لیلۃ القدر کا قیام ایمان میں سے ہے - امین احسن اصلاحی

لیلۃ القدر کا قیام ایمان میں سے ہے

 

ترتیب و تدوین: خالد مسعود۔ سعید احمد۔ سید اسحاق علی

(قِیَامُ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ مِنَ الْإِیْمَانِ)

حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ یَّقُمْ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ، إِیْمَانًا وَ إِحْتِسَابًا، غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ.
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کرے گا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔‘‘

وضاحت

اس روایت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک چھوٹے عمل کے بدلے میں بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا ہے اور یہ چیز ان اسباب میں سے ہے جن کی بنا پر کوئی روایت مشتبہ ہو جاتی ہے، لیکن میرے نزدیک اس روایت کو مشتبہ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ اس میں ایمان اور احتساب کی صراحت بھی موجود ہے۔ ان دو لفظوں کے اندر پوری کائنات بند ہے۔ ایمان کے یہ معنی ہیں کہ یہ قیام صرف اللہ اور اس کی رضا کے لیے ہو، اس کا کوئی دوسرا مقصد نہ ہو۔ ریاکاری کا شائبہ نہ ہو، بلکہ خالصتاً مخلصاً اللہ کے لیے ہو۔ احتساب کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اس رات میں پوری زندگی کا احتساب کریں کہ کس کس طریقہ سے گزاری ہے، کیا غلطیاں اور جرائم کیے ہیں، حقوق العباد اور حقوق اللہ میں سے کیا ادا ہوئے اور کیا باقی ہیں۔ ماضی میں غلطیاں ہوئی ہوں تو ان کے متعلق قرآن کی ہدایت کے مطابق توبہ کریں، استغفار کریں اور ساتھ ہی اصلاح کریں۔ اللہ سے معافی مانگیں اور اس کو راضی کریں۔ جب آپ اس طریقہ سے لیلۃ القدر میں قیام کریں گے تو روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ آپ کے سابقہ گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ دوسری روایت میں ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنے کا بھی یہی اجر بیان ہوا ہے۔ ایک آدمی اپنی زندگی بطالت میں گزار دیتا ہے، لیکن کسی وقت اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو ارادہ کرتا ہے کہ اے رب، آیندہ میں تیری مرضی کے مطابق زندگی بسر کروں گا۔ اور اس کا اہتمام یوں کرتا ہے کہ اپنے اقوال، اعمال اور تمام چیزوں کا احتساب کرتا رہتا ہے تو امید ہے کہ قرآن مجید میں توبہ کا جو قانون بیان ہوا ہے، اس کے مطابق اس کو معاف کر دیا جائے گا۔
جہاں تک لیلۃ القدر کی اہمیت کا تعلق ہے، اس کو یوں سمجھیے کہ خاص خاص چیزوں کے لیے خاص وقت بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ جس طرح سے دنیا کے کاروبار میں وقت اور موسم کا لحاظ ہے، مثلاً گندم کی تخم ریزی خاص ایام ہی میں مفید ہوتی ہے، اسی طرح سے روحانیت میں بھی اوقات کا لحاظ ہے۔ عرفہ کے دن کی خاص اہمیت ہے۔ تہجد کے وقت کی خاص قدر و قیمت ہے۔ نمازوں کے اوقات کے تعین میں بھی خاص رمز ہے۔ اسی طریقے سے شب قدر بھی کائنات میں اہم مقام رکھتی ہے۔ اس رات میں عالم لاہوت سے عالم ناسوت کے لیے تمام فیصلے سماء دنیا پر نازل ہو جاتے ہیں اور ہر محکمے کو احکام مل جاتے ہیں، اس وجہ سے اس کے اندر برکت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس رات کے ملنے سے گویا تخم ریزی کا صحیح موسم آپ کو مل جاتا ہے اور یہ ایمان و احتساب کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ جس طرح آپ موسم کا فائدہ نہ اٹھائیں تو فصل نہیں ملے گی، اسی طرح ایمان و احتساب کے بغیر آدمی شب قدر کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ‘ کی خبر کو بعض لوگ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے گناہوں تک محدود مانتے ہیں۔ میرے نزدیک اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی آپ نے ایمان و احتساب کا فیصلہ کر لیا اور آپ اس میں مخلص ہیں تو پچھلی ساری زندگی کا حساب بے باق ہو جائے گا۔
لَیْلَۃَ الْقَدْرِ‘ کے وقوع کے متعلق اتنے اختلافات ہیں کہ اس رات کو معین کرنا ممکن نہیں ہے۔ شارحین حدیث بھی ان اختلافات سے گھبرا جاتے ہیں۔ اس کے متعلق جو بات میں قطعی طور پر کہہ سکتا ہوں، وہ صرف اتنی ہے کہ قرآن مجید کا نزول لیلۃ القدر میں ہوا جو رمضان میں تھی۔ یہ خبر قرآن میں ہے اور قطعی ہے۔ رمضان کے آخری عشرے میں بالعموم اور ۲۷ ؍ رمضان کو بالخصوص اس رات کا حق ادا کریں تو ان شاء اللہ مفید ہو گا۔ اس سے زیادہ میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔

(تدبر حدیث، شرح صحیح بخاری ۱/ ۸۹)

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جولائی 2015
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : May 12, 2017
616 View