ترتیب و نظام قرآن - حمید الدین فراہی

ترتیب و نظام قرآن
[مولانا فراہی کی ایک نادر اردو تحریر]

 

جس طرح اقسام کلام مختلف ہیں، اسی طرح ان کی ترتیب اور نظام جداگانہ اصول رکھتے ہیں۔ نظام کے لحاظ سے ہم کلام کی دو قسم قرار دیتے ہیں: اول مظہر جو واقعات یا حقائق کو محض ظاہر کر دیتا ہے۔ جس طرح وہ کلام جو قانون و احکام یا تاریخ و قصص یا طبیعیات و ریاضیات پر مشتمل ہو۔ دوسرا موثر جو انسان میں ایک حرکت ڈال دے اور اس میں جوش یا شوق یا رغبت یا نفرت یا سرور و غم پیدا کر دیتا ہے۔ جس طرح وہ کلام جو وعظ یا مباحثہ یا مدح و ذم یا شادی و غم وغیرہ پر مشتمل ہو۔
یہ تقسیم عقلی اگرچہ دو جداگانہ قسم بنا دیتی ہے، مگر مصنفین اکثر کسی مصلحت سے دونوں کو مختلط کر دیتے ہیں۔ مثلاً تاریخ کی کتاب میں کبھی ایسے چھپے ہوئے نشتر رکھ دیتے ہیں جن سے پڑھنے والے کے دل میں ایک ولولہ پیدا ہو جاتاہے۔ بعض واقعات فی نفسہٖ موثر ہوتے ہیں، جس طرح شہادت مظلومان کربلا۔ لیکن اس میں کلام کو دخل نہیں ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی شخص واقعۂ شہادت کے محض بیان پر اکتفا کرے تو ہم کہیں گے کہ یہ اثر طرز کلام نے نہیں پیدا کیا، بلکہ ان واقعات نے پیدا کیا اور اس لیے وہ کلام محض بیان واقعہ اور مظہر ہو گا، مگر جبکہ ہم اس میں یہ کوشش کریں کہ اس واقعہ کی تصویر اسی رنگ و روپ کے ساتھ پیش کریں، جیسا کہ اس وقت میں دیکھنے والوں کو نظر آتی تھی تو اس میں ہمیں خاص ترتیب اور نئی صنعت سے کام لینا پڑے گا اور اس وقت بجاے ایک مورخ کے ہم انیس و دبیر بن جائیں گے۔
ظاہر ہے کہ ایسے دو مختلف کلام کی ترتیب کے لیے ضرور مختلف اصول ہونے چاہییں۔ کلام مظہر کی ترتیب کے کیا اصول ہیں؟ میری بحث سے خارج ہے۔ مجھے صرف قرآن کی ترتیب سے بحث کرنی ہے اور وہ بحیثیت اغلط کلام موثر کی قسم میں داخل ہے جس نے عرب کے بند پانی میں ایسی حرکت ڈال دی کہ سیلاب بن کر فاران کے دروں سے ٹکر کھاتا ہوا اترا اور چشم زدن میں روے زمین پر پھر گیا اور اس کو کفر و شرک کی نجاست سے دھو ڈالا۔ بقول حالی: 

وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی

بے شک، ہم کو صرف موثر کلام کی ترتیب سے بحث کرنا ہے، لیکن ہم چند مثالوں سے کلام مظہر اور موثر کا فرق ظاہر کریں گے۔ ’وبضدھا تتبین الأشیاء‘۔
فرض کرو کہ عطار کی دکان میں مفرد دوائیں ترتیب سے رکھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ عطار ان کو اس ترتیب سے رکھے گا کہ ان کی حفاظت میں، ان کے ڈھونڈھنے میں، ان کی کافی مقدار مہیا رکھنے میں، اس کو آسانی ہو۔ انھی دواؤں کی ترتیب علم الادویہ میں کی جاتی ہے جو ان کے آثار پیدایش کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ اب انھی دواؤں کو ایک طبیب معالجہ کی غرض سے ترتیب دیتا ہے۔ ان کی مقدار مقرر کرتا ہے، کبھی کسی دوا کی مقدار کم اور کبھی زیادہ کرتا ہے۔ خود ہی اپنے نسخہ کو کبھی بدل دیتا ہے، بعض نئے اجزا اس میں داخل کرتا ہے، بعض پرانے نکال ڈالتا ہے تاکہ وہ اثر جو بیمار کے مزاج پر پیدا کرنا اس کو منظور ہے، حاصل ہو۔ طبیب کی ترتیب نہ صرف عطار کی ترتیب سے مختلف ہوتی ہے، بلکہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل سے سمجھ میں آنے والی ہوتی ہے، کسی اناڑی کو جو عطار خانہ کی ترتیب اس میں ڈھونڈھنا چاہتا ہو، نسخہ کے اجزا بالکل خبط بے ربط معلوم ہوں گے، مختلف نسخوں میں اس کو تناقض نظر آئے گا، وہ کہے گا کہ دیکھو ایک نسخہ میں حکیم صاحب یوں لکھتے ہیں اور دوسرے میں خود ہی اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن یہ ترتیب اس وقت صاف نظر آنے لگتی ہے جب یہ معلوم ہو کہ مختلف اوقات میں بیمار کے مزاج کی کیا حالت تھی اور کس وقت کن اجزا کی اس کو احتیاج تھی۔
پس محرک (موثر) کلام کی ترتیب صرف اس امر کو پیش نظر رکھتی ہے کہ کیونکر سامعین پر موثر ہو۔ اب ہمیں یہ دکھانا ہے کہ ان کی ترتیب کے مناہج کیا ہیں؟
یہ کلام ایک خاص گروہ کو مخاطب کرتا ہے اور اس لیے ان کی حالت کے بالکل مناسب ہوتا ہے اور چونکہ حالات نوع انسان اور حالات قرون مختلفہ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کیونکر ممکن ہے کہ ایک ہی لباس ہر جسم پر ٹھیک آئے، جو شخص اس کلام کا مخاطب صحیح نہیں ہے، اس کو وہ کلام بے اثر و بے موقع معلوم ہو گا۔ قرآن کے مطالعہ کے وقت عموماً ہر شخص کو یہی امر ذہن نشین ہوتا ہے کہ ہم اس کے مخاطب ہیں، حالاں کہ اس کا روے سخن ایسے گروہ کی طرف ہے جن کے حالات و خیالات اور جذبات اور توہمات ہم میں بالکل نہیں۔

وسائل انکشاف نظم قرآن

ہم کو لازم ہے کہ زمانۂ نزول قرآن کی پوری حالت تمدن سے ہم واقف ہوں:
۱۔ ہم کو اس وقت کے یہود و نصاریٰ و مشرکین و صابئین وغیرہ کے مذاہب و معتقدات سے واقف ہونا چاہیے۔
۲۔ ہم کو عرب کے عام توہمات کو دریافت کرنا چاہیے۔
۳۔ ہم کو جاننا چاہیے کہ نزول قرآن کی مدت میں کیا کیا واقعات نئے پیدا ہوئے اور ان سے عرب کی مختلف جماعتوں میں کیا کیا مختلف باتیں زیربحث آ گئیں۔ کیا کیا ملکی و تمدنی جھگڑے چھڑ گئے اور تمام عرب میں کیا شورش پیدا ہو گئی؟
۴۔ ہم کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ عرب کس قدر وحشی اور تند مزاج تھے اور اس لیے کس قسم کے کلام سے متاثر ہو سکتے تھے۔
۵۔ ہم کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ عرب کا مذاق سخن کیا تھا۔ کس قسم کے کلام کے سننے اور بولنے کے وہ عادی تھے۔ رزم و بزم میں ان کا خطیب کس روش پر چلتا تھا۔ ایجاز و اطناب، ترصیع و ترکیب اور دیگر اسالیب خطابت کو وہ کیونکر استعمال کرتے تھے۔
۶۔ اور بالآخر ہم کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ عرب کے ذہن میں اخلاق کے مدارج نیک و بد کیا تھے۔ اگرچہ اس سے زیادہ تر احکام قرآن کے سمجھنے میں مدد ملے گی، لیکن نظم قرآن بھی اس کو بیش تر ملحوظ رکھتا ہے۔
ان امور مذکورہ بالا میں جو آگہی تاریخ سے متعلق ہیں، ان کے لیے کتب تاریخ کافی ہیں۔ مجھے اس پر اس سے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ فہم قرآن کے لیے ان کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ یہ امور بالخصوص ذہن نشین ہوں، لیکن عرب کے اسالیب خطابت کو مجھے تفصیلاً بیان کرنا ہے۔

نثر عرب

نثر عرب مدون نہ ہوئی اور سواے چند کلمات و مختصر خطبات کے جو بطور تبرک چلے آتے ہیں، ہمارے پاس بہت کم مثالیں ہیں۔
۱۔ جس سے ان کا طرز کلام معلوم ہو، جاحظ نے جو فقرات و خطبات جمع کیے ہیں، وہ آٹھ دس سطروں سے زائد نہیں۔
۲۔ ’’نہج البلاغۃ‘‘ میں بے شک مطول خطبات ہیں، لیکن اول تو وہ ایک خاص شخص کا کلام ہے جس سے تمام عرب کے کلام پر راے قائم کرنی مشکل ہو گی۔ دوسرے وہ کلام اہل نظر کے نزدیک جو اصول درایت کو عامیانہ تقلید پر ترجیح دیتا ہو۔ تیسری اور چوتھی صدی سے پیش تر کا نہیں ہو سکتا۔
۳۔ احادیث آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اول تو بالمعنی مروی ہیں۔ دوسرے نہایت مختصر۔ تیسرے بیش تر وہ قانونی جملے ہیں نہ کہ خطیب کے گرم گرم اور برجستہ فقرات۔
بہرحال، یہی ذخیرہ ہے جس سے کچھ کچھ اسلوب کلام عرب منکشف ہوتا ہے۔ ہاں، قرآن بجاے خود ایک مکمل ذخیرہ ہے اور اگرچہ عام اصول کے مطابق اس پر روشنی ڈالنے کے لیے کوئی اور کلام چاہیے تھا، لیکن بعض چیزیں اپنی آپ ہی نظیر ہیں۔ اسی کو بار بار دیکھو اور اس کے محاسن کو سمجھو:

آفتاب آمد دلیل آفتاب
گرد لیلش خواہی ازوے رخ متاب

نظم عرب اور نثر عرب جس قدر موجود ہے، ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کہیں کہیں اسی انداز پر ہے۔ مسجع فقرات جیسا کہ سورۂ مدثر وغیرہ میں ہیں۔ نثر عرب سے کلی مشابہت رکھتے ہیں، مگر جہاں کلام نہایت رواں اور پرزور ہے؛ جہاں نہر کی چھوٹی لہروں کے مشابہ نہیں، بلکہ طوفانی سمندر کے تلاطم اور آب شاروں کے زور و شور کی طرح، سلسلۂ سخن نہایت وسیع پیمانہ پر بڑھتا اور سمٹتا، چڑھتا اور اترتا ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ وغیرہ میں نظر آتا ہے، ایسے کلام کی مثال نثر عرب میں نہیں ملتی۔ مگر اس کی علت یہ نہیں ہے کہ عرب کے خطبات محض مسجع اور مقتضب ہی ہوا کرتے تھے، بلکہ رواۃ کو ان کا محفوظ رکھنا دشوار تھا۔ مسجع فقرے آسانی سے یاد رہ جاتے ہیں، مگر لمبی لمبی تقریریں جن کا اعادہ خود مقرر نہیں کر سکتا، کون یاد کر سکتا ہے؟ کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خطبہ، ثقیفہ میں، جس نے عرب کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو مستحکم کر دیا، ایسا ہی مختصر تھا، جیسا کہ منقول ہے؟ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس خطبہ میں کوئی بات نہیں چھوڑی۔ انصار کے محاسن، مہاجرین کے فضائل ایک ایک کر کے ذکر کیے۔‘‘ آج اگر ہمارے پاس عرب کے پرزور خطبے بہ تمامہا ہوتے تو بلاشبہ قرآن کے اسلوب سمجھنے کے لیے چراغ راہ ہوتے۔

نظم قرآن کیوں مخفی رہا؟

خفاء نظم کی وجہ یہ ہوئی کہ قرآن کو عموماً یا تو مجموعۂ قوانین کی حیثیت سے دیکھا گیا یا علمی کتاب کے مشابہ مانا گیا۔ صحف انبیا میں کوئی وعظ اور کوئی گیت اور کوئی خواب اور کوئی تاریخ وغیرہ کے نام سے موسوم ہیں اور اس لیے ان کا اسلوب بالکل اسی حالت سے مناسب معلوم ہوتا ہے مگر قرآن کی نسبت ایک مبہم سا خیال مجموعۂ قانون یا کتاب کا قائم ہو گیا۔ اگر ہر سورہ پر خاص عنوان لکھا ہوتا یا چند مجموعۂ آیات کی قطعات قائم کی جاتیں تو ترتیب معلوم پڑتی اور نیز پہلے ہی سے یہ بھی یقین ہے کہ چوں کہ یہ نجماً نجماً نازل ہوا ہے، اس لیے اس میں تسلسل ڈھونڈنا عبث ہے۔
نظم قرآن کے خفا کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ علما نے قرآن کے لفظ لفظ سے مسائل اخذ کیے ہیں۔ اس شوق میں کہ منطقی طور پر جو کچھ اس سے مستنبط ہو، منصوص سمجھا جائے۔ سیاق و سباق کی طرف کچھ لحاظ نہ کیا اور جس طرح امام بخاری نے ایک حدیث کو متعدد ابواب میں ذکر کر کے اس سے چند در چند مسائل مستنبط کیے ہیں۔ مفسرین نے ایک ایک آیت کو مضامین متنوعہ کا منبع قرار دیا۔ پھر یہ کیونکر پتا لگے کہ یہ آیت کس امر کو اصلی طور پر اور کس امر کو ضمناً بیان کرتی ہے اور لامحالہ اس کشاکش مضامین میں سر رشتۂ نظم ہاتھ سے جاتا رہا۔

کلام موثر کی ترتیب

کلام موثر میں اصل مدعا یا عمود کلام کبھی مفرد ہوتا ہے اور کبھی متعدد۔ عمود کلام کے سوا اکثر تمہید اور مقطع بھی اجزاے کلام میں داخل ہوتے ہیں۔ جبکہ عمود کلام پہلے سے معلوم نہ ہو، یعنی یہ نہ بتایا گیا ہو کہ فلاں امر پر گفتگو کی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن کی حالت ہے تو چونکہ تمہید کبھی مختصر اور کبھی مسطول اور کبھی قریب اور کبھی بعید اور کبھی مفرد اور کبھی مسلسل ہوتی ہے۔ اس لیے جب تک پورے کلام پر غور سے عبور نہ کیا جائے، اصل مدعا کا پتا نہیں لگتا۔
شاہ ولی اللہ ۱؂ صاحب نے قرآن کو شاہی خطوط سے مشابہ مانا ہے جو مختلف احکام اور ہدایات پر شامل ہو اور حسب ضرورت وقت مختلف ہدایتیں کی گئی ہوں۔ مگر چونکہ عنوان نہیں لکھا گیا، اس لیے منتشر معلوم ہوتا ہے۔ اس وقت میں چونکہ لوگ واقف تھے کہ فلاں امور درپیش ہیں، اس لیے ان کو معلوم ہوتا تھا کہ یہ تمام باتیں بالکل حسب موقع و ضرورت ہیں۔ مگر آج ان کا حسب موقع ہونا مخفی ہے، گویا شاہ صاحب ترتیب کو نہیں مانتے اور ضروری بھی نہیں سمجھتے۔ یہ خیال ایک حد تک بالکل صحیح ہے، لیکن یہ امر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وہ عنوان قائم کیا جائے اور وہی رکوع کی بنیاد ہو۔
(جنوری ۱۹۳۶ء، قرآنی مقالات ۱۱۔۱۵)

۱؂ شاہ ولی اللہ دہلوی، الفوز الکبیر، (عربی ترجمہ: سلمان الحسینی الندوی)، ندوۃ العلماء، لکھنؤ، ۱۹۸۴ء، ۱۲۷۔۱۲۸۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اپریل 2016
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Mar 14, 2017
735 View