بائیبل اور موسیقی - سید منظور الحسن

بائیبل اور موسیقی

 

بائیبل تورات، زبور، انجیل اور دیگر صحف سماوی کا مجموعہ ہے۔ اپنی اصل کے لحاظ سے یہ اللہ ہی کی شریعت اور حکمت کا بیان ہے۔ اس کے مختلف حاملین نے اپنے اپنے مذہبی تعصبات کی بنا پراگرچہ اس کے بعض اجزا ضائع کر دیے ہیں اور بعض میں تحریف کر دی ہے، تاہم اس کے باوجود اس کے اندر پروردگار کی رشد و ہدایت کے بے بہا خزانے موجود ہیں۔ اس کے مندرجات کو اگراللہ کی آخری اور محفوظ کتاب قرآن مجید کی روشنی میں سمجھا جائے توفلاح انسانی کے لیے اس سے بہت کچھ اخذو استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔
اس کتاب مقدس میں موسیقی اور آلات موسیقی کا ذکر متعدد مقامات پر موجود ہے۔ ان سے بصراحت یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پیغمبروں کے دین میں موسیقی یا آلات موسیقی کو کبھی ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔بیش تر مقامات پراللہ کی حمد و ثنا کے لیے موسیقی کے استعمال کا ذکر آیاہے۔ اس کے علاوہ خوشی، غمی اورجنگ کے حوالے سے بھی موسیقی کا ذکر مثبت انداز سے آیا ہے۔

عبادات اور موسیقی

تورات کی کتاب خروج میں ہے کہ جب اللہ کے حکم سے فرعون اور اس کی فوج سمند ر میں غرقاب ہو گئی اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی معیت میں بنی اسرائیل نے غلامی سے نجات پائی تو وہ ایمان لے آئے ۔ اس موقع پر سیدنا موسیٰ اور ان اہل ایمان نے اپنے پروردگار کی حمدو ثنا میں یہ گیت گایا:

’’میں خداوند کی ثنا گاؤں گا،
کیونکہ وہ جلال کے ساتھ فتح مند ہوا
اس نے گھوڑے کو سوار سمیت سمندر میں ڈال دیا
خداوند میرا زور اور راگ ہے، وہی میری نجات بھی ٹھہرا ...
معبودوں میں اے خداوند تیری مانند کون ہے؟
کون ہے جو تیری مانند اپنے تقدس کے باعث جلالی اور اپنی مدح کے سبب سے رعب والا اور صاحب کرامات ہے۔ ‘‘ (۱۵/ ۱۔۲، ۱۱۔۱۲)


اس گیت کے بعد اسی مقام پرگیت گانے کا سبب بیان ہوا ہے اور موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی بہن مریم کے دف بجانے کا ذکر بھی آیا ہے:

’’اس گیت کا سبب یہ تھا کہ فرعون کے سوارگھوڑوں اور رتھوں سمیت سمندر میں گئے اور خداوند سمندر کے پانی کو ان پر لوٹا لایا۔ لیکن بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے۔تب ہارون کی بہن مریم نبیہ نے دف ہاتھ میں لیا اور سب عورتیں دف لیے ناچتی ہوئی اس کے پیچھے چلیں۔ اور مریم ان کے گانے کے جواب میں یہ گاتی تھی:خداوند کی حمدو ثنا گاؤ ۔‘‘ (خروج۱۵/ ۱۹۔۲۱)


تواریخ میں ہے کہ جب سیدنا سلیمان علیہ السلام نے خداوند کے عہد کا مقدس صندوق حاصل کیا اوراس خوشی میں اسرائیل کی پوری قوم نے صندوق کے آگے کھڑے ہو کر بھیڑ بکریوں کی قربانی پیش کی تو اس موقع پر لوگوں نے سازوں کے ساتھ گا کر اللہ کی حمد و ثنا کی:

’’تو ایسا ہوا کہ جب نرسنگے پھونکنے والے اور گانے والے مل گئے تاکہ خداوند کی حمد اور شکر گزاری میں ان سب کی ایک آواز سنائی دے اور جب نرسنگوں اور جھانجھوں اور موسیقی کے سب سازوں کے ساتھ انھوں نے اپنی آواز بلند کرکے خداوند کی ستایش کی کہ وہ بھلا ہے، کیونکہ اس کی رحمت ابدی ہے تو وہ گھر جو خداوند کا مسکن ہے ابر سے بھرگیا۔‘‘ ( ۲ ۔ تواریخ ۵ / ۱۳)

زبور حمدیہ گیتوں کا مجموعہ ہے ۔ اس کے مندرجات سے واضح ہے کہ یہ گیت سیدنا داؤد علیہ السلام نے سازوں کے ساتھ گائے تھے۔ چنانچہ اس کے بیش تر ابواب پر یہ عنوان قائم ہے کہ:’’میر مغنی کے لیے تار دار ساز کے ساتھ داؤد کا مزمور۔‘‘ متون سے بھی یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے:

’’آؤ ہم خداوند کے حضور نغمہ سرائی کریں ! اپنی نجات کی چٹان کے سامنے خوشی سے للکاریں ۔ شکرگزاری کرتے ہوئے اس کے حضور میں حاضر ہوں ۔ مزمور گاتے ہوئے اس کے آگے خوشی سے للکاریں ... خداوند کے حضور نیا گیت گاؤ۔ اے سب اہل زمین ! خداوند کے حضور گاؤ۔ خداوند کے حضور گاؤ۔ اس کے نام کو مبارک کہو۔ روز بروز اس کی نجات کی بشارت دو۔‘‘ (۹۵: ۱۔ ۹۶: ۱)

’’اے خداوند میں تیرے لیے نیا گیت گاؤں گا۔ دس تار والی بربط پر میں تیری مدح سرائی کروں گا۔ ‘‘ (۱۴۴: ۹)

اظہار خوشی اور موسیقی

تورات میں خوشی کے مواقع کے حوالے سے بھی موسیقی کا ذکر آیا ہے۔سلاطین میں ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام جب بنی اسرائیل کی حکمرانی کے منصب پر فائز ہوئے تو اس موقع پر لوگوں نے گا بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا:

’’اور سب لوگ اس کے پیچھے پیچھے آئے اور انھوں نے بانسلیاں بجائیں اور بڑی خوشی منائی اس طرح کہ زمین ان کے شور وغل سے گونج اٹھی۔‘‘ (۱۔ سلاطین، ۱؍۴۰)

جنگی نقل و حرکت اور موسیقی

گنتی میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ نرسنگے بنوائیں جنھیں لوگوں کی جماعتوں کو بلانے اور لشکروں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا جائے:

’’اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنے لیے چاندی کے دو نرسنگے بنوا۔وہ دونوں گھڑ کر بنائے جائیں۔ تو ان کو جماعت کے بلانے اور لشکروں کے کوچ کے لیے کام میں لانا۔‘‘ (گنتی۱۰/ ۱۔۳)

 ------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت مارچ 2004 
مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Aug 23, 2016
947 View

Leave a comment