صدقہ کے بارے میں ترغیب - امین احسن اصلاحی

صدقہ کے بارے میں ترغیب

ترتیب و تدوین: خالد مسعود۔ سعید احمد

 

(اَلتَّرْغِیْبُ فِی الصَّدَقَۃِ)

حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ أَبِی الْحُبَابِ سَعْدِ بْنِ یَسَارٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ، وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ اِلَّا طَیِّبًا کَانَ اِنَّمَا یَضَعُھَا فِیْ کَفِّ الرَّحْمٰنِ یُرَبِّیْھَا کَمَا یُرَبِّی اَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ اَوْ فَصِیْلَہُ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ.
سعد بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنی پاک کمائی سے صدقہ کرے، اور اللہ پاک کمائی ہی قبول کرتا ہے، تو گویا وہ خداے رحمن کے ہاتھ میں اس کو رکھتا ہے جو اس کو نشوونما دے کر بڑھاتا ہے، جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے کو یا اپنے اونٹ کے بچے کوبڑھاتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے۔

وضاحت

فصیلۃ‘ دودھ چھوڑے ہوئے بچے کو کہتے ہیں۔
قرآن مجید میں یوں آیا ہے ’یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ‘۔ البقرہ، ۲۷۶ (اللہ سود کو گھٹائے گا اور صدقات کو بڑھائے گا)۔ جو صدقات اللہ کی راہ میں دیے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو بڑھاتا ہے، اور اللہ جتنا چاہے بڑھائے۔ یہاں وضاحت کر دی گئی ہے کہ وہ بڑھا کر پہاڑ کی مانند کر دیتا ہے۔ آپ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے گویا آپ نے اس کو خداے رحمان کے ہاتھ میں دے دیا کہ وہ اس کو اس طریقہ سے بڑھائے، جس طریقہ سے آپ اپنے بچھڑے کو پالتے ہیں یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتے ہیں تو وہ بڑا ہو جاتا ہے۔
صدقات کی زیادت ہونی چاہیے اور چھوٹی یا بڑی جو چیز بھی دیں تو اس میں خلوص شامل ہونا چاہیے، کیونکہ اصل قدر و قیمت تو خلوص کی ہے۔

حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ اِسْحٰقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ اَنَّہُ سَمِعَ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ کَانَ اَبُوْ طَلْحَۃَ اَکْثَرَ اَنْصَارِیٍّ بِالْمَدِیْنَۃِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَ کَانَ اَحَبُّ اَمْوَالِہِ اِلَیْہِ بَیْرُحَاءَ وَ کَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ وَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْخُلُھَا وَ یَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِیْھَا طَیِّبٍ. قَالَ اَنَسٌ فَلَمَّا اُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ قَامَ اَبُوْ طَلْحَۃَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ. وَ اِنَّ اَحَبَّ أَمْوَالِیْ اِلَیَّ بَیْرُحَاءُ، وَ اِنَّھَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ أَرْجُوْا بِرَّھَا وَذُخْرَھَا عِنْدَ اللّٰہِ فَضَعْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیْثُ شِءْتَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَخْ ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِیْہِ وَ اِنِّیْ اَرٰی أَنْ تَجْعَلَہُ فِی الْاَقْرَبِیْنَ، فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ أَفْعَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَسَمَھَا اَبُوْ طَلْحَۃَ فِیْ اَقَارِبِہِ وَ بَنِیْ عَمِّہِ.
اسحق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں کھجوروں کے باغ کے لحاظ سے سب سے زیادہ رئیس انصاری تھے۔ اور ان کا محبوب ترین باغ بیرحاء تھا جو مسجد (یعنی مسجد نبوی) کے بالمقابل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لایا کرتے اور اس میں سے شیریں اور ٹھنڈا پانی پیا کرتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری: ’لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ‘ (تم خدا سے وفاداری کے مقام کو نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنے محبوب مال میں سے نہ خرچ کرو) تو ابو طلحہ اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کی وفاداری کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم خرچ نہ کرو اس چیز سے جو تمھیں سب سے زیادہ محبوب ہے، تو میرا سب سے زیادہ محبوب مال باغ بیرحاء ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے، اب میں اس کا صلہ اور اجر اللہ کے ہاں چاہتا ہوں۔ یا رسول اللہ، آپ جہاں چاہیں، اس کو صرف کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! ماشاء اللہ! بہت اچھا مال ہے۔ یہ بہت نفع بخش باغ ہے۔ میں نے سن لی وہ بات جو تم نے کہی ہے۔ اب میری راے یہ ہے کہ تم اس کو اپنے اقرباء میں تقسیم کر دو۔ ابوطلحہ نے کہا: یارسول اللہ، میں ایسے ہی کروں گا۔ تو ابوطلحہ نے اسے اپنے اقرباء اور اپنے چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔

وضاحت

بَخ‘ وہی لفظ ہے جو پیچھے ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے بطور طنز استعمال کیا۔ یہ تین چار شکلوں میں آتا ہے۔ یہاں یہ لفظ تحسین کے لیے آیا ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن مجید سے کس طرح متاثر ہوتے تھے۔ ان کے مقابلے میں آج ہمیں اپنے رویے پر نظر کرنی چاہیے کہ ہم قرآن مجید کے معاملے میں کس قدر بلید ہو گئے ہیں۔
اس حدیث سے خاص بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص چاہے تو صدقہ کے مصارف میں اپنے اعزہ و اقرباء اور اپنے بنی اعمام کو، جن کی حالت محتاج اصلاح ہو، شامل کر سکتا ہے۔ ان کی بہبود کے لیے صدقہ کے مال سے ان کی مدد کر سکتا ہے۔ محتاج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی بالکل ہی تہی دست ہو، دو روٹی کا محتاج ہو۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے باغ اپنے جن اقرباء اور بنی اعمام میں تقسیم کیا، ان کے متعلق قطعی طور پر معلوم ہے کہ ان میں سے کوئی محتاج نہیں تھا۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ بھی ان کے خاندان میں سے تھے۔ اس باغ میں سے ان کو جو حصہ ملا تھا، وہ انھوں نے بنو امیہ کے زمانے میں ایک لاکھ درہم میں بیچا تھا۔
قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ اور صدقات کے مصارف میں کوئی فرق نہیں، البتہ ان کے وصول کرنے میں فرق ہے۔ اگر آپ زکوٰۃ نہیں دیں گے تو حکومت وصول کر لے گی، لیکن صدقات کی ادائیگی آپ کی صوابدید پر ہے۔
ہمارے فقہا نے حد مقرر کر رکھی ہے کہ اگر کسی غریب کے پاس اتنی مالیت کا مال ہو تو اس کو زکوٰۃ نہیں دینی چاہیے۔ اس زمانے میں اتنی مالیت سے تو آدمی ایک وقت کی روٹی نہیں کھا سکتا۔ یہ بات غلط ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصود لوگوں کی بہبود اور ترقی ہے۔ معاشرہ میں ان کے مقام کو بلند کیا جائے۔ اگر وہ کاروبار کرتے ہیں تو ان کو سہولت حاصل ہو جائے اور کام کرتے ہیں تواس میں ان کو آسانیاں مل جائیں اور وہ ترقی کر کے اس کو بڑھا لیں۔ اس زمانے میں رفاہی ریاست کا بہت چرچا ہے۔ رفاہی ریاست قائم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ کے جتنے بھی احکام ہیں، ان کو قرآن مجید کے مطابق ٹھیک کیا جائے۔ زکوٰۃ ہر مال میں ہے۔ اس میں سے مستثنیٰ صرف مقدار ہے۔ بڑے پیمانے پر جو چیز بھی کاشت ہو گی، اس پر زکوٰۃ ہو گی۔ حکومت زکوٰۃ کے اموال سے اجتماعی بہبود اور رفاہیت کے کام کر سکتی ہے۔ زکوٰۃ اور صدقات کے مصارف میں کوئی فرق نہیں، دونوں کا مصرف ایک ہے۔ یہ یتیموں، غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی بہبود، ترقی اور اصلاح کے لیے خرچ ہوں گے۔

حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْطُوا السَّاءِلَ وَ اِنْ جَاءَ عَلٰی فَرَسٍ.
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سائل کو دو، اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔

وضاحت

یہ روایت موقوف ہے۔ بہرحال اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مانگتا ہے، اس کو دیں۔ اس کے بارے میں زیادہ تحقیق نہیں کرنی چاہیے۔ سائل کے لیے یہ کیا کم ہے کہ اس نے اپنی ناموس اور اپنی آبرو کو آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ جس نے اتنی بڑی قربانی دی ہے، اس کی زیادہ کرید نہیں کرنی چاہیے، الاّآنکہ یہ واضح ہو کہ یوں ہی بھگل بنائے ہوئے ہو یا پیشہ ور ہے۔ ظاہری حالت پر قیاس کر کے انکار کرنا صحیح نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ سائل لنگڑا ہو تو سوار ہو کر آیا ہو یا اس کے پاس گھوڑا تو ہے، لیکن اس کی ضروریات، بلکہ اپنی بھی ضروریات نہیں ہیں اور حالات نے اسے مانگنے پر مجبور کر دیا ہے۔

حَدَّثَنِیْ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْھَلِیِّ الْاَنْصَارِیِّ عَنْ جَدَّتِہِ اَنَّھَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ اِحْدَا کُنَّ اَنْ تُھْدِیَ لِجَارَتِھَا وَلَوْ کُرَاعَ شَاۃٍ مُحْرَقًا.
عمرو بن معاذ الاشہلی الانصاری اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مومنہ عورتو، تم میں سے کوئی بھی اس بات کو حقیر نہ سمجھے کہ وہ اپنی پڑوسن کے لیے کوئی حقیر سے حقیر ہدیہ بھیجے، اگرچہ وہ بکری کی ایک جلی ہوئی کُھری ہو۔

وضاحت

یہ واقعہ ہے کہ ہدیہ محبت بڑھانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اپنی توفیق کے مطابق جو کچھ بھی میسر ہو اور جب بھی موقع نکلے ہدیہ دینا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہدیہ شان دار ہو تب دے۔ کوئی چیز جو ذرا بھی ندرت رکھتی ہو، پڑوسی کو ضر ور بھیجنی چاہیے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی تلقین کی ہے اور یہ چیز معاشرت پر بہت مفید اثرات ڈالتی ہے۔
اس حدیث میں ’نساء المومنات‘ کی ترکیب شاذ ہے۔ میرے نزدیک تو یہ ہے کہ جس طریقہ سے نکرہ موصوف معرفہ بن جاتا ہے، اسی طریقہ سے منادیٰ بھی معرفہ کا مقام حاصل کر لیتا ہے، اس لیے اس کی صفت معرفہ آ سکتی ہے۔ والعلم عند اللّٰہ۔

حَدَّثَنِیْ عَنْ مَالِکٍ أَنَّہُ بَلَغَہُ عَنْ عَاءِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ مِسْکِیْنًا سَأَلَھَا وَھِیَ صَاءِمَۃٌ وَلَیْسَ فِیْ بَیْتِھَا اِلَّا رَغِیْفٌ فَقَالَتْ لِمَوْلَاۃٍ لَھَا أَعْطِیْہِ اِیَّاہُ، فَقَالَتْ لَیْسَ لَکِ مَا تُفْطِرِیْنَ عَلَیْہِ، فَقَالَتْ أَعْطِیْہِ اِیَّاہُ قَالَتْ فَفَعَلْتُ. قَالَتْ فَلَمَّا أَمْسَیْنَا أَھْدٰی لَنَا أَھْلُ بَیْتٍ اَوْ اِنْسَانٌ مَا کَانَ یُھْدِیْ لَنَا شَاۃً وَ کَفْنَھَا فَدَعَتْنِیْ عَاءِشَۃُ اُمُّ الْمُوْمِنِیْنَ، فَقَالَتْ کُلِیْ مِنْ ھٰذَا ھٰذَا خَیْرٌ مِنْ قُرْصِکِ.
امام مالک کہتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات پہنچی کہ ایک مسکین ان کے پاس آیا اور اس نے کچھ سوال کیا اور وہ روزہ سے تھیں۔ گھر میں ایک چپاتی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ انھوں نے اپنی آزاد کردہ لونڈی سے کہا کہ یہ اسے دے دو۔ اس نے کہا کہ افطار کرنے کے لیے آپ کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ تو انھوں نے کہا کہ تم دے دو۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے چپاتی سائل کو دے دی۔ جب شام ہوئی تو ہمارے لیے ایک ایسے خاندان والوں نے یا ایک شخص نے بکری کا گوشت بھیجا جن کو ہمارے ہاں ہدیہ بھیجنے کی مستقل عادت نہ تھی۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بلایا اور کہا: لو اس میں سے کھاؤ۔ یہ اس چپاتی سے بہتر ہے جو تم نے دی۔

وضاحت

’بکری بھیجی‘ یہ عربیت کا اسلوب ہے کہ کل بول کر جزء مراد ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری بکری بھیجی۔ آپ بھی مہمان کی تواضع کے لیے مرغی ذبح کرتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے مہمان کو مرغی کھلائی، حالاں کہ اس میں سے اور لوگوں نے بھی کھایا ہوتا ہے۔
وَکَفْنَھَا‘ میں واؤ عطف کا نہیں مادے کا حصہ ہے۔ ’وکف‘ کے معنی میں قطرہ قطرہ ٹپکنے کا مفہوم ہے، گویا یہ خاندان مسلسل ہدیہ نہیں بھیجتا تھا۔ بعض لوگوں نے واؤ کو حرف عطف مانا ہے اور ’کَفَنَ‘ کو ڈھانکنے کے معنی میں لیا ہے، یعنی اس پر روٹیاں ڈھانپ رکھی تھیں۔ لوگوں نے اور شرحیں بھی لکھی ہیں۔ بہرحال یہ لفظ مزید تحقیق طلب ہے۔ اس بات کا امکان بھی ہے کہ یہ لفظ غلط ضبط ہو گیا ہو۔
یہ روایت امام مالک کی بلاغات میں سے ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ جب کوئی سائل آئے تو اس کو دینا چاہیے اور اسی طریقہ سے دینا چاہیے جس طریقہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا۔ تجربہ یہی ہے کہ اگر آپ اس طریقہ سے دیں گے تو ان شاء اللہ آپ بھوکے نہیں رہیں گے، اچھا کھائیں گے۔

حَدَّثَنِیْ عَنْ مَالِکٍ قَالَ بَلَغَنِیْ اَنَّ مِسْکِیْنًا اسْتَطْعَمَ عَاءِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ بَیْنَ یَدَیْھَا عِنَبٌ، فَقَالَتْ لِاِنْسَانٍ خُذْ حَبَّۃً فَأَعْطِہِ اِیَّاھَا فَجَعَلَ یَنْظُرُ اِلَیْھَا وَ یَعْجَبُ، فَقَالَتْ عَاءِشَۃُ أَتَعْجَبُ کَمْ تَرٰی فِیْ ھٰذِہِ الْحَبَّۃِ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّۃٍ.
امام مالک کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ ایک مسکین نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کھانا مانگا۔ ان کے آگے کچھ انگور تھے۔ انھوں نے کسی سے کہا کہ اس میں سے ایک دانہ لے کر اس کو دے دو تو وہ تعجب سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا منہ دیکھنے لگا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم تعجب کرتے ہو! اس میں نہ جانے کتنے مثقال ذرہ ہوں گے۔

وضاحت

عِنَبٌ‘ یہاں نکرہ ہے جو تحقیر کے لیے بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تھوڑے سے انگور یا کچھ انگور۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اگر کہتیں تو یہ کہتیں کہ دے دو جتنے بھی ہیں۔ سیدہ عائشہ کے کردار سے یہ بعید ہے کہ انھوں نے یہ کہا ہو گا کہ اس میں سے ایک دانہ اٹھا کر دے دو۔ بہرحال یہ امام مالک کی بلاغات میں سے ہے۔ میں اس کی ذمہ داری نہیں لیتا۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت جنوری 2014
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Oct 18, 2016
817 View