شان نزول - حمید الدین فراہی

شان نزول

 

شان نزول کا مطلب، جیسا کہ بعض لوگوں نے غلطی سے سمجھا ہے، یہ نہیں ہے کہ وہ کسی آیت یا سورہ کے نزول کا سبب ہوتا ہے، بلکہ اس سے مراد لوگوں کی وہ حالت و کیفیت ہوتی ہے جس پر وہ کلام برسر موقع حاوی ہوتا ہے۔ کوئی سورہ ایسی نہیں ہے جس میں کسی خاص امر یا چند خاص امور کو مدنظر رکھے بغیر کلام کیا گیا ہو، اور وہ امر یا امور جن کو کسی سورہ میں مدنظر رکھا جاتا ہے، اس سورہ کے مرکزی مضمون کے تحت ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر تم کو شان نزول معلوم کرنی ہو تو اس کو خود سورہ سے معلوم کرو، کیونکہ کلام کا اپنے موقع و محل کے مناسب ہونا ضروری ہے۔ جس طرح ایک ماہر طبیب دوا کے نسخہ سے اس شخص کی بیماری معلوم کر سکتا ہے جس کے لیے نسخہ لکھا گیا ہے، اسی طرح تم ہر سورہ سے اس سورہ کی شان نزول معلوم کر سکتے ہو۔ اگر کلام میں کوئی خاص موضوع پیش نظر ہے تو اس کلام اور اس موضوع میں وہی مناسبت ہو گی جو مناسبت لباس اور جسم میں، بلکہ جلد اور بدن میں ہوتی ہے۔ اور یہ قطعی ہے کہ کلام کے تمام اجزا باہم دگر مربوط و متصل ہوں گے۔ اور یہ جو روایتوں میں آتا ہے کہ فلاں فلاں آیتیں فلاں فلاں معاملات کے بارہ میں نازل ہوئیں تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ سورہ کے نزول کے وقت یہ یہ احوال و مسائل درپیش تھے تاکہ معلوم ہو سکے کہ سورہ کے نزول کے لیے کیا محرکات اور اسباب موجود تھے۔ علامہ سیوطی فرماتے ہیں:

’’زرکشی نے برہان میں لکھا ہے کہ صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کی یہ عام عادت ہے کہ جب وہ کہتے ہیں کہ فلاں آیت فلاں بارہ میں نازل ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ وہ آیت اس حکم پر مشتمل ہے۔ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بعینہٖ وہ بات اس آیت کے نزول کا سبب ہے۔ یہ گویا اس حکم پر اس آیت سے ایک قسم کا استدلال ہوتا ہے، اس سے مقصود نقل واقعہ نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں کہ اسباب نزول میں ایک قابل لحاظ چیز یہ بھی ہے کہ ضروری نہیں کہ آیت اسی زمانہ میں نازل ہوئی ہو جس زمانہ میں واقعہ پیش آیا۔‘‘ (الاتقان فی علوم القرآن ۱/ ۹۳)

زرکشی کے اس بیان سے وہ مشکل حل ہو جاتی ہے جس کا ذکر امام رازی نے سورۂ انعام میں ’وَاِذَا جَآءَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا * الایہ‘ کی تفسیر کے ذیل میں کیا ہے۔ وہاں امام رازی فرماتے ہیں:

’’مجھے یہاں ایک سخت اشکال پیش آیا ہے، وہ یہ کہ لوگ اس امر پر متفق ہیں کہ یہ پوری سورہ بیک دفعہ نازل ہوئی تھی۔ اگر صورت معاملہ یہ ہے تو پھر ہر آیت کے بارہ میں یہ کہنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ اس کا سبب نزول فلاں واقعہ ہے۔‘‘(التفسیر الکبیر، رازی ۱۳/ ۳)

پس ہمارے نزدیک، جیسا کہ اوپر کے مباحث سے واضح ہوا، صورت معاملہ یہ ہے کہ جس وقت جو سورہ بھی نازل کی گئی ہے، وہ اس غرض کے لیے نازل کی گئی ہے کہ جو معاملات محتاج توضیح و تشریح ہیں، ان کی توضیح و تشریح کر دی جائے اور کلام ایسا ہو کہ اس کے نظم میں کسی قسم کا التباس و ابہام نہ ہو۔ جس طرح ایک ماہر اور حکیم خطیب اپنے سامنے کے خاص حالات و مقتضیات کی بنا پر ایک خطبہ دیتا ہے کہ بسا اوقات وہ ایک خاص معاملہ کا ذکر اگرچہ نظر انداز کر دیتا ہے، لیکن اس کا کلام اس طرح کے تمام احوال و معاملات پر حاوی ہوتا ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ذکر تو کسی خاص معاملہ یا کسی خاص شخص کا کرتا ہے، لیکن کلام ایک عالم گیر بارش کی طرح بالکل عام و ہمہ گیر ہوتا ہے۔ اسی طرح قرآن حکیم کا نزول بھی ہوا ہے جیسا کہ قرآن مجید سے خود مترشح ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’وَاِنْ تَسْءَلُوْا عَنْھَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَلَکُمْ‘ ** (اور اگر تم ان کے متعلق ایسے وقت میں سوال کرو گے، جبکہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو وہ ظاہر کر دی جائیں گی)۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن عین اپنے وقت میں سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے، لوگوں کے سوالوں کے جواب دے دیتا تھا۔ اس طرح جب ایک سورہ اپنی حد کو پہنچ جاتی اور کلام کے تمام تقاضے پورے ہو جاتے تو وہ سورہ تمام کر دی جاتی اورناممکن تھا کہ وہ اپنے حدود اقتضا سے ذرا بھی کم و بیش ہو۔
لیکن بسااوقات ضرورت باقی رہ جاتی تھی تو اس وقت دوسری سورہ نازل کی جاتی۔ شان نزول وہی ہوتی، لیکن اسلوب میں تبدیلی کر دی جاتی تاکہ یکسانی و یک رنگی سننے والوں کی طبیعت پر بار نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ابتداے بعثت کی بہت سی سورتوں میں حشر و نشر، توحید، تصدیق رسول اور اس سے ملتے جلتے ہوئے مضامین ملتے ہیں، صرف اسلوب اور طرز بیان کا فرق ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا کہ ضرورت کسی امر کی توضیح و تشریح کی داعی ہوتی، اس وقت کوئی آیت اترتی اور جہاں ضرورت ہوتی، وہ آیت وہیں رکھ دی جاتی۔ یہ اس وعدہ کی تکمیل ہوتی جس کا ذکر سورۂ قیامہ میں فرمایا ہے: ’ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘ *** (پھر ہمارے ذمہ ہے اس کی توضیح کرنا)۔ ایسے مواقع پر زمانۂ نزول کا لحاظ نہ ہوتا، بلکہ نظم کلام کا لحاظ کیا جاتا اور بالعموم اس قسم کی آیات کے بعد یہ تنبیہ بھی کر دی جاتی کہ یہ آیت بطور تشریح نازل ہوئی ہے۔ چنانچہ جو آیتیں اصل احکام کے ساتھ بطور تفسیر ملائی گئی ہیں، ان کے بعد بالعموم، جیسا کہ ہم نے دیباچہ میں ذکر کیا ہے، یہ آیت آئی ہے: ’کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ‘ **** (اسی طرح اللہ اپنی آیتوں کو لوگوں کو سمجھانے کے لیے کھولتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں)۔
پس اگر تم طمانیت اور یقین کے طالب ہو تو شان نزول کی تلاش میں سررشتہ نظم کو ہرگز ہاتھ سے نہ چھوڑنا، ورنہ تمھاری مثال صحرا کے اس مسافر کی ہو جائے گی جو اندھیری رات میں ایک چوراہے پر پہنچ گیا ہے اور نہیں جانتا کہ اب کدھر جائے۔ شان نزول خود قرآن کے اندر سے اخذ کرنی چاہیے اور احادیث و روایات کے ذخیرہ میں سے صرف وہ چیزیں لینی چاہییں جو نظم قرآن کی تائید کریں نہ کہ اس کے تمام نظام کو درہم برہم کر دیں۔ پھر سب سے زیادہ لائق اہتمام وہ شان نزول ہے جو خود نظم قرآن سے مترشح ہو رہی ہے۔ اس کو پوری مضبوطی سے پکڑو، کیونکہ جب کوئی حکم عام کسی خاص حالت و صورت میں نازل ہوتا ہے تو وہ حالت و صورت اس حکم کی حکمت و علت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مثلاً قرآن میں تعدد ازواج اور وحدت ازواج، دونوں کا حکم ہے۔ اب اگر تم اس شان نزول کو سامنے رکھو جو نظم کلام سے نکلتی ہے تو تمھیں معلوم ہو گا کہ پہلا حکم یتامیٰ ***** کے ساتھ انصاف کے مقصد سے ہے اور دوسرا حکم بیویوں کے ساتھ انصاف کے مقصد سے ہے اور ان دونوں کے درمیان، جامع رشتہ قسط بالضعفاء، یعنی کمزوروں کے ساتھ انصاف ہے، اور ان میں سے ترجیح اس حق کو ہو گی جو مقدم ہے۔ یہی حال رہن کے معاملہ کا ہے۔ کسی مسلمان کا مال گرو رکھنا ایک نہایت دناء ت کی بات ہے۔ پس ضرورت کے لیے اس کی اجازت دی اور ضرورت رفع ہو جانے کے بعد اس کے لوٹا دینے کا حکم دیا۔ اس اجمالی اشارہ کی تفصیل بقرہ کی آیت ۲۸۳ کے تحت ملے گی۔

_______

* ۶: ۵۴۔
** المائدہ ۵: ۱۰۱۔
*** القیامہ ۷۵: ۱۹۔
**** البقرہ ۲: ۱۸۷۔
***** بعض مرتبہ یتیموں کی پرورش یا اس قسم کی کوئی دوسری معاشرتی یا اخلاقی و اجتماعی مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے کہ آدمی ایک سے زیادہ بیویاں رکھے۔ (مترجم)

-----------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق
تحریر/اشاعت اپریل 2014
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Jan 27, 2016
857 View