کفار سے دوستی - طالب محسن

کفار سے دوستی

 

سوال : قرآنِ مجید میں کئی جگہ کفار کی مسلمانوں سے دشمنی کا ذکر ہے اور کفار کی دوستی کو فریب کہا گیا ہے ۔ کیا اس کا اطلاق موجودہ زمانے پر بھی ہے ۔ جبکہ بہت سے غیر مسلم ہمارے ساتھی طالب علم ہیں اور اچھے دوست ہیں ۔ ( سیف الرحمان عباسی ،راولپنڈی) 
جواب :نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کفراور اسلام کی کشمکش اپنے عروج پر تھی ۔ دشمن ہر ہر اعتبار سے اسلام کی بیخ کنی کے درپے تھا اور اسلام کے ماننے والے کسی بھی طرح اپنے موقف سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں تھے ، بلکہ وہ اپنے جان ومال کے ساتھ دین کے لیے میدانِ کارزار میں اترے ہوئے تھے۔ اس صورتِ حال میں دشمن کے ساتھ دوستی در حقیقت اپنے دین کے ساتھ تعلق میں کمی کی علامت قرار پاتی تھی اور دشمن کی دوستی کی کوشش بھی کسی خلوص پر مبنی نہیں تھی ۔موجودہ زمانے میں وہ صورتِ حال نہیں ہے ۔ لہٰذا کسی غیر مسلم سے دوستی میں حرج نہیں ہے ۔ البتہ جہاں ایسا ہو وہاں دین کے تقاضوں کو ہر حال میں ترجیح دی جائے گی ۔ اگر ہم تعلقات کے معاملے میں اس ارشادِ پیغمبر کو پیشِ نظر رکھ سکیں تو یہ ہمارے لیے ایک کسوٹی بن سکتا ہے کہ جس نے اللہ کی خاطر دوستی کی اور جس نے اللہ کی خاطر دشمنی کی ، وہ مومن ہے ۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جنوری 2001
مصنف : طالب محسن
Uploaded on : Sep 18, 2017
466 View