محمد رسول اللہﷺ کے بارے میں حضرت سلیمان کی پیشین گوئی کا متن اور اس کی اِستنادی حیثیت - عبدالستار غوری

محمد رسول اللہﷺ کے بارے میں حضرت سلیمان کی پیشین گوئی کا متن اور اس کی اِستنادی حیثیت

[نقطۂ نظر ‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]


(۱)
بائبل متعدد کتب کا مجموعہ ہے:پروٹسٹنٹ بائبل میں ’عہدنامۂ قدیم‘ کی انتالیس اور’عہد نامۂ جدید‘ کی ۲۷، یعنی کل ۶۶ کتب ؛اور کیتھولک بائبل میں اپوکرائفا کی قریباً مزید۹ کتب شامل ہیں، جن کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ بعض انبیا پر خداوندتعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ اگرچہ یہ بات تو یقینی طور پرمُسَلّم ہے کہ یہ کتب ان انبیا کرام کی زندگی میں ضبطِ تحریر میں نہیں لائی گئی تھیں جن کی طرف یہ منسوب ہیں، تاہم یہ دعویٰ ضرور کیاجاتاہے کہ یہ ایسے اشخاص نے لکھی تھیں جو صاحبِ اِلہام تھے۔ اس کے پہلے حصے کو جو حضرت عیسیٰ ں اور ان کے حواریوں کے آمد سے پہلے کے انبیا سے متعلق ہے،’عہد نامۂ قدیم‘ کہاجاتا ہے اور دوسرے حصے کو، جو حضرت عیسیٰ ں اور ان کے حواریوں کی طرف منسوب ہے، ’عہد نامۂ جدید‘ کہاجاتاہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اس میں متعدد مقامات پر، آنے والے زمانے میں رُونما ہونے والے بعض واقعات اور مستقبل کے بعض انبیا کی بعثت کی پیشین گوئیاں کی گئی ہیں۔ قرآن کریم نے زور دے کر کہاہے کہ بائبل کے انبیا نے محمد رسو ل اللہ ﷺ کی بعثت کی پیشین گوئی اتنے غیر مبہم الفاظ میں کی ہے کہ اہل کتاب آپؐ کوا س طرح پہچان سکتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹے بیٹیوں کو پہنچانتے ہیں۔ موجودہ کتاب میں ان میں سے ایک ایسی پیشین گوئی کی وضاحت کی کوشش کی گئی ہے، جس میں حضرت سلیمان ں نے محمدرسول اللہ ﷺ کا نام لے کر آپؐ کی آمد کی خبر دی ہے۔
حضرت سلیمان ں کے یہ پیشین گوئی بیان کرنے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد کی صورت میں اس کی تکمیل کے درمیان قریباً ڈیڑھ ہزار سال کا وقفہ ہے ۔ یہ پیشین گوئی محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد سے قریباً ایک ہزار سال پہلے ضبط تحریر میں لائی جاچکی تھی اور اس وقت سے یہ اپنی اصلی حالت میں موجود چلی آرہی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ بذاتِ خود محمد رسول اللہ ﷺ یا آپؐ کے متبعین میں سے کوئی شخص اسے بائبل میں درج نہیں کرسکتا تھا۔ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ یہاں واقعی محمد رسول اللہﷺ کی پیشین گوئی کی گئی ہے، تو ایک طرف تو یہ بائبل کے اس مقام کے منجانب اللہ ہونے کا ثبوت ہے اور دوسری طرف محمد رسول اللہﷺ کی صداقت کا۔ آئندہ صفحات میں اس پیشین گوئی کا مفصل مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
ہمارا دَور روشن خیالی اور موضوعی فکر و تحقیق کا دور ہے۔موجودہ کتاب کا بے لاگ اور موضوعی مطالعہ قارئین کو درست نتیجے تک پہنچنے میں معاون ثابت ہوگا بشرطیکہ یہ مطالعہ پہلے سے طے شدہ مفروضوں اور تعصبات سے پاک رہ کر کیا جائے۔
کوشش کی گئی ہے کہ حوالہ جاتی سندپیش کیے بغیر نہ کوئی دعویٰ کیاجائے اور نہ کسی لفظ یا موضوع کی تشریح کی جائے ۔ یہ کوشش بھی کی گئی ہے کہ کسی موضوع کو ثابت کرنے کے لیے وافر شہادت فراہم کی جائے تاکہ کوئی یہ اعتراض نہ کرسکے کہ اس کی بنیاد یک طرفہ یاناکافی شہادت پر ہے۔ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ شہادت اور حوالہ جات کو دیانت داری سے اور کسی توڑ مروڑ کے بغیر پیش کیاجائے ۔ توقع ہے کہ اس کا موضوعی اور غیر متعصبانہ مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔
بنیادی طور پر یہ ایک علمی اور تحقیقی مقالہ ہے، لیکن مصنف کے ذہن میں یہ بات بھی موجود تھی کہ ملکی اور غیر ملکی غیر مسلموں کو محمد رسول اللہ ﷺسے متعارف کرایا جائے اور ان کو آپؐ کی نبوت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس لیے اصل کتاب انگریزی زبان میں لکھی گئی تھی ۔ اسی لیے اس میں کوئی بات دلیل اور حوالے کے بغیر نہیں کہی گئی۔ زبان، جہاں تک ممکن ہوا، آسان استعمال کی گئی، تاہم اسے خوبصورت، دل آویز اور پُر تاثیر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔(یہ پیراگراف صرف اردو ایڈیشن میں اضافہ ہے)۔
ذیلی حواشی (اور کتاب کے بعض دیگر مواقع پر) جن کتابوں کا کوئی حوالہ آیا ہے اُن کے انگریزی نام Italicsمیں یعنی ترچھے کرکے لکھے گئے ہیں۔ اردو رسم الخط میں چونکہ Italics کی سہولت دستیاب نہیں، اس لیے یہاں ان کتابوں کے نام واوین میں درج کیے گئے ہیں۔پبلشر کے کوائف اور سالِ تصنیف بریکٹ میں دیے گئے ہیں اور صفحہ نمبر آخر میں دیا گیاہے ۔ جہاں حوالہ جاتی عبارت یا کسی اور عبارت میں سے چند الفاظ یا متن کی تھوڑی سی مقدار حذف کی گئی ہے وہاں بریکٹ میں تین نقطے لگادیے گئے ہیں۔ لیکن اگر متن سے حذف کردہ عبارت زیادہ بڑی ہو، تو وہاں بریکٹ میں چار نقاط لگائے گئے ہیں۔ حوالہ جات میں نقل کردہ عبارات میں اصل متن کے رموزِ اوقاف ہی محفوظ کرنا زیادہ مناسب ہے۔ عمومی طور پر اگرچہ Chicago Manual For Writersکی پیروی کی گئی ہے، تاہم بعض مواقع پر قاری کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب خیال کیاگیا کہ کوئی دوسرا اُسلوب وضع کیاجائے۔ انگریزی عبارات میں انبیا کے نام کے لاحقے کے طور پر لکھے گئے ’ﷺ ‘یا ’ں ‘کے لیے pbuh (Peace be upon him)کے بجائے pbAh (Peace and Blessing of ALLAH upon him)لکھا گیاہے۔
’اشراق‘ میں کتاب اجزا کی صورت میں دی جائے گی۔ لیکن ہر حصہ اپنی جگہ ایک مستقل مضمون ہے اور ضروری نہیں کہ اِسے دوسرے اجزا کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔ اس لیے اس کے مطالعے کو مؤخر نہ کیا جائے۔ البتہ پڑھتے وقت یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ یہ ایک مسلسل طویل مقالے کا ایک حصہ ہے ،تو پوری کتاب کے مضامین ذہن نشین کرنے میں سہولت رہے گی۔ تحریر کو حتی الامکان آسان بنانے کی کوشش تو بہت کی گئی ہے، لیکن بنیادی طور پر یہ ایک علمی اور تحقیقی مقالہ ہے۔ تحقیقی اسلوب اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ میں اپنے قارئین میں تحقیق کا ذوق بھی پیدا کرنا چاہتا ہوں اور انھیں اس کے اسالیب سے آشنا کرنا بھی ضروری خیال کرتا ہوں۔ اس لیے قارئین سے التماس ہے کہ وہ تحقیقی ذوق کی آبیاری اور مستند معلومات کے حصول کے لیے ان مضامین کا توجہ اور دلچسپی سے مطالعہ فرمائیں۔ ان شاء اللہ نفع ہو گا۔
بائبل میں بعض واقعات اور بعض انبیا کی آمد سے متعلق متعدد پیشین گوئیاں درج ہیں۔ ان میں سے بعض محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق ہیں، جو غیر مبہم اور واشگاف الفاظ میں آپؐ کی طرف اشارہ کرتی ہیں، تاہم ایسا شاذ ہی ہے کہ کسی آنے والے نبی کے متعلق اس کانام لے کر پیشین گوئی کی گئی ہو ۔ یہ قریباً ایک نادرویکتا مثال ہے کہ بائبل میں حضرت سلیمانں کی کتاب ’غزل الغزلات‘میں محمد رسول اللہ ﷺ کانام لے کرآپؐ کے متعلق پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یہ پیشین گوئی درج ذیل ہے:
میرا محبوب سرخ و سفید ہے، وہ دس ہزار میں ممتاز ہے۔ اس کا سر خالص سوناہے، اس کی زلفیں پیچ در پیچ اور کوے سی کالی ہیں ۔ اس کی آنکھیں ان کبوتروں کی مانند ہیں جو دودھ میں نہاکر لبِ دریاتمکنت سے بیٹھے ہوں ۔ اس کے رخسار پھولوں کے چمن اور بلسان کی ابھری ہوئی کیاریاں ہیں۔اس کے ہونٹ سوسن ہیں جن سے رقیق مُر ٹپکتا ہے ۔ اس کے ہاتھ زبر جد سے مرصع سونے کے حلقے ہیں۔ اس کا پیٹ ہاتھی دانت کاکام ہے، جس پر نیلم کے پھول بنے ہوں، اس کا ٹانگیں کندن کے پایوں پر سنگ مرمر کے ستون ہیں۔ وہ دیکھنے میں لبنان اور خوبی میں رشکِ سرو ہے۔اس کا منہ از بس شیریں ہے۔ ہاں وہ سرا پا عشق انگیز ہے، اے یروشلم کی بیٹیو! یہ ہے میرا محبوب، یہ ہے میرا پیارا۔ ۱؂
اردو ترجمہ صحت اور استدلال کے اعتبار سے اتنا درست اور معیاری نہیں کہ تحقیق کی بنیاد اسی پر رکھی جائے۔ اس لیے ذیل میں کنگ جیمز کا مستندانگریزی ترجمہ (AV/KJV)نقل کیاجارہاہے:
(10) My beloved is white and ruddy, the chiefest among ten thousand. (11) His head is as the most fine gold, his locks are bushy, and black as a raven. (12) His eyes are as the eyes of doves by the rivers of waters, washed with milk, and fitly set. (13) His cheeks are as a bed of spices, as sweet flowers: his lips like lilies, dropping sweet smelling myrrh. (14) His hands are as gold rings set with the beryl: his belly is as bright ivory overlaid with sapphires. (15) His legs are as pillars of marble, set upon sockets of fine gold: his countenance is as Lebanon, excellent as the cedars. (16) His mouth is most sweet: yea, he is altogether lovely. This is my beloved, and this is my friend, O daughters of Jerusalem. ۲؂
ذیل میں ’ایکسپوزیٹرز تفسیرِ بائبل‘ سے اس عبارت کی ایک جامع توضیح پیش کی جا رہی ہے:
He is both fair and ruddy, the chiefest among 10,000. For this is what he is like: a head splendid as finest gold; massive, curling, raven locks; eyes like doves by water brooks, and looking as though they had been washed in milk? an elaborate image in which the soft iris and the sparkling light on the pupils suggest the picture of the gentle birds brooding on the bank of a flashing stream, and the pure healthy eyeballs a thought of the whiteness of milk; cheeks fragrant as spices; lips red as lilies (The blood red anemones); A body like ivory, with blue veins as of sapphire; legs like marble columns on golden basis. The aspect of him is like great Lebanon, splendid as the far-famed cedars; and when he opens his lips his voice is ravishingly sweet. Yes, he is altogether lover. Such is her beloved, her dearest one. ۳؂
وہ خوبصورت بھی ہے اور سرخ بھی ۔ دس ہزار میں سب سے نمایاں اور سب سے بڑا سردار و سالار۔ کیونکہ وہ اسی طرح کا ہے ۔ اس کا سر اتنا شاندار ہے جیسے عمدہ ترین سونا، گتھی ہوئی گھنگھریالی کالی زلفیں، آنکھیں ان قمریوں کی مانند جو ندّی کے پانی کے ساتھ بیٹھی ہوں، اور ایسی لگیں جیسے دودھ میں دُھلی ہوئی ہوں۔ ایک کامل اور واضح تصویر، جس میں پُتلی کے گرد والا رنگین و نرم حصہ اور پتلیوں پر پڑنے والی چمکدار روشنی ذہن میں ان معصوم پرندوں کی تصویر پیش کرتی ہے جو روشنی منعکس کرنے والی ندیوں کے کنارے محوِ اِستراحت ہوں۔ خالص و صحت مند آنکھوں کے ڈھیلے ذہن میں دودھ جیسی پاکیزہ سفیدی کا تصور پیش کرتے ہیں۔ رُخساروں میں خوشبو کی ایسی مہک جیسے خوشبودار مصالحے۔ ہونٹ گل لالہ کی طرح سرخ ، ہاتھی دانت جیسا ملائم و سفید بدن، جس پر پتلی نیلی رگیں نیلم اور زمرد کی طرح چمک رہی ہیں۔ ٹانگیں ایسی جیسے سنہری پایوں پر سفید سنگ مرمر کے ستون۔ اس کا چہرہ مہرہ عظیم الشان کوہِ لبنان کی طرح عظیم اور دُور دُور تک مشہور دیوداروں کے درختوں کی طرح شاندار ہے۔ جب وہ بولنے کے لیے اپنا منہ کھولتا ہے تو اس کی آواز ایسی شیریں کہ [انسان کو]مسحورکُن مَسَرَّت سے معمور کردے۔ ہاں ہاں وہ سراپا پیار اور محبت ہے۔ ایساہے اس کا محبوب اور اس کاپیارا!
رونالڈ اے ناکس نے بھی نہایت اختصار اور خوبصورتی سے متعلقہ عبارت کی ایک جامع تصویر کھینچی ہے۔ وہ لکھتا ہے:
My sweetheart? Among ten thousand you shall know him; so white is the colour of his fashioning, and so red. His head dazzles like the purest gold; the hair on it lies close as the high palm-branches, raven hair. His eyes are gentle as doves by the brook-side, only these are bathed in milk, eyes full of repose. Cheeks trim as a spice-bed of the perfumer’s own tending; drench lilies in the finest myrrh, and you shall know the fragrance of his lips. Hands well rounded; gold set with jacynth is not workmanship so delicate; body of ivory and veins of sapphire blue; legs straight as marble columns, that stand in sockets of gold. Erect his stature as Lebanon itself, noble as Lebanon cedar. Oh, that sweet utterance! Nothing of him but awakes desire. Such is my true love, maidens of Jerusalem; such is the companion I have lost. ۴؂
میرا محبوب؟ تم اسے دس ہزار میں پہچان لوگے، اس کے بدن کا رنگ انتہائی سفید اور انتہائی سرخ [کاحسین امتزاج]ہے ۔ اس کا سر اِس طرح چمکتا ہے جیسے انتہائی خالص سونا، اس کے بالکل ساتھ اس کے بال ایسے لگتے ہیں جیسے پام کے درخت کی شاخیں، اور ان کی رنگت پہاڑی کوّ ے جیسی سیاہ ہے۔ اس کی آنکھیں ندی کنارے بیٹھی ہوئی فاختاؤں کی طرح معصوم ہیں، دودھ میں نہائی ہوئی ، سکون و آرام سے لبریز آنکھیں۔ ۵؂ رُخسار اتنے اجلے اور اچھے جیسے عطر ساز کے خاص اپنی نگرانی میں تیار کردہ خوشبو بھرے تختے، جیسے عمدہ ترین خوشبو میں رچے ہوئے گل لالہ، اور تم اس کے ہونٹوں کی خوشبو محسوس کرلو گے۔ ہاتھ خوب گول مٹول کہ سونے میں جڑے ہوئے زبرجد بھی اتنی حسین و نازک صناعی پیش نہیں کرتے۔ بدن ہاتھی دانت کا اور اس میں رگیں ایسی جیسے خوبصورت نیلم یا زمرد ، ٹانگیں مستقیم جیسے سفید سنگِ مرمر کے ستون جوسونے کے پایوں پر قائم ہوں۔ اس کا قدو قامت بذاتِ خود لبنان کی طرح ایستادہ ، اتنا شاندار اور معزز جیسے لبنان کے دیودار۔ ارے واہ اِس کی شریں گفتار کے کیا کہنے! اِس کا انگ انگ اُمنگیں اور آرزوئیں بیدارکرتا ہے۔ یہ ہے میر اسچا پیارا، اے یروشلم کی دوشیزاؤ! ایساہے میرا ساتھی جسے میں نے کھو دیاہے۔
’غزل الغزلات‘ کا مصنف
جہاں تک واقعات و اشخاص کی تصویر کھینچ کررکھ دینے والے اس مختصر طربیہ اور غنائیہ گیت کے مصنف کا تعلق ہے، تو اس کے متعلق مختلف آراہیں۔ تاہم بعض مستند مآخذ اسے حتمی طور پر حضرت سلیمانں سے منسوب کرتے ہیں۔ بائبل کے علما کی تصانیف کے معروضی مطالعے پر مبنی چندنِکات ذیل میں دیے جارہے ہیں (ان مستند مآخذ کے اقتباسات، جن کی بنیاد پر یہ نتائج اخذ کیے گئے ہیں، وہ بھی بعد میں دے دیئے گئے ہیں، لیکن وہ صرف ان قارئین کے لیے نقل کیے گئے ہیں، جو اِن نِکات کا اصل مآخذ سے موازنہ کرناچاہیں)۔
۱۔ بالعموم یہ بات مُسَلَّمہ تصور کی جاتی ہے کہ ’غزل الغزلات‘ کے مصنف حضرت سلیمانں ہیں۔
۲۔ تاہم پوری نظم ان سے منسوب نہیں کی جاسکتی۔
۳۔ حضرت سلیمانں نے تو یہ نظم دسویں صدی قبل مسیح کے وسط میں مرتب کی تھی ، لیکن اس کاآخری اِصلاح شدہ ایڈیشن بابل کی جلاوطنی کے بعد کے زمانے میں یعنی غالباً تیسری چوتھی صدی قبل مسیح میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
۴۔ بعض مُدَوِّنین نے اس میں فحاشی اور عریانی پر مبنی موادبڑی آزادی سے شامل کیا۔
۵۔ اس کے فحش اور غیر شائستہ مواد کی بنا پر بعض اکابر علما نے یہ بات مناسب محسوس کی کہ نوجوان نسل کے لیے اس کے مطالعے پر پابندی لگادی جائے۔
۶۔ اس میں ساخت کی یگانگت اور ہم آہنگی کا فقدان ہے اور اسے آزاد اور الگ الگ گیتوں کی ایک لڑی ہی تصور کیاجاسکتاہے۔
ذیل میں چند ایسے اقتباسات دیے جارہے ہیں جن کی بنیاد پر مندرجہ بالا نِکات اخذ کیے گئے ہیں اور جو یہ بات پورے زور شور سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان ں ان گیتوں میں سے اکثروبیشتر گیتوں کے مصنف تھے۔ ’دی نیلسن سٹڈی بائبل‘ کا بیان ہے:
The author of the Song of Solomon is Solomon, the son of David and the third king of Israel. He is named as the author and his name appears seven times in the book (i:1,5; iii:7,9, 11; viii:11,12). Even so, some have argued that the references to Solomon may be only a stylistic device and the author may have been from a later period. The arguments for this are inconclusive. But the fact that Solomon was known for his wisdom and poetry (see I Kin. iv:29-34) partially substantiates his authorship of this book. (133.). Ironically because of its explicit language, ancient and modern Jewish sages forbade men to read the book before they were thirty (and presumably kept women from reading it at all).۶؂
’غزل الغزلات‘ کے مصنف اسرائیل [کی سلطنتِ متحدہ] کے تیسرے بادشاہ اور حضرت داو‘د[ں] کے بیٹے حضرت سلیمان[ں] ہیں۔ مصنف کے طور پر ان کا نام لیا جاتا ہے اور ان کا نام کتاب میں سات مرتبہ آیا ہے (۱:۱،۵؛ ۳:۷،۹،۱۱؛ ۸:۱۱،۱۲)۔ اس کے باوجود بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ ہو سکتا ہے حضرت سلیمان[ں] کا حوالہ صرف اسلوب کی ایجاد پر مبنی ہو اور اصل مصنف بعد کے زمانے کا کوئی شخص ہو۔ اس کے حق میں جو دلائل دیے جاتے ہیں وہ نتیجہ خیز نہیں۔ اس کے برعکس یہ حقیقت ہے کہ حضرت سلیمان[ں] اپنی دانشوری اور شاعری کے لیے معروف تھے(ملاحظہ کیجیے ۱۔سلاطین۴:۲۹تا ۳۴)، ان کے کتاب کے مصنف ہونے کو جزوی طور پر تقویت بخشتی ہے۔ (....)۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ کتاب کی صریحاً فحش زبان کی وجہ سے قدیم و جدید یہودی دانشوروں نے ۳۰ سال کی عمر سے پہلے یہ کتاب پڑھنے سے منع کیا ہے(اور غالباً عورتوں کو تو اِس کے پڑھنے سے بالکل روک دیا ہے)۔
ڈاکٹر کینتھ نے ’دی اوپن بائبل‘ میں ’غزل الغزلات‘ کے تعارف میں اسی طرح کے نظر یات کا اظہار کیاہے۔ وہ لکھتے ہیں:
Solomonic authorship is rejected by critics who claim it is a later collection of songs. Many take 1:1 to mean “which is about or concerning Solomon.” But the internal evidence of the book strongly favors the traditional position that Solomon is its author. Solomon is specifically mentioned seven times (133), and he is identified as the groom. There is evidence of royal luxury and rich imported goods (e.g. 3:6-11). The king by this time also had sixty queens and eighty concubines (6:8). Solomon’s harem at its fullest extent reached seven hundred queens and three hundred concubines (1Kin. 11:3).
1Kings 4:32,33 says that Solomon spoke three thousand proverbs and composed 1,005 songs and had intimate knowledge of the plant and animal world. This greatest of his songs alludes to twenty-one species of plants and fifteen species of animals. It cites geographical locations in the north and in the south, indicating that they were still one kingdom. For example, 6:4 mentions both Tirzah and Jerusalem, the northern and southern capitals. (133), but Solomon was its author, probably early in his reign, about 965 B.C. There is a problem regarding how a man with a harem of 140 women (6:8) could extol the love of the Shulamite as though she were his only bride. (133). This book was also written before Solomon plunged into gross immorality and idolatry. ‘For it was so, when Solomon was old, that his wives turned his heart after other gods; and his heart was not loyal to the Lord his God’ (1Kin. 11:4).۷؂
جن نقادوں کا دعویٰ یہ ہے کہ گیتوں کا یہ مجموعہ بعد کے زمانے کاہے انھوں نے اس کے [حضرت] سلیمان[ں]کی تصنیف ہونے سے انکار کیاہے۔ بہت سے لوگ ۱:۱کامطلب بیان کرتے ہیں: ’جو [حضرت] سلیمان[ں]کے بارے میں ہے، لیکن کتاب کی داخلی شہادت اس روایتی نظریے کی پرزور تائید کرتی ہے کہ اس کے مصنف [حضرت] سلیمان[ں]ہی ہیں۔ [حضرت] سلیمان[ں] کا خاص طور پر سات مرتبہ ذکر کیاگیاہے۔(...)، اور ان کی دولھا کے طورپر نشان دہی کی گئی ہے۔ اس میں شاہانہ پُر تعیش اشیا اور قیمتی درآمدی سامان کی شہادت ملتی ہے (مثلا ۳:۶تا۱۱)۔اس وقت تک بادشاہ کی ۶۰ ملکائیں اور۸۰ کنیزیں تھیں(۶:۸)۔ اپنی آخری حد کو پہنچنے تک [حضرت] سلیمان[ں]کا حرم ۷۰۰ ملکاؤں اور ۳۰۰ کنیزوں پر مشتمل تھا(۱۔سلاطین ۱۱:۳)۔
۱۔سلاطین ۴:۳۲،۳۳کا بیان ہے کہ [حضرت] سلیمان[ں]نے تین ہزار ضرب الامثال لکھی ہیں اور ایک ہزار پانچ گیت مرتب کیے ہیں، اور وہ عالم نباتات و حیوانات کا گہراعلم رکھتے تھے۔ اُن کے اِس سب سے بڑے گیت میں پودوں کی اِکیس انواع اور جانوروں کی پندرہ انواع کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔اس میں شمال او ر جنوب کے جغرافیائی مقامات کا حوالہ دیاگیاہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ اس وقت تک ایک ہی سلطنت کا حصہ تھے۔ مثال کے طور پر ۶:۴ میں شمالی اور جنوبی دارالحکومتوں طِرزہ۸؂ اور یروشلم دونوں کا ذکر ہے۔(...)، لیکن [حضرت] سلیمان[ں]نے اپنے عہدِ حکومت کے غالباً ابتدائی ایام میں، قریباً ۹۶۵ق ممیں، اِسے مرتب کیاتھا۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ۱۴۰ عورتوں کے حرم والا ایک آدمی (۶:۸) کس طرح اس شلیمائٹ عورت کے عشق کی اس طرح بڑھ چڑھ کر تعریف کرسکتا ہے جیسے کہ وہ اس کی اکلوتی دلھن ہو۔(...)۔ یہ کتاب بھی [حضرت] سلیمان[ں]کے صریحاً غیر شائستہ بدچلنی اور بت پرستی میں ملوث ہونے سے پہلے لکھی گئی تھی[معاذاللہ! نقل کفر، کفر نباشد]۔ کیونکہ جب [حضرت] سلیمان[ں]بڈھاہوگیا تو اس کی بیویوں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کرلیا، اور اس کا دل خداوند اپنے خداکے ساتھ کامل [وفادار]نہ رہا (’کتابِ مقدس‘، ۱۔سلاطین ۱۱:۴)۔
’دی نیو جیروسیلم بائبل‘ نے اس موضوع پر مندرجہ ذیل اندا ز میں گفتگو کی ہے:
That Solomon was a writer of songs, Hebrew tradition was aware, 1K 5:12; for this reason ‘the greatest of all songs’ was attributed to him (hence the title, Sg 1:1); (...). People have found it surprising that a book that makes no mention of God and whose vocabulary is so passionate should figure in sacred canon. The doubts in Jewish circles of the first century AD were, however, settled by an appeal to tradition. On these same grounds the Christian Church has always accepted the Song as part of holy scripture. (....). The inspired and canonical status of the Song leads these commentators to suppose that it must be celebrating something other than profane love. (133.). The Song proclaims the lawfulness and exalts the value of human love; and the subject is not merely profane, (...). We have no right to set a limit to God’s inspiration. (133.), the dating of the book becomes more difficult to establish. Some scholars assign it to a date as early as the reign of Solomon, but the Aramaic features of the language, and the borrowing of one word from Persian, 4:13, and of another from Greek, 3:9, indicate a date after the Exile , in the fifth or fourth centuries BC. The place of composition was certainly Palestine. ۹؂
عبرانی روایت اس امر سے آگاہ تھی کہ [حضرت] سلیمان[ں] اس گیت کے ایک مصنف تھے، ۱۔سلاطین ۵:۱۲؛ اسی وجہ سے ’سب گیتوں سے بڑا گیت‘ ان کی طرف منسوب کیاگیا تھا، (’غزل الغزلات‘ ۱:۱ میں عنوان کی یہی وجہ ہے)؛ (...)۔لوگوں کو اس امر پر بڑی حیرت محسوس ہوتی ہے کہ ایک ایسی کتاب جس میں خداوندتعالیٰ کا کوئی ذکر نہیں اور جس کا ذخیرۂ الفاظ اتنا جذباتی ہے، بائبل کی مقدس کتب کی فہرست میں کس طرح شامل کرلی گئی ہے۔ تاہم پہلی صدی عیسوی کے یہودی حلقوں کے شکوک کا روایت سے رجوع کی وجہ سے تصفیہ ہوگیا۔ انھیں اسباب کی بنا پر مسیحی کلیسیا نے ہمیشہ ’غزل الغزلات‘ کو صُحُفِ سماوی کا حصہ تسلیم کیاہے۔(...)۔’غزل الغزلات‘ کی الہامی اور مُسلَّمہ اِستنادی حیثیت ان مفسروں کو یہ بات فرض کرنے پر آمادہ کرتی ہے کہ یہ فحش اور ناپاک محبت کے بجائے کسی اور چیز کی ستایش پر مبنی ہے۔(....)۔ ’غزل الغزلات‘ انسانی محبت کی قدر وقیمت میں اضافہ کرتی ہے اوراس کے جواز کا اعلان کرتی ہے اور سچ یہ ہے کہ اس کا موضوع محض بے حیائی نہیں،(...)۔ہمیں اس بات کا کوئی حق حاصل نہیں کہ ہم خداوند تعالیٰ کے الہام کے لیے حدود کا تعین کریں۔(....)،کتاب کی تاریخِ تصنیف کا تعین مزید مشکل ہو جاتاہے ۔ بعض علما اس کی تاریخِ تصنیف اتنی پہلے کی بتاتے ہیں جتنی کہ [حضرت] سلیمان[ں] کی حکومت ، لیکن زبان کے ارامی خدوخال اور ایک لفظ فارسی سے لینا، ۴:۱۳، اور دوسرا لفظ یونانی سے، ۳:۹، جلاوطنی ۱۰؂ کے بعد کی کسی تاریخ ،پانچویں اور چوتھی صدی قبل مسیح، کی طرف اشارہ کرتاہے ۔ اس کی تالیف کا مقام یقینی طور پر فلسطین تھا۔
’دی نیو انٹرنیشنل ورشن (NIV)سٹڈی بائبل‘ نے اس موضوع پر ’غزل الغزلات‘ پر اپنے تعارف میں مختصر بحث کی ہے۔ اس میں درج ہے:
To date the Song in the tenth century B.C. during Solomon’s reign is not impossible. In fact, mention of Tirzah and Jerusalem in one breath (6:4) has been used to prove a date prior to King Omri (885-874 BC ; see 1Ki 16:23-24), though the reason for Tirzah’s mention is not clear. On the other hand, many have appealed to the language of the Song as proof of a much later date, but on present evidence the linguistic data are ambiguous.۱۱؂
’غزل الغزلات‘ کی تاریخِ تالیف کا دسویں صدی قبل مسیح میں [حضرت] سلیمان[ں]کے عہدِ حکومت کے دَوران میں تعین غیر ممکن نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ طرِزہ اور یروشلم کا ایک ہی سانس میں ذکر(۶:۴)شاہ اومری (۸۸۵ تا ۸۷۴ ق م۱۲؂ ملاحظہ کیجیے۱۔ سلاطین ۱۶:۲۳تا ۲۴) سے پہلے کی کوئی تاریخ ثابت کرنے کے لیے کیاگیا ہے، اگرچہ طرِزہ کے ذکر کی وجہ واضح نہیں۔ دوسری طرف بہت سے علما نے ’غزل الغزلات‘ کی زبان کو بہت بعد کی تاریخ کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن موجودہ شہادت کے لحاظ سے لسانی مواد مبہم اور غیر واضح ہے۔
ولیم سمتھ کی ’لغت بائبل‘ کا بیان ہے:
It was probably written by Solomon about B.C. 1012. ۱۳؂
یہ[حضرت] سلیمان[ں]نے قریباً ۱۰۱۲ ق م میں لکھی تھی۔
جان ٹی بن نے یہ بات زیادہ علمی اندا زمیں واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتا ہے:
The muteness of the book on matters of Israelite religious tradition is quite striking. (133.). Internal references to Solomon (1:1,5; 3:7-9,11; 8:11-12), together with the statement in 1Kings 4:32, were deemed authoritative enough to ascribe the work to him. A question did arise, however, as to when Solomon composed the book. (...). Thus the date of writing would have been shortly before 961 B.C. (133.). Although many of the poetic fragments predated by hundreds of years the time of editing, the presence within the book of Aramaic, Persian, and Greek language influence indicates a late date for its finalized form. Generally a date within the span of the third century B.C. is assigned to the composition as it now stands. ۱۴؂
اسرائیل کی مذہبی روایت کے معاملات کے بارے میں کتاب کی خاموشی نہایت قابلِ توجہ ہے۔ (....)۔ ۱۔سلاطین ۴:۳۲کے بیان کے ساتھ ساتھ [حضرت] سلیمان[ں] کے متعلق اندرونی حوالے(۱:۱۔۵؛ ۳:۷۔۹؛ ۸:۱۱۔۱۲) اس تصنیف کو ان سے منسوب کرنے کے لیے کافی مستند سمجھے گئے۔ تاہم یہ سوال ضرور پیدا ہوا کہ [حضر ت] سلیمان [ں]نے یہ کتاب کب تالیف کی۔ (....)۔اس طرح تصنیف کی تاریخ ۹۶۱ ق م سے فوری پہلے کی ہوگی۔ (....)۔اگرچہ متعدد شاعرانہ اجزا تدوین کے وقت سے سینکڑوں سال پہلے سے موجود تھے، تاہم کتاب پر ارامی، فارسی اور یونانی زبانوں کا اثر اس کی آخری اور حتمی ہیئت کے لیے بعد کی کسی تاریخ کی دلالت کرتاہے ۔ کتاب جس حالت میں آج موجود ہے، اُس کی عموماً تیسری صدی ق م کے حدود کے اندر کی کوئی تاریخ ہی بیان کی جاتی ہے۔
والٹر ایف ایڈینی کو اس میں ساخت کی کوئی وحدت نظر نہیں آتی ۔ وہ لکھتا ہے :
There are indications that it is a continuous poem; and yet it is characterized by startling kaleidoscopic changes that seem to break it up into incongruous fragments. If it is a single work the various sections of it succeed one another in the most abrupt manner, without any connecting links or explanatory clauses. The simplest way out of the difficulty presented by the many curious turns and changes of the poem is to deny it any structural unity, and treat it as a string of independent lyrics. ۱۵؂
اگرچہ اس بات کی دلالتیں بھی موجود ہیں کہ یہ ایک مسلسل نظم ہے تاہم اس میں چونکا دینے والی سیر بینی تبدیلیوں کی خصوصیات موجود ہیں، جو اس طرح کی ہیں کہ اِسے غیر مربوط اجزا میں تقسیم کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر یہ ایک واحد تالیف ہے تو اس کے مختلف اجزا ایک دوسرے کے بعد بہت ہی اچانک انداز میں بغیر کسی جوڑنے والی لڑی یا توضیحی جملوں کے وارد ہوئے ہیں۔ نظم کے متعدد عجیب و غریب موڑ وں اور تبدیلیوں میں پائی جانے والی مشکل سے نکلنے کا سادہ ترین طریقہ یہی ہے کہ اس میں ساخت کی کسی ہم آہنگی اور وحدت کا انکار کرکے اسے الگ الگ اور آزاد نغموں کی ایک لڑی قرار دے لیا جائے۔
کیلوِن کرسچین ریفارمڈ چرچ، اوٹاو ا کے پاسٹر، ڈاکٹر سیئرڈوُڈ سٹرا کا بیان ہے کہ اس کے مصنف حضرت سلیمانں تھے ۔وہ لکھتے ہیں:
Although the first verse of chapter 1 can also be read: ‘The Song of Songs which is about or concerning Solomon,’ the traditional view has been to regard Solomon as the author of the Song. Since the contents of the book is [sic] fully in harmony with the great gifts of wisdom which we know Solomon possessed (1Kgs 4:32,33), there is no sufficient ground to deviate from this historic position. ۱۶؂
اگرچہ پہلے باب کی پہلی آیت کو ’غزل الغزلات،جو [حضرت] سلیمان[ں] سے متعلق یا ان کے بارے میں ہے‘ بھی پڑھا جاسکتا ہے، تاہم روایتی نقطہ نظر یہی رہاہے کہ [حضرت] سلیمان[ں] ہی کو’غزل الغزلات‘ کا مصنف سمجھاجائے کیونکہ، کتاب کے مشمولات عقل و دانش کی ایسی عظیم نعمتوں کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہیں، جن کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ [حضرت]سلیمان [ں]ان سے مالا مال تھے (۱۔سلاطین ۴:۳۲،۳۳)، اس لیے اس امر کی کوئی قابل لحاظ بنیاد نہیں کہ ہم اس مسلمہ تاریخی پوزیشن سے انحراف کریں۔
ڈبلیو جے کیمرون، پروفیسر نیوٹسٹامنٹ لینگویج اینڈ لٹریچر، فری چرچ کالج، ایڈنبرا کا بیان ہے:
The title may mean either that the Song is composed by Solomon or that it is about him. Tradition uniformly favours the former interpretation. Some modern scholars, however, have maintained that the large number of foreign words used in the poem would not occur in the literature of Israel before the post-exilic period. Others think, with Driver, that the widespread contacts of Israel with foreign nations during the reign of Solomon would sufficiently account for the presence of these words in the book. If this view be accepted, and if it is assumed that there are only two principal characters in the Song, there does not appear to be any substantial reason for setting aside the traditional view of the authorship. ۱۷؂
ٹائٹل سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ یہ گیت [حضرت] سلیمان[ں] نے لکھا ہے اور اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ان کے بارے میں لکھا گیاہے۔ روایت متفقہ طور پر پہلی تعبیر کی [کہ یہ حضرت سلیمانں ہی نے لکھاہے]تائید کرتی ہے۔تاہم چند جدید علما اس بات کے قائل ہیں کہ نظم میں استعمال شدہ متعدد غیر ملکی الفاظ جلاوطنی سے بعد کے زمانے سے قبل اسرائیل کے ادب میں موجود نہیں ہوسکتے تھے۔ ڈرائیور سمیت دوسرے علما کا خیال ہے کہ [حضرت] سلیمان[ں] کے عہد کے دوران میں اسرائیل کے غیرقوموں سے وسیع تعلقات کا فی حد تک کتاب میں ان الفاظ کی موجودگی کا باعث ہوسکتے ہیں۔ اگریہ نقطہ نظر تسلیم کرلیاجائے اور پھراگریہ بھی فرض کرلیاجائے کہ ’غزل الغزلات‘ میں صرف دو بڑے اورمرکزی کردار ہیں، تو کتاب کی تصنیف کے متعلق روایتی نقطہ نظر کو بالائے طاق رکھ دینے کی کوئی ٹھوس وجہ دکھائی نہیں دیتی۔
جان اے بال چن منسٹر آف فرسٹ پریسبٹیرین چرچ ، پاک پورہ، نیوزی لینڈ نے ایک متوازن نقطہ نظر اختیار کیاہے ۔ ان کا خیال ہے:
The presence of some later words indicates either a date after Solomon’s time or that the book had its final redaction, though not its original composition, in a later period. ۱۸؂
چند بعدکے زمانے والے الفاظ کی موجودگی یا تو [حضرت] سلیمان[ں]کے دور سے بعد والی کسی تاریخ کی نشاندہی کرتی ہے، یا پھر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ کتاب کی ابتدائی تالیف تونہیں لیکن اس کی آخری تدوین و تکمیل بعد کے کسی زمانے میں ہوئی ہے۔
ایم ٹموتھیا ایلیٹ آرایم ایس، یو ایس اے کاخیال ہے :
(...), it is esteemed as one of the most unusual and beautiful books of the Bible. (...). Rabbi Akiba, for example, toward the end of the first century remarked, ‘All the world is not worth the day that the Song of Songs was given to Israel. All the writings are holy, but the Song of Songs is the holy of holies’. Another rabbi of this period exaggeratingly commented, ‘If God had not given the Torah to Israel, the Song of Song would be sufficient to govern the universe.’ ۱۹؂
(...)،اسے بائبل کی کتابوں میں سے ایک انتہائی غیر معمولی اور نہایت حسین کتاب کا درجہ دیاجاتا ہے۔ (...)۔مثال کے طور پر پہلی صدی کے خاتمے کے قریب ربِّی عقیبہ کہتا ہے: ’پوری دنیا بھی اس دن جیسی قدرو قیمت نہیں رکھتی ، جس دن اسرائیل کو ’’غزل الغزلات‘‘ دی گئی تھی۔ تمام تحریریں مقدس ہیں لیکن ’’غزل الغزلات‘‘ قدس الاقداس ہے‘۔ اسی دور کا ایک اور ربّی مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے اس کی تشریح کرتا ہے: ’اگر خداوند تعالیٰ اسرائیل کو تورات نہ دیتا تو ’’غزل الغزلات ‘‘ہی کائنات پرحکمرانی کے لیے کافی ہوتی‘۔
’دی اینو ٹیٹڈ پیرا گراف بائبل‘ نے ’غزل الغزلات‘ کے حضرت سلیمانں کی طرف سے لکھے ہونے کی وجہ جواز بیان کی ہے۔ وہ لکھتا ہے:
The title also agrees with all ancient writers on the subject in ascribing this poem to Solomon [stress added]; and this too is corroborated by internal evidence. (...). All this is just what might naturally be expected if Solomon were the author. ۲۰؂
یہ جو اِس موضوع پر لکھنے والے تمام قدیم مصنفین نے اس نظم کو[حضرت] سلیمان[ں] سے منسوب کیاہے، تو ٹائٹل بھی اِس کی تائید کرتا ہے اور داخلی شہادت بھی اسے درست قرار دیتی ہے۔ (...)۔ اگر[حضرت] سلیمان[ں] اس کے مصنف ہیں تو یہ سب کچھ وہی ہے جس کی فطری طورپر توقع کی جاسکتی ہے۔
مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ’غزل الغزلات‘ ابتدائی طور پر دسویں صدی ق م میں حضرت سلیمانں ہی نے لکھی تھی، جو مسلمہ طورپر ایک شاعر، ایک مصنف، ایک دانشور اور ایک ذہین عالم تھے۔ اس کی آخری تدوین قریباً چوتھی صدی ق م میں عمل میں آئی۔ اس عمل کے دوران میں بعض تحریفات ، تخریبات اور فحش مواد اس میں شامل ہوگیا ۔ عریانی و فحاشی کی بنا پر اس بات کی نصیحت کی گئی کہ عورتوں اور نوجوانوں کو اسے پڑھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ بات صاف ظاہر کرتی ہے کہ یہ فحش مواد حضرت سلیمانں کا لکھا ہوا نہیں ہوسکتاتھا۔
کتاب کا یہ باب لکھنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ اس پیشین گوئی کے مبینہ طور پر محمد رسول اللہ ﷺ پر مکمل اطلاق کو دیکھ کر بعض اہلِ کتاب علما نے اس کے حضرت سلیمانں کی تصنیف ہونے ہی کو مشتبہ قرار دے دیا ہے اور اس سلسلے میں اس بات کی پرواہ بھی نہیں کی کہ اس سے خود بائبل ہی کی استنادی حیثیت محروم ہو کر رہ جائے گی۔

پیشین گوئی کا متن اور اس کی اِستنادی حیثیت
۱؂ ۔ ’کتابِ مقدس‘،غز ل الغزلات ۵:۱۰تا ۱۶۔
2. Song of Solomon 5:10-16 AV (Authorized Version). This Version is also called KJV (King James Version).
3. Walter F. Adeney, the commentary on the ‘Song of Solomon’ in The Expositor’s Bible (London: A.C. Armstrong and Son, 1903), 30.
4. Ronald A. Knox, The Old Testament: Job-Machabees (London: Burns Oats and Washbourne Ltd, 1949), 2:970.
5. Knox explains it in his footnote as:
‘Eyes full of repose’; we can only make guesses at the meaning of the Hebrew phrase, ‘reposing upon fullness’, which the Latin version renders ‘residing by the floods’. (p. 970).
ناکس اپنے حاشیے میں وضاحت کرتاہے:
سکون و آرام سے لبریز آنکھیں، ہم اس عبرانی ترکیب کے مفہوم کا صرف اندازہ ہی کرسکتے ہیں: ’معموریت پر آرام کرتے ہوئے جس کا مفہوم لاطینی ترجمے میں اس طرح بیان کیاگیاہے: ’سیلابوں کے پہلو بہ پہلو رہائش پذیر‘۔
حقیقت میں اس ترکیب کی مندرجہ بالا تشریحات کو دیکھ کر اندازہ ہوتاہے کہ یاتو یہ ایک بے معنی ترکیب ہے اور یا یہ شارحین یا مفسرین اس کے اصل مفہوم تک پہنچ ہی نہیں پائے۔
6. The Nelson Study Bible, ed. Earl D. Radmacher (Nashville: Thomas Nelson Publishers, 1997), 1097.
7. The Open Bible Expanded Edn., ed. Kenneth D. BOA. Ph.D. (Nashville, NY: Thomas Nelson Publishers, 1985), 667,68.
۸؂ ۔ طِرزہ سامریہ کے مشرق میں قریباً دس میل کے فاصلے پر ایک خوبصورت شہرہے۔ یہ۸۷۱ق م تک اسرائیل کی شمالی سلطنت کا دارالحکومت رہاہے، جب شاہ اومری نے دارالحکومت سامریہ میں منتقل کردیا۔
9. New Jerusalem Bible, ed. Henry Wansbrough (Bombay: Saint Paul Society, 23rd Road, T.P.S. III, Bandra, 400 050, 1993), 1027-29.
۱۰؂۔ کتاب کی کسی بعد کی تاریخِ تصنیف کے تعین کے لیے یہ کوئی کافی وجہ نہیں ہے۔ ان غیر ملکی الفاظ کی موجودگی کے کچھ دوسر ے اسباب بھی ممکن ہوسکتے ہیں،مثلاً:
اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی کہ ’غزل الغزلات‘ یا اس کی بعض آیات میں بعد میں کسی وقت کچھ چیزیں شامل کردی گئی ہوں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ متحدہ سلطنت کے عہد میں ان اقوام کے باہمی تعامل کے نتیجے میں یہ الفاظ یہودیوں کی زبان کا حصہ بن گئے ہوں۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تجارتی، ڈپلومیٹک، معاشرتی، تعمیراتی وفود اور سرگرمیوں کے نتیجے میں ایسے الفاظ حضرت سلیمانں کے عہدِ حکومت سے بھی پہلے عبرانی زبان میں شامل کرلیے گئے ہوں۔
کتاب کی ابتدائی تالیف تو اگرچہ بعد میں نہیں بلکہ پہلے ہوچکی تھی لیکن اس کی آخری تدوین کسی بعد کے زمانے میں ہوئی تھی (ملاحظہ کیجیے ’دی نیو بائبل کمنٹری‘ نظر ثانی شدہ، ۵۷۹۰)۔
11. The NIV Study Bible, Gen. ed. Kenneth Barker (Michigan: Zondervan Publishing House, Grand Rapids, 1995), 997.
۱۲؂۔ دوسرے اکثر علما کے خیال میں یہ تاریخیں ۸۷۶ تا ۸۶۹ ق م ہیں۔
13. William Smith, A Dic. of Bible (Michigan: Regency Reference Library, Zondervan Publishing House, Grand Rapids, 1984), 105.
14. The Broadman Bible Com., ed. Clifton J. Allen, et al. (Nashville: Broadman Press, 1971), 5:128-30.
15. Walter F. Adeney, Prof. NT Exegesis and Church History, New College, London, ‘The Song of Solomon’ in The Expositor’s Bible (NY: A. C. Armstrong and Son, 1903), 3.
16. The Wycliffe Bible Commentary, ed. Charles F. Pfieffer (Chicago: Moody Press, 1983), 595.
17. The New Bible Commentary, ed. Rev. F. Davidson (Michigan: W M. B. Eerdmans Publg. Co., Grand Rapids, 1953), 547.
18. The New Bible Commentary: Revised, ed. Dr. D. Guthrie, London Bible College (London: Inter-Varsity Press, 1972), 579.

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت فروری 2010
مصنف : عبدالستار غوری
Uploaded on : Sep 07, 2016
488 View