معروف و منکر - حمید الدین فراہی

معروف و منکر

ترجمہ: امین احسن اصلاحی

معروف وہ ہے جس کو عرب نے معروف مانا ہو اور منکر وہ ہے جس کو انھوں نے منکر قرار دیا ہو۔ اہل عرب زمانۂ جاہلیت میں ایسے جنگلی نہیں تھے کہ خیر و شر میں ان کو کوئی امتیاز ہی نہ ہو۔ یونانیوں اور ہندوستانیوں کے روشن ترین دور میں ان قوموں کے ادب کا جو حال تھا، اہل عرب کا ادب اخلاقی اعتبار سے ان سے بھی بدرجہا اونچا تھا۔ جن لوگوں نے ان کی تاریخ بگاڑی ہے، اگر ان کی مہملات سے قطع نظر کر کے تم ان کے کلام پر نظر ڈالو تو معلوم ہو گا کہ ان کا اخلاقی معیار کتنا بلند تھا۔ ان کے ہاں اخلاق کی جو اہمیت تھی، اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ امرء القیس باوجودیکہ ایک بادشاہ تھا، لیکن چونکہ اس کی شاعری میں رندی اور ہوس ناکی کا پہلو نمایاں تھا، اس وجہ سے وہ الملک الضلیل (آوارہ مزاج بادشاہ) کے لقب سے مشہور ہو گیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں ایک ضمیمہ۱؂ میں ان کے کلام سے کچھ نمونے پیش کریں، تاکہ واضح ہو سکے کہ ان کے ہاں وہی چیزیں معروف میں داخل تھیں جو مکارم اخلاق میں شمار ہوتی ہیں اور قرآن نے ان کے سامنے جو چیزیں پیش کیں، وہ ان کے معروف کی تکمیل کرنے والی تھیں، نہ کہ اس کو ہدم کرنے والی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اندر جو صالح طبیعتیں تھیں، ان کو قرآن نے بہت جلدی اپنی طرف جذب کر لیا۔ صرف ان لوگوں نے اس کی مخالفت کی جو شریر تھے یا جن کو اپنی مذہبی یا سیاسی پیشوائی کے چھن جانے کا اندیشہ تھا۔ ٹھیک اس طرح جس طرح علما ے یہود نے ضد اور حسد کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کی۔ امیہ بن ابی صلت وغیرہ کے متعلق کون نہیں جانتا کہ یہ دین حنیفی کے معتقد تھے، لیکن محض بربناے حسد ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی۔
پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نبی کی روح بیدار خود بھی معروف و منکر کی شناخت کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ جن چیزوں کے بارہ میں وحی کی رہنمائی موجود نہیں ہوتی، ان میں وہ اپنے الہام سے امت کو کوئی حکم اس وقت تک کے لیے دیتا ہے جب تک وحی نہ آجائے، اور یہ کام اس کے منصب کا ایک قدرتی جز ہوتا ہے۔ نیز اس کو خدا کی طرف سے امربالمعروف کا حکم ہوتا ہے اور امت کو یہ ہدایت ہے کہ وہ معروف میں سے جن باتوں کا حکم دے، ان میں اس کی پیروی کرے۔ ان کے علاوہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانہ میں پچھلی آسمانی شریعتوں کی بہت سی بچی کھچی باتیں باقی رہ گئی تھیں۔ مثلاً دین حنیفی کی تعلیمات میں سے حج، قربانی اور نماز کے کچھ بقایا موجود تھے، نیز اہل کتاب کے طریقے موجود تھے۔۲؂ آپ نے وقتی طور پر ان میں سے بھی بعض باتیں اختیار کیں اور وحی الٰہی کے آجانے کے بعد چھوڑ دیں۔
یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع شروع میں جزئیات احکام کا حکم نہیں ہوا، بلکہ صرف معروف کا حکم ہوا، مثلاً نماز، ذکر الٰہی، صدقہ، یتیم پر شفقت اور اس قسم کے دوسرے مکارم اخلاق۔ پھر جب کسی چیز کے بارہ میں تفصیل نازل ہو گئی تو اس میں اللہ کی تعلیم اصل بن گئی اور معروف کا لحاظ ختم ہو گیا۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی امر کے بارہ میں معروف کا حکم ہوا۔ پھر اس کے متعلق توضیح نازل ہوئی تو جس حصہ سے متعلق توضیح نازل ہوئی اس میں تو معروف منسوخ ہو گیا اور جس بارہ میں توضیح نازل نہیں ہوئی، اس میں معروف کا حکم بدستور باقی رہا۔ مثلاً مرنے والے کی وصیت والدین کے لیے منسوخ ہو گئی اور جن اقربا کو وراثت میں کوئی حق نہیں ملا ہے، ان کے لیے باقی رہ گئی۔
اصل یہ ہے کہ جن جزئیات تک انسان کی عام عقل اور فطری صلاحیت خود بخود پہنچ سکتی تھی، ان کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر نہیں لادا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو تقویٰ اور نیکی کی جو صلاحیت خود ہمارے اندر موجود ہے، وہ مردہ ہو جاتی۔ چنانچہ اس طرح کے معاملات میں اس نے ہماری عقل پر معروف کو چھوڑ دیا جیسا کہ بہت سی آیتوں میں دیکھتے ہو ..... اور یہ معروف کو باقی رکھ کر اور لوگوں کو اس کے اختیار کرنے کی دعوت دے کر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک کے قانون اور اس کے اچھے رسوم کی عزت بڑھائی ہے اور یہ اس امر کی صاف شہادت ہے کہ اسلام نے انقلاب اور تخریب کے بجاے اصلاح اور تکمیل کی راہ اختیار کی ہے۔ اس نے سابقہ ادیان کی بالاجمال تصدیق کی اوران میں جو زیادتیاں شامل ہو گئی تھیں، ان کو خارج کر کے لوگوں کو ان کی قدیم شاہ راہ اور اس فطری ہدایت پر پہنچا دیا جو آدم کے وقت سے موجود تھی۔
(مجموعہ تفاسیر فراہی ۵۶۔۵۸)

 

۱؂ یہ ضمیمہ مولانا یہاں نہ درج کر سکے، لیکن اپنی دوسری تالیفات خصوصاً ’’جمہرۃ البلاغۃ‘‘ میں انھوں نے اس سے تعرض کیا ہے (مترجم)۔
۲؂ سرسید احمد کا یہ خیال غلط ہے کہ عربوں نے تمام مذہبی باتیں یہود سے اخذ کیں اور اسلام نے بھی اکثر احکام یہود ہی سے لیے اور دین حنیفی کے آثار میں سے صرف توحید، ڈاڑھی اور ختنہ باقی رہ گئے تھے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جنوری 2016
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Feb 11, 2017
1333 View