قافلہ در قافلہ - جاوید احمد غامدی

قافلہ در قافلہ

 

میں نے جس دور میں شعور کی آنکھ کھولی، وہ اسلامی انقلاب کے لیے قائم ہونے والے اداروں اور تنظیموں کا دور تھا۔ انسان اپنے گردوپیش سے متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ کالج کے زمانے میں ہم چند دوستوں نے بھی ’’دائرۃ الفکر‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان میں یار عزیز ڈاکٹر ساجد علی سب سے نمایاں تھے۔ وہ اس وقت پنجاب یونیورسٹی میں شعبۂ فلسفہ کے سربراہ ہیں۔ لنک میکلوڈ روڈ پر میرے پاس کرایے کا ایک کمرا تھا۔ ماہنامہ ’’خیال‘‘ کے نام سے میں وہاں سے ایک رسالہ شائع کرنا چاہتا تھا۔ اس ادارے کی ابتدا اسی کمرے سے ہوئی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی انقلاب کے لیے ایک تحریک برپا کی جائے جس میں یہ ادارہ ایک علمی مرکز اور مرکز قیادت کی حیثیت سے کام کرے۔ اس کے بعد ایک دارالعلوم قائم کرنے کا ارادہ تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ اس دارالعلوم سے جو لوگ پڑھ کر نکلیں، آیندہ کے لیے تحریک کی قیادت انھی میں سے منتخب کی جائے۔ یہ ایک رومانوی تصور تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی جماعت میں جو خامی رہ گئی ہے، وہ اسی طرح دور کی جاسکتی ہے۔ دو تین ماہ تک ہم لنک میکلوڈ روڈ کے اس کمرے میں ملتے اور پڑھتے پڑھاتے رہے، لیکن اندازہ ہوا کہ پیش نظر مقصد کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت اکٹھے گزارنا ضروری ہے۔ چنانچہ ان دوستوں نے جو ہاسٹل میں رہتے تھے، فیصلہ کیا کہ وہ ہاسٹل چھوڑ دیں گے اور اپنا سب جیب خرچ اور ہاسٹل کے اخراجات کے لیے ملنے والی رقم ملا کر ایک مکان کرایے پر لیں گے، جہاں اس تحریک کا مرکز قائم کیا جائے گا۔ میرا گھر اس زمانے میں لاہور ریلوے اسٹیشن کے پاس محلہ سلطان پورہ میں تھا۔ تلاش شروع ہوئی تو ایک مکان قریب ہی مل گیا اور یہ سب دوست وہاں منتقل ہو گئے۔
ہم جو دارالعلوم قائم کرنا چاہتے تھے، اس کا نام ہم نے ’’جامعہ الحمرا‘‘ تجویز کیا تھا۔ اس کی رعایت سے ’’الحمرا‘‘ کے نام سے ایک مجلہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوستوں کے مشورے سے طے ہوا کہ اس کے لیے کتابت کے بجائے ٹائپ پر چھاپنے کا طریقہ اختیار کیا جائے، جس میں حروف جوڑ کر عبارت تیار کی جاتی ہے۔ جن لوگوں کو اس طریقۂ طباعت کا تجربہ ہے، وہ جانتے ہیں کہ اس میں پروف کی غلطیاں بہت ہوتی تھیں جنھیں دقت نظر سے درست کرنا پڑتا تھا۔ ہمارے ساتھ حادثہ یہ ہوا کہ پروف دیکھ کر ہم پریس والوں کے حوالے کر آئے اور مطمئن ہو گئے کہ غلطیوں کی تصحیح ہو جائے گی۔ مگر مجلہ چھپ کر آیا تو معلوم ہوا کہ جن غلطیوں کی نشان دہی کی گئی تھی، ان میں سے کوئی غلطی بھی درست نہیں ہوئی۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اسے ضائع کر دیا جائے۔ یہ پہلا حادثہ تھا جس سے اپنی ناتجربہ کاری کے باعث دوچار ہونا پڑا۔ ابھی اس کی پریشانی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور افتاد آپڑی۔ چند ہی مہینوں کے بعد ہمیں وہ مکان خالی کرنا پڑا جس میں اپنی تحریک کا ایک مرکز ہم نے قائم کر لیا تھا۔ نیا مکان کئی مہینوں کی تگ و دو سے ملا۔ یہ ماڈل ٹاؤن کے جے بلاک میں ۲۹ نمبر مکان تھا۔ ہم نے خدا کا شکر کیا کہ تعطل کا زمانہ زیادہ طویل نہیں ہوا اور کام ایک مرتبہ پھر شروع ہوگیا ہے۔
۱۹۷۱ء کے جون میں ہماری ملاقات لاہور کے ایک ایڈووکیٹ چودھری محمد انور صاحب سے ہوئی۔ ان کے ایک بزرگ دوست سید بدر بخاری بھی اس ملاقات کے موقع پر موجود تھے۔ یہ دونوں ہمارے پروگرام سے بہت متاثر ہوئے۔ ان کی تجویز تھی کہ اس کام کو آگے بڑھانے کے لیے علامہ اقبال روڈ پر ان کے محلے میں درس قرآن کا ایک حلقہ قائم کیا جائے۔ ۷؍جولائی کو یہ حلقہ قائم ہوا اور اس کے نتیجے میں ہم طالب علموں کو چند بڑوں کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی۔ ان میں سید ارشد بخاری اور شیخ محمد ارشد سب سے نمایاں تھے۔ یہ دونوں دوست تھے اور واپڈا میں ملازمت کرتے تھے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے درسوں میں بڑی باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ان دونوں کو ارشدین کہا کرتے تھے۔ ڈیڑھ دوبرس تک درس و تدریس کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اب کافی لوگ ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار تھے۔ لہٰذا سیدبدربخاری کی امارت میں تحریک کا باقاعدہ نظم قائم کر دیا گیا۔ اہل حدیث کے ایک ممتاز عالم مولانا عبدالرحمن صاحب مدنی ہمارے قریب ہی رہتے تھے۔ وہ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ درس کے بعض دوسرے شرکا نے بھی اس میں شمولیت اختیار کرلی۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہا۔ بدربخاری صاحب عمر کے اس حصے میں تھے کہ اس طرح کے کسی نظم کی قیادت ان کے لیے آسان نہ تھی۔ لہٰذا چند مہینوں کے اندر ہی باہمی مشورے سے یہ تنظیم ختم کر دی گئی۔
مارچ ۱۹۷۳ میں ہم نے دائرۃ الفکر سے ایک مجلہ ’’اشراق‘‘ کے نام سے چھاپا۔ ہمارا خیال تھا کہ ڈیکلریشن مل جائے گا تو اسے ایک باقاعدہ رسالے کی صورت دے دیں گے اور اس کے ذریعے سے اپنی بات لوگوں تک پہنچائیں گے، لیکن بہت جلد اندازہ ہو گیا کہ ڈیکلریشن ملنا آسان نہیں ہے۔ اس لیے یہ اسکیم روبہ عمل نہ ہو سکی۔ اس کے چند ماہ بعد ہمارے مالک مکان نے کرایہ بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔ اس وقت کے حالات میں ہمارے لیے ممکن نہ تھا کہ اس کا مطالبہ پورا کرتے، اس لیے ماڈل ٹاؤن کا یہ مکان بھی چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد کئی مہینے تک ہم لوگ منتشر رہے۔ ادارہ بھی معطل رہا۔ خداخدا کر کے گارڈن ٹاؤن کے احمد بلاک میں ایک مکان ملا۔ دوست جمع ہوئے، سازو سامان درست کیا گیا اور پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔
ہمارے بعض دوستوں کو ’’دائرۃ الفکر‘‘ کا نام پسند نہیں تھا۔ چنانچہ اس کی جگہ ادارے کے لیے ’’دارالاشراق‘‘ کا نام اختیار کیا گیا۔ ابتدا میں جو طالب علم اس سے متعلق ہوئے تھے، ان میں سے میں اور ساجد علی ہی باقی تھے۔ شیخ افضال احمد، مستنصرمیر، چودھری الیاس احمد اورچودھری محمد رفیق نئے رفقا تھے۔ ہمارے دوست ذوالفقار احمد خاں بھی اسی دور کی یادگار ہیں۔ وہ ہمارے قریب ہی رہتے تھے، اور اگرچہ ادارے سے متعلق نہیں تھے، مگر اسی کے ایک فرد سمجھے جاتے تھے۔ یہی معاملہ اصغرنیازی اور محمد طارق میکن کا بھی تھا۔ یہ دونوں دوستانہ تعلق سے ہمارے پاس مقیم تھے۔
اس زمانے میں مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی خدمت میں بھی اکثر حاضر ہونے کاموقع ملتا تھا۔ ایک روز ملاقات کے لیے گیا تو اس کام کا بھی ذکر ہوا۔مولانا نے تفصیلات پوچھیں، رفقا سے تعارف حاصل کیا، میں نے اپنی مشکلات بتائیں، وہ موانع بیان کیے جو کام میں تعطل کا باعث بن جاتے تھے اور ان سے سرپرستی کی درخواست کی۔ مولانا نے میری یہ درخواست ازراہ عنایت قبول فرمالی۔ چنانچہ ان کی ہدایت کے مطابق ادارے کے لیے میرے اور مولانا کے نام سے ایک مشترک اکاؤنٹ اچھرہ کے حبیب بنک میں کھولا گیا جس میں مولانا نے اپنی جیب سے ماہانہ ایک ہزار روپے جمع کرانے شروع کر دیے۔ احمد بلاک سے ہم لوگ مولانا کے گھر کے پاس انھی کی دی ہوئی ایک عمارت ۱۔اے ذیلدار پارک اچھرہ میں منتقل ہوگئے۔ مولانا کا خیال تھا کہ اسے ’’ادارۂ معارف اسلامی‘‘ کی ایک شاخ یا ایک نئے ادارے کی حیثیت سے منظم کیا جائے گا۔ اس سے پہلے مولانا ہی کے ایما سے میں ’’جماعت اسلامی‘‘ کا رکن بن چکا تھا، لیکن مولانا کا یہ فیصلہ جماعت کے بعض بزرگوں کو پسند نہیں آیا۔ چنانچہ ایک مہم شروع ہوئی اور سات آٹھ مہینے کے بعد ہی میں نے محسوس کر لیا کہ ان حالات میں یہاں رہ کر کام کرنا ممکن نہ ہوگا۔ جماعت کی یہ خواہش بھی اسلم سلیمی صاحب نے مجھ تک پہنچا دی تھی کہ ادارہ جس عمارت میں قائم ہے، اسے وہ الیکشن کا دفتر بنانا چاہتی ہے۔ یہ صورت حال بتا رہی تھی کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ لہٰذا ہم نے مشورہ کیا، مولانا سے اجازت چاہی اور چودھری الیاس احمد کی دعوت پر لاہور کے قریب ہی واقع ان کے گاؤں مریدکے منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ ۱۹۷۶ء کے آخر میں ہم یہاں پہنچے اور ۱۱ ؍جنوری ۱۹۷۷ کو جماعت اسلامی پنجاب کے امیر مولانا فتح محمد صاحب کا ایک خط موصول ہوا جس میں انھوں نے مطلع کیا تھا کہ جماعت سے میری رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔ یہ ایک دو سطروں کی تحریر تھی جس میں بغیر کوئی وجہ بتائے فیصلہ سنا دیا گیا تھا کہ میں اب جماعت کا رکن نہیں رہا۔ میاں طفیل محمد صاحب اس زمانے میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر تھے۔ میں نے ان کے نام خط لکھا اور اس فیصلے کے وجوہ معلوم کرنا چاہے، مگر اس کا کوئی جواب مجھے کبھی نہیں دیا گیا۔
یہ وصل و فصل میرے لیے زندگی کا ایک اہم تجربہ تھا۔ میں نے اس عرصے میں اپنے عہد کی ایک عظمت کو بہت قریب سے دیکھا، ان کے ساتھ کھڑے ہو کر نمازیں پڑھیں، ان سے باتیں کیں، زندگی کے آداب سیکھے، صبروحکمت کا درس لیا، زبان و بیان کی بعض نزاکتیں سمجھیں، ماچھی گوٹ سے پہلے اور بعد میں جو کچھ ہوا، اس کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر خود ان کی زبان سے سنا، مولانا اصلاحی کے ساتھ ان کے علمی اختلافات پر ان سے تبادلۂ خیالات کیا۔ امام فراہی کے متعلق ان کے عقیدت مندانہ تاثرات سنے، ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر اور علامہ اقبال سے ان کی محبت کی داستان سنی۔ یہ صحبتیں سرمایۂ حیات ہیں اور میں اب بھی مولانا کو اسی طرح یاد کرتا ہوں، جس طرح ایک مہجور بیٹا اپنے باپ کو یاد کرتا ہے۔ ان کی جماعت کو بھی میں اپنی برادری سمجھتا ہوں اور پالیسی اور طرزعمل سے ہزار اختلافات کے باوجود ایسا ہی تعلق خاطر محسوس کرتا ہوں، جس طرح کوئی شخص اپنے خاندان سے محسوس کرتا ہے۔ میرے خلاف مہم میں جو لوگ پیش پیش رہے، وہ شاید مجھے نہیں جانتے تھے، اس لیے ان سے بھی کوئی گلہ نہیں ہے۔ میں ان سے حسن ظن رکھتا ہوں کہ انھوں نے جو کچھ کیا، اپنی دانست میں جماعت کی بہتری کے لیے کیا۔ مولانا نے امریکا جانے سے پہلے آخری ملاقات میں مجھ سے کہا تھا: میری عزیز توقعات آپ سے وابستہ ہیں۔ اپنے ناقدین کی بات ہمیشہ توجہ کے ساتھ سنیے، پستی پر اتر آئیں تو ’مروا باللغو مروا کراما‘ کا طریقہ اختیار کیجیے، وہ آپ کو مشتعل کرنا چاہیں تو ان کے افترا اور بہتان طرازی کے باوجود اشتعال میں آنے سے انکار کر دیجیے، اس کے بعد خدا آپ کے ساتھ ہوگا اور آپ ان شاء اللہ انھیں اپنے میدان میں شکست دیں گے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں مولانا کی یہ نصیحت ہمیشہ میرے پیش نظر رہی ہے۔ یہ اسی کا اثر ہے کہ:

اس دشت بے چراغ میں کرتا ہوں روز و شب
پیدا ہر اک ببول سے سرو و سمن کو میں
 

لاہور سے مریدکے آجانے کا ذکر تھا کہ مولانا کی صحبتیں یاد آگئیں اور لذید بود حکایت دراز تر گفتم۔ ہمارے ایک نئے رفیق ملک محمد اشرف شادی شدہ تھے۔ یہاں آنے کے بعد میری اور میر صاحب کی بھی شادی ہوگئی۔ اب ہاسٹل کے طریقے پر رہنا ممکن نہ تھا۔ حالات میں جو تبدیلی آئی تھی، اس کی بنا پر ضروری تھا کہ رفقا کی کفالت کے لیے کوئی معقول بندوبست کیاجائے۔ ہم نے بہت کوشش کی، مگر اس کے لیے جتنے وسائل چاہییں تھے، وہ کسی طرح میسر نہیں ہوئے۔ لہٰذا کم و بیش دو سال تک مریدکے میں بقا کی جدوجہد کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس ادارے کی بساط لپیٹ دی جائے۔ یہ ۱۹۷۸ء کے اپریل کی کوئی شام تھی، جب ہم نے کئی دن کی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر فیصلہ کر لیا اور برسوں کے ساتھی بادل نخواستہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہونے لگے۔ اس عرصے میں ’’اشراق‘‘ کا ڈیکلریشن مل گیا تھا۔ یہ مستنصر میر کے نام تھا۔ اس کا پہلا شمارہ جنوری ۱۹۷۹ میں شائع ہوا۔ رسالے کا اداریہ اسی موضوع پر تھا اور میں نے اس میں لکھا تھا:

’’... نومبر ۱۹۷۰ میں وہ اکیڈیمی وجود میں آئی جو ’’دارالاشراق‘‘ کے نام سے لاہور سے ۲۶ کلومیٹر دور مریدکے کی بستی میں اپریل ۱۹۷۸ تک باقاعدگی سے کام کرتی رہی اور اب کئی ماہ سے معطل ہے۔ میرے کچھ رفقا برسوں کی جدوجہد کے بعد گھروں کو لوٹ چکے ہیں، کچھ لوٹ جائیں گے۔ یہ ایک کام تھا جو شروع ہوا اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے سعی و جہد کے بے شمار مراحل سے گزرا اور ختم ہو گیا۔ میرے احباب کا تقاضا ہے کہ میں اس کام کی نوعیت اور اس کے تعطل کے وجوہ و اسباب پر قلم اٹھاؤں تاکہ وہ لوگ جو اس کے احیا سے دل چسپی رکھتے ہیں، اگر کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہوں تو کر سکیں۔ میں نہیں جانتا کہ اس کا دوبارہ آغاز کب ہو سکے گا، لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ مجھے یقین ہے کہ کرنے کا اصل کام یہی ہے۔ میرا احساس ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں۔ میرے پروردگار نے چاہا تو یہ قافلہ پھر گرم سفر ہو گا۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ منتشر ہو گیا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ دم لینے کے لیے کسی منزل پر ٹھیر گیا ہے۔ شاید زادراہ لینے کے لیے، شاید نئے سفر کا آغاز کرنے کے لیے۔ میں آواز جرس سن رہا ہوں اور میں نے قلم اٹھا لیا ہے۔‘‘

اس سے آگے میں نے لکھا تھا:

’’...یہ بات شروع ہی سے میرے سامنے تھی کہ یہ کوئی جزوقتی کام نہیں ہے۔ اس کے لیے آنے والوں کو شب و روز کے لیے آنا ہوگا اور ساری زندگی کے لیے آنا ہوگا۔ مجھے معلوم تھا کہ جو لوگ اس میں اپنا سب کچھ کھپا دینے کے لیے آئیں گے، ان کی کفالت کی ذمہ داری بالآخر اس ادارے کو اٹھانا ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدا ہی سے میں نے یہ کام دو جہتوں سے شروع کیا۔ مردان کار کی تلاش اور وسائل کی فراہمی کی جدوجہد میں نے ایک ہی وقت میں شروع کی۔ اب میں محسوس کرتا ہوں کہ پہلے کام کے لیے میرا مزاج موزوں تر اور دوسرے کے لیے سخت ناموزوں واقع ہوا ہے، اور اس کانتیجہ یہ ہے کہ مجھے ارباب عزم کو جمع کر لینے میں جہاں غیرمعمولی کامیابی ہوئی، وسائل کو تلاش کرنے میں ویسی ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس داستان کو بالتفصیل بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ یہ فرہاد و بیستوں کی حکایت ہے، خار مغیلاں کو خون دل سے سیراب کرنے کی کہانی ہے۔ میں اس کو یہاں بہت اختصار کے ساتھ رقم کر رہا ہوں۔ خاطر احباب کی گراں باری کا احساس ہے، لیکن اسے چند حرفوں میں بیان کرنے کا موقع شاید یہی ہے:

پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے

یہ کام کب شروع ہوا، عرض کر چکاہوں۔ ابتدا مشکل تھی، ہوگئی تو احباب وقتاً فوقتاً اس کام سے متعلق ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ۱۹۷۵ء میں ان کی تعداد سات تک پہنچ گئی۔ ان میں افضال احمد صاحب اور محمد اشرف صاحب نے معاشیات، ساجد علی صاحب نے فلسفہ، الیاس احمد صاحب نے سیاسیات، محمد رفیق صاحب نے عربی اور مستنصر میر صاحب نے انگریزی میں ایم۔اے تک تعلیم حاصل کی تھی۔ منصور الحمید صاحب ایم بی بی ایس تھے۔ مستنصر میر صاحب نے سی ایس ایس کیا تھا اور سول سروس اکیڈیمی میں ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد تقرر سے کچھ روز پہلے ملازمت کا خیال چھوڑ کر حلقۂ درویشاں میں شامل ہو گئے تھے۔ ان میں سے ہرفرد کا ایثار بے مثال ہے۔ یہ بڑی صلاحیتوں کے حامل نوجوان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی عزیمت، ان کا ذوق علم، ان کا حسن طبیعت، ان کا سوزنہاں اس اکیڈیمی کی تاریخ کی متاع بے بہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ خود میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میرا احساس ہے کہ یہ آنے والے دور کو بہت کچھ دے سکتے تھے۔ لیکن اپنے زمانۂ قیام میں یہ شاید ہی چند ماہ کے لیے اطمینان کے ساتھ کام کر سکے ہوں۔ مالی وسائل کی کمی نے اس کام کو باربار معطل کیا ہے۔ اس کی پوری تاریخ مسلسل بحران کی تاریخ ہے۔ یہاں تدریس باربار شروع ہو کر ختم ہوئی ہے۔ اس کے باوجود اللہ کا احسان ہے کہ کچھ کام ہو گیا اور بہت تھوڑا باقی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ ڈیڑھ دو سال مزید کام کرنے کا موقع مل جاتا تو اس کاوش کا مرحلۂ اول مکمل ہوجاتا۔ اب یہ سب کچھ معطل ہے اور مریدکے کی اس ارض عقیم میں ہم خداے لم یزل کے چند ناتواں بندے ایک نئے عزم کے ساتھ اس کے احیا کے لیے کوشاں ہیں۔ معلوم نہیں، عرصۂ تعطل کب ختم ہوگا۔ لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو ضائع نہیں کریں گے۔‘‘

میری جدوجہد کا پہلا مرحلہ یہاں ختم ہوگیا۔ لاہور واپس آنے کے بعد خیال تھاکہ اب صرف رسالہ نکالوں گا۔ ’’اشراق‘‘ کا ڈیکلریشن مستنصرمیر کے نام پر مل گیا تھا، لیکن ابھی دو شمارے ہی نکلے تھے کہ میر صاحب کے امریکا جانے کا پروگرام بن گیا۔ پھر میرے اور ان کے درمیان رسالے کی پالیسی کے بارے میں بھی کچھ اختلاف تھا۔لہٰذا یہ خواہش پوری نہیں ہوئی اور ’’اشراق‘‘ ایک مرتبہ پھر بند کرنا پڑا۔
ان دنوں چند طلبہ میرے پاس عربی ادب کی بعض کتابیں پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ مولانا ابوشعیب صفدر علی اور مسعود اکبر پاشاان میں سب سے نمایاں تھے۔ ابو شعیب سرگودھا کے ایک عالم اور مولانا حسین علی واں بھچراں کے شاگرد رشید مولانا غلام نقشبند کے فرزند ارجمند تھے۔ ان کی غیرمعمولی صلاحیتوں کے پیش نظر میری خواہش تھی کہ وہ لاہور منتقل ہو جائیں۔ مریدکے کے دور ابتلا میں جن لوگوں نے ہمارے ساتھ غیرمعمولی تعاون کیا، ان میں ہماری برادری کے ایک بزرگ ڈاکٹر فرخ حسین ملک بھی تھے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو توجہ دلائی تو انھوں نے ’’فرخ فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بنا دیا جس کے مہتمم مستنصر میر کے والد گرامی صفدر میر بنائے گئے۔ انھوں نے میرے ہی ایما سے ایک مجلہ ’’الاعلام‘‘ کے نام سے شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میں اگرچہ میرا نام بھی لکھا گیا، لیکن تمام عملی ضرورتوں کے لیے ابوشعیب اس کے مدیر مقرر کیے گئے۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ اس کے نتیجے میں ان کے لیے لاہور میں قیام کے اسباب میسر ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ رسالہ بھی زیادہ دنوں تک جاری نہیں رہ سکا۔ ڈیڑھ دو سال بعد ہی مولانا ابوشعیب کو پنجاب یونیورسٹی میں ملازمت مل گئی اور رسالہ بند ہوگیا۔
یہی دن تھے، جب میں نے استاذ امام سے عرض کیا کہ اب حلقۂ تدبرقرآن کو بھی ایک باقاعدہ ادارے میں تبدیل کر دینا چاہیے۔ یہ حلقہ ان کی جماعت اسلامی سے علیحدگی کے بعد قائم ہوا تھا۔ مولانا نے یہ تجویز پسند فرمائی۔ ان کے ایما سے میں نے اس کا دستور لکھا اور ’’ادارۂ تدبرقرآن و حدیث‘‘ کے نام سے یہ ادارہ قائم ہو گیا۔ سہ ماہی ’’تدبر‘‘ اسی ادارے کے تحت شائع ہوتا ہے۔ میرا ارادہ تھا کہ پیش نظر مقاصد کے لیے اب اسی میں کام کیا جائے، مگر بہت جلد واضح ہو گیا کہ حلقہ کے بزرگ اسے پسند نہیں کریں گے۔ اس کے بعد یہی مناسب تھاکہ کوئی کشمکش پیدا کرنے کے بجائے ادارے سے الگ ہو کر اپنے طریقے پر کام کرتا رہوں۔
اس زمانے میں طلبہ کی ایک جماعت مجھ سے پڑھ رہی تھی۔ ان میں ایک نعیم رفیع بھی تھے۔ وہ مجھ سے ملنے کے لیے آتے تو باربار اصرار کرتے کہ اس کام کا احیا ہونا چاہیے جو ۱۹۷۸ء میں ختم ہوگیا تھا۔ پچھلے تجربات کی وجہ سے میں اس کے لیے راضی نہ تھا۔ پھر خالد ظہیر اور آفتاب شمسی جیسے احباب بھی ان کے ہم نوا ہو گئے تو بالآخر میں آمادہ ہوا۔ سعید نواز صاحب ہمارے دوستوں میں سب سے بزرگ تھے۔ ان کی سربراہی میں ایک مجلس منتظمہ بنائی گئی۔ اس کی افتتاحی تقریب استاذ امام امین احسن اصلاحی کے زیرصدارت لاہور کے جناح ہال میں منعقد ہوئی جس میں ارباب علم و دانش کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور جون ۱۹۸۳ میں وہ ادارہ وجود میں آگیا جو اب ’’المورد‘‘ کے نام سے ۵۱کے ماڈل ٹاؤن میں قائم ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ۱۹۸۵ء میں ’’اشراق‘‘ کا احیا بھی ہو گیا۔ ڈیڑھ دو سال یہ ایک مجلے کی صورت میں شائع ہوتا رہا۔ ۱۹۸۷ء میں مجھے اس کا ڈیکلریشن مل گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت سے اب تک یہ رسالہ بغیر کسی انقطاع کے نکل رہا ہے۔ ’’رینی ساں‘‘ ۱۹۹۰ء میں نکلنا شروع ہوا۔ وہ بھی اسی طرح جاری ہے۔ یہ رسالہ ابتدا ہی سے عزیزم شہزاد سلیم کے سپرد ہے۔ ’’اشراق‘‘ میرے پاس رہا، مگر اس کو بھی اب میں نے اپنے بیٹے معاذ احسن کے حوالے کر دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اللہ کی مدد شامل حال رہی تو یہ اسی طرح جاری رہیں گے۔
پچھلے پچیس برسوں میں ’’الانصار المسلمون‘‘ اور ’’دانش سرا‘‘ کا نظم بھی میرے تعلق سے قائم ہوا اور مولانا وصی مظہر صاحب ندوی اور ڈاکٹر محمد فاروق خان جیسے زعما ان تنظیموں کے سربراہ رہے، مگر ان کی عمر چند برسوں سے زیادہ نہیں ہوئی۔ ’’المورد‘‘، البتہ گزشتہ ربع صدی سے قائم ہے اور اللہ کی عنایت سے توقع ہے کہ قائم رہے گا۔ ۸۷ء کے بعد ابتلا اور تعطل کا ایک زمانہ اس پر بھی گزراہے، مگر ۱۹۹۱ء میں ہمارے دوست الطاف محمود کی مساعی سے اس کے احیا کے بعد، اللہ کا شکر ہے کہ اس کے کاموں میں کبھی کوئی تعطل پیدا نہیں ہوا۔
یہ ادارہ اس احساس کی بناپر قائم کیا گیا ہے کہ تفقہ فی الدین کا عمل مسلمانوں کے اندر صحیح نہج پر قائم نہیں رہا۔ فرقہ دارانہ تعصبات اور سیاست کی حریفانہ کشمکش سے الگ رہ کر خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر دین کی دعوت مسلمانوں کے لیے اجنبی ہو چکی ہے۔ قرآن مجید جو اس دین کی بنیاد ہے، محض حفظ و تلاوت کی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ مذہبی مدرسوں میں وہ علوم مقصود بالذات بن چکے ہیں جو زیادہ سے زیادہ قرآن مجید تک پہنچنے کا وسیلہ ہو سکتے تھے۔ حدیث، قرآن و سنت میں اپنی اساسات سے بے تعلق کر دی گئی ہے اور سارا زور کسی خاص مکتب فکر کے اصول و فروع کی تحصیل اور دوسروں کے مقابلے میں ان کی برتری ثابت کرنے پر ہے۔
یہ ادارہ اس صورت حال کی اصلاح کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کا بنیادی مقصد اسلامی علوم سے متعلق علمی اور تحقیقی کام، تمام ممکن ذرائع سے وسیع پیمانے پر اس کی نشرواشاعت اور اس کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہے۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے، اس کے اہم نکات یہ ہیں:

علم و تحقیق

۱۔ دین کے جید علما اور محققین کو ادارے کی فیلوشپ دی جائے۔
۲۔ علمی کام کی صلاحیت رکھنے والے افراد کو ادارے کی طرف سے یا خود ان کی تجویز پر علمی، تحقیقی، تعلیمی اور دعوتی منصوبے تفویض کیے جائیں اور اسی بنا پر انھیں ادارے سے متعلق کیا جائے۔
۳۔ ادارے میں کام کرنے والے علما اور محققین کو پیش نظر کاموں کے لیے ضروری ماحول، لائبریری اور دوسری سہولتیں فراہم کی جائیں۔

تعلیم و تربیت

۱۔ دینی موضوعات پر سیمینار، ورک شاپ اور مختصر مدت کے کورسوں کا اہتمام کیا جائے۔
۲۔ انٹرنیٹ کے ذریعے سے فاصلاتی کورس (dl courses) کرائے جائیں۔
۳۔ پیش نظر مقاصد کے لیے تربیت گاہیں اور دینی اور دنیوی علوم کی درس گاہیں قائم کی جائیں۔

نشرواشاعت

۱۔ اردو، عربی اور انگریزی زبان میں رسائل جاری کیے جائیں۔
۲۔ انٹرنیٹ پر ان زبانوں میں ویب سائٹس قائم کی جائیں۔
۳۔ ادارے سے متعلق اہل علم کی تحقیقات، خطبات اور تقاریر وغیرہ کی طباعت اور آڈیو/ ویڈیو سی ڈی تیار کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
۴۔ ادارے سے متعلق علما و محققین کے کام کو وسیع پیمانے پر متعارف کرایا جائے۔
۵۔ ادارہ اور اس کے مقاصد کا تعارف لوگوں میں عام کیا جائے۔
’’علم و تحقیق‘‘ اور ’’نشرواشاعت‘‘ کے زیرعنوان جو کام بیان ہوئے ہیں، وہ بڑی حد تک ہو رہے ہیں۔ ’’تعلیم و تربیت‘‘ کے ذیل میں دینی اور دنیوی علوم کی درس گاہیں آیندہ کے منصوبوں میں سرفہرست ہیں۔ میری تمام سعی و جہد کا محور اب یہی ادارہ ہے۔ زندگی کے جتنے دن باقی ہیں، اپنے علمی کاموں کے علاوہ اسی کے لیے خاص کر چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے علم و عمل میں اخلاص کی دعا ہے:

 

شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدارا
بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اکتوبر 2007
مصنف : جاوید احمد غامدی
Uploaded on : Apr 24, 2017
548 View