اخلاقی جارحیت - سید منظور الحسن

اخلاقی جارحیت

 

[جناب جاوید احمد غامدی کی ایک گفتگو سے ماخوذ]

حقوق کے تحفظ کے لیے ہم مسلمانوں کا لائحۂ عمل مسلح جارحیت ہے ۔ گذشتہ تین صدیوں سے ہم اسی پر کاربند ہیں۔ قوم کے مذہبی اور سیاسی پیشواؤں نے اسی کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے اور عوام الناس پوری دل جمعی سے اس پر عمل پیرا ہیں۔ اس کی روح یہ ہے کہ اگر ہم منتشر ہوں تو تشدد آمیز کارروائیوں کے ذریعے سے دنیا کو اپنے مسائل کی طرف متوجہ کریں اور اگر کچھ مجتمع ہوں تو جنگ و جدل سے اپنا حق حاصل کرنے کی جدوجہد کریں۔ یہ لائحۂ عمل اختیار کر کے ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے، اس کی تفصیل کشمیر، فلسطین، افغانستان اور عراق کے موجودہ حالات میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تین صدیوں کے حوالے سے ہماری یافت و نایافت کی فہرست بندی کی جائے تو معلوم ہو گا کہ جو کچھ ہم نے حاصل کیا ہے، وہ شکست و تنزل اور غربت وجہالت ہے اور جس سے محروم ہوئے ہیں ، وہ عظمت و رفعت اور علم و اخلاق ہے۔مسلح جارحیت کے اس لائحۂ عمل کو ہم نے ہمیشہ جہاد سے تعبیر کیا ہے اور اس طرح دنیا کو پیغام دیا ہے کہ اسلامی شریعت خدا نخواستہ جنگ و جدل کی علم بردارہے۔
شریعت کی اصطلاح میں جہاد اقوام کے ظلم وجبر کے خلاف اسلامی ریاست کا مسلح اقدام ہے۔قرآن مجید کی رو سے اس اقدام کے لیے قوت ایمانی کے ساتھ ساتھ مادی قوت کا حصول ناگزیر ہے۔ مگر ہمارا طرز عمل ہمیشہ یہ رہا ہے کہ نہایت کمزور ایمان اور اسلحے کی قوت سے بالکل محروم ہونے کے باوجودنصرت الٰہی کے دعوے کے ساتھ میدان جنگ میں اترتے رہے ہیں۔ یہ سفاہت ہے یا دین سے ناآشنائی، بہرحال اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم اپنے لاکھوں رجال کار کو جنگ کی بھینٹ چڑھا کرفارغ ہو چکے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ ہم نے علم و دانش ، اصلاح و دعوت اور قومی تعمیر و ترقی کے دروازے بھی بند کر رکھے ہیں۔
چنانچہ اس وقت صور ت حال یہ ہے کہ علم، اخلاق اوررزق کے معاملے میں ہم پر نہایت کس مپرسی کی حالت طاری ہے۔ ہم غربت کے اس مقام پر ہیں کہ ہماری اکثریت بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے؛ جہالت کی یہ سطح ہے کہ ان علوم سے بھی غافل ہو چکے ہیں جنھیں خود ہم نے وجود بخشا تھا؛ اخلاقی پستی کا یہ عالم ہے کہ بددیانتی، دھوکا دہی، ملاوٹ اور قانون شکنی میں دنیا بھر میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے؛بے وقاری کی یہ حالت ہے کہ بین الاقوامی معاملات میں ہم پر کوئی اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے؛ اور مظلومیت کا یہ معاملہ ہے کہ صحیح ہوں یا غلط، ہر حال میں مجرم قرار پاتے ہیں اور سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری اس حالت زار کی سب سے بڑی وجہ لائحۂ عمل کی غلطی ہے۔ افغانستان اور عراق کے پے در پے سانحوں کے بعد ممکن ہے کہ ہم اس غلطی کا ادراک کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اگرایسا ہو جاتا ہے تو پھرہمیں مسلح جارحیت کا لائحۂ عمل ترک کر کے اخلاقی جارحیت کے نئے لائحۂ عمل کو اختیار کرنا چاہیے ۔یہی وہ واحدراستہ ہے جسے اپنا کر کوئی کمزور اور مظلوم قوم اپنے لیے تعمیر و ترقی کے بند دروازے کھول سکتی ہے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم اگر چہ اپنی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی چند بڑی اقوام میں شمار ہوتے ہیں، مگر قوت و استعداد کے لحاظ سے اقوام عالم میں ہمارا کوئی مقام نہیں ہے۔ دنیا کے سیاسی، اقتصادی اور سائنسی و تکنیکی منظر پر ہماری کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ اس بات کا امکان ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی جگہ پیدا ہو جائے ۔ اس اعتراف حقیقت کے بعد ہمیں مسلح جدو جہد کے بجاے غیر مسلح طور پر اخلاقی جدوجہد کا آغاز کرنا چاہیے۔ہم انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے اعلیٰ اخلاقی معیار پر کھڑے ہو جائیں۔ قومی اور بین الاقوامی ، دونوں معاملات میں اخلاقی موقف اپنائیں اور اس کے لیے اگر مفادات بھی قربان کرنے پڑیں تو اس سے دریغ نہ کریں ۔ا گر تشدد کا سامنا کرنا پڑے تو صبر و استقامت کے ساتھ اس کا سامنا کریں۔ اپنے حقوق کی جدوجہد کو سرتا سر مظلومانہ بنا ئیں اور ظالم کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ کسی بہانے ہم پر حملہ آور ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے اگر تنازعات کو یک طرفہ طور پر بھی ختم کرنا پڑے تو اس سے بھی گریز نہ کریں۔ دنیا کے ایوانوں میں ہر حال میں مظلوم کا ساتھ دیں ۔ عدل و انصاف کا دامن کسی حال میں نہ چھوڑیں، خواہ اس کی زد اپنے قومی وجود ہی پر کیوں نہ پڑے۔ ہر طرح کے تعصب کو بالاے طاق رکھتے ہوئے آزادی ، جمہوریت، مساوات اور انسانی ہمدردی جیسی اقدار کا بول بالا کریں۔ ہر حال میں جنگ کی مذمت کریں اور امن و سلامتی کی تلقین کریں۔مذہبی اور سیاسی اختلافات کو برداشت کریں اور دوسروں کو بھی یہی طرز عمل اپنانے کی نصیحت کریں ۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے موجودہ زمانے کی اخلاقی بیداری سے بھر پورفائدہ اٹھائیں۔ ان اداروں کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں جو دنیا میں انسانی حقوق کی آواز بلند کر رہے ہیں اور میڈیا کے تمام ذرائع کو پوری طرح بروے کار لائیں۔
اخلاقی جارحیت ، درحقیقت صبرو برداشت اور حکمت و دانش سے عبارت ہے ۔ جب کوئی قوم کسی ظالم قوم کے مقابلے میں مجبور و بے بس ہو، جب اس کے پاس دفاع کی معمولی طاقت بھی موجود نہ ہو، جب اقوام عالم میں سے کوئی اس کی مدد کی ہمت نہ کر سکے اور جب دنیا میں کوئی ایسی عدالت بھی قائم نہ ہو جو اس پر ہونے والے ظلم کو قانون کی قوت سے روک سکے تو اس موقع پر واحد لائحۂ عمل اخلاقی جارحیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جور و ستم کا مقابلہ اخلاق و کردارکی قوت سے کیا جائے۔قومی وجود میں امن ، آزادی،استدلال،عدل، صلہ رحمی اور حق پرستی جیسی انسانیت کی مشترک اقدار کو مستحکم کیا جائے اور ان کی بناپر انسان کے اجتماعی ضمیر کو آواز دی جائے ۔ کوئی قوم اگر صبر و استقامت سے یہ آواز بلند کرتی رہے تو انسانیت کا اجتماعی ضمیرلازماً اس پر لبیک کہہ اٹھتا ہے۔ بصورت دیگرعالم کا پروردگار اپنی آواز اس آواز میں شامل کر دیتا ہے۔ مظلوم کی داد رسی آسمان سے ہو تی ہے اور ظلم و جبر کی بساط بالآخر لپیٹ دی جاتی ہے۔
[ جنوری ۲۰۰۴ء]

بشکریہ سید منظور الحسن, تحریر/اشاعت جنوری 2004
مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Aug 27, 2016
2756 View