سریانی و ارامی زبان کے بارے میں وضاحت - عبدالستار غوری

سریانی و ارامی زبان کے بارے میں وضاحت

[’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

 

ماہنامہ’’ الاعتصام‘‘ ۱؂ صفحہ ۸ میں شیخ الحدیث حضرت مولانا ثناء اللہ خان صاحب مدنی مدظلہ نے ایک سوال کے جواب میں ’سریانی‘ زبان کے متعلق چند تصریحات درج فرمائی ہیں۔ مولانا مدنی کے جواب کا پہلا جملہ درست ہے کہ ’سریانی مستقل زبان کا نام ہے۔‘لیکن یہ بات درست نہیں کہ ’انجیل سریانی زبان میں تھی۔‘ مولانا مدنی نے یہ بات شہاب الدین احمد قسطلانی کی ’’ارشاد الساری‘‘ کے حوالے سے نقل کی ہے۔ علامہ قسطلانی نے یہ بات کسی باقاعدہ حوالے یا علم کی بنا پر نہیں کہی، بلکہ محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے ایک سنی سنائی بات نقل کر دی ہے اور اس سلسلے میں خود کوئی تحقیق نہیں کی۔ اس بات کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ علامہ قسطلانی نے یہ بیان’قیل‘ (کہا جاتا ہے) کے صیغۂ مجہول کے تحت لکھا ہے۔
جو لوگ بائبل کے متعلق تھوڑی بہت معلومات رکھتے ہیں، ان سے یہ بات مخفی نہیں کہ انجیل ابتدا ہی سے یونانی (Greek)زبان میں لکھی گئی تھی۔ جبکہ حضرت مسیح کی زبان ارامی (Aramaic)تھی اور انھوں نے اپنے مواعظ و بشارات اسی ارامی زبان میں ارشاد فرمائے تھے۔ لیکن ان کے جو ارشادات بائبل کے عہد نامہ جدید کی چاروں انجیلوں اور دیگرتحریروں میں درج ہیں، وہ کبھی بھی اپنی اصلی حالت میں (ارامی زبان میں) نہیں لکھے گئے تھے۔ ان کے ضبط تحریر میں لائے جانے کی ابتدا ہی ترجمے سے ہوئی اور وہ شروع ہی سے یونانی زبان میں لکھے گئے تھے۔ ایسا نہیں ہوا کہ انجیلیں شروع میں اپنی اصلی حالت میں ارامی زبان میں لکھی گئی ہوں اور بعد میں ان کا یونانی میں ترجمہ ہو گیا ہو، بلکہ ان کی ابتدا ہی یونانی ترجمے سے ہوئی ہے۔ یعنی ’ مر ی تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی۔‘
ارامی زبان ،سامی النسل (Semitic)زبانوں کا ایک گروہ ہے، جو عبرانی زبان (Hebrew)سے بہت قریب ہے۔ عبرانی بائبل کے عہد نامہ قدیم میں کتاب عزرا، کتاب دانیال اور کتاب یرمیاہ کی بعض عبارتوں کی زبان ارامی ہے۔ عہد نامہ جدید میں صلیب پر حضرت عیسیٰ کی طرف جو فقرہ منسوب کیا جاتا ہے (ایلی ایلی لما سبقتنی) وہ بھی ارامی کا جملہ ہے۔ بائبل کے کچھ ترجمے اور حواشی ارامی زبان میں لکھے گئے تھے اور ترجموں وغیرہ کی اس صنف کا مستقل نام ہی ترجوم (Targum) ہے۔ اس سے لفظ ’ترجمہ‘ ہمارے ہاں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ارام اصل میں شام اور اس کے شمالی مشرقی خطے کا مجموعی نام تھا۔
ارامی زبان ایک وسیع زبان ہے جو بالعموم چار گروہوں میں تقسیم کی جاتی ہے:
-1 قدیم ارامی
-2 دفتری و سرکاری ارامی
-3 بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل کے علاقوں کی ارامی (Lavantine Aramic)
-4 مشرقی ارامی
مشرقی ارامی میں (الف) بابل کے یہودیوں کی ارامی (ب) مینڈین ارامی (عراق کے مینڈینز کے مذہبی ادب کی زبان) (ج) سریانی اور (د) جدید سریانی شامل ہیں۔
اس طرح سریانی درحقیقت ارامی کی ذیلی بولی (Dialect)ہے۔ مشرقی ارامی زبان کی اس بولی کو مسیحیوں نے اختیار کر لیا تھا، لیکن غالباً یہ اس علاقے میں حضرت عیسیٰ کی آمد سے پہلے بھی رائج تھی۔ ۴۵۱ء کی کونسل کے مباحث کے بعد ارامی بولنے والے اکثر و بیش تر مسیحیوں نے سریانی کو اپنی کلیسائی اور ثقافتی زبان کے طور پر اختیار کر لیا۔ اس سے ان کا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے مذہب و ثقافت کو بازنطینی اثرات سے بچا سکیں۔ اس طرح ان کے ذریعے سے اس سریانی زبان کے اثرات مشرق میں ایران، ترکستان، ہندوستان اور چین میں، مغرب میں ایشیاے کوچک ، شام اور فلسطین میں اور جنوب میں عرب اور مصر میں بھی پھیل گئے۔ ارمینیا، مصر اور عرب کی زبانوں کو اس نے بہت متاثر کیا۔ اسلامی فتوحات کے بعد بول چال کی زبان کے طور پر عربی نے اس کی جگہ لے لی ۔ ادبی مقاصد کے لیے سریانی پندرھویں صدی تک رائج رہی اور بعض شامی کلیساؤں میں یہ اب بھی مراسم عبادت کی زبان کے طور پر مستعمل ہے۔ موصل اورکردستان کے بعض دیہی علاقوں کے گھروں میں بول چال کی زبان کے طور پر یہ ابھی تک رائج ہے، لیکن عربی زبان کے ادبی، لسانیاتی اور صوتی اثرات اس پر بہت زیادہ ہیں اور بازاروں اور دفتروں میں اس کا اتنا رواج نہیں، کیونکہ وہاں پر عربی زبان کا استعمال زیادہ ہے۔ عربی زبان کا رسم الخط نباتی (یا نبطی) حروف ابجد سے ماخوذ ہے، لیکن خود نباتی (نبطی) رسم الخط کا وجود سریانی ا ور ارامی رسم الخط کا مرہون منت ہے۔
بلاشبہ مولانا مدنی بالعموم اپنا موقف سند کے ساتھ بیان فرما تے ہیں۔ اس میں بھی مجال کلام نہیں کہ یہ ایک علمی رویہ ہے۔ مولانا کو اس پر بجا طور پر فخر بھی ہے، لیکن سند اور حوالے کی داخلی حیثیت پر فکر و تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ مولانا نے ’’ارشاد الساری‘‘ سے نقل فرمایا ہے: ’’کہا جاتا ہے کہ تورات عبرانی اور انجیل سریانی زبان میں تھی۔‘‘ اس جملے کے دو اجزا ہیں۔ پہلا حصہ’ ’تورات عبرانی زبان میں تھی‘‘ بڑی حد تک درست ہے (اگر چہ اس میں بعض ارامی زبان کی عبارتیں بھی موجود ہیں)۔ جہاں تک دوسرے حصے کا تعلق ہے کہ ’’انجیل سریانی زبان میں تھی‘‘ تو یہ بات سراسر غلط ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ علامہ قسطلانی جیسے فاضل محقق نے یہ جملہ ایک سنی سنائی بات کی بنیاد پر لکھ دیا، جیسا کہ جملے کے شروع میں رقم طراز ہیں ’’کہا جاتا ہے کہ‘‘ یہ ایک اہم بات ہے اور اسے لکھنے سے پہلے علامہ قسطلانی کو متعلقہ اہل علم یا کتب سے رجوع کر لینا چاہیے تھا، جو اتنا دشوار نہ تھا۔ اس طرح علامہ کو اصل صورت حال کا پتا چل جاتا۔ مولانا مدنی بھی اگر علامہ پریوں اندھا اعتماد نہ کرتے، بلکہ کسی متعلقہ صاحب علم یا متعلقہ کتب سے رجوع کر لیتے، جو بہت مشکل نہ تھا، تو وہ کبھی یہ بات نقل نہ کرتے۔
حقیقت حال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کے دور میں ارض مقدس اور اس کے متعلقہ علاقوں کی عام روزمرہ بول چال کی زبان ارامی تھی۔ (اگرچہ سرکاری، دفتری اور علمی مقاصد کے لیے یونانی زبان بھی جڑ پکڑ چکی تھی)۔ حضرت عیسیٰ نے اپنا پیغام ارامی زبان میں پہنچایا تھا۔ اس طرح انجیل کی اصل زبان بھی ارامی تھی (اگرچہ اس زبان میں اسے لکھا کبھی نہیں گیا، بلکہ یہ شروع ہی سے یونانی زبان میں ضبط تحریر میں لائی گئی تھی)۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک آتے آتے (حضرت عیسیٰ سے قریباً چھ صدی بعد) مسیحی حلقوں میں اور ارض مقدس کے علاقوں (شام اور فلسطین وغیرہ) میں ارامی کی جگہ سریانی نے لے لی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا تھا۔ نبی اکرم کے دور میں مسیحیوں اور ارض مقدس کی روزمرہ بول چال اور عوامی رابطوں کی زبان(Lingua Franca)تو بلا شبہ سریانی (Syriac)تھی، لیکن یہ انجیل کی زبان ہرگز نہ تھی۔ چنانچہ اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علامہ قسطلانی کی یہ بات کہ’انجیل سریانی زبان میں تھی‘ سراسر غلط ہے۔
مولانا مدنی کے اس جواب کے آخری پیراگراف کا پہلا جملہ ہے ’عربانی زبان کی اصل سریانی ہے‘ یہاں کمپوزنگ کی غلطی ہو گئی ہے ، کیونکہ ’عربانی‘ نام کی کوئی زبان کبھی سنی نہیں گئی۔ اصل لفظ غالباً ’عربی‘ ہو گا یا پھر ’عبرانی‘۔ اگر کہا جائے ’عبرانی زبان کی اصل سریانی ہے‘ تو یہ بات محل نظر ہے۔ البتہ یہ بات بالعموم درست مانی جاتی ہے کہ عربی زبان سریانی سے کافی متاثر ہوئی ہے، اس کی اصل سریانی ہے ۔ اگرچہ اسے بھی مسلمہ حقیقت کی حیثیت حاصل نہیں ۔ مولانا مدنی نے یہ بات فاکہی کی ’اخبار مکہ‘ کے حوالے سے لکھی ہے۔ بہتر ہو گا کہ جریدے کی قریبی اشاعت میں اصل ماخذ سے رجوع کرکے اس کی وضاحت کر دی جائے۔
بائبل کے بارے میں ہمارے بزرگوں کی سہل انگاری کی ایک اور مثال’’الاعتصام‘‘ کے اسی شمارے میں صفحہ ۲۴کالم۲کی ابتدائی دو سطور میں’ ’الاتقان‘‘ کے حوالے سے دیکھی جا سکتی ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے اصفہانی کے حوالے سے لکھا ہے’ ومن سور الانجیل سورۃ تسمی سورۃ الامثال‘ ۲؂ مولانا محمد حلیم انصاری اس کا اردو ترجمہ ۳؂ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اور انجیل کی سورتوں میں سے ایک سورہ کا نام الامثال ہے۔‘‘ ’’الاعتصام‘‘ کے مضمون نگار جناب حماد ظفر سلفی لکھتے ہیں: ’’بلکہ انجیل کی ایک پوری سورہ کا نام بھی امثال ہے۔‘ ‘اس سلسلے میں مختصراًگزارش ہے کہ انجیل حضرت عیسیٰ سے منسوب کتاب ہے، جو بائبل کے عہد نامۂ جدید کا حصہ ہے، جبکہ کتاب ’امثال‘ عہد نامۂ قدیم کی ایک کتاب ہے۔ اسے عموماً ’مثال سلیمان‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کا بڑا حصہ مسلمہ طور پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی تصنیف ہے۔ حضرت سلیمان کا دور حضرت عیسیٰ سے قریباً دس صدی (ایک ہزار سال) پہلے کا ہے۔ ’امثال‘ کو اس کی تالیف سے ہزار سال بعد مرتب ہونے والی انجیل کی ایک سورہ کہنا درست نہیں۔
نوٹ: اس تحریر کو جان بوجھ کر حوالوں سے گراں بار نہیں کیا گیا۔ اگر کوئی مزید تحقیق فرمانا چاہیں تو راقم سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

 

۱؂ ش۳۴/۵۷(۲ تا ۸ ستمبر۲۰۰۵)
۲؂ (جلال الدین سیوطی، الاتقان فی علوم القرآن/ ۲، النوع السادس والستون فی امثال القرآن، الناشر دارالکتاب العربی، بیروت، لبنان۔ ۹۹۹/ ۲۷۲)
۳؂ (الاتفاق فی علوم القرآن اردو ترجمہ، ناشر ادارۂ اسلامیات لاہور، ۱۹۸۲، ۲/۳۲۶)۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت دسمبر 2005
مصنف : عبدالستار غوری
Uploaded on : Sep 07, 2016
533 View