شہید کی تعریف - ڈاکٹر خالد ظہیر

شہید کی تعریف

   

[یہ ڈاکٹر خالد ظہیر کے انگریزی مضمون’’ Definition of a Shaheed ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ مضمون ۲۲ ؍ نومبر 
۲۰۱۳ء کو انگریزی روز نامہ ’’ڈان‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ رانا معظم صفدر نے اسے انگریزی سے اردو میں منتقل کیا ہے۔]

 

’شہید‘ کے لفظ کا استعمال برصغیر، بالخصوص پاکستان میں بہت عام ہے ۔ جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے ایسی موت مراد ہوتی ہے جو کسی حادثے کے نتیجے میں یا کسی نیک مقصد کی جدوجہد میں آجائے ۔ دین کی حفاظت و سربلندی میں دشمن کے خلاف جنگ و جدال اور حق و انصاف کے لیے اٹھ کھڑا ہونا نیک مقصد کی نمایاں مثالیں ہیں۔
ہمارے ہاں اس لفظ کا استعمال عام ہے ۔ بعض اوقات اس میں اختلاف کی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے اور نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ ایک فرد کو کچھ لوگ شہید قرار دے رہے ہوتے ہیں تو کچھ دوسرے لوگ اس کا انکار کر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی صورت حال میں یہ سوال زیر بحث آ جاتا ہے کہ لفظ ’شہید‘ کی تعریف کیا ہے ۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اس کو دیکھا جائے کہ اس لفظ کی اصل میں کیا حقیقت ہے اور ہمارے مذہب میں اس کی کیا حیثیت ہے؟
قرآن مجید میں یہ لفظ اپنی مختلف صورتوں میں کئی مقامات پر آیا ہے ۔ اس ضمن میں مخاطب کا لحاظ کرتے ہوئے ’شَاہِد‘، ’شَہِیْد‘، اور ’شُہَدَآء‘ کے الفاظ اختیار کیے گئے ہیں۔ سورۂ فتح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا.(۴۸: ۸)
’’بے شک، ہم نے تم کو گواہی دینے والا ، خوش خبری پہنچانے والا اور آگاہ کر دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں، یعنی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کی جماعت کو خطاب کرتے ہوئے یہی لفظ اختیار کیا ہے۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا.(۲: ۱۴۳)
’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں ایک بیچ کی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر گواہی دینے والا بنے۔‘‘

اسی طرح متعدد مقامات پر پوری امت کو مخاطب کرتے ہوئے بھی اس لفظ کو استعمال کیا گیاہے۔ سورۂ نساء میں ہے:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ.(۴: ۱۳۵)
’’اے ایمان والو، حق پر جمے رہو اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے۔‘‘

درج بالا مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ لفظ اُس فرد یا گروہ کے لیے استعمال ہوا ہے جو اللہ اور اس کے دین کا گواہ ہے۔ یعنی قرآن میں یہ لفظ بطور اصطلاح اُس فرد یا گروہ کے لیے بولا جاتا ہے جو اللہ کے دین کو بخوبی سمجھتا ہو اور اس سے نہ صرف پوری طرح آگاہ ہو ، بلکہ اس پر ایسے عمل پیرا ہو کہ دنیا کے باقی لوگ اس کو اللہ کے گواہ کے طور پر دیکھ رہے ہوں ۔
ایسا فرد یا گروہ اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں اللہ کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے اور تمام عمر دین کے عائد کردہ حدود و قیود کا پابند رہتا ہے ۔ وہ راہ حق پر ثابت قدم رہتا ہے اور حق بات کو ماننے اور اس پر عمل کرنے میں معمولی درجے میں بھی جھجک محسوس نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ ایک انسان ہونے کے ناتے وہ اپنے نفس کی پاکیزگی، یعنی تزکیۂ نفس کے لیے ہر وقت کوشاں رہتا ہے اور ممکن حد تک اس کو اعلیٰ سطح پر قائم رکھنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ ایسے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کے القاب سے نوازا ہے ۔ یہی وہ چار گروہ ہیں جن پر اللہ کی رحمت ہے۔
لفظ ’شہید‘ کا ایک اور استعمال بھی قرآن مجید میں ملتا ہے۔ سورۂ آل عمران کی ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کو میدان جنگ میں ہونے والی موت کے لیے استعمال کیا ہے۔ ارشاد ہے:

وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَآءَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ.(۱۳۹۔۱۴۰)
’’اور پست ہمت نہ ہو اور غم نہ کرو اگر تم مومن ہو تو تمھی غالب رہو گے۔ اگر تمھیں کوئی چوٹ پہنچے تو اس سے پست ہمت نہ ہو آخر دشمن کو بھی تو اس طرح کی چوٹ پہنچی ہے، یہ ایام اسی طرح ہم لوگوں کے اندر الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تمھارا امتحان کرے اور ممیز کر دے ایمان والوں کو اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘

یہ شہادت، بلاشبہ صدیقین اور صالحین کے درجے جیسا اعلیٰ رتبہ ہے ،اور اس شخص کے لیے ہے جو اسلام کے پیش کردہ اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور اپنے عمل سے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ ان اصولوں پر عمل پیرا ہونے کے لیے ہر حال میں تیار ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ موت کے بعد شہادت کا درجہ کس کو نصیب ہو گا؟ تو قرآن سے واضح ہے کہ اس کا علم اور اختیار کسی انسان کے پاس نہیں، بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
ہمارے ہاں اس لفظ کا استعمال اپنے اصل اور حقیقی دائرے سے آگے بڑھ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم اس لفظ کو جذباتی معنوں میں استعمال کرتے ہیں تو یہ کچھ اور ہی مفہوم میں آ جاتا ہے۔ اردو حتیٰ کہ ہندی اور بنگالی زبان میں بھی اگر کوئی شخص حالت جنگ میں مارا جائے یاحادثاتی موت کا شکار ہو جائے تو اس کے اکرام کے لیے اس لفظ کا استعمال عام بات ہے ۔اس کا مقصد اس وقت تکلیف اور دکھ کی کیفیت کو کم کرنا اور سوگوار کو تسلی دینا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خدا کے حضور اس شخص کے لیے یہ درخواست کرنا ہوتا ہے کہ اسے شہید کا رتبہ عنایت فرمائے۔
قرآن مجید کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لفظ ’شہید‘ کے اس عام استعمال کا اس کے حقیقی مذہبی معنی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ چنانچہ ہم جب کسی مرنے والے کے ساتھ ’شہید‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ہمیں اسے ان معنوں میں لینا چاہیے کہ ہم اللہ سے دعا کر رہے ہیں کہ وہ اس مرنے والے پر اپنی رحمت فرمائے اور اسے شہید کا رتبہ عطا کرے۔ لہٰذا ہم کسی کے بارے میں بھی درجۂ شہادت کا حکم نہیں لگا سکتے۔ یہ اللہ کی خاص عنایت ہے اور یہ عنایت کس پر ہو گی، اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز کریں گے ۔
یہاں ایک بات نہایت قابل غور ہے کہ ’شہید‘ کے لفظ کا مذکورہ استعمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھا، بلکہ یہ آج کے زمانے میں در آیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کا استعمال اور اس کا اطلاق بڑھ بھی رہا ہے۔ حالاں کہ دور نبوی کے لوگ بہترین لوگ تھے، ان کی زندگیاں مثالی تھیں اور ان میں سے بہت سے ایسے تھے جنھوں نے فی الواقع شہادت کی موت پائی تھی، لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ لفظ شہید ان کے نام کا حصہ نہیں بنا۔ اولین دورکی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دور کے مسلمانوں کے نام لفظ شہید کے لاحقے اور سابقے کے بغیر ہیں۔

____________

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت ستمبر 2015ء
مصنف : ڈاکٹر خالد ظہیر
Uploaded on : Jan 18, 2016
505 View