتے تو کاہن مراقبہ کر کے جنات و شیاطین کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کا ڈھونگ رچاتے۔ پھر وہ کچھ ایساکلام سناتے جس کے فقرے مختصر اور قافیہ کے ساتھ ہوتے۔ اس مقفیٰ و مسجع عبارت کے متعلق ان کا دعویٰ یہ ہوتا کہ ان کو اس کا الہام ہوا ہے۔ اس عبارت سے ایک سے زیادہ معانی نکالنا ممکن ہوتا۔ اس میں مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کا عنصر بھی شامل ہوتا۔ قریش جب قرآن کو کہانت سے تعبیر کرتے تو ان کے پیش نظر ابتدائی سورتوں کے مختصر جملے، آیات میں قافیہ اور سجع کا اہتمام اور امور غیب کے بارے میں رہنمائی جیسی چیزوں کا اہتمام ہوتا۔ وہ اس کو کسی جن سے رابطہ کا نتیجہ قرار دیتے۔
قریش کا پروپیگنڈا درست نہیں تھا۔ اس کے اسباب بالکل واضح ہیں: اولاً، یہ کہ شاعروں کی شاعری ان کے احساسات و جذبات اور وجدان پر مبنی ہوتی ہے۔ ان کے دل پر جو کچھ وارد ہوتا ہے، وہ اس کو کسی اچھوتے اسلوب میں شعر موزوں کر کے پیش کر دیتے ہیں۔ انھیں اس سے بحث نہیں ہوتی کہ اگر کل انھوں نے کسی نیک جذبہ کے تحت اچھا شعر کہا تھا تو آج اس کے برعکس بے حیائی کا مضمون کیوں باندھ رہے ہیں۔ بڑے سے بڑے شاعر کا کلام پرکھیے تو معلوم ہو گا کہ وقتی جذبات و احساسات کے تحت انھوں نے نیک اور بد ہر طرح کی باتیں کہہ رکھی ہیں۔ ان کے جوانی اور بڑھاپے کے کلام میں نمایاں فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک جگہ وہ رند شاہد باز نظر آتے ہیں تو دوسرے مقام پر پارسا اور ولی دکھائی دیتے ہیں۔ ثانیاً، شاعر صرف گفتار کے غازی ہوتے ہیں، کردار کی ان کے ہاں اہمیت نہیں ہوتی۔ ان کے کلام میں اللہ و رسول کی اطاعت کا پیغام ہو گا، لیکن اپنا عمل اطاعت کے معانی سے نا آشنا ہو گا۔ وہ مسائل تصوف بیان کریں گے، لیکن اپنا محبوب شغل بادہ خواری ہو گا۔ رجزیہ کلام میں شجاعت و شہامت کا مضمون باندھتے ہوئے آسمان اور زمین کے قلابے ملا دیں گے، لیکن بزدلی کا یہ عالم ہو گا کہ ایک چھپکلی دیکھ کر ان پر لرزہ طاری ہو جائے گا۔ ثالثاً، شاعروں کے کلام میں ہر طرح کے لوگوں کو اپنے مطلب کے مضامین مل جاتے ہیں اور وہ ان کے مداح بن جاتے ہیں۔ ان میں جہاں کچھ اچھے لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں، وہیں گمراہ، شرپسند اور اوباش لوگ بھی ان کے نام کا جھنڈا اٹھا لیتے ہیں۔
شاعری کی ان خصوصیات اور شاعروں کے اس کردار کے برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کلام نازل ہو رہا تھا، اس کا ایک متعین ہدف تھا جس سے کہیں انحراف نظر نہیں آتا تھا۔ جو بات انھوں نے پہلے دن کہی ساری عمر مختلف اسالیب میں اسی کی وضاحت کرتے رہے۔ اس سے سر مو ہٹنے کی کبھی نوبت نہیں آئی۔ حقیقت میں یہی چیز قریش کے لیے باعث تشویش بھی تھی۔ مثلاً، اگر توحید کا مضمون اتفاقی طور پر کبھی کبھی سامنے آیا ہوتا تو وہ اس کو برداشت کرتے رہتے۔ اس مضمون کی تکرار ہی اصل میں ان کے نظام پر ضرب لگاتی تھی اور یہ بات ان کے لیے سوہان روح تھی۔ پھر آپ جو کچھ پیش کر رہے تھے نہ صرف اس پر خود عمل کر رہے تھے، بلکہ اپنے تمام ساتھیوں کے اندر بھی اسی عمل کی نمود چاہتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ کی تربیت سے معاشرے کے بہترین افراد کی ایک بڑی جماعت تیار ہو رہی تھی جن کے قول و عمل میں کوئی تضاد نہ تھا۔ وہ جس بات کو درست تسلیم کر رہے تھے، اس کے لیے ایثار و قربانی کا جذبہ بھی رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اسی چشمہ سے سیراب ہونے کے خواہش مند ہوتے جس سے ان فرشتہ سیرت لوگوں نے فیض پایا تھا۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اصل قدر وقیمت عمل صحیح کی تھی، اس لیے کوئی آوارہ اور فضول شخص آپ کے ساتھیوں میں شامل ہو ہی نہ سکتا تھا۔ قرآن نے قریش کو بار بار توجہ دلائی کہ سوچو، پیغمبر کے ساتھی آخر معاشرے کے صالح اور خداترس افراد کیوں بن رہے ہیں؟ آوارہ منش لوگوں کو یہ کلام کیوں اپیل نہیں کر رہا ہے؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پیغمبر اعلیٰ اقدار کو معاشرہ میں رواج دے رہے ہیں۔ وہ رب کی بندگی، بندوں کے لیے ایثار اور غریبوں کے لیے مواسات اور رحم دلی کاہدف اگر دوسروں کے سامنے رکھتے ہیں تو سب سے آگے بڑھ کر اس ہدف کو خود حاصل کرنے کی جدوجہد بھی کر رہے ہیں، اور اسی کو دلائل سے بھی ثابت کر رہے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو اچھے اور نیک طینت لوگوں کو اپیل کر رہی ہے۔ اگر پیغمبر ایک شاعر ہوتے تو دوسرے شاعروں سے مختلف نہ ہوتے۔
قریش کا قرآن کو کہانت کہنا بھی ایک دور کی کوڑی لانے کے مترادف تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن جیسا پاکیزہ، بامقصد، خداترسی اور خدمت خلق کی دعوت دینے والا کلام شیاطین کی بری فطرت کے ساتھ کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ شیاطین کے مقاصد کے ساتھ مطابقت رکھنے والا وہی کلام ہو سکتا ہے جو شیطانی مقاصد پورا کرنے کے لیے موزوں ہو۔ پاکیزہ کلام اتار کر اور نیکی کا چرچا کر کے وہ اپنے ہی پاؤں پر کیوں کلہاڑی ماریں گے۔ پھر کلام اللہ کاہنوں کے کلام سے مختلف بھی ہے۔ اس جیسا فصیح و بلیغ کلام کہنا کاہنوں اور ان کے شیطانوں کے بس کی بات نہیں۔ شیطان اپنی باتوں کا القا کسی نیک سرشت والے آدمی پر نہیں کرتے۔ باطل کو پسند کرنے والے جھوٹے لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں جو مکروفریب کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنا کر کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔ یہ لوگ اخلاقی اعتبار سے بے حد پست ہوتے ہیں۔ جہاں تک کاہنوں کی دی ہوئی خبروں کا تعلق ہے، ان میں سچ اور جھوٹ کی آمیزش ہوتی ہے، کیونکہ جنات و شیاطین کو بارگاہ الٰہی کے معاملات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ ان کے پاس خرافات کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ ان کا القا جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پیغمبر روح القدس سے فیض پاتا اور صداقت و امانت میں اپنا مثیل نہیں رکھتا ہے۔

انسانی کاوش

قرآن اپنے پیغام کو جب دلائل سے ثابت کرتا اور لوگ اس سے متاثر ہو کر یہ سوچتے کہ اس قسم کا پرمغز کلام اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے بغیر کوئی شخص کیسے پیش کر سکتا ہے اور وہ لیڈروں کے پاس آ کر اپنا وسوسہ بتاتے تو لیڈر ان کو قائل کرنے کی کوشش کرتے کہ یہ کلام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی کے ذہن کی پیداوار ہے، البتہ وہ تنہا یہ کام نہیں کر رہا ہے، بلکہ بعض عجمی لوگ اور کچھ اہل کتاب اس کے ساتھی بن گئے ہیں اور وہ سب مل کر یہ کلام گھڑتے ہیں اور جتنا بنا چکتے ہیں، اتنا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)آکر پیش کر دیتے ہیں اور اس کا اعتبار قائم کرنے کے لیے اس کو منسوب خدا کی طرف کر دیتے ہیں۔ اگر یہ اللہ کا کلام ہوتا تو اللہ کو تو سوچ سوچ کر اتارنے کی ضرورت نہ تھی۔ قریش کا یہ اعتراض بھی بے جان تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن انتہائی معیاری عربی میں ہے۔ ایسا کلام تخلیق کرنا کسی عجمی کے بس کی بات ہے اور نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی کلام اس نوعیت کا ہے۔ قرآن اگر انسانی تصنیف ہوتا تو قریش کے پاس نہ بہترین شاعروں کی کمی تھی نہ اعلیٰ خطیبوں کی۔ ایسے بیسیوں افراد مہیا کرنا کچھ مشکل نہ تھا جو قرآن جیسا کلام تخلیق کر لیتے۔ قرآن کے مشابہ کلام وضع کرنا ممکن نہ تھا، اسی لیے جب قریش کو ایک ہی پُر حکمت سورہ بنا کر پیش کرنے کی دعوت دی گئی تو آخر انھوں نے اس چیلنج کا مقابلہ کیوں نہ کیا۔ باقی رہا یہ سوال کہ قرآن یکبارگی کیوں نہ اتارا گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی بھی سنجیدہ اور پُر حکمت چیز فی الفور ذہنوں میں اتاری نہیں جا سکتی، اگر اس کی تعلیم دینا اور تفہیم کرنا مطلوب ہو۔ ایک ناول تو ایک ہی نشست میں پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے، لیکن سائنس یا فلسفہ کی کوئی کتاب اس طرح پڑھنا اور سمجھ لینا ممکن نہیں ہوتا۔ قرآن کے نزول میں معاملہ اللہ کی قدرت کا نہیں، بلکہ انسانوں کے تحمل کی صلاحیت کا ہے۔

سحر

قرآن کی دعوت جس طرح لوگوں کو فتح کر رہی تھی، اس سے یہ بات واضح تھی کہ یہ کلام جہاں فصیح و بلیغ ہونے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، وہیں نہایت زود اثر بھی ہے۔ جب کوئی شخص اس کو سن لیتا ہے تو وہ نہ صرف اس کلام سے مسحور ہو جاتا ہے، بلکہ اس کی خاطر خاندان اور قبیلے کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ اس بنا پر قرشی سردار قرآن کو جادو سے تعبیر کرتے۔ یہ معاملہ قرآن ہی کے ساتھ پیش نہیں آیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو پیغام پیش کیا، اس کو بھی مخالفین سحر قرار دیتے۔ قریش کا یہ موقف بھی نادرست تھا۔ کلام وحی اور سحر میں کوئی چیز مشترک نہیں۔ ساحروں کے شعبدوں کی چمک دمک عارضی ہوتی ہے، وہ کبھی پائیدار کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ سحر کے اثرات وقتی اور بہت جلد زائل ہونے والے ہوتے ہیں جبکہ قرآن نے لوگوں کے قلوب و اذہان کو بدل کر رکھ دیا۔ سحر باطل ہوتا اور حق کے مقابلہ میں آ کر بودا ثابت ہوتا ہے جبکہ قرآن سراپا حق ہے اور جب یہ حق باطل کے ساتھ ٹکرایا تو اس کو سرنگوں کر دیا۔ قریش دیکھ رہے تھے کہ قرآن کے حق کی ان کے باطل کے ساتھ پنجہ آزمائی کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہے اور ہر آنے والا دن باطل کو پسپا ہونے پر مجبور کر رہا ہے۔ جادو کے اثر سے کردار کی تعمیر ممکن نہیں ہوتی جبکہ قرآن نہایت اعلیٰ کردار کے افراد تیار کر رہا تھا۔ لہٰذا قریش کا پروپیگنڈا سادہ لوح عوام کو مطمئن کرتا رہا ہو گا یا ان کے خوشامدی اس سے ان کے ہم نوا ہو گئے ہوں گے، لیکن عاقل و فرزانہ اس سے متاثر نہیں ہو سکتے تھے۔

قرآن کی حیثیت

قریش کے پروپیگنڈے کا جواب مختلف پیرایوں میں خود قرآن میں دیا گیا اور ان کو ذہنی خلجان سے نکالنے کے لیے اس کلام کی حیثیت بار بار واضح کی گئی جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ حق پسند طبیعتیں قومی تعصب سے نکلیں اور رسول اللہ کی دعوت کے لیے اپنے کان کھولیں۔ مختلف سورتوں میں کلام کے منبع، اس کو لانے والے فرشتے کی صفات و خصوصیات اور اس کو وصول کرنے اور لوگوں تک پہنچانے والے رسول، سب کے بارے میں روشنی ڈالی گئی۔ چند آیات ملاحظہ ہوں:

فَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ. وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ. اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ. وَّمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ.قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ.وَلَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ.قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ. تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ.(الحاقہ ۶۹: ۳۸۔۴۳)
’’پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو، اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے کہ بے شک یہ ایک با عزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے، اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔ تم بہت ہی کم ایمان لاتے ہو۔ اور یہ کسی کاہن کا بھی کلام نہیں۔ تم بہت ہی کم سمجھتے ہو۔ یہ خداوند عالم کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔ ‘‘

فَلَآ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِالْکُنَّسِ. وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ. وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ. اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ.ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ. مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ. وَمَاصَاحِبُکُمْ بِمَجْنُوْنٍ. وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ. وَمَا ھُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ. وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ. فَاَیْنَ تَذْھَبُوْنَ.(التکویر ۸۱: ۱۵۔۲۶)
’’پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے، چلنے والے اور چھپ جانے والے (ستاروں) کی، اور رات کی جب وہ جانے لگتی ہے، اور صبح کی جب وہ سانس لیتی ہے، کہ لا ریب یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔ وہ بڑا ہی قوت والا اور عرش والے کے نزدیک بڑا ہی بارسوخ ہے۔ اس کی بات مانی جاتی اور وہ نہایت امین بھی ہے۔ اور تمہارا یہ ساتھی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کوئی خبطی نہیں ہے۔ اور اس نے اس کو کھلے افق میں دیکھا ہے۔ اور یہ غیب کی باتوں کا کوئی حریص نہیں ہے۔ اور یہ کسی شیطان رجیم کا القا نہیں ہے۔ تو تم کہاں کھوئے جاتے ہو؟‘‘

وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ. نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ. عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ. بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ.وَ اِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ.اَوَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ اٰیَۃً اَنْ یَّعْلَمَہٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ. (الشعراء ۲۶: ۱۹۲۔ ۱۹۷)
’’اور بے شک یہ نہایت اہتمام سے خداوند عالم کا اتارا ہوا ہے۔ اس کو تمہارے قلب پر امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے تاکہ تم لوگوں کو آگاہ کر دینے والوں میں سے بنو۔ واضح عربی زبان میں۔ اور اس کا ذکر اگلوں کے صحیفوں میں بھی ہے۔ کیا ان لوگوں کے لیے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ اس کو علماے بنی اسرائیل جانتے ہیں۔‘‘

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ جہانوں کے مالک نے اپنے منصوبہ کے تحت اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے نہایت اہتمام سے اپنا کلام اتارا۔ اس کے نازل کرنے کے لیے جس فرشتہ کا انتخاب کیا، وہ نہایت قوی اور مضبوط، عقل اور کردار میں محکم اور امانت دار ہے۔ ذمہ داری ادا کرنے میں وہ خیانت کا مرتکب نہیں ہوتا۔ وہ اعلیٰ صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ کوئی دوسرا اس کو متاثر یا مرعوب نہیں کر سکتا۔ وہ کسی سے دھوکا کھاتا اور نہ کسی کے ہاتھ بک سکتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے کلام میں کسی باطل کی آمیزش خارج از امکان ہے۔ اس مقرب فرشتہ نے نبی کو نہایت اہتمام، توجہ اور شفقت سے اس وحی کی تعلیم دی جو اللہ نے اس پر نازل کرنی چاہی۔ نبی کو ذاتی طور پر غیب دانی کا چسکا نہیں ہے۔ وحی الٰہی کی ذمہ داری تو بے سان و گمان اس پر آ پڑی ہے اور وہ اس کو نباہ رہا ہے۔ یہ نبی کے ذہن کی پیداوار نہیں ہے۔ وحی کی زبان نہایت معیاری اور واضح عربی ہے جس کی کوئی نظیر موجود نہیں۔ اس کی تعلیم میں کوئی کج پیچ نہیں۔ اس کی رہنمائی بالکل فطری، عقلی اور سیدھی راہ کی طرف ہے جس کے دلائل عقل و فطرت، کائنات، اور انسانی نفسیات میں موجود ہیں۔ ان حقائق کے باوجود بھی قریش اگر اس کلام کی مخالفت کرتے ہیں تو یہ ان کے تعصب ، تکبر اور ذاتی مفادات کے باعث ہے۔

زائرین کے لیے قریش کا یکساں موقف

مکہ تمام قبائل عرب کا دینی مرکز تھا اور عرب حج اور عمرہ کی عبادات سے شغف رکھتے تھے، اس لیے مکہ میں ان کی آمدورفت بکثرت ہوتی۔ قریش کو یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ باہر سے آنے والے لوگ مکہ آ کر جب ایک پیغمبر کی بعثت کی خبر سنیں گے تو قدرتی طور پر ان کو اس کے بارے میں جاننے کی خواہش ہو گی۔ وہ مسلمانوں سے ملیں گے تو دعوت قبائل عرب میں بھی پھیل سکتی ہے۔ لہٰذا اس کے تدارک کے لیے اقدام کی ضرورت ہے۔ ولید بن مغیرہ کو، جو قریش کا ایک عمر رسیدہ اور زیرک سردار تھا، اس ضرورت کا احساس ہوا تو اس نے دوسرے سرداروں کے سامنے تجویز پیش کی کہ باہر کے لوگوں کے سامنے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں الگ الگ رائے ظاہر کر کے ان میں اس سے بالمشافہ ملاقات کا اشتیاق پیدا کرنے کے بجائے ہمیں متفق الرائے ہو کر ایک ہی بات بتانی چاہیے۔ طے ہوا کہ سب لوگ ایک ممکن و موزوں جواب سوچ کر آئیں تاکہ تمام آرا پر غور کر کے کسی ایک بات پر اتفاق کر لیا جائے۔ جب مجلس منعقد ہوئی تو ولید نے آرا طلب کیں۔ کچھ لوگوں نے کہا: ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کلام کو کہانت کہیں گے۔ ولید نے کہا: ہم نے کاہن دیکھ رکھے ہیں اور ان کا کلام بھی سن رکھا ہے۔ اللہ کی قسم، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کلام نہ تو کاہنوں کے خفیہ کلام کی طرح ہے نہ اس کی مماثلت ان کی قافیہ بندی سے ہے۔ کچھ لوگوں نے تجویز پیش کی کہ ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جنون لاحق ہو گیا ہے۔ ولید نے کہا: ہم جنونیوں کو پہچانتے ہیں۔ ان کے دماغوں میں خلجان ہوتا اور وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ چیز محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نہیں پائی جاتی۔ کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ ہمیں چاہیے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بطور شاعر پیش کر دیں۔ ولید نے کہا کہ شاعری کی تمام اقسام اور ان کی خصوصیات سے ہم آگاہ ہیں، شعر کی پرکھ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قرآن میں جب شاعری کی یہ خصوصیات مفقود ہیں تو ہمارا یہ موقف کون مانے گا۔ لوگوں نے کہا: پھر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ساحر کہہ دینا چاہیے۔ ولید نے کہا: ہم نے ساحروں کو دیکھا ہے۔ وہ منتر پڑھتے، پھونکیں مارتے اور گرہیں لگاتے ہیں۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایسا نہیں کرتے۔ اس پر لوگوں نے کہا: اے ابو عبدشمس، پھر آپ ہی ہمیں کوئی رائے دیں ، ہم اسی پر قائم رہیں گے۔ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیش کردہ کلام میں شیرینی ہے۔ یہ پاتال میں اترا ہوا ایک ایسا درخت ہے جس کی شاخیں ثمرآور ہیں۔ ان تمام باتوں میں سے جو کچھ بھی تم کہو گے، وہ صاف جھوٹ مانا جائے گا۔ البتہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ساحر کہو تو اس کا ایک محل ہو سکتا ہے۔ وہ یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کلام جادو کا سا اثر رکھتا ہے۔ جس طرح جادو کے عمل سے محبت و الفت یا نفرت و عداوت کے جذبات پیدا کیے جاتے ہیں، اسی طرح اس کلام سے آدمی اور اس کے باپ، بیٹے یا بھائی کے درمیان ، اور شوہر اور بیوی کے درمیان، اور آدمی اور اس کے قبیلہ کے درمیان تفریق پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ طے ہوا کہ مکہ آنے والوں میں سے اگر کوئی شخص محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں رائے طلب کرے تو سب اس کے کلام کو جادو کہیں اور کلام کے اس نتیجہ سے ڈرائیں۔ ولید کی اس تجویز پر قریش نے عمل کیا لیکن پھر بھی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ ۱؂
کتب سیرت میں بیان ہوا ہے کہ قبیلہ دوس کے ایک سردار طفیل بن عمرو ایک باصلاحیت آدمی تھے۔ وہ عمرہ کے لیے مکہ گئے تو وہاں سنا کہ ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ انھوں نے قریش میں اپنی جان پہچان والوں سے دریافت کیا تو ہر ایک نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے متنفر کیا اور آپ کے سایہ سے بھی بچ کر رہنے کی تلقین کی۔ قریش نے ان کو بتایا کہ اس شخص کے پاس ایک ایسا جادو ہے جو میاں اور بیوی کے درمیان تفریق پیدا کر دیتا ہے۔ طفیل کچھ روز تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کرنے سے کتراتے رہے۔ مسجد میں آتے تو کانوں میں روئی ٹھونس لیتے تاکہ مدعی نبوت کی کوئی بات کان میں نہ پڑ جائے۔ اتفاق سے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے کہ چند آیات ان کے کان میں پڑ گئیں۔ انھوں نے سوچا کہ میں ایک عاقل، جہاں دیدہ اور نیک و بد میں تمیز کی صلاحیت رکھنے والا آدمی ہوں۔ خود شاعر ہوں اور شاعرانہ کلام کی پرکھ کر سکتا ہوں۔ آخر ایک آدمی مجھے کیسے ورغلا سکتا ہے جبکہ میں اس کی طرف سے محتاط بھی ہوں۔ یہ سوچ کر طفیل انتظار میں رہے۔ جب آپ عبادت سے فارغ ہو کر گھر جانے لگے تو وہ آپ کے پیچھے ہو لیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچ کر ملاقات کی خواہش کی۔ آپ نے اجازت دی تو انھوں نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کوئی جادو اثر کلام سناتے ہیں۔ پہلے تو میں اجتناب کرتا رہا تاکہ آپ کا کلام میرے کانوں میں پڑ کر مجھے گمراہ کرنے کا باعث نہ بن جائے، لیکن اب میں نے سوچا کہ اس کو سننا تو چاہیے، اس لیے حاضر ہوا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن سنایا تو طفیل اس قدر متاثر ہوئے کہ اسی وقت مسلمان ہو گئے۔ جب اپنے قبیلہ میں لوٹے تو اپنے والد اور بیوی کو بھی مسلمان کر لیا۔ بعد میں ان کی دعوت سے قبیلہ دوس کے مزید کئی افراد مسلمان ہوئے۔ ۲؂
 

۱؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۱/۲۷۰۔
۲؂ ایضاً، ص ۳۸۲۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت فروری 2008
مصنف : خالد مسعود
Uploaded on : Sep 09, 2016
403 View