اسلام میں عبادت - عمار خان ناصر

اسلام میں عبادت

 

کیفیات اور رسوم

انسان میں عبادت کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے ۔ اس لیے کہ اس کی بنیاد خالق کی ہستی اور اس کے احسانات کے شعور پر ہے جو انسان کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ کوئی چیز اسے اس سے جدا نہیں کر سکتی۔ مذہب اپنی نفسیاتی بنیاد کے لحاظ سے تمام تر انسان کے جذبۂ شکر واعتراف کی تصویر ہے۔ انسان جب کائنات میں اپنے مالک کی قدرت وعظمت کے بے شمار مظاہر کا مشاہدہ کرتا اور اپنی روز مرہ زندگی میں اس کی بے پایاں رحمت وربوبیت کا تجربہ کرتا ہے تو اس کے دل میں شکر وتعظیم، خشیت وتضرع اور امید وتوقع کے بے پناہ جذبات امڈ آتے ہیں۔ یہ روحانی جذبات جب مختلف رسوم کی شکل میں ایک جسمانی قالب اختیار کرتے ہیں تو اس سے عبادت وجود میں آتی ہے۔اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ ایک مکمل اور فطری عبادت وہی ہے جو اعلیٰ جذبات وکیفیات اور اعلیٰ رسوم دونوں کے امتزاج سے وجود میں آئے۔ جذبہ نا مکمل ہے ، اگر اس کے اظہار کے لیے رسوم کا سہارا نہ لیا جائے، اور رسوم کی حیثیت محض ایک مشینی عمل کی ہے ، اگر ان کی پشت پر خالص اور سچے جذبات کارفرما نہ ہوں۔ انسانی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انسان اپنے دوسرے بہت سے معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی اعتدال پر قائم نہیں رہ سکا، بلکہ اکثر وبیشتر افراط وتفریط ہی میں مبتلا رہا۔ اس لیے ضروری تھا کہ اس معاملے میں بھی آں سوے افلاک کی طرف سے انسان کو رہنمائی میسر آئے جو اس کے اس فطری تقاضے کی تشفی وتکمیل کا سامان مہیا کر سکے۔
آئیے دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ آخری شریعت میں جو نظام عبادت تجویز فرمایا ہے، اس میں کس خوبی کے ساتھ ان دونوں پہلووں کی رعایت کی گئی ہے۔

رسوم عبادت کی تعیین

اس نظام عبادت کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اس میں رسوم عبادت بالکل متعین طور پر بتا دی گئیں اور ان کی تمام حدود وقیود کو واضح کرتے ہوئے ان میں کمی بیشی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

من احدث فی امرنا ہذا ما لیس فیہ فہو رد ۔ (بخاری ، رقم ۲۶۹۷)
’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے، وہ قابل رد ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

ایاکم ومحدثات الامور فان کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ ۔(ابو داؤد،رقم ۴۶۰۷)
’’دین میں نئے نئے کاموں سے بچو۔ کیونکہ ایسا ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

اس کی حکمت ایک تو یہ ہے کہ اس طریقے سے انسان کے جذبۂ عبادت کی تربیت کے لیے ایک بالکل متوازن اور فطری نظام مہیا ہو جاتا ہے جس میں انسان کے تمام نفسیاتی تقاضوں کو نہایت عمدگی سے سمو دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کے خالق سے بڑھ کر کوئی ذات اس کے روحانی ونفسیاتی تقاضوں کو نہیں سمجھ سکتی، لہٰذا کوئی بھی طریقہ خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے بڑھ کر ان تقاضوں کی تسکین نہیں کر سکتا۔
دوسری حکمت یہ ہے کہ اس طریقے سے عبادت کے جذبے کو ان تمام غیر فطری تجاوزات اور آمیزشوں سے محفوظ رکھنے کا سامان ہو جاتا ہے جن کی مثالیں نسل انسانی کی تاریخ میں جا بجا دیکھی جا سکتی ہیں۔ مظاہر پرست مذاہب، عیسائیت کی رہبانیت اور مبتدعانہ تصوف میں عقل وفطرت کے منافی جو طریقہ ہاے عبادت اختیار کیے گئے، ان کو اگر سامنے رکھا جائے تو اس بات کی حکمت سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔
تیسری حکمت یہ ہے کہ رسوم عبادت کا ایک متعین نظام دوسرے مذاہب سے مذہب حق کے امتیاز کا ایک نہایت قوی خارجی عامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب میں باہمی امتیاز صرف ان کے رسوم عبادت ہی سے ممکن ہے۔ جہاں تک ان رسوم کے پس منظر میں موجود جذبات ونفسیات کا تعلق ہے تو وہ ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، سب مذاہب میں مشترک ہیں، اس لیے کہ وہ انسان کے فطری جذبات ہیں۔ چنانچہ اگر ایک متعین طریقۂ عبادت کی عصبیت لازم نہ کی جائے اور ہر قسم کے طریقوں کو اختیار کرنے کی اجازت ہو تو سماجی سطح پر مذہب حق کی حفاظت اور دوسرے مذاہب سے اس کے امتیاز کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی اور ظاہر ہے کہ خدا کی حکمت میں یہ بات ناقابل تصور ہے۔

کیفیات کی اہمیت

اسلامی نظام عبادت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس میں روحانی جذبات وکیفیات اپنے بالکل فطری مقام پر رکھے گئے ہیں۔ آئیے اس حقیقت کا مختلف پہلووں سے جائزہ لیں۔
سب سے پہلی حقیقت جو قرآن اور حدیث میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے، یہ ہے کہ عبادات میں اللہ کے نزدیک اصل قدروقیمت ظاہری رسوم کی نہیں ،بلکہ انسان کے داخلی جذبہ کی ہے۔ سورۂ حج میں قربانی کے متعلق ارشاد ہے :

لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ۔ (الحج ۲۲: ۳۷)
’’ اللہ کو ان قربانیوں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے ، بلکہ تمھارا وہ تقویٰ پہنچتا ہے (جس کی بنا پر تم یہ عمل انجام دیتے ہو)۔‘‘

چنانچہ اسلام میں کسی عمل کے کمال کے مدار ہی اس بات پر ہے کہ اس کے ادا کرتے وقت انسان کی کیفیاتی حالت کیا تھی۔ دین میں روحانی لحاظ سے منتہاے کمال ’’احسان‘‘ کا درجہ ہے، جس کا لغوی معنی ہے کسی کام کو بہترین صورت میں انجام دینا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:

ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک ۔ (بخاری،رقم ۵۰)
’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس انہماک کے ساتھ کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، کیونکہ اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمھیں دیکھ ہی رہا ہے۔‘‘

اسی بنیاد پر اعمال کے اجر وثواب میں بھی کمی ہوتی ہے۔ حضرت عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان الرجل لینصرف وما کتب لہ الا عشر صلاتہ، تسعہا، ثمنہا، سبعہا، سدسہا ،خمسہا، ربعہا، ثلثہا، نصفہا ۔ ( الترغیب والترہیب لابن حجر، ۵۷)
’’آدمی نماز پڑھ کر پلٹتا ہے تو کسی کو دسواں حصہ ثواب ملتا ہے، کسی کو نواں، کسی کو آٹھواں، کسی کو ساتواں، کسی کو چھٹا، کسی کو پانچواں، کسی کو چوتھا، کسی کو تیسرا اور کسی کو آدھا حصہ۔‘‘

اگر عبادت کا عمل اس جذبے سے تہی ہو کر محض رسوم کی ادائیگی تک محدود رہ جائے تو اللہ کے نزدیک اس کا کوئی وزن نہیں ہے۔ چنانچہ دیکھیے :
روزے کا مقصد انسان کو ضبط نفس کی تربیت دینا ہے۔ اگر انسان ظاہراً کھانا پینا تو چھوڑ دے ،لیکن خواہشات نفس پر کنٹرول نہ کرے تو اس کا بھوکا پیاسا رہنا محض ایک بے کار عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجۃ فی ان یدع طعامہ وشرابہ ۔(بخاری،رقم ۱۹۰۳)
’’اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور گناہ کے کام کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

رب صائم لیس لہ من صیامہ الا الجوع ورب قائم لیس لہ من قیامہ الا السہر۔ (ابن ماجہ،رقم ۱۶۹۰)
’’بہت سے روزے دار ایسے ہیں جنھیں سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے رات کو قیام کرنے والے ایسے ہیں جنھیں سوائے جاگنے کے کچھ نہیں ملتا۔‘‘

اسی طرح انفاق کی بنیاد ہمدردی اور تعاون باہمی کے جذبہ پر ہے۔ اگر یہ جذبہ مفقود ہو تو قرآن کی رو سے انفاق کا عمل ہی بالکل باطل ہو جاتا ہے:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی۔(البقرہ۲: ۲۶۴ )
’’ایمان والو، اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر برباد نہ کر ڈالو۔‘‘

قرآن خدا کا کلام ہے اور اس کی تلاوت کا محرک اگر طلب ہدایت کا جذبہ ہو تو یہ ایک نسخہ اکسیر ہے۔ لیکن اگر یہ داعیہ ہی موجود نہ ہو تو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مثل المنافق الذی یقرا القرآن کالریحانۃ ریحہا طیب وطعہما مر ۔ (بخاری،رقم ۵۰۵۹)
’’ایسے منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے، اس خوشبودار پودے کی ہے جس کی بو تو اچھی ہے ، لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہے۔‘‘

نماز کی ظاہری ہیئت

اس کے بعد دیکھیے کہ اسلام میں نماز کی جو ظاہری ہیئت مقرر کی گئی ہے اور اس کے لیے جن آداب وقیود کی پابندی لازم کی گئی ہے، ان سب کا مقصود انسان کی داخلی کیفیات کو ایک بہترین ذریعۂ اظہا ر فراہم کرنا ہے۔
طہارت، ستراور استقبال قبلہ نماز کے لیے شرط کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ شرائط وہ خاص کیفیاتی ماحول پیدا کرنے میں مدد دیتی ہیں جس میں عبادت انسان سے مطلوب ہے۔ طہارت اور ستر کا اہتمام نمازی کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو رہا ہے تو پاک صاف ہو کر اور با ادب طریقے سے حاضر ہو۔ قبلے کی طرف رخ کرکے گویا وہ اپنے رب کے روبرو کھڑا ہو جاتا اور اس سے راز ونیاز کرتا ہے۔ مسجد اگرچہ نماز کے لیے شرط کی حیثیت نہیں رکھتی، لیکن عام طور پر مسلمان مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ مسجد کا تصور خدا کے گھر کا ہے اور یہاں آکر ایک طرف پاکیزگی اور تقدس اور دوسری طرف ادب وعاجزی کے جو احساسات انسان کو گھیر لیتے ہیں، ان کی اہمیت ان کیفیات کے پیدا کرنے میں محتاج بیان نہیں جو کہ عبادت کی اصل روح ہیں۔
نماز کا ظاہری ڈھانچا اپنی ہر ادا کے لحاظ سے عجز وبندگی کی بہترین تصویر پیش کرتا ہے۔یہ ڈھانچا چار بنیادی افعال پر مشتمل ہے: قیام، رکوع، سجود اور قعدہ۔ اگرچہ ان میں سے ہر ایک عمل بجائے خود تذلل اور عاجزی کے اظہار کی نہایت اعلیٰ شکل ہے ،لیکن نماز میں قیام سے بتدریج سجدے کی حالت میں جانے کی ترتیب نے اظہار عاجزی کے پہلو سے ان میں وہ حسن وکمال پیدا کر دیا ہے کہ اس سے بہتر کوئی چیز متصور نہیں ہو سکتی۔ مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’نماز کے لیے جب بندہ کھڑا ہوتا ہے تو عجز ونیاز مندی کی تصویر بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ ہاتھ باندھے ہوئے،نگاہ نیچی کیے ہوئے، گردن جھکائے ہوئے، پاؤں برابر کیے ہوئے، یمین وشمال اور آگے پیچھے سے بالکل بے تعلق، سنجیدگی اور خاموشی کی تصویر، ادب اور وقار کا مجسمہ۔ کبھی اپنے خالق ومالک کے آگے سر جھکا دیتا ہے۔ کبھی اپنی ناک اور پیشانی زمین پر رکھ دیتا ہے، کبھی ہاتھ پھیلا کر اس سے دعا اور التجا کرتا ہے۔ (کبھی دو زانو ہو کر باادب اس کے سامنے بیٹھ جاتا ہے) ۔ غرض عاجزی اور تذلل کی جتنی شکلیں بندہ اختیار کر سکتا ہے، ادب اور وقار کے ساتھ ان ساری ہی شکلوں کو اختیار کرتا ہے۔ اس طرح ایک نماز پڑھنے والے کی جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ صاف گواہی دیتی ہے کہ بندہ اپنے مالک ومولیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر وہ دیکھ نہیں رہا ہے تو یہ یقین تو وہ ضرور رکھتا ہے کہ اس کا مالک ومولیٰ اس کو دیکھ رہا ہے۔ ‘ ‘ (تزکیۂ نفس ۱/ ۲۳۵)

نماز کے آداب

نماز کا سب سے بنیادی ادب، جس سے اس کے تمام ذیلی آداب متفرع ہوتے ہیں، یہ ہے کہ نمازی ہر لمحہ اس حقیقت کو ملحوظ رکھے کہ وہ اپنے مالک وآقا کی بارگاہ میں حاضر ہے۔ یہ کیفیت ذہنی وقلبی طور پر اس طرح نمازی پر غالب ہونی چاہیے کہ ہر ہر ادا اور ہر ہر کلمہ کی ادائیگی کرتے ہوئے وہ یہ محسوس کرے کہ اس کا رب اس کے سامنے اور پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہے اور نہ صرف اس کی التجاؤں کوسن رہا ہے ، بلکہ ان کا جواب بھی دے رہا ہے:
حضرت عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

الاحسان ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ فانہ ان لم تکن تراہ فانہ یراک ۔(بخاری،رقم ۵۰)
’’عبادت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ تم اس طرح اللہ کی عبادت کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، کیونکہ اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمھیں دیکھ ہی رہا ہے۔‘‘

oحضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان احدکم اذا قام فی الصلوۃ فانہ یناجی ربہ فلیعلم احدکم ما یناجی ربہ ۔ (مسند احمد ۲/ ۳۶)
’’جب بندہ نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے رازونیاز کر رہا ہوتا ہے۔ سو اسے پتا ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رب سے کیا راز ونیاز کر رہا ہے۔‘‘

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یقول اللّٰہ تعالی: قسمت الصلاۃ بینی وبین عبدی نصفین ولعبدی ما سال۔ فاذا قال العبد: الحمد للّٰہ رب العالمین، قال اللّٰہ تعالی: حمدنی عبدی۔ واذا قال : الرحمن الرحیم، قال اللّٰہ تعالی: اثنی علی عبدی ۔ فاذا قال : ملک یوم الدین، قال : مجدنی عبدی۔ فاذا قال : ایاک نعبد وایاک نستعین، قال: ہذا بینی وبین عبدی ولعبدی ما سال۔ فاذا قال : اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین، قال: ہذا لعبدی ولعبدی ما سال (مسلم،رقم ۸۷۸)
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس کا نصف حصہ میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کو وہ بخشا گیا جو اس نے مانگا۔ جب بندہ الحمد للّہ رب العالمین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میرا شکریہ ادا کیا اور جب وہ الرحمن الرحیم کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تعریف بیان کی ہے اور جب وہ مالک یوم الدین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی ہے اور جب بندہ ایاک نعبد وایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، یہ حصہ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے اور میں نے اپنے بندے کو وہ بخشا جو اس نے مانگا۔ پھر جب بندہ ’اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میں نے اپنے بندے کو وہ بخشا جو اس نے مانگا۔‘‘

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اقرب ما یکون العبد من ربہ وھو ساجد‘ فاکثروا الدعاء ۔ (مسلم، رقم ۱۰۸۳)
’’آدمی جس حالت میں سب سے زیادہ اپنے رب کے قریب ہوتا ہے، وہ سجدے کی حالت ہے۔ اس لیے سجدے میں کثرت سے دعا کیا کرو۔‘‘

حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا سجد العبد سجد معہ سبعۃ اطراف: وجہہ وکفاہ ورکبتاہ وقدماہ ۔(مسلم، رقم ۱۱۰۰)
’’جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے جسم کے سات اعضا بھی اس کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔‘‘

حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان الیدین تسجدان کما یسجد الوجہ واذا وضع احدکم وجھہ فلیضع یدیہ واذا رفعہ فلیرفعہما ۔ (ابو داؤد،رقم ۸۹۲)
’’ہاتھ بھی اسی طرح سجدہ کرتے ہیں جیسے چہرہ کرتا ہے۔ اس لیے جب تم چہرے کو زمین پر رکھو تو دونوں ہاتھ بھی رکھا کرو اور جب چہرے کو زمین سے اٹھاؤ تو ہاتھ بھی اٹھا لیا کرو۔‘‘

اس بنیادی ادب سے حسب ذیل آداب متفرع ہوتے ہیں:
۱۔ نماز کو سکون واطمینان اور دل جمعی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
حضرت ابو مسعود البدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تجزئ صلاۃ الرجل حتی یقیم ظہرہ فی الرکوع والسجود ۔(ابو داؤد،رقم ۸۵۵)
’’اگر آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی کمر کو سیدھا نہیں کرتا (یعنی اطمینان سے رکوع وسجود نہیں کرتا) تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔‘‘

رفاعہ بن رافع کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:

وان انتقصت منہ شیئا انتقصت من صلاتک ۔ (ابو داؤد، رقم ۸۶۱)
’’اگر تم اس اطمینان میں کمی کرو گے تو تمھاری نماز میں کمی واقع ہو جائے گی۔‘‘

عبد الرحمن بن شبل سے روایت ہے کہ:

نھی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن نقرۃ الغراب ۔ (ابو داؤد،رقم ۸۶۲)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوے کی طرح ٹھونگے لگانے (یعنی جلدی جلدی سجدہ کرنے) سے منع فرمایا۔‘‘

۲۔ ایسی حالت میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے جبکہ انسان ذہنی یا قلبی لحاظ سے اپنی توجہ نماز میں مرکوزنہ رکھ سکے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا صلاۃ بحضرۃ الطعام ولا وھو یدافعہ الاخبثان ۔ (مسلم ، رقم ۱۲۴۶)
’’ایسی حالت میں نماز نہ پڑھو جبکہ کھانا لگ چکا ہو اور ایسی حالت میں بھی نہیں جبکہ پیشاب یا پاخانہ تنگ کر رہے ہوں۔‘‘

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا نعس احدکم فی الصلاۃ فلیرقد حتی یذھب عنہ النوم‘ فان احدکم اذا صلی وھو ناعس لعلہ یذھب یستغفر فیسب نفسہ ۔ (مسلم،رقم ۱۸۳۵)
’’اگر تم میں سے کسی کو نماز میں اونگھ آئے تو وہ جا کر سو جائے ، یہاں تک اس کی نیند پوری ہو جائے۔ کیونکہ اگر وہ نیند کی حالت میں نماز پڑھے گا تو کیا پتا وہ گناہوں کی معافی مانگنا چاہے ، لیکن اپنے حق میں کوئی بری بات کہہ بیٹھے۔‘‘

۳۔ اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ کوئی چیز خارجی طور پر نماز ی کی توجہ میں خلل ڈالنے کا باعث نہ بنے:
حضرت ابو سعید الخدری نے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

من استطاع منکم ان لا یحول بینہ وبین قبلتہ احد فلیفعل ۔(ابو داؤد،رقم ۶۹۹)
’’اگر تم یہ اہتمام کر سکو کہ تمھارے اور قبلے کے درمیان کوئی شخص رکاوٹ نہ بنے تو ضرور کرو۔‘‘

اسی وجہ سے نمازی کے آگے سے گزرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لو یعلم المار بین یدی المصلی ماذا علیہ لکان ان یقف اربعین خیرا لہ من ان یمر بین یدیہ ۔ (مسلم، رقم ۱۱۳۲)
’’اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو معلوم ہو جائے کہ اس کو کتنا گناہ ہوتا ہے تو وہ چالیس سال تک وہاں کھڑا رہنے کو نماز ی کے آگے سے گزرنے سے بہتر سمجھے۔‘‘

اونٹوں کے باڑوں میں نماز کی ممانعت بھی اسی علت پر مبنی ہے۔ عبد اللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تصلوا فی عطن الابل فانہا خلقت من الجن الا ترون عیونہا وہبابہا اذا نفرت ؟ (الفتح الربانی ، ۳/ ۱۰۱)
’’ اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ ان میں جنات جیسی خصلتیں پائی جاتی ہیں۔ تم ان کی آنکھوں کو اور ان کے ہیجان کو نہیں دیکھتے جب یہ بگڑے ہوئے ہوتے ہیں؟‘‘

یعنی چونکہ اس حالت میں آدمی اونٹ کی طرف سے نقصان کے خدشے کے پیش نظر نماز میں توجہ مرکوز نہیں رکھ سکتا، اس لیے اونٹوں کے قریب نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تصویروں والی چادر میں نماز پڑھی تو نماز کے دوران میں آپ کی نظر تصویروں پر پڑ گئی۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا:

’’یہ چادر ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور اس سے ایک سادہ چادرلے آؤ۔ اس چادر نے ابھی مجھے میری نماز سے غافل کر دیا تھا۔ ‘‘ (بخاری، رقم ۳۷۳)

حضرت انس رضی اللہ عنھا کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے اپنے حجرے کے ایک کونے میں ایک تصاویر والا پردہ لٹکایا ہوا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

امیطی عنی ھذا القرام فانہا لا تزال تصاویرہ تعرض علی فی صلاتی ۔ (بخاری، رقم ۳۷۴)
’’ یہ پردہ ہٹا دو، اس کی تصویریں نماز میں مسلسل میری توجہ میں خلل انداز ہوتی ہیں۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا یجہر بعضکم علی بعض بالقراء ۃ فی الصلاۃ ۔ (مسند احمد، ۲/ ۳۶)
’’نماز پڑھتے ہوئے اونچی آواز سے قرآن پڑھ کر دوسرے نمازی کی نماز میں خلل مت ڈالو ۔‘‘

۴۔ نماز میں اس قسم کا ہر کلام ممنوع ہے جو عبادت کے زمرے میں نہ آتا ہو:
معاویہ بن الحکم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان ھذہ الصلاۃ لا یصلح فیہا شئ من کلام الناس‘ انما ھو التسبیح والتکبیر وقراء ۃ القرآن ۔ (مسلم، رقم۱۱۹۹)
’’نماز میں عام لوگوں کا کلام جائز نہیں ہے۔ اس میں تو بس اللہ کی پاکی اور بڑائی بیان کی جاتی ہے اور قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔‘‘

۵۔ ہر ایسا کام ممنوع ہے جو ادب، وقار اور خشوع وخضوع کے منافی ہو:
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لینتہین اقوام یرفعون ابصارہم الی السماء فی الصلاۃ او لا ترجع الیہم ۔(مسلم،رقم ۹۶۶)
’’جو لوگ نماز میں آسمان کی طرف اپنی نظریں اٹھاتے ہیں، وہ ایسا کرنے سے باز آ جائیں ، ورنہ ان کی نظریں ہی چھین لی جائیں گی۔‘‘

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان احدکم اذا قام فی صلاتہ فانہ یناجی ربہ فلا یبزقن احدکم قبل قبلتہ ولکن عن یسارہ او تحت قدمیہ ۔(بخاری، رقم۳۹۰)
’’جب تم نماز میں کھڑے ہوتے ہو تو اپنے رب سے راز ونیاز کر رہے ہوتے ہو، اس لیے قبلے کی طرف مت تھوکا کرو ، بلکہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لیا کرو۔‘‘

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا:

انما ہو اختلاس یختلسہ الشیطان من صلاۃ العبد ۔(ابو داؤد،رقم ۹۱۰)
’’یہ تو شیطان کا ایک جھپٹا ہے جس سے وہ بندے کی نماز کا ایک حصہ چھین کر لے جاتا ہے۔‘‘

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو جب ہم سلام پھیرتے تو اپنے ہاتھوں سے بھی اشارہ کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا، یہ کیا کرتے ہوکہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارے کرتے ہو جیسے وہ شریر گھو ڑوں کی دمیں ہوں۔ جب سلام پھیرو تو بس اپنے بھائی کی طرف مڑ جایا کرو اور ہاتھ سے اشارہ نہ کیا کرو۔ ۱ ؂
۶۔ ہر ایسا کام ممنوع ہے جو عبث ہو اور جس سے ظاہر ہو کہ نماز ی کی توجہ نماز کے اندر نہیں ،بلکہ کہیں اور ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ:

امر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان لا یکف شعرا ولا ثوبا ۔ (بخاری،رقم ۷۶۷)
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں کپڑوں اور بالوں کے ساتھ کھیلنے سے منع فرمایا۔ ‘‘

حضرت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا توضا احدکم فاحسن وضوء ہ ثم خرج عامدا الی المسجد فلا یشبکن یدیہ فانہ فی صلاۃ ۔(ابو داؤد، رقم ۴۷۵)
’’جب تم میں سے کوئی آدمی اچھی طرح وضو کر کے مسجد کی طرف نکلے تو ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں مت پھنسائے کیونکہ (نیت کے اعتبار سے) وہ نماز ہی کی حالت میں ہے۔‘‘

حضرت معاذ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الضاحک فی الصلاۃ والملتفت والمفقع اصابعہ بمنزلۃ واحدۃ ۔(مسند احمد، رقم ۱۵۰۶۸)
’’نماز میں ہنسنے والا، ادھر ادھر دیکھنے والا اور انگلیاں چٹخانے والا ، سب ایک جیسے ہیں۔‘‘

حضرت ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا تثاء ب احدکم فی الصلاۃ فلیکظم ما استطاع فان الشیطان یدخل ۔(ابو داؤد، رقم ۴۳۷۲)
’’اگر کسی کو نماز میں جمائی آئے تو وہ حتی الوسع اس کو دبائے کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘

حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا قام احدکم فی الصلاۃ فلا یمسح الحصی فان الرحمۃتواجہہ ۔( نسائی، رقم ۱۱۹۲)
’’اگر کوئی نماز میں کھڑا ہو تو زمین پر سے کنکر نہ ہٹائے کیونکہ سامنے رحمت نازل ہو رہی ہوتی ہے۔‘‘

۷۔ جسم اور لباس کی ہر ایسی ہیئت جو ادب اور خشوع وخضوع کے منافی ہو، نماز کی حالت میں ممنوع ہے:
عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کی ایک چادر، جو ہدیہ میں پیش کی گئی تھی، اوڑھ کر نماز پڑھی ، لیکن نماز سے فارغ ہوتے ہی آپ نے اسے زور سے کھینچ کر اتار دیا اور نا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

لا ینبغی ہذا للمتقین ۔(بخاری، رقم ۵۳۵۵)
’’یہ لباس خدا سے ڈرنے والوں کے شایان شان نہیں ہے۔‘‘

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان اللہ جل ذکرہ لا یقبل صلاۃ رجل مسبل ازارہ ۔ (ابو داؤد، رقم ۶۳۸)
’’ جو شخص اپنا تہبند لٹکا کر (تکبر کرتے ہوئے) نماز پڑھے، اللہ کی اس کی نماز قبول نہیں فرماتے۔‘‘

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے :

نہی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن السدل فی الصلا ۃ وان یغطی الرجل فاہ ۔ (ابو داؤد،رقم ۶۴۳)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا لٹکانے اور منہ کو ڈھانکنے سے منع فرمایا۔ ‘‘

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جو بالوں کا جوڑا بنا کر نماز پڑھے، فرمایا:

انما مثل ھذا مثل الذی یصلی وھو مکتوف ۔ (ابو داؤد، رقم ۶۴۶)
’’یہ تو ایسے ہی ہے جیسے آدمی اس حالت میں نماز پڑھے کہ اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں۔‘‘

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لا یفترش احدکم ذراعیہ افتراش الکلب ۔ (مسلم، رقم ۱۱۰۲)
’’تم میں سے کوئی شخص (سجدے کی حالت میں)کتے کی طرح اپنے بازو زمین پر نہ بچھائے ۔‘‘

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں اپنے پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا۔ ۲؂

روحانی کیفیات

اسلام میں عبادت محض چند جسمانی رسوم بجا لانے کا نام نہیں ، بلکہ یہ ایک زندہ عمل ہے، جس کے دوران میں انسان پر عبودیت اور عاجزی کی مختلف کیفیات طاری ہوتی ہیں اور دین کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان ان کیفیات کے جواب میں بے حسی کا مظاہرہ نہ کرے ، بلکہ اپنا رد عمل (Response) بھی ظاہر کرے، اس کے کچھ طریقے مستقل طور پر نماز کا حصہ بنادیے گئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جنھیں انفرادی اذواق پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ دیکھیے :
۱۔ امام جب مقتدیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سورۂ فاتحہ کی شکل میں ایک نہایت پر تاثیر دعا کی تلاوت کرتا ہے تو مقتدیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس دعا کے اختتام پر آمین کہہ کر اس میں اپنی شرکت کا اظہار کریں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا قال الامام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین فقولوا آمین فانہ من وافق قولہ قول الملائکۃ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ ۔ (بخاری، رقم ۷۸۲ )
’’جب امام ’غیر المغضوب علیہم ولا الضالین‘ کہے تو تم آمین کہا کرو۔ کیونکہ (اس موقع پر فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور) جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل گئی، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔‘‘

۲۔ رکوع سے اٹھتے ہوئے جب امام ’سمع اللّٰہ لمن حمدہ‘ (اللہ تعالیٰ ان کی فریاد سنتا ہے جو اس کی حمد کرتے ہیں) کہتا ہے تو حکم ہے کہ مقتدی فوراً اس کا جواب دیتے ہوئے کہیں: ’ربنا ولک الحمد‘(اے ہمارے پروردگار، تعریف کا استحقاق تو آپ ہی رکھتے ہیں) ۔
۳۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے کہ نماز میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے اگر کوئی ایسی آیت آجاتی جس میں سجدہ کی ترغیب ہوتی تو آپ اس کی تعمیل میں فوراً سجدہ ریز ہو جایا کرتے تھے۔۳؂
۴۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ آیت پڑھتے: ’سبح اسم ربک الاعلی‘ (اپنے بلند وبرتر رب کی پاکی بیان کرو) تو اس کی تعمیل کرتے ہوئے کہتے: ’سبحان ربی الاعلی‘ (پاک ہے میرا رب جو بلند وبرتر ہے) ۔ ۴ ؂
۵۔ موسیٰ بن ابی عائشہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی نماز پڑھتے ہوئے جب یہ آیت پڑھتے : ’الیس ذلک بقادر علی ان یحیی الموتی‘ (کیا اللہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر سکے)؟ تو جواب میں کہتے: ’سبحانک فبلی‘ (یا اللہ، تو پاک ہے۔ کیوں نہیں)؟ لوگوں نے پوچھا تو انھوں نے کہا :میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سنا ہے۔ ۵؂
۶۔ حضرت حذیفہ اور حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ دوران تلاوت میں ہر ایسی آیت پر کھڑے ہوکر دعا کرتے جس میں اللہ کی رحمت کا ذکر ہوتا اور ہر ایسی آیت پر ٹھہر کر اللہ کی پناہ مانگتے جس میں اللہ کے عذاب کا ذکر ہوتا۔ ۶؂
روایات سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ذوق کی تربیت کے لیے صحابہ کی پوری پوری حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ نے رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے’سمع اللہ لمن حمدہ‘ کہا تو ایک آدمی نے بلند آواز سے کہا، ’ربنا ولک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ‘ ۔ (یا اللہ تعریف کا استحقاق تو آپ ہی رکھتے ہیں۔ ایسی تعریف جو بہت زیادہ ہو، پاکیزہ ہو اور جس میں برکت ہی برکت ہو) جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا کہ یہ کلمات کس نے کہے ہیں؟ اس آدمی نے کہا، میں نے۔ آپ نے فرمایا:

رایت بضعۃ وثلاثین ملکا یبتدرونہا ایہم یکتبہا اول ۔ (بخاری، رقم۷۹۹)
’’میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو لپکتے ہوئے دیکھا۔ ہر ایک ان کلمات کو پہلے لکھ لینا چاہتا تھا۔‘‘

انفرادی اذواق کا لحاظ

عبادت کو ایک زندہ عمل بنانے کے لیے نفسیاتی لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ اس میں آدمی کو اپنے انفرادی ذوق اور داخلی کیفیات کے تحت بعض چیزوں کے اخذوانتخاب کا اختیار ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اس فطری پہلو کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ چنانچہ دیکھیے کہ اگرچہ نماز کا بنیادی ڈھانچا متعین کر دیا گیا ہے، لیکن اس کے بعض اعمال کے بارے میں یہ گنجایش رکھی گئی ہے کہ لوگ ان میں اپنے ذوق کے مطابق کوئی بھی طریقہ اختیار کر لیں۔
رفع یدین:رفع یدین کا عمل دراصل انسانی عزم وارادہ کے اظہار کی ایک شکل ہے۔ سنت ثابتہ کی رو سے اگرچہ یہ صرف نماز کے آغاز میں لازم ہے، لیکن روایات سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اوقات رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت، سجدے سے اٹھتے اور دوبارہ سجدے میں جاتے وقت اور اسی طرح دوسری، تیسری اور چوتھی رکعت کے لیے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کیا۔ ان مواقع پر رفع یدین کرنا اصلاً دین کا مطالبہ نہیں، بلکہ اس کا مدار انسان کے ذاتی ذوق پر ہے۔
وضع الیدین : سنت ثابتہ کی رو سے قیام کی حالت میں ہاتھ باندھنا نماز کے آداب میں شامل ہے۔ لیکن ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟ صحابہ اور تابعین سے سینے پر، ناف پر اور ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے کے مختلف طریقے منقول ہیں، تاہم اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تصریح مستند طریقے پر ثابت نہیں ہے، جس سے واضح ہے کہ اس معاملے میں کوئی ایک متعین طریقہ دین میں مطلوب نہیں ، بلکہ انسان اپنے ذوق کے مطابق جہاں چاہے، ہاتھ باندھ سکتا ہے۔
قرأت فاتحہ : قرآن مجید کی رو سے یہ بات قرآن کے آداب میں سے ہے کہ جب اس کی تلاوت کی جائے تو اسے خاموش ہو کر اور توجہ سے سنا جائے۔ اس کا اطلاق، ظاہر ہے کہ نماز پر بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر نماز میں اپنے پیچھے قرأ ت کرنے والوں کو تنبیہہ بھی فرمائی۔ تاہم دین میں انسان کے ذاتی ذوق اور اس کی داخلی کیفیات کا اس حد تک لحاظ رکھا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص خود اپنی زبان سے قرأت کیے بغیر اطمینان محسوس نہ کرتا ہو تو اسے قرأ ت کی اجازت دی گئی ہے، اگرچہ بظاہر اس میں مذکورہ ادب کی خلاف ورزی لازم آتی ہے۔ مسند احمد میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا:کیا جب امام پڑھ رہا ہوتا ہے تو تم بھی قرأت کرتے ہو؟ صحابہ نے کہا: ہاں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا:

فلا تفعلوا الا ان یقرا احدکم بفاتحۃ الکتاب ۔ (مسند احمد، ۴/ ۲۳۶)
’’نہ پڑھا کرو۔ ہاں اگر کوئی فاتحہ پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔‘‘

آمین بالجہر :سورۂ فاتحہ جیسی اعلیٰ ترین دعا کے جواب میں مقتدیوں کے لیے آمین کہنا سنت ثابتہ کی رو سے مشروع ہے۔ لیکن یہ آمین آہستہ آواز میں کہی جائے یا اونچی آواز میں؟ روایات اور صحابہ کے آثار سے دونوں طریقوں کا ثبوت ملتا ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے انسان کبھی آہستہ آمین کہنے میں زیادہ کیف محسوس کرتا ہے اور کبھی بلند آواز میں۔ چنانچہ اس کا تعلق بھی انسان کی داخلی کیفیات سے ہے۔
نماز کے اذکار :نماز میں پڑھے جانے والے اذکار میں سے صرف تین ایسے ہیں جو دین میں لازم کیے گئے ہیں، یعنی تکبیرات انتقال، سورۂ فاتحہ اور سلام ۔ اس کے علاوہ باقی مواقع کے لیے کلمات اور دعاؤں کو متعین کرنے کے بجائے ان کا انتخاب شخصی اذواق پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ مواقع حسب ذیل ہیں:
آغاز نماز کے اذکار: اس موقع پر تقریبا نو اذکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں جن کی تفصیل کتب حدیث میں دیکھی جا سکتی ہے۔
فاتحہ کے بعد قرأ ت: سورۂ فاتحہ کے بعد نمازی قرآن کا کوئی بھی حصہ اپنے ذوق کے مطابق تلاوت کر سکتا ہے۔
رکوع وسجود کی تسبیحات: رکوع وسجود کے موقع پر بھی متعدد تسبیحات اور دعائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں اور نمازی ان میں سے کوئی بھی منتخب کر سکتا ہے۔
تشہد کے کلمات: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صحابہ کو تشہد کے مختلف کلمات کی تعلیم دی۔ آدمی ان میں سے جو کلمات بھی چاہے، پڑھ سکتا ہے۔
تشہد کے بعد کی دعائیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تشہد کے بعد آدمی اپنی پسند کی جو بھی دعا چاہے، پڑھ سکتا ہے۔

________

۱؂ مسلم، رقم ۹۷۱
۲؂ مسلم، رقم ۱۲۱۸۔
۳؂ نسائی، رقم ۹۶۹۔
۴؂ ابو د اؤد،رقم ۸۸۳۔
۵؂ ابو داؤد،رقم ۸۸۴۔
۶؂ ابو داؤد،رقم ۸۷۱۔ ۸۷۳۔

____________

بشکریہ: عمار خان ناصر
تاریخ اشاعت: December 2001 
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : May 24, 2016
391 View