نظر بد کے سبب سے وضو کا حکم - امین احسن اصلاحی

نظر بد کے سبب سے وضو کا حکم

 ترتیب و تدوین: خالد مسعود۔ سعید احمد

(اَلْوُضُوْءُ مِنَ الْعَیْنِ)

حَدَّثَنِیْ یَحْیٰی عَنْ مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ أُسَامَۃَ بْنِ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُوْلُ: إغْتَسَلَ أَبِیْ سَھْلُ بْنُ حُنَیْفٍ بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّۃً کَانَتْ عَلَیْہِ وَ عَامِرُ بْنُ رَبِیْعَۃَ یَنْظُرُ، قَالَ: وَ کَانَ سَھْلٌ رَجُلًا أَبْیَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ عَامِرُ بْنُ رَبِیْعَۃَ: مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ وَلَا جِلْدَ عَذْرَاءَ قَالَ: فَوُعِکَ سَھْلٌ مَکَانَہُ وَاشْتَدَّ وَعَکُہُ فَأُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ أَنَّ سَھْلًا وُعِکَ وَأَنَّہُ غَیْرُ رَاءِحٍ مَعَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَأَتَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ سَھْلٌ بِالَّذِیْ کَانَ مِنْ أَمْرِ عَامِرٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عَلَامَ یَقْتُلُ اَحَدُکُمْ أَخَاہُ؟ أَلَا بَرَّکْتَ إِنَّ الْعَیْنَ حَقٌّ تَوَضَّأْ لَہُ فَتَوَضَّأَ لَہُ عَامِرٌ فَرَاحَ سَھْلٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ.
ابو اسامہ روایت کرتے ہیں کہ میرے باپ سہل بن حنیف نے خرار میں غسل کیا۔ وہ ایک جبہ پہنے ہوئے تھے۔ اسے اتارا تو عامر بن ربیعہ ان کو دیکھ رہے تھے۔ سہل بہت گورے اور خوب صورت جسم کے آدمی تھے۔ عامر بن ربیعہ نے کہا کہ آپ جیسا جسم آج تک میں نے کسی کنواری کا بھی نہیں دیکھا۔ سہل کو اسی وقت بخار آ گیا اور بخار شدید ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی آیا اور ان کو بتایا کہ سہل بن حنیف کو تپ چڑھ گیا ہے اور وہ تو اب آپ کے ساتھ جانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو سہل نے جو بات عامر بن ربیعہ کی طرف سے ہوئی تھی، وہ آپ کو بتائی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں بلاوجہ قتل کرتا ہے؟ تم نے ان کو برکت کی دعا کیوں نہیں دی۔ نظر تو حق ہے۔ اس کے لیے وضو کرو۔ عامر نے اس کے لیے وضو کیا تو سہل ٹھیک ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس حال میں روانہ ہو گئے کہ ان کو کوئی تکلیف نہ تھی۔

حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شَھَابٍ عَنْ اَبِیْ اُسَامَۃَ بْنِ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ أَنَّہُ قَالَ: رَاٰی عَامِرُ بْنُ رَبِیْعَۃَ سَھَلَ بْنَ حُنَیْفٍ یَغْتَسِلُ فَقَالَ: مَارَأیْتُ کَالْیَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخْبَأَۃٍ فَلُبِطَ سَھْلٌ فَأُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، ھَلْ لَکَ فِیْ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ؟ وَاللّٰہِ، مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ فَقَالَ: ھَلْ تَتَّھِمُوْنَ لَہُ أَحَدًا؟ قَالُوْا: نَتَّھِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِیْعَۃَ فَتَغَیَّظَ عَلَیْہِ وَقَالَ: عَلَامَ یَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ؟ أَلَا بَرَّکْتَ، اِغْتَسِلْ لَہُ فَغَسَلَ عَامِرٌ وَجْھَہُ وَیَدَیْہِ وَمِرْفَقَیْہِ وَرُکْبَتَیْہِ وَأَطْرَافَ رِجْلَیْہِ وَدَاخِلَۃَ إِزَارِہِ فِیْ قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ عَلَیْہِ فَرَاحَ سَھْلٌ مَعَ النَّاسِ لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ.
ابو اسامہ بن سہل کہتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو غسل کرتے دیکھا تو انھوں نے کہا کہ میں نے آج تک اتنا خوب صورت جسم کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا۔ اس پر سہل وہیں گر پڑے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی آیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ، آپ کو کچھ سہل کا حال بھی معلوم ہے؟ خدا کی قسم، وہ تو سر بھی نہیں اٹھا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ان کے بارے میں کسی کو متہم کرتے ہو؟ انھوں نے کہا کہ ہم تو عامر بن ربیعہ کو متہم کرتے ہیں۔ آپ عامر پر غصے ہوئے اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں ناحق قتل کرتا ہے؟ تو نے ان کو برکت کی دعا کیوں نہ دی، اب اس کے لیے غسل کرو، تو عامر نے دھویااپنا چہرہ، دونوں ہاتھ، کہنیاں، دونوں گھٹنے، پاؤں کے اطراف اور تہمد کا اندرون ایک برتن میں۔ پھر یہ سارا پانی سہل کے اوپر ڈال دیا تو وہ ٹھیک ہو گئے اور لوگوں کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ ان کو کوئی تکلیف نہ تھی۔

وضاحت

یہ دونوں روایتیں ایک ہی واقعہ سے متعلق ہیں۔ عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو غسل کرتے دیکھا تو ان کی خوش رنگ جلد پر ایسی نگاہ ڈالی کہ وہ نظر بد کا شکار ہو کر اسی وقت گر پڑے اور انھیں شدید بخار آ گیا۔ نظر بد ایک شیطانی کام ہے۔ انسان کے اندر جو شیطان ہوتا ہے، وہ اس کا ذریعہ بنتا اور دوسرے آدمی کو متاثر کرتا ہے۔ نظر بد بھی اعمال سفلیہ کی طرح کی ایک چیز ہے۔ اس میں اتنی ہی تاثیر ہوتی ہے، جتنی سحر میں ہوتی ہے۔ سحر قوت متخیلہ کو متاثر کرتا ہے، لیکن اتنا نہیں کہ آدمی اس کے نتیجہ میں مر جائے یا مخبوط الحواس ہو جائے۔ اس کا اثر وقتی طور پر پڑتا ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے؟ تو اس سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ نظر بد قتل تک متعدی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس روایت کی بنا پر یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ نظر بد کے نتیجہ میں اگر کوئی قتل ہو جائے تو کیا نظر بد ڈالنے والا قصاص میں قتل کر دیا جائے گا؟ فقہا کے ایک گروہ کے خیال میں وہ قتل کر دیا جائے گا، جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا یہ ہے کہ شریعت میں قتل کی تحقیق کا ایک ضابطہ ہے۔ اس کے لیے شہادتیں لی جاتی ہیں، آلۂ قتل دیکھا جاتا ہے، مقتول کا جائزہ لیا جاتا ہے، اس کے بعد قاضی اپنا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ نظر بد میں شریعت کے ان ضابطوں پر عمل کرنا ممکن نہیں۔ امام نووی کی راے میں نظر بد کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
دوسری طرف قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال خبیثہ میں شیطان کو کسی پر سلطان یا کامل اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ آدمی کی جان ہی لے لے۔ زیادہ سے زیادہ وہ وسوسہ اندازی کر سکتا ہے، گناہ پر ابھار سکتا ہے اور وقتی طور پر کسی مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ اس کی روشنی میں قتل سے مراد حقیقی قتل نہیں ہو سکتا، جس کا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حوالہ دیا ہے۔
اگرچہ دونوں روایتیں ایک ہی واقعہ کو بیان کرتی ہیں، لیکن ان میں بڑا فرق میرے نزدیک اس وجہ سے پیدا ہو گیا ہے کہ پہلی روایت کے راوی محمد بن ابی اسامہ ہیں، جبکہ دوسری محمد بن شہاب زہری سے مروی ہے۔ پہلی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو وضو کرنے کا حکم دیا اور سہل بن حنیف کے لیے برکت کی دعا کرنے کو کہا، جس سے سہل اچھے ہو گئے۔ یہ بات قرین قیاس اور شریعت کے مزاج کے مطابق ہے۔ دوسری روایت میں ابن شہاب نے اس کو ایک ٹوٹکا بنا کر پیش کیا ہے۔ ان کے کہنے کے مطابق، جس آدمی سے نظر بد لگی ہو، اس کو نہلایا جائے۔ تمام اعضا حتیٰ کہ زیرجامہ کے اعضا کو بھی دھو کر پانی ایک برتن میں جمع کیا جائے اور وہ تمام کا تمام مریض کے اوپر ڈالا جائے تو نظر بد کا اثر ختم ہو جائے گا اور مریض تندرست ہو جائے گا۔ یہ سب اوہام ہیں، ان کوحقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ زہری کے مقاصد میں یہ بات بھی رہی ہے کہ یہود کے اعمال سفلیہ کو اسلام میں گھسایا جائے اور ایمان بالجبت (یا اعمال سفلیہ پر ایمان) یہود کی خصوصیت رہی ہے۔ ٹونے ٹوٹکے وغیرہ سب جبت کے قبیل سے ہیں۔
روایت میں غسل کے اس طریقہ کے لیے شاہ ولی اللہ نے بھی لکھا ہے کہ یہ ابن شہاب کی اپنی گرہ ہے۔ وہ یہ فرماتے ہیں کہ ان باتوں کا عقل سے کوئی تعلق نہیں۔ ٹونے ٹوٹکے دل سے مان لینے کی چیزیں ہیں۔ میرے نزدیک یہ قرآن کے خلاف اور یہود کے بقایا میں سے ہیں۔ صوفیوں کے ذریعے ان کو فروغ حاصل ہوا ہے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مئی 2014
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Jul 17, 2017
1046 View